ایک منظر نامے کا تصور کریں۔فرض کریں کہ جیفری ایپسٹین کی فائلوں میں راہل گاندھی، اکھلیش یادو، ابھیشیک بنرجی، ایم کے اسٹالن، یا کسی اور اپوزیشن لیڈر کا نام ہوتا۔ صرف تصور کریں کہ اگر کوئی اپوزیشن لیڈر مذکورہ سزا یافتہ جنسی مجرم کے ساتھ دوستانہ انداز میں ای میلز کا تبادلہ کر رہا ہوتا۔ تصور کیجئے کہ اُس صورت کیا ہوتا؟
ہردیپ سنگھ پوری کے خلاف احتجاج کو بھی نام نہادمین اسٹریم میڈیا ٹھیک سے نہیں دکھا رہا ہے۔ تصویر: آئی این این
ایک منظر نامے کا تصور کریں۔فرض کریں کہ جیفری ایپسٹین کی فائلوں میں راہل گاندھی، اکھلیش یادو، ابھیشیک بنرجی، ایم کے اسٹالن، یا کسی اور اپوزیشن لیڈر کا نام ہوتا۔ صرف تصور کریں کہ اگر کوئی اپوزیشن لیڈر مذکورہ سزا یافتہ جنسی مجرم کے ساتھ دوستانہ انداز میں ای میلز کا تبادلہ کر رہا ہوتا۔ تصور کیجئے کہ اُس صورت کیا ہوتا؟کتنی ہنگامہ آرائی ہوتی۔ سوچیں کہ اس صورت میں کس طرح سنسنی پھیلائی جاتی۔
اگر ایساکچھ ہوا ہوتا توحکمراںبی جے پی کے لیڈران متواتر پریس کانفرنسیں کررہے ہوتے اور بدنامی کی حد تک جھکنے والا میڈیا، مین اسٹریم کا ’پرانا‘ میڈیا، چمکدار اور شوخ لباس میں ملبوس ٹی وی اینکرز، اور اخبارات کی سرخیاں لکھنے والے....۲۴؍ گھنٹے مسلسل مصروف ہوجاتے۔وہ بی جے پی سے اپوزیشن پر حملہ کرنے کی ذمہ داری لے لیتے اور اسے ہر طرف پھیلا تے، خوشیاں مناتے۔ اینکرز چیختے، چلاتے۔بڑی سرخیاں بنا کر’ای میلز‘کی سنسنی خیز تفصیلات چھاپتے۔ اونچی آواز والے شو اور خود کو بہت اہم سمجھنے والے صحافی حضرات اپوزیشن کی خامیوں کو اجاگر کرتے اور بار بار اس کے خاتمے کا اعلان کرتے۔لیکن آج کیا ہو رہا ہے، جب یہ بات سامنے آگئی ہے کہ نریندر مودی کے ایک وزیر، ہردیپ سنگھ پوری، جو پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہیں، نے جیفری ایپسٹین کو ای میل لکھا تھا؟ آج بہت سے ہندوستانی ذرائع ابلاغ ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں اور جان بوجھ کر اس مسئلے کو اٹھانے اور صحیح سوالات پوچھنے کو تیار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گلگوٹیاکی جعلسازی نے تعلیمی اداروں کی قلعی کھول دی
ای میلز میں (جو ۲۰۱۴ء میں بھیجے گئے تھے یعنی ۲۰۰۸ء میں ایپسٹین کے بچوں کی جسم فروشی کے جرم میں سزا سنائے جانے کے بعد) ہردیپ سنگھ پوری نے جیفری ایپسٹین کو ’جیف‘ اور’ مائی فرینڈ‘ کہہ کرمخاطب کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی ’بہترین پسند‘ کی تعریف کی اور لکھا کہ ’’مزے کرو، حالانکہ اس کیلئے آپ کو کسی کی حوصلہ افزائی کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ پوری نے ایپسٹین کے ’منفرد جزیرے‘ کا بھی ذکر کیا اور ای میل کا اختتام ’ گرمجوشی‘ کے ساتھ کیا۔یہ کوئی رسمی پیشہ ورانہ گفتگو نہیں تھی، لیکن پوری کا لہجہ نہایت پرجوش اور خوش گوار تھا۔ یہ ناقابل معافی ہے کہ پوری جیسے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے سینئر سفارت کار کو سنگین مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے شخص کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں کسی قسم کی کوئی قباحت نظر نہیں آئی۔اس کامقصد صرف ریاستہائے متحدہ کی حکومت میں اثر و رسوخ حاصل کرنا تھا۔ یہ بہت افسوس ناک ہے۔ اس کے بعدایک پریس کانفرنس میں، ہردیپ سنگھ پوری جارحانہ ہونے کے ساتھ ہی چیلنج کرتے نظر آئے۔ ایپسٹین کے بچوں کے جنسی جرائم کو کم کرتے ہوئے انہوں نے جنسی زیادتی کو ’ایک نوجوان خاتون کے ساتھ جنسی تعلق کی کوشش‘ کے طور پر بیان کیا۔
اراکین پارلیمان نے ایوان کے اندر اور باہر دونوں جگہ یہ مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ مودی حکومت ہردیپ سنگھ کی حمایت کیوں کر رہی ہے، وزیر سے تفصیلی جواب دینے کیلئے کیوں نہیں کہا جا رہا ہے، اور اُن پر استعفیٰ دینے کیلئے دباؤ کیوں نہیں ڈالا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اجیت پوار کی موت، اے آئی سمٹ کی بد نظمی اور تلنگانہ انتخابات اخباروں کے موضوع
