• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گلگوٹیاکی جعلسازی نے تعلیمی اداروں کی قلعی کھول دی

Updated: February 22, 2026, 10:20 AM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

تعلیمی اداروں میں سیاست کی دخل اندازی نے تعلیمی معیار کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ اب تدریس و تحقیق کے بیشتر معاملات میں صلاحیت و مہارت کے بجائے سیاسی اثر و رسوخ کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔گزشتہ دنوں منظرعام پر آئی جعلسازی کا حوصلہ بھی گلگوٹیا یونیورسٹی کو اسی اثر و رسوخ کے ذریعہ ملا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ملک کے دارالحکومت میں مصنوعی ذہانت کے سربراہی اجلاس کا انعقادجس زور و شور سے ہوا وہ سب گلگوٹیا یونیورسٹی کی جعلسازی کے سبب خاک میں مل گیا۔ گلگوٹیا یونیورسٹی کی جعلسازی عالمی سطح پر ملک کی شرمندگی کا باعث ہوئی۔ چین کے روبوٹ کو اپنی اختراع کے طور پر پیش کر کے تکنیکی شعبہ میں مہارت اور بہترین کارکردگی کا تمغہ حاصل کرنے کی یونیورسٹی کی سازش کو سوشل میڈیا صارفین نے ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کر دیا۔ گلگوٹیا کی اس حرکت نے یہ بھی ثابت کیا کہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں تعلیم و تدریس کے عالمی معیار کا دعویٰ صد فیصد درست نہیں ہوتا۔ عوام میں اس تصور کو رائج کرنے کیلئے بیشتر اس تشہیری حکمت عملی سے کام لیا جاتا ہے جس کے ذریعہ ماورائے حقیقت کو دل پذیر انداز میں حقائق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔فی الوقت سیاست، صنعت اور تجارت سمیت زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میںاسی حکمت عملی کا بول بالا ہے یہی سبب ہے کہ عوام کو جو کچھ بتایا اور دکھایا جاتا ہے حقیقت میں وہ سب کچھ ویسا ہی نہیں ہوتا۔لیکن تعلیم کے شعبے میں ایسی فریب کاری نہ صرف طلبہ کے مستقبل کو خراب کرتی ہے بلکہ اس کے سبب ملک و معاشرہ میں ایسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جو سماجی اور معاشی ترقی کی کوششوں کو بے سود بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: حفظ مراتب کا فقدان سماجی اقدار کو مسخ کر رہا ہے

گلگوٹیا یونیورسٹی کی یہ جعلسازی ایک نمونہ ہے ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی اس صورتحال کا جو تدبر اور ریاضت کے بجائے فریب کاری کے ذریعہ کامیابی وشہرت حاصل کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی حالت کم و بیش اسی نوعیت کی ہے۔ اس معاملے میں اب پرائیوٹ اور سرکاری اداروں کے درمیان وہ فرق بھی باقی نہیں رہا جو تعلیمی معیار کے حوالے سے پرائیویٹ اداروں کو امتیازی حیثیت کا حامل بناتا تھا۔ان اداروں میں تعلیم و تدریس کی ایسی پست سطح کے دو نمایاں اسباب ہیں۔

پہلا یہ کہ اب تدریس کے بہتر معیار سے زیادہ یہ ادارے زیادہ سے زیادہ مالی منافع حاصل کرنے کے وسائل تلاش کرنے اور انھیں مختلف حیلوں کے ذریعہ بروئے کار لانے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ دوسرا یہ کہ سرکاری اور پرائیویٹ ہر دو طرح کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سیاست کی دخل اندازی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اب ان اداروں نے اقتدار کے تشہیری پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر لی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نفرت کو سماجی رُجحان کے طور پر قائم کرنے کی یرقانی کوشش

پرائیویٹ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں گلگوٹیا جیسی جعلسازی اگر چہ عمومی صورتحال نہ ہو لیکن اس سے انکار مشکل ہے کہ اب بیشتر اداروں میں نمایاں کارکردگی کیلئے جو طریقے استعمال کئے جاتے ہیں، ان سے طلبہ کی مہارت میں اضافہ برائے نام ہوتا ہے۔ ان طریقوں کے استعمال سے وہ جس راہ پر چل پڑتے ہیں اس میں محنت و ریاضت اور ایمانداری و دیانت داری کو تضیع اوقات سمجھا جاتا ہے۔ سائنس و تکنیک کی ترقی نے وہ اسباب و وسائل مہیا کر دئیے ہیں جن کی مدد سے بغیر کسی مشقت کے دوسروں کی تحقیق و ایجاد کو اپنی فہم و فراست کا ثمرہ قرار دیا جا سکتا ہے۔چیٹ جی پی ٹی اور اس طرز کے دیگر وسائل نے ایسی سرقہ بازی کو تعلیم و تدریس اور تحقیق کے شعبے میں اس قدر عام کر دیا ہے کہ اب طلبہ و اساتذہ کسی موضوع پر تدبر و تفکر کے بجائے ان وسائل کی مدد سے اپنی دانشمندی کے اظہار کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ تکنیکی وسائل کی مدد سے تدریسی مسائل کو آسان بنانا اور مکمل طور پر ان وسائل پر انحصار کرنا دو الگ باتیں ہیں لیکن اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ان دو الگ باتوں کو اس حد تک خلط ملط کر دیا گیا ہے کہ اب یہ ایک ہی حقیقت کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ اساتذہ اور طلبہ کا یہ رویہ انھیں وقتی سہولت تو فراہم کرتا ہے لیکن اس کے سبب ان کا ذہن علم وحکمت کی ان تازہ ہواؤں سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جو فہم و دانش کو جلا بخشتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا خبطی پن بالآخر امریکہ ہی کو نقصان پہنچائے گا

اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سیاست کی دخل اندازی نے ان اداروں کے تعلیمی معیار کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ اب تدریس و تحقیق کے بیشتر معاملات میں صلاحیت و مہارت کے بجائے سیاسی اثر و رسوخ کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ گلگوٹیا یونیورسٹی کو اس جعلسازی کا حوصلہ بھی اسی اثر و رسوخ کے ذریعہ ملا۔ یہ یونیورسٹی تعلیم و تدریس کے معیار میں ترقی کے بجائے اقتدار کی جی حضوری میں ہی بیشتر اپنا وقت اور سرمایہ صرف کرتی ہے۔ ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی الیکشن میں کانگریس کے خلاف احتجاج نے اس یونیورسٹی کی سیاسی وابستگی کو طشت از بام کر دیا تھا۔اس یونیورسٹی کے ارباب حل  و عقد نے شاید یہ سوچا ہو کہ الیکشن کے دوران جس پارٹی کی حمایت میں انھوں نے اپنا عملہ استعمال کیا تھا ، مرکز میں وہی پارٹی برسر اقتدار ہے لہٰذا اے آئی سمٹ میں اس کی جعلسازی پرکوئی معترض نہیں ہوگا۔اس کا یہ سوچنا کسی حد تک صحیح بھی تھا کیوں کہ آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو نے بھی سوشل میڈیا پر سمٹ میںپیش کئے گئے اس کے جعلی روبوٹ کی قصیدہ خوانی کی تھی لیکن جب اسی سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کی جعلسازی عیاں ہو گئی تو انھیں بھی اپنی پوسٹ ہٹانی پڑی۔اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سیاست کی بیجا دخل اندازی نہ صرف طلبہ کے مستقبل کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ اس کی وجہ سے علم و دانش کے معاملے میں ملک کو بھی شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK