دینی مدارس سے فارغ طلبہ کو عصری تعلیم اور روزگار کی دھارا سے جوڑنے کیلئے ایک پُل یعنی بریج کورس کیلئے سرجوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
EPAPER
Updated: August 03, 2026, 8:25 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai
دینی مدارس سے فارغ طلبہ کو عصری تعلیم اور روزگار کی دھارا سے جوڑنے کیلئے ایک پُل یعنی بریج کورس کیلئے سرجوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
دینی مدارس سے فارغ طلبہ کو عصری تعلیم اور روزگار کی دھارا سے جوڑنے کیلئے ایک پُل یعنی بریج کورس کیلئے سرجوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام صرف محنت طلب ہے، مشکل ہرگز نہیں۔ اس ضمن میں ہم اس بریج کورس کا ایک خاکہ پیش کررہے ہیں کہ اس کورس میں کون سے مضامین ہوں اُن کی نوعیت، معیار وغیرہ کیا ہو؟
(۱) ریاضی: آج دینی مدارس میں جمع، نفی، ضرب و تقسیم وغیرہ کے ابتدائی حساب سکھائے جاتے ہیں البتہ بریج کورس میں اجزائے ضربی، عاد اعظم، ذواضاف اقل، فیصدی، نفع نقصان، فیثا غورث، علمِ ہندسہ میں دائرے کی خصوصیات، مماثلت، ہندسی عمل، ہمزاد مساوات، مربعی مساوات، ترسیم وغیرہ سکھائی جائے۔ البتہ اِن باتوں کا خیال رکھئے:
(الف) خالص (Pure) ریاضی کے بجائے قابلِ عمل (Applied) ریاضی پڑھایا جائے۔ جو طلبہ سائنس اسٹریم سے متعلق کر یئر منتخب کرنے والے ہیں اُن کیلئے ہر موضوع پر اگر پانچ مشقیں کرائی جائیں تو کامرس/ آرٹس منتخب کرنے والے طلبہ کیلئے دو مشقیں۔ نظام الاوقات میں ہفتے میں پانچ روز ۴۵؍ منٹ کا ایک پریڈ ریاضی کا ہو۔
(ب)ذہنی آزمائش:ہر مقابلہ جاتی امتحان میں ذہنی آزمائش سب سے کلیدی موضوع ہوتا ہے۔ یہ ریاضی ہی کا حصہ ہے البتہ اس میں روایتی ریاضی مضمون پڑھانے کے بجائے ذہنی آزمائش کے سوالات حل کرنے کی تکنیک سکھائی جائے۔ ذہنی آزمائش کے سوالات دماغ نامی مشین کیلئے تیل کا کام کرتے ہیں۔ ہفتے کے چھٹے دن ریاضی کے پریڈ کے بجائے پورے ایک گھنٹے کا پریڈ اس کیلئے مختص ہو۔ کسی بھی مقابلہ جاتی امتحان میں ذہنی آزمائش کے سوالات کیلئے سب سے زیادہ نمبرات مختص ہوتے ہیں۔ طلبہ کی حاضر دماغی اور قوّتِ فیصلہ کا امتحان یہی سوالات کرتے ہیں۔ فارغینِ دینی مدارس اگر مینجمنٹ کورسیز کرنا چاہتے ہیں تو ذہنی آزمائش سوالات میں اُنہیں خوب خوب مشق کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: جین زی اور جین وائے: نسلیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتیں، ساتھ میں آگے بڑھتی ہیں
(۲)سائنس : معاشیات میں مارکس، نفسیات میں فرائڈ اور سائنس میں ڈاروِن سے ہم اتفاق نہیں کرتے البتہ باقی تعلیمات سے ہمیں کیسا بیر۔ سائنس کے نصاب کی تیاری ہمیں دو درجات میں کرنی ہیں۔ جن طلبہ کو آگے چل کر سائنس سے کسی کورس میں داخلہ نہیں لینا ہے اُن کیلئے جنرل سائنس کا نصاب مرتّب کریں اور جنہیں سائنس اورٹیکنالوجی سے متعلق کسی کو رس میں داخلہ لینا ہے اُنہیں فزکس ( طبیعات) ، کیمسٹری ( کیمیات ) اور بائیولوجی (حیاتیات) تفصیل سے پڑھائی جائے۔(الف )سائنس کیلئے خصوصی طور پر این سی ای آرٹی کی کتابوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے البتہ اُن کتابوں سے نصاب کو منتخب کرنا ہوگا اور عام فہم زبان میں ہمیں ہمار انصاب مرتّب کرنا ہوگا۔(ب) سائنس کی ساری اصطلاحات لازمی طور پر انگریزی زبان میں (۱) پڑھائے جائیں (۲) لکھائے جائیں (۳) یاد کرائے جائیں اور (۴) اصطلاحات کا ہفتہ واری امتحان لیا جائے۔ اِن امتحانات میں نمایاں کامیابی پر انعامات بھی دئے جائیں۔(ج) سائنس میں تجربہ گاہ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔
(۳)(الف)انگریزی زباندانی:انگریزی سے واقفیت اور پھر اس میں مہارت فی زمانہ ضروری نہیں بلکہ لازمی بن گئی ہے لہٰذا انگریزی زباندانی (مع گرامر) کا ایک ۴۵؍منٹ کا پریڈ ہر روز لازمی ہے۔ اس میں کمپوزیشن کا حصہ بھی شامل ہے۔ تین سے لے کر پانچ جملوں کے پیرا گراف کی مشق بھی اسی پریڈ میں کرائی جائے۔
(۴) (ب)انگریزی بول چال :اس بریج کورس میں گرامر اور کمپوزیشن والے انگریزی زباندانی کے پریڈ کے ساتھ انگریزی بول چال کا ۴۵؍منٹ کا ایک روزانہ پریڈ ہو۔ انگریزی سیکھنے اور اُس پر عبور حاصل کرنے میں ہمارے اُردو میڈیم کے عصری اِدارے بھی ناکام ہورہے ہیں۔ عصری اِداروں میں بھی انگریزی زباندانی کا پریڈ ہوتا ہے مگر انگریزی بول چال کا نہیں جب کہ انگریزی اور غیر انگریزی اسکولوں کے درمیان کے واضح فرق سے متعلق سر جوڑ کر جب بھی کوئی سنجیدہ شخص بیٹھے گا تو اس کی سمجھ میں آئے گا کہ انگریزی میڈیم کا طالب علم فرّاٹے سے انگریزی میں بات چیت کرتا ہے۔ انگریزی زباندانی کے پریڈ میں بول چال کی مہارت در کنار، تربیت بھی نہیں ہو سکتی۔ عصری تعلیم کے ادارے چوں کہ نصاب کے اِرد گرد گھومتے ہیں، وہ حکومت کے جی آر کے پابند ہوتے ہیں اسلئے اپنے ٹائم ٹیبل میں انگریزی بول چال کو کوئی جگہ نہیں بنا پاتے ہیں۔ بریج کورس میں اس بڑی کمزوری کو بخوبی دُورکیا جاسکتا ہے تاکہ کمیونی کیشن اسکل میں بہتری ہو۔
یہ بھی پڑھئے: جین زی کی قوت کا اعتراف یا وزیر کا استعفیٰ محض خانہ پری
(۵)انفارمیشن ٹیکنالوجی:فی زمانہ ترقی اور رفتار میں جو اضافہ ہوا ہے اُس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آلات جیسے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور سیٹیلائٹ و موبائیل ٹیکنا لوجی ہے۔ اس انقلاب کی بنا پر زندگی میں بڑی آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔ فارغین دینی مدارس کو اپنی زندگی میں پیش رفت کیلئے ان ہتھیاروں کا استعمال کرنالازمی ہے لہٰذا بریج کورس میں صرف کمپیوٹر کی ابتدائی معلومات یا ڈیٹا انٹری تک محدود نہ رہے بلکہ مدارس سے فارغ ان صاحبان کو اس ٹیکنالوجی میں بھر پور مہارت حاصل کرائی جائے تاکہ وہ خود پاور پوائنٹ تیار کر سکیں۔ انٹرنیٹ پر موجود معلومات سے مستفیض ہو سکیں اور اپنے کورس میں اُن کا استعمال بھی کریں۔ ہارڈ ورک نیٹ ورکنگ میں یہ لوگ کمپیوٹر اسمبلی تک معلومات رکھیں۔ غرض یہ کہ ایک مولوی کمپیوٹر اور موبائیل ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھر پورپُر اعتماد نظر آئے اور ثابت بھی ہو۔
(۶) مصنوعی ذہانت : آج مصنوعی ذہانت کی مختلف قسموں نے سارے نظام اپنے قبضے میں کرلیے ہیں۔ ہمارے طلبہ کو اس کے مثبت اور کارآمدو مفید استعمال سے آگاہ کیا جائے۔ مصنوعی ذہانت کو قدرتی ذہانت کا حریف نہ سمجھا جائے بلکہ دین کی تبلیغ و اشاعت میں اس کے کردار پر زور دیا جائے۔ ہمارے دینی مدارس کے فارغین مصنوعی ذہانت کی جانبداری، غلط بیانی اور تاریخی حقائق سے کھلواڑ کو بھی بخوبی سمجھ پائیں گے۔نیز حفّاظ، عالم و فاضل حضرات اے آئی پر تکیہ نہ کرتے ہوئے اپنی فکر و ادراک کا استعمال کریںگے!