دنیا بھر میں، خواہ برطانیہ ہو یا امریکہ، بین الاقوامی میڈیا ایپسٹین سے وابستہ افراد سے احتساب کا مطالبہ کر رہا ہے، جو اس شرمناک صورتحال سے دوچار ہیں،لیکن ہندوستان کی ایک زمانے کی بہادر پریس کی آواز کہاں ہے جسے ہمیشہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہئے؟ ایسا کیوں ہے کہ صرف اپوزیشن اور اپوزیشن کے اراکین ہی سوال اٹھا رہے ہیں؟۲۰۲۴ء میں، جب میں نے راجیہ سبھا میں شمولیت اختیار کی تھی، تو میں نے ایک مضمون لکھا تھا، جس میںواضح کیا تھا کہ میں صحافت چھوڑ کر اپوزیشن میں کیوں شامل ہو رہیہوں کیونکہ اس وقت صرف اپوزیشن ہی ایک ایسی طاقت ہے(بہادر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آن لائن کام کرنے والے اکٹی وسٹ کو چھوڑ کر) جو نریندر مودی حکومت سے سوال پوچھ رہی ہے اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔وہ مضمون بار بار سچ ثابت ہورہا ہے۔ آج سیاسی اپوزیشن کو صرف پارلیمنٹ میں کام نہیں کرنا پڑرہا ہے بلکہ پریس کی ذمہ داریاں بھی ادا کرنی پڑرہی ہیں۔
موجودہ حالات اور متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کے دور میں فرق بالکل واضح ہے۔ اُن برسوں میں، منموہن سنگھ کے خلاف بی جے پی کے ہر طنز اور چھوٹے حملوں کو بھی یہی میڈیا بریکنگ نیوز، پرائم ٹائم بحث اور صفحہ اول کی پہلی سرخی بناد یتا تھا۔اب وہی میڈیا مسلسل مودی کو کلین چٹ دے رہا ہے، بڑے تنازعات کو نظر انداز کر رہا ہے اور وکیل دفاع کی طرح کام کر رہا ہے۔ وہی میڈیا جس نے بار بار یو پی اے کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو بھی قومی اسکینڈلز میں بدل دیا تھا، اب ہر طرح سے جھکا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ یو پی اے کے دور حکومت میں شور مچایا جاتا تھا جبکہ آج خوف اور خاموشی کا دور دورہ ہے۔نوٹ بندی کی ناکامی سے، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کو تکلیف پہنچی، سے لے کووڈ کے دوران اموات کی سچائی تک، جسے سرکاری دعوؤں کے پیچھے چھپا دیا گیا۔اسی طرح پی ایم کیئرز فنڈ کے بارے میں معلومات کو چھپانے اور بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں گھوٹالوں اور بدعنوانی کے سنگین الزامات کو نظر انداز کرنے کا کام یہ میڈیا کچھ اس طرح سے کرتا ہے جیسے ان گھوٹالوں کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، اسلئے ان کی رپورٹنگ سے گریز کرتا ہے، مودی حکومت سے سوال کرنے کا تو سوال ہی نہیںہے۔پیگاسس جاسوسی کیس پر، جس نے عام شہریوں اور حکومت کے ناقدین کی رازداری پر حملہ کیا، کوئی سخت سوالات نہیں پوچھے گئے۔ چینی دراندازی پر جو ہندوستانی سرزمین پر قبضے کا باعث بنی، کوئی غصہ نہیں دکھایا گیا، کوئی جانچ نہیں ہوئی، نہ ہی شفافیت اور جوابدہی کا کوئی مطالبہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: یادیں حقیقی ہیں یا جعلی؟ مصنوعی ذہانت انسانی یادداشت کو ازسرِنو لکھ رہی ہے
حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ایک ’چمکدار‘ تجارتی معاہدہ ہوا ہے۔ تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے جیت کا جشن منانے کیلئے پارلیمنٹ کے باہر پریس کانفرنس کی، لیکن انھوں نے صاف صاف انکار کردیا کہ اس موضوع پر ایوان کے اندر کوئی بحث نہیں ہوگی۔یہ صرف غلطی نہیں ہے بلکہ یہ پارلیمنٹ کے اختیار کی صریح خلاف ورزی ہے اور عوام کی طاقت کی نمائندگی کرنے والے ادارے کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنا بھی ہے۔پریشانی میں ڈالنے والے سوالات اسکرپٹ سے خارج کردیئے جاتے ہیں۔ ٹی وی میڈیا شاندار ’پی آر ‘ کے اثر میں بہنے لگتے ہیں۔’’تمام معاہدوں کی ماں‘‘....’’ تمام اہم سودوں کا باپ‘‘ جیسے ’سلوگن‘ دیئے جاتے ہیں.... یہ پوچھے بغیر کہ اس معاہدے کے اصل شرائط کیا ہیں؟کیا سمجھوتے ہوئے ہیں؟اور ہندوستانی کسانوں، مزدوروں یا ملک کی سالمیت پر اس کے کیا طویل مدتی اثر ات مرتب ہوں گے؟ اپوزیشن کو سوال کرنے کے آئینی حق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ بحث؟ کون سی بحث؟وزیر اعظم پریس کانفرنس نہیں کرتے وزرائے اعظم کی یہ صدیوں پرانی جمہوری روایت اب ہندوستان میں ختم ہو چکی ہے۔