Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ، والدین، تعلیمی ادارے غرض کہ پورا تعلیمی نظام نمبرات کے پیچھے بھاگ رہا ہے

Updated: July 13, 2026, 8:58 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

نئے تعلیمی سال کا آغاز ہے اور شروع ہونے سے قبل ہی ہرسُو بھاگ دوڑ شروع ہوگئی ہے۔ اس بھاگ دوڑ کی ایک ہی منزل اور ایک ہی مقصد ہے، وہ یہ کہ امتحانات میںزیادہ سے زیادہ نمبرات حاصل کرنا۔

It is surprising that today students are getting 100 out of 100 marks even in linguistics. Photo: INN
حیرت کا مقام ہے کہ آج طلبہ کو زباندانی میں بھی ۱۰۰؍ میں سے ۱۰۰؍ مارکس مل رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

نئے تعلیمی سال کا آغاز ہے اور شروع ہونے سے قبل ہی ہرسُو بھاگ دوڑ شروع ہوگئی ہے۔ اس بھاگ دوڑ کی ایک ہی منزل اور ایک ہی مقصد ہے، وہ یہ کہ امتحانات میںزیادہ سے زیادہ نمبرات حاصل کرنا۔ایک اندھی دوڑ، جس میں علم، نالج، صلاحیت، مہارت ملے نہ ملے بس نمبرات بھرپور حاصل ہوں۔ کسی بھی حالت میں، کسی بھی صورت میں، رٹتے ہوئے، امتحان کے نقطۂ نظر سے شارٹ کٹ پڑھائی کرتے، کہیں سے جزوی / کلّی پرچہ لیٖک کرتے ہوئے... جیسا بھی بن پڑے بس نمبرات کی ریس میں آگے بڑھ جائیں۔ 

نمبرات کی ریس ہی کو تعلیمی نظام کا نام دینے کیلئے سرکاری ماہرینِ تعلیم نے کچھ ایسا نظام ڈیزائن کیا ہے کہ کوچنگ مافیا کا راج بنا رہے اور تعلیمی نظام کے سارے دھڑے نمبروں کی ریس میں اندھادھند شامل ہوجائیں۔ ذرا یاد کیجئے، کچھ ہی عرصے قبل تک پہلے عوامی امتحان یعنی میٹرک یا ایس ایس سی میں صرف ۶۰؍فیصد نمبر حاصل کرنا بھی بڑی کارکردگی سمجھی جاتی تھی۔ پھرمعروضی سوالات پر مبنی امتحانی طریقۂ کار وجود میں آگیا تو طلبہ ۷۵؍فیصد تک پہنچنے لگے۔ اُس کے بعد سُوپر معروضی سوالات امتحان آگئے تو ۸۵۔۹۰؍ فیصد تک طلبہ نمبرات حاصل کرنے لگے۔ اب اعلیٰ ترین معروضی نظام اور پھر طلبہ ۹۵؍فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے لگے....حتّی کہ ہر سال ہزاروں طلبہ۱۰۰؍فیصد نمبرات بھی حاصل کرنے لگے ہیں۔ پہلے تو یہ مرکزی امتحانی بورڈ جیسے سی بی ایس سی ، آئی سی ایس ای اور ریاستی بورڈ کے مابین آپسی رقابت اور غیر صحت مند مقابلے کی بناء پر ہونے لگا، البتہ اب صد فی صد نمبرات کا چلن قائم ہوگیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: باغ میں تعمیر چھپر ہر کسی کیلئے کھلا رہتا ہے، اس میں کوئی دروازہ نہیں ہوتا