(۷)حالاتِ حاضرہ یا سیاسی سائنس : دینی مدارس سے فارغین کو حالاتِ حاضرہ اور سیاسیات سے بھر پور با خبر رہنے کیلئے روزانہ کم از کم۳۰؍ منٹ کا ایک پریڈ مختص ہو۔ (۱) اُس میں روزانہ انگریزی یا ریاستی زبان کے کسی ایک اخبار سے اور اُس کے مشمولات سے متعارف کرایا جائے (۲) ادارتی صفحہ پر تبصرے کئے جائیں (۳) خبروں کے پیچھے چھپی ہوئی خبر نیز خبروں کی تجزیہ آرائی کا طریقہ بتایا جائے۔ (۴) ہرخبر پر پانچ سطروں کا تبصرہ لکھنا سکھایا جائے (۵) کسی موضوع پر ایڈیٹر کے نام خط لکھنا سکھایا جائے (۶) آخر میں ایک؍ دو صفحے کے تبصرے یا مضامین لکھنا سکھایا جائے۔ (۷) حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کرتے وقت ان روایتی جملوں سے پر ہیز کرنا سکھایا جائے جیسے’’آج مسلمانوں کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ ہمارے سارے کارواں چھوٹ چکے ہیں۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہمارے خلاف دنیا کی ساری قو میں اور قوتیں برسر پیکار ہیں۔ یہ صہیونی سازش ہے، یہ عالمی سازش ہے.... ‘‘
یہ بھی پڑھئے: گاؤں کے عارضی پل صرف دو کناروں کو نہیں ملاتے تھے بلکہ دلوں کو بھی جوڑتے تھے
(۸)عام معلومات؍ جغرافیہ: دینی مدارس سے فارغین کیلئے عام معلومات کا ۳۰؍ منٹ کا روزانہ ایک پریڈ لازمی ہو۔ عام معلومات کے حصول کیلئے روزانہ کے اخبار ، رسالہ، ایئربُک انٹرنیٹ سے استفادہ سکھایا جائے۔ روزانہ کے اس۳۰؍ منٹ کے پریڈ میں ایک دن عام معلومات جب کہ دوسرے دن صرف جغرافیہ کی معلومات دی جائے۔ عام معلومات میں ملکوں کے صدر مقام، ایجادات و موجّد، ملکی و عالمی سطحی کی شخصیات کا مختصر تعارف، حفظان صحت پر مختصر سوالات وغیرہ شامل ہوں۔
(۹)معاشیات:بریج کورس میں معاشیات کے بنیادی اصولوں سے سبھوں کو متعارف کرانا ضروری ہے البتہ جو طلبہ آگے چل کر کامرس سے متعلقہ کورسیز سیکھنے کے متمنی ہیں وہ البتہ اکا ؤنٹس، فائنانس اور اکنامکس کا عمیق مطالعہ کریں، کچھ اس حد تک کہ انہیں کمپنی سیکریٹری اور فائنانشیل اینالسٹ تک بننے میں بھی کوئی دشواری نہ آئے۔بریج کورس کے مشمولات پر بحث جاری رہے گی۔