اب امریکیوں کی بڑی تعداد کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ان کا صدر نئے قوانین اور ضابطوں میں انھیں اس قدر محصور کر دینے پر آمادہ ہے جس سے ان کی زندگی پر اضطراب، مایوسی اور محرومی کا عنصر غالب آسکتا ہے،یہی سبب ہے کہ امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف احتجاج کی لہر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
اردو کے ممتاز ادیب محمد حسن عسکری نے ۱۹۵۶ء میں ایک مضمون بعنوان ’آدمی اور انسان‘ لکھا تھا جس میں عالمی ادبی رجحانات کے تناظر میں امریکی ادب کا تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ’’امریکہ والے ایک نئے مذہب کا پرچار کر رہے ہیں جس کا خدا ہے امریکی انسان۔اس نئے مذہب کی فقہ میں برے کام حلا ل ہیں، برے جذبات کا اظہار حرام۔‘‘
آج ۷۰؍برس بعد اس بیان کی معنویت جس انداز میں آشکار ہو رہی ہے اس نے عسکری کے بیان کو قول صادق کی حیثیت عطا کر دی ہے۔اس وقت امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہر ہفتے جو عجیب و غریب قسم کے احکامات اور فرمان جاری کر رہے ہیں اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو خدا کا نائب مقام سمجھنے لگے ہیں۔انھوں نے صدارتی انتخاب کے دوران امریکہ کی عظمت کو دوبارہ بحال کرنے کا جو شوشہ چھوڑا تھا اس نے وہائٹ ہاؤس میں دوبارہ براجمان ہونے کی ان کی خواہش پوری کی، ساتھ ہی امریکیوں کو یہ خواب بھی دکھایا کہ ٹرمپ واقعی ان کے ملک کو اس امتیازی حیثیت کا حامل بنا دیں گے جو عالمی سطح پر ان کی سرفرازی اور احساس برتری کو دوام عطا کرے گالیکن اب امریکیوں کی بڑی تعداد کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ان کا صدر نئے قوانین اور ضابطوں میں انھیں اس قدر محصور کر دینے پر آمادہ ہے جس سے ان کی زندگی پر اضطراب، مایوسی اور محرومی کا عنصر غالب آسکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف احتجاج کی لے شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روز کا مہمان، مگر ہر بار نیا
ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں جو حربہ استعمال کیا تھا، اسے دائیں بازو کے سیاسی افکار میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔وطن کی عظمت اور اس سے محبت کا مصنوعی دعویٰ کرنے والے اس قبیل کے سیاست داں ایسا ماحول تعمیر کرتے ہیں جس سے عوام کو یہ یقین ہو جائے کہ ان کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی اور خوشحالی ہی ان کے لیڈر کا حتمی مقصد ہے۔ عوام کی تائید حاصل کرنے کے لیے یہ لیڈران کبھی اچھے دن کا خواب دکھاتے ہیں اور کبھی ملک کی عظمت کو دوبارہ بحال کرنے کا بھروسہ دلاتے ہیں۔ان کی جانب سے پیش کئے جانے والے سیاسی نعروں کی حقیقت بس اتنی سی ہوتی ہے کہ ان کے ذریعہ انھیں اقتدار کی راہ ہموار کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور برسر اقتدار ہونے کے بعد وہ اگرچہ حوالہ انہی نعروں کا دیتے ہیں لیکن کرتے وہ سب کچھ ہیں جو ان کی سیاسی انا کی تسکین اور ان کے مالی و سیاسی مفاد کو یقینی بنا سکے۔ایسے سیاست داں اس نرگسیت میں مبتلا ہوتے ہیں جو انھیں ہر معاملے میں دوسروں سے افضل اور برتر ہونے کا احساس عطا کرتی ہے اور یہی احساس ان سے وہ سارے کام کرواتا ہے جو سیاسی اور سماجی اخلاقیات کی رو سے معیوب ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دوسروں کی زندگیوں میں روشنی بکھیرنے کیلئے کوشاں نابینا حضرات