ان نمبرات کی ریس کی بڑی قیمت ہم آج چکا رہے ہیں جس کا کسی کو احساس تک نہیں ہو رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ہر امتحان میں زباندانی کی اہمیت، مقام اور معیار کو ختم کرنے کا بدنماکر دار موجودہ امتحانی نظام نے ادا کیا ہے۔ زباندانی کے پرچے کے سبھی سوال جیسے متن کے حوالے سے، اشعار کی تشریح اور صرف و نحو وغیرہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں البتہ مضمون نویسی کا سوال کچھ خصوصی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کچھ ممتحن حضرات زباندانی کے پرچے کو جانچنے کا آغاز مضمون نویسی سے کرتے ہیں۔ ایسے ممتحن حضرات کا اس ضمن میں جواز یہ رہتا ہے کہ وہ طالب علم کا سب سے پہلے مضمون پڑھتے ہیں اور اُس کی زباندانی کی پیمائش کر لیتے ہیں اور پھر اسی عینک سے پورا پرچہ جانچتے ہیں۔ اُن کا یہ طریقۂ کار صحیح ہے یا غلط اس پر بحث پھر کبھی، البتہ ہم حیران اس بات پر ہیں کہ مضمون نویسی کیلئے ہمارے ممتحن حضرات طلبہ کو پورے پورے نمبر دے رہے ہیں۔ اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ممتحن حضرات، تعلیمی بورڈس اور تعلیمی نظام کے ذمہ داران یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے یہ طلبہ کچھ اس معیار کے مضامین لکھ رہے ہیں کہ اُس موضوع پر اُس سے زیادہ کچھ بھی تحریر کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ مضامین گویا بس حرفِ آخر ہوں؟ اگر واقعی ایسا ہے تومحکمۂ تعلیم کو ہمارا یہ مشورہ ہے کہ وہ ایک میوزیم قائم کریں اوروہ ’زبردست‘اور ’مکمل‘ مضامین اُس میوزیم میں سجادیں تاکہ دنیا بھر کے طلبہ و اساتذہ اُن ’جامع‘ مضامین سے استفادہ کریں۔

زباندانی کے تئیں ہمارے ذمہ داروں کے رویہ کا مذاق نہیں اُڑا رہے ہیں البتہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مضمون نویسی کے سوال میں ہمارے طلبہ کو پورے پورے نمبر ات کیسے مل رہے ہیں ؟ اس ضمن میں تحقیق کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بابائے اُردو مولوی عبد الحق جنہوں نے ۱۸۸۶ء میں میٹرک امتحان پاس کیا تھا، انھیں بھی اُردو میں سوبٹے سونمبر نہیں ملے تھے۔ انگریزی زباندانی کے بادشاہ ولیم شیکسپیئر نے ۱۵۵۳ء میں کنگر نیو اسکول سے اسکول بورڈ کا امتحان دیا تھا،انھیں بھی انگریزی زباندانی کے پرچے میں سو بٹے سو نمبر حاصل نہیں ہوئے تھے۔ برِّصغیر کے واحد نوبل انعام برائے ادب حاصل کرنے والے رابندر ناتھ ٹیگور کو بھی مدھیامک میں بنگالی میں سو فیصد نمبر حاصل نہیں ہوئے تھے۔ مراٹھی زبان کے مہارتھی سانے گرو جی نے نوتن مراٹھی ودیالیہ پونے سے ۱۹۱۸ء میں نیز پو،ل، دیشپانڈے نے پارلے تلک مہاودیالیہ سے ۱۹۳۴ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا، اُن دونوں میں سے کسی کو بھی مراٹھی زباندانی میں سو بٹے سو نمبر نہیں ملے تھے۔ اتنے نمبر تو اُردو ادب کے جادوگر اور آگرہ سے میٹرک فارغ  ابن صفی اور اُردو طنز و مزاح کے شہنشاہ اور راجپوتانہ کے اسکول سے فارغ مشتاق احمد یوسفی کو بھی نہیں ملے تھے۔ فرسودہ ادبی روایات پر شب خون کرنے والے شمس الرحمان فاروقی کو ولیزلی ہائی اسکول کے نتیجے کی رپورٹ پر ۱۰۰؍فیصد نمبر دکھائی نہیںدیتے۔اب کیا موجودہ تعلیمی نظام کے ذمہ داران ٹیگور، شیکسپیئر اور مشتاق احمد یوسفی سے بڑے افراد ہمارے سماج کو دے رہے ہیں؟ یا اُن سبھی لوگوں نے زباندانی اور لسانیات کا بیڑہ غرق کرنے کا ارادہ بلکہ منصوبہ تیار کرلیا ہے؟

امتحانی نتائج پر نمبرات کے متمنّی افراد آج ٹیکنالوجی کا تو دم بھرتے ہیں البتہ زباندانی سے اپنی شدید بے رغبتی اور عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی سونامی میں سب کچھ بہہ گیا ، اسلئے  اب زباندانی میںکسی کو دلچسپی نہیں۔  کیا یہ حقیقت ہے؟ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ٹیکنا لوجی ہر سُو کار آمد و مفید ثابت ہورہی ہے تو وہ زباندانی کے راستے میں کانٹے کیونکر بچھا سکتی ہے؟ ذرا جائزہ لیجئے کہ ٹیکنالوجی زبانوں کے پھیلاؤ میں کس قدر معاون و مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ آج دنیا کی بہترین لُغات انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ ہزاروں کتابیں نہیں بلکہ ہزاروں لائبریریاں ایک چھوٹے سے اسمارٹ فون کے میموری میں محفوظ ہیں۔ قدیم زمانے کی ساری زبانیں اپنی تاریخ، ہیئت، قامت، شکل و صورت، حلقے، حدود، وضع، ساخت، طرز اسلوب، نہج وترتیب و ترکیب کے ساتھ انٹرنیت پر دستیاب ہیں۔ دنیا کی ساری زبانوں کے ادب کی موازنہ آرائی اور تقابل بے حد آسان ہو گیا ہے۔ تلفظ کی غلطیاں اور ادائیگی کی خامیاں وغیرہ کا بھر پور ادراک پیدا کرنے میں ٹیکنالوجی کا ذخیرہ معاون ثابت ہورہا ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ سفارت کاری کو بیکار محض بنانے کے در پے ہیں

اب اگرٹیکنالوجی، زباندانی کی دوست ہے تو پھر خرابی کیا ہے؟ ہماری نفسا نفسی، خود غرضی اور مادہ پرستی۔ بس یہی اسباب ہیں زباندانی کے زوال اور صرف امتحانی نمبرات کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے کے۔ ہمارے  بیشتروالدین کچھ سننے کے لئے تیار نہیں، کچھ سمجھنے پر آمادہ نہیں۔ اُن کا سوال یہی ہے کہ کیا زباندانی روزی روٹی دیتی ہے؟ ہمارے معاشرے کی مادہ پرستی کی اس نچلی سطح کی بناء پر آج زبانیں زوال پذیر ہیں۔ہائی اسکول کی سطح تک تین چار زبانوں کاایک ایک پریڈ روزانہ ہوتا ہے البتہ جونیئر کالج کی سطح پر ہی زباندانی کو ختم کیا جارہا ہے۔ اُس سطح پر طلبہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کوئی زبان سیکھیں یا آئی ٹی اور طلبہ اپنی دانست میں زباندانی کو اپناکر اپنے نمبر گھٹانا نہیں چاہتے۔ اس کا کس قدر اور شدید نقصان ہوا ہے اس کے سوشل میڈیا کا مطالعہ کیجئے کہ نئی نسل کس سطح کی زبان استعمال کررہی ہے۔ جس پر تو آنکھوں پر پٹّی باندھنی اور کانوں میں اُنگلی ٹھونسی پڑتی ہے۔ نئی نسل کا کہنا ہے کہ میسج تو پہنچ رہا ہے نا، ایک زبان میںدو تین زبانوں میں گڈ مڈ کرکے جیسے بھی ہو۔ فورجی/فائیوجی والی یہ نسل تن آسان ہوگئی ہے اور زباندانی کو اپنانے پر آمادہ نہیں ہے۔ آخرہمارے تعلیم ادارے کے ذمہ دار اور معاشرے نے نئی نسل کو یہ کیوں نہیں بتایا کہ انسان کی شخصیت سازی میں زباندانی ایک بے حد کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ سائنس ، جغرافیہ، ریاضی یا معاشیات کی طرح زباندانی صرف ایک مضمون نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے۔ آپ نے سُنا ہے کہ علم ریاضی کی فلاں شاخ یا فلاں موضوع میں تہذیب بھی پوشیدہ ہے ؟ علم ہندسہ کے ضابطوں میں،سائنس کی مساوات میں، جغرافیہ کے نقشوں میں کوئی تہذیب پوشیدہ ہے ؟ زباندانی میں ہے اور یقیناًہے۔ اسلئے سرکاری ماہرین تعلیم اور ہمارے معاشرے کے ذمہ داروں کو زبان، تہذیب،ثقافت کی اہمیت کو سمجھنا ہے، صرف نمبرات کی اندھی ریس سے گریز کرنا ہے تا کہ ہمارے طلبہ زندگی کی حقیقی خوشیوں سے روشناس  ہوجائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK