حالیہ دنوں میں مغربی ایشیا کے حالات نے ایک ایسی خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے جس نے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی نظام کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 10:31 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
حالیہ دنوں میں مغربی ایشیا کے حالات نے ایک ایسی خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے جس نے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی نظام کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں مغربی ایشیا کے حالات نے ایک ایسی خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے جس نے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی نظام کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس ہفتے کے غیر اردو اخبارات کے اداریوں پر نظر ڈالیں تو ایک بات مشترک نظر آتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عسکری جارحیت پر شدید تشویش۔بیشتر اخبارات نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور ایران پرحالیہ حملوں کو اپنی سرخیوں کا مرکز بنایا ہے۔ اداریہ نگاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اخبارات نے اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور امریکہ کی جانب سے فوجی کارروائی کو خطے میں عدم استحکام کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسام دل بدلی، یوگی-شنکراچاریہ تنازع اور تعلیمی نظام پر ایس سی تبصرہ سرخیوں میں
اس وقت پورا خطہ بارود کے ڈھیر پر ہے
دی انڈین ایکسپریس(انگریزی،۲؍مارچ )
’’گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کیا جانے والا مشترکہ فوجی آپریشن خطے کی تاریخ کا ایک ہولناک موڑ ثابت ہوا ہے۔ اس عسکری کارروائی نے نہ صرف تہران، اصفہان اور کرج جیسے اہم شہروں کو لرزہ کر رکھ دیا ہے بلکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق نے عالمی سیاست میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کئے جائیں گے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ حملہ جنیوا میں عمان کی ثالثی میں جاری ان جوہری مذاکرات کے محض دو دن بعد کیا گیا جن کے بارے میں تاثر تھا کہ وہ کسی بڑی پیش رفت کے قریب ہیں۔ اب یہ تلخ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ وہ مذاکرات محض ایک سیاسی پردہ تھا تاکہ ایران کے گرد فوجی گھیرا تنگ کیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے حالیہ بیانات نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اصل ہدف کبھی بھی سفارتی تصفیہ نہیں تھا بلکہ وہ ایران میں دہائیوں سے قائم اسلامی نظام کا جڑ سے خاتمہ چاہتے تھے۔اگرچہ ایران کے اندرونی حالات کے تناظر میں’رجیم چینج‘ کی بازگشت عرصے سے سنائی دے رہی تھی لیکن بیرونی عسکری مداخلت نے صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ۸۶؍ سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی رحلت بلاشبہ ایک بڑے عہد کا خاتمہ ہے لیکن واشنگٹن اور تل ابیب کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ نظریاتی بنیادوں پر کھڑا نظام محض ایک شخصیت کے ہٹنے سے تاش کے پتوں کی طرح نہیں بکھرتا۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ افغانستان، عراق اور لیبیا میں امریکی مداخلت کے نتائج کس قدر ہولناک رہے۔ بیرونی قوت کے بل بوتے پر مسلط کی گئی تبدیلی اکثر انتقال اقتدار کے بجائے ملک کو مستقل خانہ جنگی اور لاقانونیت کی بھٹی میں جھونک دیتی ہے۔اس وقت پورا خطہ بارود کے ڈھیر پر ہے اور ایران کے جوابی میزائل حملوں نے خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے اندر سے کوئی ایسی متبادل قیادت ابھر سکے گی جو ملک کو نسلی تقسیم اور بکھراؤ سے بچا سکے؟ یا پھر یہ قدیم سرزمین بھی یوکرین اور غزہ کی طرح طویل المیعاد ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گی؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: اجیت پوار کی موت، اے آئی سمٹ کی بد نظمی اور تلنگانہ انتخابات اخباروں کے موضوع
اسرائیل اپنے بل پر کسی بڑی جنگ کی سکت نہیں رکھتا
لوک ستہ( مراٹھی، ۴؍مارچ)
’’ہر خود پرست سیاستداں کی زندگی میں ایک ایسا فیصلہ کن موڑ ضرور آتا ہے جہاں سے اس کے سیاسی زوال کی دستک واضح سنائی دینے لگتی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کیلئے ایران پر حالیہ عسکری مہم جوئی کا فیصلہ ان کے دور اقتدار کا وہی نقطہ زوال ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ وہائٹ ہاؤس نے اپنے ملک کو ایک ایسی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جو درحقیقت امریکہ کی ہے ہی نہیں بلکہ یہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی سیاسی بقا کی وہ بھینٹ ہے جس کا ایندھن بننے کی ذمہ داری ٹرمپ نے مصلحت پسندی میں اپنے کندھوں پر اٹھا لی ہے۔ تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ اسرائیل اپنے بل بوتے پر کسی بڑی جنگ کی سکت نہیں رکھتا۔ واشنگٹن کی فراہم کردہ بیساکھیوں کے بغیر تل ابیب کا دفاعی ڈھانچہ ہمیشہ ریت کی دیوار ثابت ہوا ہے۔ آج تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے جہاں ایک عالمی قوت کی پالیسیاں محض ایک علاقائی ریاست کےمفادات کے گرد گھوم رہی ہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو گزشتہ برس کے اواخر ہی سے نیتن یاہو مسلسل صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف اکسانے میں مصروف تھے۔ ایسے وقت میں جب تہران کے ساتھ سفارتی سطح پر کسی ممکنہ تصفیے کی راہ ہموار ہو رہی تھی، اسرائیلی ریشہ دوانیوں نے ان تمام کوششوں کو سبوتاژ کر دیا۔ یاہو کیلئے ایران کا ایٹمی بم ایک ایسی سیاسی ڈھال ہے جس کا راگ الاپ کر وہ اپنی ناکامیوں اور کرپشن کیس پر پردہ ڈالتےہیں۔ عالمی ایٹمی ایجنسی کی جانب سے ایران کو بارہا کلین چٹ ملنے کے باوجود اسرائیل کا اصرار محض ایک سیاسی ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع، بسوا شرما کا اشتعال انگیز ویڈیو اور جنرل نرونے کی کتاب
دنیا ایک بار پھر بڑی تباہی کی دہلیز پر کھڑی ہے
نوشکتی( مراٹھی،۴؍مارچ )
’’عالمی سیاست اس وقت جس نہج پر پہنچ چکی ہے، اسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ طاقتور ممالک نے مذاکرات کی میز کو پسِ پشت ڈال کر بزور شمشیر اپنے مفادات حاصل کرنے ہی کو حتمی راستہ تسلیم کر لیا ہے۔ روس اور یوکرین کی طویل جنگ نے پہلے ہی دنیا کو معاشی اورسفارتی بحران میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اب مشرق وسطیٰ اور پاک افغان سرحدوں پر کھلنے والے نئے محاذوں نے عالمی امن کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی تیاری کر لی ہے۔ حالیہ واقعات بالخصوص ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی امریکی و اسرائیلی مہم جوئی نے اس خطرے کو مہمیز دی ہے کہ دنیا ایک بار پھر کسی بڑی تباہی کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ امریکہ نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے جس عالمی نظام کی بنیاد رکھی، وہ درحقیقت اس کے اپنے مفادات اور سپر پاور ہونے کے زعم پر مبنی ہے۔ واشنگٹن کی پالیسی یہ رہی ہے کہ دنیا میں کیا ہونا چاہئے اور کسے اقتدار میں رہنا چاہئے، اس کا فیصلہ صرف وائٹ ہاؤس کرے گا۔ جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کی آڑ میں لیبیا سے لےکر عراق اور شام تک جو مداخلت کی گئی، اس کے بھیانک نتائج آج دنیا کے سامنے ہیں۔ عراق کو تباہ کن ہتھیاروں کے جھوٹے بہانے پر کھنڈر بنا دیا گیا اور اب وہی تاریخ ایران میں دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کاالزام لگا کر اسے معاشی طور پر مفلوج کرنا اور پھر اس کی داخلی خودمختاری پر حملہ کرنا امریکی تسلط پسندی کی واضح مثال ہے۔ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ بے چینی ہندوستان کیلئے محض ایک خارجی معاملہ نہیں بلکہ ایک سنگین اسٹریٹجک اور معاشی چیلنج ہے۔ ہندوستان کی تیل کی ضروریات کا تقریباً ۵۰؍ حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اگر اس خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہوئے تو نہ صرف پیٹرولیم کی قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی بلکہ ملکی معیشت بھی مہنگائی کے بوجھ تلے دب جائے گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع مرکزی بجٹ اور ششی تھرور کی کانگریس قائدین سے ملاقات رہا
عالمی رائے عامہ اس جارحیت کے خلاف ہے
نوبھارت ٹائمز( ہندی، ۲؍مارچ )
’’ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں سفارت کاری کے تمام دروازے بظاہر بند نظر آتے ہیں۔ جس وقت فریقین کے درمیان امن مذاکرات کا ڈراما رچایا جا رہا تھا، عین اسی دوران امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے حملے کے احکامات نے ثابت کر دیا کہ واشنگٹن کا اصلاًایجنڈا کچھ اور ہی ہے۔ اگرچہ یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ یہ مذاکرات کسی مثبت نتیجے پر پہنچ سکتی ہے لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ تصادم ناگزیر تھا۔ امریکہ کا ظاہری اصرار ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر تھا لیکن اس کا اصل ہدف ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تھے۔ ٹرمپ کی حالیہ اشتعال انگیزیوں سے یہ واضح ہو چکا تھا کہ وہ محض صدارتی تبدیلی نہیں بلکہ خامنہ ای کا خاتمہ چاہتے تھے مگر ان کی رحلت کے باوجود یہ سوال جوں کا توں برقرار ہے کہ کیا یہ جنگ ختم ہو سکے گی؟ خامنہ ای کا کردار ایران کی نصف صدی کی تاریخ پر محیط ہے۔ شاہ ایران کے خلاف جدوجہد سے لے کر آیت اللہ خمینی کے قریب ترین ساتھی صدر اور پھر سپریم لیڈر کے منصب تک ان کی شخصیت ایرانی سیاست کا محور رہی۔ جیسے جیسے ان کا اثر و رسوخ بڑھا، امریکہ کے ساتھ تصادم کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ ٹرمپ انہیں اپنا سب سے بڑا حریف تصور کرتے تھے مگر ان کے بعد اب ایران، امریکہ اور عالمی برادری کیلئے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اقتدار کی اس منتقلی کا رخ کیا ہوگا۔ٹرمپ کا بنیادی مقصد خامنہ ای کو اقتدار سے ہٹانا تھا جو بظاہر پورا ہو چکا ہے لیکن ایران کا داخلی ڈھانچہ اور نظام ابھی تک اسی پرانی نہج پر قائم ہے جس کی آبیاری خود خامنہ ای نے کی تھی۔ قیادت کی تبدیلی سے ایران کو دھچکا ضرور لگا ہے لیکن اس کی عسکری قوت اب بھی برقرار ہے جس کا ثبوت خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کارروائیاں اور آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کا نشانہ بننا ہے۔امریکی صدر اکثر ایرانی عوام کی ہمدردی کا دم بھرتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایران پر حملے کے خلاف خود امریکہ کے اندر احتجاجی لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی رائے عامہ اس جارحیت کے خلاف ہے۔‘‘