این سی پی کے سربراہ اجیت پوار کی حادثاتی موت کا معمہ دن بہ دن پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ متعدد مراٹھی اخبارات نے طیارے کے بلیک باکس کی تباہی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 22, 2026, 10:10 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
این سی پی کے سربراہ اجیت پوار کی حادثاتی موت کا معمہ دن بہ دن پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ متعدد مراٹھی اخبارات نے طیارے کے بلیک باکس کی تباہی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
این سی پی کے سربراہ اجیت پوار کی حادثاتی موت کا معمہ دن بہ دن پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ متعدد مراٹھی اخبارات نے طیارے کے بلیک باکس کی تباہی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی تازہ رپورٹ میں نقد لین دین کے بڑھتے رجحان کے انکشاف نے مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ انگریزی میڈیا نے اے آئی سمٹ میں پیش آئی بدنظمی کو نمایاں کرتے ہوئے گلگوٹیاس یونیورسٹی پر تنقید کی ہے جبکہ بعض اخبارات نے تلنگانہ کے بلدیاتی انتخابات میں کانگریس کی نمایاں کامیابی کو سیاسی منظرنامے میں اہم موڑ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع، بسوا شرما کا اشتعال انگیز ویڈیو اور جنرل نرونے کی کتاب
امید کی جانی چاہئے کہ سوالات کے جواب ملیں گے
لوک مت(مراٹھی، ۱۹؍ فروری)
’’مہاراشٹر کی سیاست کے بڑے لیڈر اجیت پوار کا طیارہ حادثے میں انتقال ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔ اس حادثے کے بعد اب ریاست میں سیاست کے ساتھ ہی یہ سوال بھی کھڑا ہو گیا ہے کہ آخر یہ حادثہ ہوا کیسے؟ لوگوں کے ذہنوں میں بہت سےشکوک و شبہات ہیں اور جیسے جیسے نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔سب سے زیادہ تشویش اس وقت ہوئی جب یہ خبر آئی کہ طیارے کا بلیک باکس (جو حادثے کی وجہ بتاتا ہے) تباہ ہو گیا ہے۔ اس سے شک مزید گہرا ہو گیا کہ کیا کوئی سچ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے؟اسی درمیان یہ بات بھی سامنے آئی کہ اب حکام کو بلیک باکس سےڈیٹا نکالنے میں کامیابی مل گئی ہے۔ اب پوری ریاست کی نظریں اس پر ہیں کہ اس ڈیٹا سے کیا نکلتا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلیک باکس طیارے کا وہ اہم حصہ ہے جو اُڑان سے لے کر لینڈنگ تک کی ہر بات ریکارڈ کرتا ہے۔ پائلٹ نے کیا کہا، طیارے کی رفتار کیا تھی، موسم کیسا تھا اور کوئی تکنیکی خرابی تو نہیں تھی؟ یہ سب باتیں بلیک باکس سے پتہ چلتی ہیں۔ اس سے پتہ چلے گا کہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوا یا پائلٹ کی کسی غلطی کی وجہ سے۔اس معاملے میں این سی پی لیڈر روہت پوار نے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ جب طیارے نے ممبئی سے اُڑان بھری تو موسم صاف تھا پھر پونے کے پاس پہنچ کر موسم اچانک کیسے خراب ہو گیا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ تجربہ کار پائلٹ ہونے کے باوجود ایسا کیا ہوا کہ طیارہ رن وے پر صحیح سے نہیں اُتر سکا؟ ان سوالات کے سیدھے اور واضح جواب ملنے چاہئیں۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ روہت پوار کے اٹھائے گئے نکات اور ماہرین کی جانچ کے بعد حادثے کی اصل وجہ سامنے آ جائے گی اور لوگوں کے ذہنوں سے شک کا بادل چھٹ جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع مرکزی بجٹ اور ششی تھرور کی کانگریس قائدین سے ملاقات رہا
نوٹ بندی کے مقاصد پر سوالیہ نشان
لوک ستہ(مراٹھی، ۱۹؍فروری)
ملک میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور تکنیکی ترقی کے چرچے زبان زد عام ہیں لیکن ان خوشنما باتوں کے پیچھے معیشت کا ایک ایسا پہلو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ موضوع اتنا اہم ہے کہ اس پر نہ صرف بحث ہونی چاہئے بلکہ اس کے دوررس نتائج پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔حکومت کی جانب سے نوٹ بندی کے وقت یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سے بلیک منی کا خاتمہ ہوگااور دہشت گردی کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اس فیصلے کے اثرات سرحد پار دشمنوں پر ضرور پڑے لیکن وقت کے ساتھ ہی معیشت کی سچائی بدلتی نظر آ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ نے ماہرین معاشیات کو حیران کر دیا ہے۔ اس رپورٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ معیشت میں نقد رقم کی مقدار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ۲۰۱۶ء کی نوٹ بندی کے بعد جس مقصد کیلئے لین دین کو ڈیجیٹل کرنے پر زور دیا گیا تھا آج اسی نقد رقم کا تناسب پچھلے سال کے مقابلے میں۱۱؍ فیصد بڑھ۔ گیا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ڈیجیٹل لین دین بڑھ رہا ہے تو نقد رقم کی اتنی زیادہ گردش کا کیا مطلب ہے؟ایک طرف حکومت ’کیش لیس‘ سوسائٹی اور جی ایس ٹی کے ذریعے معیشت کو منظم کرنے کے دعوے کر رہی ہے تو دوسری طرف بازار میں نقد رقم کی بہتات یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آخر یہ رقم کہاں سے آ رہی ہے اور کس کام کیلئے استعمال ہو رہی ہے؟بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چھوٹے موٹے اخراجات کیلئے تو ڈیجیٹل ذرائع استعمال ہو رہے ہیں لیکن بڑے لین دین کیلئے آج بھی نقد رقم کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھ کر خود بینکنگ ماہرین بھی الجھن کا شکار ہیں۔اس صورتحال کا ایک پہلو انتخابی عمل اور سیاست سے بھی جڑتا ہے۔ اگر نقد رقم کا استعمال اسی طرح بڑھتا رہا تو نوٹ بندی کے مقاصد پر سوالیہ نشان لگنا فطری ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتےمہاراشٹر کے بیشتر اخبارات نے اجیت پوار کی ناگہانی موت کو موضوع بنایا
اے آئی سمٹ اور ہماری بدانتظامی
دی ٹائمز آف انڈیا (انگریزی، ۱۹؍فروری)
’’بدھ کا دن سروام(sarvam) اے آئی کی کامیابیوں کا دن ہونا چاہئے تھالیکن ساری توجہ ایک نجی یونیورسٹی اور اس کے چینی روبوٹ کتے نے چرالی۔گلگوٹیاس کی ٹیم نے جو کیا وہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ ہمارے اسکولوں میں تو بچپن ہی سے ایسے منصوبوں کو انعام دیا جاتا ہے جو والدین یا باہر کے لوگوں سے تیار کروائے گئے ہوں۔ جب ۵؍ سال کے بچے کو تھرما کول کے ماڈل پر نمبر ملیں گے تو حقیقی محنت کرنے والا بچہ تو پیچھے ہی رہ جائے گا۔ گلگوٹیاس ٹیم نے صرف اسی پرانی روایت پر عمل کیا لیکن اصل قصور اس عالمی اے آئی سربراہی اجلاس کے منتظمین کا ہےجنہیں ہر انٹری کی جانچ پڑتال کرنی چاہئے تھی۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ اے آئی اجلاس کوئی معمولی میلہ نہیں ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک بڑا اجتماع ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں ہوتی ہیں۔ برطانیہ نے ۲۰۲۳ء میں جو معیار قائم کیا، اسے جنوبی کوریا اور فرانس نے آگے بڑھایا۔ ہندوستان کو اس کی میزبانی کیلئے ایک سال ملا تھا، اس کے باوجود پہلے ہی دن شدید افراتفری دیکھنے کو ملی۔ لوگوں کو اندر داخل ہونے میں مشکلات ہوئیں اور ڈیجیٹل ادائیگی ناکام ہو گئی۔ یہ ایک بہترین موقع تھا کہ ہم دنیا کو اپنی ٹیکنالوجی کی طاقت دکھاتے لیکن کمزور انٹرنیٹ نے پوری پول کھول دی۔ نمائش میں اشیا کی چوری اور روبوٹ اسکینڈل نے رہی سہی کسربھی نکال دی۔آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو نے پہلے دن کی بدنظمی پر معذرت کر لی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں واقعی اس اجلاس کو ایک’کارنیوال‘ بنانے کی ضرورت تھی؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے بیشتر اخبارات نے منی پور کے حادثے، اور اترا کھنڈ کے واقعے کو موضوع بنایا
تلنگانہ میں پولرائزیشن کا کھیل
نوبھارت(ہندی، ۱۸؍فروری)
عام طور پر یہ رجحان رہا ہے کہ ریاست میں جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے، بلدیاتی انتخابات میں بھی وہی میدان مارتی ہے۔ مہاراشٹر میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی بڑی جیت اسی روایت کا تسلسل ہے۔ تلنگانہ میں بھی کچھ ایسا ہی منظر نامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سے کانگریس پارٹی مسلسل جیت کا سفر طے کر رہی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے بعد لوک سبھا میں ۱۷؍ میں سے ۸؍نشستیں حاصل کرنا پھر دیہی علاقوں میں پنچایتی انتخابات میں کامیابی اور اب بلدیاتی انتخابات میں شاندار جیت نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی پوزیشن مزید مستحکم کر دی ہے۔ بی جے پی کیلئے یہ نتائج ملے جلے جذبات لے کر آئے۔ پارٹی کو امید تھی کہ شہری علاقوں میں اسے بڑی کامیابی ملے گی لیکن وہ صرف نظام آباد اور کریم نگر تک محدود رہ گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ جنوبی ہند میں خاص طور پر تمل ناڈو، کیرالا اور آندھرا میں بی جے پی اپنے بل بوتے پر جیت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اسے علاقائی اتحادیوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ اس کے باوجود کرناٹک کے بعد تلنگانہ میں قدم جمانے کیلئے بی جے پی نے اپنی حکمت عملی بدل دی ہے۔ پارٹی مذہبی بنیادوں پر پولرائزیشن کی سیاست پر زور دے رہی ہے۔ اس کا اثر لوک سبھا انتخابات میں بھی دیکھا گیا جہاں اس کی نشستیں ۳ ؍سے بڑھ کر ۸؍ ہو گئیں۔‘‘