Inquilab Logo Happiest Places to Work

جین زی کے احتجاج سے پھوٹی کرنیں، عوام کی امیدیں اب نئی نسل پر

Updated: August 03, 2026, 8:41 PM IST | Stuti Agrawal | Mumbai

ارون دھتی نے بجا طور پر کہا ہے کہ’’برسوں بعد اپنے ہندوستانی ہونے پر اِس قدر فخر ہو رہا ہے۔ جب لگا کہ اب کوئی اُمید نہیں بچی، وہ آ گئے۔ برسات کے ساتھ ننھے، جوان کاکروچ۔‘‘

With the advent of Gen Z, accountability will also come to the rulers. Photo: INN
جین زی سے اب حکمرانوں میں بھی جوابدہی آئے گی۔ تصویر: آئی این این

ممتاز ناول نگار اور سماجی کارکن ارندھتی رائے نے جین زی کے تاریخی احتجاج کی شاندار کامیابی پر کہا ہے: ’’برسوں بعد اپنے ہندوستانی ہونے پر اِس قدر فخر ہو رہا ہے۔ جب لگا کہ اب کوئی اُمید نہیں بچی، وہ آ گئے۔ برسات کے ساتھ ننھے، جوان کاکروچ۔‘‘ سچ پوچھئے تو ارندھتی رائے کی طرح مجھے بھی کوئی اُمید نہیں تھی کہ کچھ تبدیلی رونما ہوگی۔ پُرامن احتجاج کو ۲۰؍ روز سے زیادہ ہو چکے تھے، ایک دن میں چار چار تقریریں کرنے والے صاحبانِ اقتدار خاموش تھے۔ اُن کی خاموشی نے مجھے یہ یقین دِلا دیا تھا کہ جین زی مظاہرین تھک ہار کر اپنے گھروں کو لو َٹ جائیںگے۔ لیکن ہوا اِس کے برعکس۔ اِن نوجوانوں نے جب تک اپنی مانگ پوری نہیں کروا لی، یہ گھر نہیں لوٹے۔ 

میرا تعلق بھی اِسی جنریشن سے ہے اور میری ہی نسل نے جنتر منتر کے احتجاج کو کامیابی کی بلندیوں سے ہمکنار کرایا ہے۔ اِس احتجاج پر مختلف آراء پیش کی گئیں اور کی جا رہی ہیں۔ کوئی اِس کی تعریف کر رہا ہے تو کوئی اس پر تنقید۔ تنقید کرنے والے کم اور ستائش کرنے والے زیادہ ہیں۔ لیکن ستائش کیوں کی جا رہی ہے؟ اِس جین زی احتجاج کی ایسی کیا نمایاں خصوصیات تھیں کہ وہ لوگ بھی ستائش کرنے پر مجبور ہوگئے جنہوںنے مسند نشینانِ اقتدار کے خلاف کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا؟  

یہ بھی پڑھئے: دینی مدارس اور عصری تعلیمی اِداروں کے درمیان پُل کی تعمیر ہرگز مشکل نہیں

مجھے یہ بات کہنے میں باک نہیں کہ اِس احتجاج کی خوبیاں بہ نسبت خامیوں کے کہیں زیادہ ہیں۔ حالانکہ اربابِ اقتدار ہمدردی بٹورنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ جیسے وہ کہہ رہے ہیں کہ جین زی کے پلے کارڈز پر درج باتیں قابل ِ اعتراض تھیں۔ اُنہیں کوئی حق نہیں کہ وہ اپنے ہی وزیر یا وزیر ِ اعظم پر غیر شائستہ تبصرہ کریں۔ یہ بات درست ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا لیکن سوال یہ ہے کہ اِن نامناسب تبصروں کی نوبت کیوں آئی؟

ہمارے ملک کے معروف انجینئر اور ماہر ِ تعلیم سونم وانگ چک ۲۱؍ دن تک بھوک ہڑتال پر رہے۔ انہوں نے پُرامن احتجاج کیا۔ جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے والے نوجوان بھی پُرامن ہی رہے اور کم و بیش ایک ماہ مظاہرہ کرتے رہے۔ اتنے عرصے میں تو کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ طلبہ نظم و نسق خراب کرنے کے ارادے سے وہاں پہنچے ہی نہیں تھے۔ اگر اُن کی مانگیں پہلے ہی منظور کر لی جاتیں تو وہ دن (۲۰؍ جولائی) بھی نہ دیکھنا پڑتا جو دلخراش یادیں چھوڑ گیا۔ اب جاکر حکومت بیدار ہوئی ہے اور ’دینک بھاسکر‘ کی خبر کے مطابق یہ منصوبہ بنایا گیا ہے کہ اِس سال کا نیٹ امتحان دینے والے ایک ایک طالب علم کے گھر جانے اور اُن کی مشکلات حل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ کیا حکومت یہ منصوبہ بندی پہلے نہیں ہو سکتی تھی، جب طلبہ یکے بعد دیگرے خودکشی کر رہے تھے؟  

