اس ہفتہ بھی مشرقی وسطی میں جاری جنگ اور اس کے دور رس اثرات پر کئی اخبارات نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 10:10 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
اس ہفتہ بھی مشرقی وسطی میں جاری جنگ اور اس کے دور رس اثرات پر کئی اخبارات نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس ہفتہ بھی مشرقی وسطی میں جاری جنگ اور اس کے دور رس اثرات پر کئی اخبارات نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خصوصاً ملک میں کمرشل رسوئی گیس سلنڈروں کی قلت کو اسی عالمی کشیدگی سے جوڑتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر طنزیہ اور تنقیدی انداز اختیار کیا گیا۔ اس تناظر میں امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو روس سے خام تیل خریدنے کی ’’اجازت‘‘ دینے پر بھی اخبارات نے معنی خیز تبصرے کئے اور توانائی کی خود مختاری کے سوال کو شدت کے ساتھ اٹھایا۔ دوسری جانب نیپال میں نئی منتخب حکومت کو نوجوان نسل کی جیت اور عوامی امنگوں کی عکاسی قرار دیا گیا جبکہ چین میں ذیابیطس کے خاتمے کیلئے علاج کے ایک نئے طریقۂ کار کی دریافت کو طبی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت، ایران پر حملے سرخی میں رہے
روس سے تیل کی خریداری کیلئے ’’امریکہ کی اجازت‘‘ لمحہ فکریہ
لوک مت( مراٹھی، ۹؍ مارچ)
مراٹھی اخبار’’لوک مت‘‘ نے اداریہ لکھا ہے کہ’’ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ کا حالیہ بیان کہ’ہندوستانی کمپنیوں کو روسی تیل خریدنے کیلئے ۳۰ دن کی عارضی رعایت دی جا رہی ہے‘ بین الاقوامی سفارتی آداب کے منافی اور ایک ابھرتی ہوئی معیشت کی تذلیل کے مترادف ہے۔ ایک ایسے ملک کو جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور پانچویں بڑی معیشت ہے، اس طرح اجازت نامہ جاری کرنا واشنگٹن کے اس تکبرانہ رویے کی عکاسی ہے جو وہ اپنے زیر اثر ممالک کیلئے مخصوص رکھتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف دہلی کے لیے لمحہ فکریہ ہے بلکہ مودی حکومت کی اس خارجہ پالیسی پر بھی سوالیہ نشان ہے جو’’وشو گرو‘‘ بننے کا راگ الاپتے نہیں تھکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ سفارت کاری کو کسی ٹیلی ویژن ریالٹی شو کی طرح چلاتے ہیں جہاں ہر معاہدہ اور ہر گفتگو ایک’’ڈیل‘‘ کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۵ میں ٹرمپ کا یہ دعوی کہ مودی نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا وعدہ کیا ہے سراسر سیاسی شعبدہ بازی ثابت ہوا۔ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ فروری ۲۰۲۶ تک ہندوستان یومیہ ۱۰؍ لاکھ بیرل سے زیادہ روسی تیل درآمد کر رہا تھا۔ یہاں بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہندوستان نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا تو امریکی صدر کے اس سنگین دعوے کی تردید فوری طور پر کیوں نہیں کی گئی؟ مودی حکومت کی یہ پراسرار خاموشی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے کہ کیا بند کمروں میں کوئی ایسی یقین دہانی کرائی گئی تھی جو عوامی مفاد اور قومی خود مختاری کے منافی ہے؟امریکہ جن پابندیوں کا خوف دلا کر دنیا کو ڈراتا ہے انہیں اقوام متحدہ کی کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔یہ محض جی -۷ ؍اور یورپی یونین کے یکطرفہ فیصلے ہیں جنہیں ڈالر کی بالادستی کے زور پر پوری دنیا پر مسلط کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہندوستان جیسا بڑا ملک بھی اب تک اس معاشی غلامی سے نکلنےکیلئے کوئی ٹھوس متبادل ادائیگی کا نظام وضع نہیں کر سکا۔ جب تک ہماری تجارت کا انحصار امریکی ڈالر پر رہے گا ہمیں واشنگٹن سے اجازت ناموں کی ذلت آمیز زبان سننی پڑے گی۔اپوزیشن کا یہ سوال کہ ہندوستان کو اجازت دینے والا امریکہ کون ہوتا ہے؟ مکمل طور پر جائز اور قومی غیرت کا عکاس ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اجیت پوار کی موت، اے آئی سمٹ کی بد نظمی اور تلنگانہ انتخابات اخباروں کے موضوع
نیپالی عوام نے روایتی سیاست کے بتوں کو پاش پاش کردیا
لوک ستہ(مراٹھی، ۹؍مارچ)
مراٹھی اخبار’’لوک ستہ‘‘ لکھتا ہے کہ’’ نیپال کی حالیہ سیاسی لہر نے نہ صرف کھٹمنڈو کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کیلئے ایک واضح پیغام چھوڑا ہے۔ گزشتہ چودہ برسوں میں اٹھارہ حکومتوں کی تبدیلی کا تماشہ دیکھنے والی نیپالی عوام نے بالآخر روایتی سیاست کے بتوں کو پاش پاش کر دیا ہے۔ یہ محض ایک انتخابی جیت نہیں بلکہ اس استحصالی حکومت کے خلاف عوامی اعلان جنگ ہے جس نے برسوں سے نیپال کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔کئی دہائیوں سے نیپال کی سیاست کے پی شرما اولی اور شیر بہادر دیوبا جیسے چند چہروں کے گرد گھوم رہی تھی۔ اقتدار کی اس رسہ کشی میں عوام پس کر رہ گئے تھے۔ لیکن جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ جب حکمراں طبقہ عوام کی نبضکو سمجھنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو وہ اسے مسترد کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ نیپال کے ہوش مند ووٹرس نے خاص طور پر نوجوانوں نے جس طرح راشٹریہ سوتنتر پارٹی اور بالین شاہ جیسے نو واردوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں آنے والی تبدیلیوں کا تسلسل نظر آتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نیپال کی دونوں بڑی کمیونسٹ پارٹیاں جو کبھی ناقابل شکست سمجھی جاتی تھیں اب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اب نظریہ سے زیادہ کارکردگی اور روزگارکی اہمیت ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندیوں اور معاشی بدحالی نے نوجوانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا اور یہی وہ عوامی غصہ تھا جسے بالین شاہ نے اپنی سیاسی کامیابی میں تبدیل کر لیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آسام دل بدلی، یوگی-شنکراچاریہ تنازع اور تعلیمی نظام پر ایس سی تبصرہ سرخیوں میں
مشرق وسطیٰ کے حالات سے عالمی بازار میں ارتعاش
دی انڈین ایکسپریس( ۱۱؍ مارچ)
انگریزی اخبار’’دی انڈین ایکسپریس‘‘ اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ’’مشرق وسطی کے سلگتے ہوئے حالات نے ایک بار پھر عالمی توانائی کی منڈیوں میں وہ ارتعاش پیدا کر دیا ہے جس کے اثرات اب ہندوستان کی دہلیز تک آن پہنچے ہیں۔ پیر جو خام تیل کی قیمتوں کا اچانک ۱۲۰ ؍ڈالر فی بیرل تک جا پہنچنا محض ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کیلئے سنگین وارننگ ہے۔ اگرچہ امریکی صدر کے جنگ جلد ختم ہونےکے بیانات اور جی ۷ ؍ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر نکالنے کی خبروں نے قیمتوں کو عارضی طور پر ۸۷؍ ڈالر تک لا کھڑا کیا ہےلیکن کیا یہ استحکام پائیدار ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ زمینی حقائق تاحال غیر یقینی کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔ہندوستان کے لیے یہ صورتحال خاصی تشویشناک ہے کیونکہ توانائی کیلئے ہمارا انحصار خلیجی خطے پر ہے۔ جب عالمی ایل این جی کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز جیسی حساس گزرگاہ سے آتا ہو تو وہاں معمولی سی چنگاری بھی ہماری صنعتی اور گھریلو زندگی کو مفلوج کر سکتی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان اپنی ضرورت کی ۵۰ فیصد قدرتی گیس اور ۶۰ فیصد سے زائد ایل پی جی درآمد کرتا ہے۔ ایسے میں رسد اور طلب کا موجودہ بگاڑ محض اتفاق نہیں بلکہ ہماری ترجیحات کی کمزوری کا عکاس ہے حکومت نے’’اسینشل کموڈٹیز ایکٹ‘‘ نافذ کرکے گھریلو صارفین اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو ترجیح دینے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بظاہر عوامی غم و غصے سے بچنے کی کوشش تو نظر آتی ہے لیکن اس کا دوسرا رخ خاصا تاریک ہے۔ گجرات کے سیرامک یونٹس سے لے کر ممبئی اور بنگلور کے ریستورانوں تک صنعتی اور تجارتی شعبہ اس وقت گیس کی قلت کی وجہ سے سسک رہا ہے فرٹیلائزر کے کارخانوں کو ان کی ضرورت کا محض ۷۰؍ فیصد فراہم کرنا زراعت پر مبنی معیشت کیلئےکسی بڑے دھچکے سے کم نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع، بسوا شرما کا اشتعال انگیز ویڈیو اور جنرل نرونے کی کتاب
ذیابیطس کے علاج میں اہم پیش رفت
لوک مت سماچار(۶؍مارچ)
ہندی اخبار’’لوک مت سماچار‘‘نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ’’ طبی دنیا سے ایک ایسی خوشخبری موصول ہوئی ہے جو نہ صرف کروڑوں مریضوں کیلئے نوید سحر ہے بلکہ اسے اگر رواں صدی کی سب سے بڑی طبی پیش رفت قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ چینی سائنسدانوں نے’اسٹیم سیل تھراپی‘ کے ذریعے ٹائپ۔۲؍ذیابیطس کو جڑ سے ختم کرنے کا جو کامیاب تجربہ کیا ہے اس نے اس دیرینہ تصور کو پاش پاش کر دیا ہے کہ شوگر ایک ایسی لا علاج بیماری ہے جو قبر تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار ریجنیریٹو میڈیسن کے شعبہ نے ثابت کر دکھایا ہے کہ اب لبلبے کے ناکارہ خلیوں کو مصنوعی طور پر تیار کردہ صحت مند خلیوں سے تبدیل کرنا ممکن ہو چکا ہے۔اس نئی تکنیک کی خاص بات اس کا نہایت پیچیدہ مگر موثر عمل ہے۔ مریض کے کسی قریبی عزیز سے اسٹیم سیلز لےکر ان کے جینیاتی ڈھانچے میں مخصوص تبدیلیاں کی جاتی ہیں جس کے بعد انہیں انسولین بنانے والے ’بیٹا سیلز‘ میں تبدیل کر کے مریض کے جسم کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف مریض کو روزانہ کے تکلیف دہ انجکشن (انسولین) سے نجات دلاتا ہے بلکہ اسے ایک مستقل اور درد سے پاک زندگی کی ضمانت بھی دیتا ہے۔تاہم جہاں یہ سائنسی کامیابی جشن کے قابل ہے وہیں اس کے پس منظر میں چھپے حقائق نہایت لرزہ خیز ہیں۔ عالمی ادارہ برائے ذیابیطس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی آبادی کا ہر نواں شخص اس خاموش قاتل کا شکار ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کروڑوں افراد اس سے بے خبر ہیں اور جب تک تشخیص ہوتی ہے یہ مرض گردوں کی ناکامی، بینائی سےمحرومی اور امراض قلب جیسی سنگین صورت اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں صحت کی سہولیات پہلے ہی نا کافی ہیں اس بیماری کا پھیلاؤ ایک بڑے انسانی المیے کی نشاندہی کر رہا ہے۔حکومتوں اور عالمی اداروں کیلئے اب یہ لازم ہو چکا ہے کہ وہ اس نئی ٹیکنالوجی کو عام کرنے اور اسے سستا بنانے کیلئےہنگامی بنیادوں پر کام کریں۔ ‘‘