امریکہ کے ۴۷؍ویں صدر کے طور پر ٹرمپ نے۲۰؍ جنوری ۲۰۲۵ء سے اب تک جتنے بھی فیصلے کئے ہیں ان میں ایک بڑے ملک کے سربراہ کی دانشوری سے زیادہ اس عیاری کا اظہار ہی بیشتر ہوا ہے جو خود غرضی کے محور پر گردش کرتی ہے۔ٹرمپ کی اب تک کی کارگزاریوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان پر ثروت مند تاجر کی نفسیات کا ایسا غلبہ ہے کہ وہ پوری دنیا کو اپنی ملکیت سمجھنے لگے ہیں۔انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور پاسداری میں نمایاں حیثیت رکھنے والا ملک ان کے احکام اور فرامین کے سبب کس راہ پر جا رہا ہے۔وہ صہیونی مظالم کی زد پر رہنے والے اہل غزہ کی داد رسی کرنے کے بجائے اس خطے کو سیر و سیاحت کا عالمی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ وہ اسرائیل کو جنگی آلات کی فراہمی میں مثالی فراخدلی دکھاتے ہیں اور ساتھ ہی دنیا کو امن کا پاٹھ بھی پڑھاتے ہیں۔وہ وینزویلا کے صدرکو رات کی تاریکی میں اغوا کر لیتے ہیں اور عالمی امن کے استحکام کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ کی تشکیل کا عزم بھی ظاہر کرتے ہیں۔وہ مبینہ طور پر غیر قانونی مہاجرین کو ان کے ملک ایک قیدی کے طور پر بھیجنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ وہ ایران اور گرین لینڈ جیسے ان تمام ممالک کو اپنا محکوم بنانا چاہتے ہیں جن ممالک کے قدرتی معدنیات امریکہ کی ترقی کی ہوس کی تکمیل میں معاون ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنے نام نہاد دوست ممالک کے معاشی نظام کو اپنی ٹیرف دھمکی سے لرزیدہ کئے ہوئے ہیں اور طرہ یہ کہ یہ سب کچھ کرتے ہوئے وہ خود کو امن کے نوبیل انعام کا مستحق بھی سمجھتے ہیں۔ اس خواہش کی ناکامی پر وہ اس بچے سا رویہ ظاہر کرتے ہیں جو چاکلیٹ نہ ملنے پر کھانا نہ کھانے کی دھمکی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وہ تاریخی دن یاد کیجئے جب اقتدار نے پہلی بار عوام کی آنکھوں میں جھانکا تھا
ٹرمپ اپنی ضد اوراحساس برتری کے اظہار میںان تمام حدود سے تجاوز کرتے نظر آرہے ہیں جہاں تک پہنچنے میں ان کے سابقین نے بھی محتاط رویہ روا رکھا تھا اگر چہ ان کا مقصد بھی دنیا کو اپنا دست نگر بنانا تھا۔امریکہ میں ٹرمپ سے ناپسندیدگی کا اظہار اوریورپی ممالک کا ان کے خلاف صف آرا ہونے کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب عالمی سیاست کا منظرنامہ ان تبدیلیوں سے ہمکنار ہو سکتا ہے جو امریکہ کی دھونس جمانے والی سیاست سے مرعوب ہونے کے بجائے اس کا محاکمہ اور محاسبہ کرنے کی جرأت کے اظہار کو ترجیح دے ۔ یہ تبدیلی امریکیوں کو اس فریب کا احساس شدت سے دلائے گی جس کی مدد سے ٹرمپ کو صدارتی انتخاب میں کامیابی ملی اور کامیابی کے اس زعم نے ان کی دانش کو ایسے خبطی پن میں تبدیل کر دیا جو امریکہ اور عالمی سیاست کے لیے نت نئے مسائل کا سبب بن گیا ہے۔