اِس پُرامن احتجاج کا ایک متاثرکن پہلو یہ بھی ہے کہ ملک کے جو نوجوان نعرے لگا رہے تھے یا اُن کے پلے کارڈز پر جو شعر درج تھے ، وہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ یہ طریقۂ کار اُنہوںنے اپنے بزرگوں سے ہی سیکھا ہے اور وہ اِس روایت کے امین بھی ہیں۔ رابرٹ فراسٹ نے ۱۹۱۶ء میں کہا تھا،’’ ایک نظم اُس احساس سے وجود میں آتی ہے کہ کہیں کوئی ناانصافی ہوئی ہے۔‘‘ اور ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد، وہی ’’ناانصافی کا احساس‘‘ اِن اشعار، جملوں اور فقروں میں اظہار پا گیا ۔ مثلاً احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے جین زی کہہ رہے تھے، ’’انقلاب زندہ باد!‘‘ یا کاکروچ جنتا پارٹی کے روحِ رواں ابھیجیت دِپکے کا سرخی پانے والا جملہ ’’جھکتی ہے دنیا جھکانے والا چاہیے‘‘( جو اصلاً راجندر کرشن کے گیت کے بول ہیں) یا مشہور شاعر و تحریک کار عامر عزیز کی احتجاجی شاعری کا مصرعہ ’’سب یاد رکھا جائیگا‘‘ یا چند مظاہرین کے پلے کارڈز پر کیفی اعظمی کا شعر ’’کوئی تو سود چکائے، کوئی تو ذمہ لے=  اُس انقلاب کا جو آج تک اُدھار سا ہے‘‘ یا فیض احمد فیض کا مصرعہ ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘‘ یا سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرتی راجیش جوشی کی نظم ’’جو اِس پاگل پن میں شامل نہیں ہوںگے مارے جائیںگے‘‘ یہ سب اِس بات کی دلیل ہے کہ نوجوان اپنی زمین سے جڑے ہوئے ہیں اور اپنے اجداد کی روایتوں کو زندہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا جانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جین زی اور جین وائے: نسلیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتیں، ساتھ میں آگے بڑھتی ہیں 

اِس جین زی احتجاج کے کئی روشن پہلو ہیں۔ میری نظر میں سب سے اہم ہے بڑی تعداد میں لڑکیوں کی حصے داری۔ عصمت چغتائی نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ مجھے روتی بسورتی عورتیں اچھی نہیں لگتیں، میں تو پہاڑوں کی چوٹیوں پر سنگھرش کرتی ہوئی عورتوں کی قائل ہوں۔ آج اگر عصمت بقید حیات ہوتیں تو اِس احتجاج میں نیہا اور دانش علی جیسی سنگھرش کرتی ہوئی لڑکیوں کو دیکھ کر اُن کا جی خوش ہوتا۔ جہاں ایک طرف دِپکے، سوربھ اور آشوتوش تھے تو دوسری طرف نیہا، دانش اور آفرین تھیں۔ عورت کو ’صنف ِ نازک‘ کہا جاتا ہے، لیکن میں کہتی ہوں یہ ’صنف ِ آہن‘ ہیں۔ اگر صنف ِ نازک ہوتیں تو نیہا ۲۲؍ دن تک بھوکی رہ کر احتجاج کیسے کرتیں؟ نیہاتو جین زی لڑکیوں کے لیے ’اِنسپریشین‘ بن گئی ہیں۔’ چلوسنسد ‘ کے بعد کی گئی اُن کی تقریر برسوں یاد رکھی جائیگی۔ نیہا نے کہا کہ ’’ہمیں احتجاج کرنے کی ترغیب ساوتری مائی اور فاطمہ شیخ سے ملتی ہے جنہوںنے معاشرے میں تبدیلی لانے کیلئے تہمتیں جھیلیں۔ ہم لڑکیاں بھی ظلم و جبر کے خلاف مظاہرہ کریںگی، صرف اِس لیے کہ ہماری آئندہ نسلوں کی راہیں ہموار ہو سکیں۔‘‘ 

اِس مظاہرے نے ایک بارپھر ثابت کر دیا ہے کہ عورت ہر دور میں مرد کے دوش بہ دوش رہی ہے۔ اکیسویں صدی کی عورت عصمت (چغتائی) کی بیسویں صدی والی عورت نہیں ہے، جو روتی بسورتی رہتی ہے۔ اِس عہد کی عورت تو دُلہن کے روپ میں بھی احتجاج کرنا جانتی ہے اور کہتی ہے کہ’’ مجھے گہنوں سے بڑھ کے سپنوں کی چاہت ہے۔ جن سپنوں کو سچ ہو جانے کی عادت ہے۔‘‘ آج جین زی لڑکیاں پُراعتماد لہجے میں کہہ رہی ہیں ’’پیروں میں پایل کی بیڑی سے/ باندھ کے میں نہ رہنے والی / میں الہڑ پُروا کے جیسی ہوں/ پردیسوں تک بہنے والی۔‘‘  

یہ بھی پڑھئے: جین زی کی قوت کا اعتراف یا وزیر کا استعفیٰ محض خانہ پری

جین زی احتجاج کا ایک اور مثبت پہلو ہے۔ وہ یہ کہ اِن تمام نوجوانوں نے اُسی طرح اپنے حق کی لڑائی لڑی جیسے جدو جہد ِ آزادی کے دوران اُن کے آباء نے لڑی تھی۔ اِس جین زی مظاہرے میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی کی کوئی تفریق نہیں تھی۔ یہاں سب ہندوستانی تھے، صرف اور صرف ہندوستانی۔ اگر ہم سب اِسی طرح خانوں میں نہ بٹ کر ہمیشہ کیلئے ایک ہو جائیں تو دُنیا میں بہاریں آ جائیں۔  

کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن ایک آخری بات کہنا چاہتی ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ اِس احتجاج سے سبق لے، ورنہ دھرم راج یدھشٹر کے لفظوں کو یاد رکھے کہ ’’اگر پرجا پرسنّ نہیں ہوتی تو راجہ کے مکٹ میں جڑے رتنوں کو کانٹے بنتے دیر نہیں لگتی۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK