Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ سفارت کاری کو بیکار محض بنانے کے در پے ہیں

Updated: July 13, 2026, 8:50 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

امریکی صدر دنیا پر اپنی دھونس جمانے کی دھن میںمسلسل بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دنیا کو جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

۲۸؍فروری کو امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کا نشانہ بننے والے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے سلسلے میں ہونے والی رسومات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم نے ایران کو تجہیز و تکفین کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کیوں کہ ہم اچھے لوگ ہیں۔اپنی اس مثالی اچھائی کی توثیق کے طور پر انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو ایران کی بقیہ لیڈرشپ کو ایک ہی حملے میں ختم کر سکتے ہیں کیوں کہ سپریم لیڈر کی تشیع جنارہ کے موقع پر ایرانی سیاست کی بیشتر قدر آور شخصیات یکجا ہوں گی ۔ امریکی صدر نے تشیع جنارہ میں شامل ایران اور دیگر ملکوں کی ممتاز شخصیات اور غم زدہ عوام کو بموں کا نشانہ بنانے سے گریز کرکے اپنے بیان کی اس حد تک تو لاج رکھ لی کہ ایران و عراق کے مختلف مقامات پر تشیع جنارہ کی رسومات کسی ہنگامی صورتحا ل سے دوچار نہیں ہوئیں لیکن ٹرمپ کی مثالی اچھائی کا دوسرا روپ قیام امن کے ان دعووں کے پرخچے اڑانے والا ہے جس کی بنا پر امریکہ عالمی سطح پر امن و امان کا علمبردار (خود ساختہ) بنا پھرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے امریکی دعوؤں سے دنیا میں نقض امن کا خطرہ بڑھ گیا ہے جس کی نمایاں دلیل یہ ہے کہ ابھی آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی آغوش تراب تک نہیں پہنچا تھا کہ امریکہ نے ایران پر بمباری شروع کر دی ۔ 

یہ بھی پڑھئے: قانون کی پاسداری کے تئیں نئی نسل میں دلچسپی پیدا کرنا ضروری ہے

گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران نے جب ۱۴؍ نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے تو دنیا نے راحت کی سانس لی تھی اور امن کے حقیقی حامیوں کے اندر یہ امید بھی پیدا ہوئی تھی کہ اگر چہ مغربی ایشیا کی جنگ زدہ صورتحال اور اس کے سبب دنیا کے بیشتر ممالک کو درپیش تجارتی و معاشی بحران سے محفوظ رہنے کی یہ ایک عبوری تدبیر ہے تاہم اس مفاہمتی یادداشت میں درج نکات پر فریقین اگر خلوص نیت کے ساتھ عمل کریں گے تو کوئی ایسا حل ضرور نکل سکتا ہے جو امن کی ساز گار فضا ہموار کرنے میں معاون ہو۔اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے وقت ٹرمپ نے حتمی طور پر جنگ ختم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا لیکن امریکی صدر کے سیاسی بیانیہ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ تادیر کسی ایک موقف پر قائم نہیں رہتے اور بالآخریہ عبوری تدبیر بھی کسی حتمی معاہدہ تک پہنچنے سے قبل ان کے اس لا ابالی پن کی زد پر آگئی ۔ آیت اللہ خامنہ ای کی تشیع جنازہ کی رسومات کے شروع ہوتے ہی ٹرمپ نے بہ یک وقت اپنے اچھے ہونے اور ایران کی لیڈر شپ کو ایک ہی حملے میں ختم کرنے کا جو متضاد دعویٰ کیا تھا، اسی وقت یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ ان کی سیماب صفت فطرت کوئی بھی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز سے متعلق شق کے برعکس اقدام کو امریکہ کا ایسا تجرباتی عمل کہا جا سکتا ہے جس میں کامیابی ٹرمپ کے اس دعوے کو کسی حد تک معتبر بنا سکتی تھی کہ انھوں نے ایران کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کر لی ہے، لیکن اس اقدام پر ایران کے رد عمل نے ٹرمپ کے اس تجرباتی عمل کو بھی ناکام بنا دیا اور اب اس خفت کو مٹانے کیلئے وہ ایران کو تباہ کر دینے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ممکن ہے کہ اپنی فوجی طاقت اور جنگی مہارت کے دم پر ٹرمپ یہ دعویٰ سچ بھی کر دکھائیں لیکن ان سب کے باوجود جو سب سے اہم سوال ہے وہ یہ کہ کیا اب بین الاقوامی سفارت کاری بے حقیقت ہو کر رہ گئی ہے؟ اگر امریکی صدر کا خبطی پن اسی جہت پر آگے بڑھتا رہا تو قیام امن کی کوششیں ایسے جمود کا شکار ہو سکتی ہیں جو انسانی آبادی پر جنگل راج کو مسلط کر دے۔

عالمی سطح پر بین ممالک تعلقات میں در آنے والی پیچیدگی کو دور کرنے میں سفارت کاری کو اہم حیثیت حاصل ہے اور جنگ کو کسی طور بھی اس کا متبادل نہیں قرار دیا جا سکتا، لیکن ٹرمپ دنیا پر اپنی دھونس جمانے کی دھن میں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کر رہے ہیں اور کسی بھی ملک کو جنگ کے محاذ پر لانے سے گریز نہیں کرتے۔فروری میں ایران پر حملے کے وقت بھی سفارتی مذاکرات کا دور جاری تھا اور اب بھی مفاہمتی یادداشت کے ذریعہ کسی حتمی معاہدہ تک پہنچنے کیلئے ۶؍ماہ کی جو مدت طے کی گئی تھی اسے درکنار کرتے ہوئے ٹرمپ نے جنگ کا آغاز کر دیا۔اس مفاہمتی یادداشت کی ایک اہم شق خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اسی وقت عملی صورت اختیار کر سکتی ہے جبکہ فریقین ایک دوسرے کو مشتعل کرنے کے اقدام سے گریز کریں۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: کیا روایتی ضوابط ۲۱؍ ویں صدی کی کان کنی کیلئے سودمند ہیں؟

اس تناظر میں دیکھیں تو ٹرمپ نے سپر پاور ہونے کے زعم میں بارہا ایران کو اکسانے والے اقدام کئے ہیں۔ان دنوں جاری جنگ جو بھی صورت اختیار کرے لیکن دنیا اس حقیقت سے واقف ہو چکی ہے کہ امریکہ اور اس کی ہمنوائی کرنے والے عالمی میڈیانے ایران کے خلاف ماحول سازی کیلئے جو پروپیگنڈہ کیا تھا، اب اس کی ہوا نکل چکی ہے۔ایران میں اقتدار کی تبدیلی کجا، آیت اللہ خامنہ ای مزاحمت و مقاومت کا ایسا استعارہ بن گئے ہیں جو اپنے قومی وقار اور اہل وطن کی عظمت و حرمت کے تحفظ کیلئے منصب شہادت کو بخوشی قبول کر لیتا ہے۔    

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK