• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے اخبارات کا موضوع، بسوا شرما کا اشتعال انگیز ویڈیو اور جنرل نرونے کی کتاب

Updated: February 15, 2026, 10:14 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

اس ہفتے ملکی سیاست اور پالیسی سازی کے کئی حساس پہلو غیر اردو اخبارات کے اداریوں اور تبصروں میں زیر بحث رہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ کے اشتعال انگیز ویڈیو نے سماجی ہم آہنگی کے سوال کو پھر سے زندہ کر دیا جس پر اخبارات نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

The opposition has blocked the government`s speech regarding the Indo-US trade deal and the former army chief`s book. Photo: INN
ہند امریکی تجارتی ڈیل اور سابق آرمی چیف کی کتاب کے حوالے سے اپوزیشن نے حکومت کا ناطقہ بند کررکھاہے۔ تصویر: آئی این این

اس ہفتے ملکی سیاست اور پالیسی سازی کے کئی حساس پہلو غیر اردو اخبارات کے اداریوں اور تبصروں میں زیر بحث رہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ کے اشتعال انگیز ویڈیو نے سماجی ہم آہنگی کے سوال کو پھر سے زندہ کر دیا جس پر اخبارات نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان طے پانے والے مبہم معاہدے کو مراٹھی اخبارات نے شفافیت کے پیمانے پر پرکھتے ہوئے اس کی شرائط اور ممکنہ اثرات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ آرمی چیف جنرل نرونے کی آپ بیتی کے تناظر میں مرکزی حکومت کے غیر واضح احکامات پر بھی تنقیدی نگاہ ڈالی گئی۔اس کے برعکس تعلیم کے شعبے میں کیرالا حکومت کے انقلابی اقدامات کو امید کی کرن قرار دیتے ہوئے دیگر ریاستوں کو اس ماڈل سے رہنمائی لینے کا مشورہ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع مرکزی بجٹ اور ششی تھرور کی کانگریس قائدین سے ملاقات رہا

یہ بنیادی اصولوں پر براہ راست حملہ ہے

دی انڈین ایکسپریس(انگریزی، ۱۰؍فروری)

’’آسام میں بی جے پی کے زیر اقتدار ایک نفرت انگیز ویڈیو کا منظر عام پر آنا اور پھر عجلت میں اسے ڈیلیٹ کر دینا کسی معمولی تکنیکی لغزش کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی اور تشویشناک سیاسی حکمت عملی کی غمازی کرتا ہے۔ اس ویڈیو میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کو ایک مخصوص مذہبی گروہ خصوصا بنگالی مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکساتے ہوئے دکھایا گیا جس پر’پوائنٹ بلینک شاٹ‘ جیسا اشتعال انگیز کیپشن بھی موجود تھا۔ یہ واقعہ وزیر اعلیٰ کی حالیہ اشتعال انگیز بیان بازی کے تسلسل کی ایک کڑی ہے جہاں وہ ’میاں‘جیسی تضحیک آمیز اصطلاحات کے ذریعے ایک پوری برادری کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔جب ریاست کا اعلیٰ ترین عہدہ دار نفرت آمیز زبان استعمال کرے اور ذرائع ابلاغ اسے تقویت دیں تو یہ محض سیاسی بیان نہیں رہتا بلکہ ملک کے آئینی ڈھانچے، مساوات، اور بھائی چارے کے بنیادی اصولوں پر براہ راست حملہ بن جاتا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس ویڈیو سے لاعلمی کا اظہار تو کیا مگر اس کی واضح اور مذمت سے گریز کیا۔ سیاست میں خاموشی اکثر رضامندی سمجھی جاتی ہے اور اس معاملے میں بھی یہی تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔یہ صورتحال بی جے پی کی مرکزی قیادت اور خصوصا پارٹی کے نئے ریاستی سربراہ نتن نبین کیلئے ایک سخت امتحان ہے۔ کیا پارٹی آئینی قدروں اور جمہوری ذمہ داریوں کے ساتھ کھڑی ہوگی یا انتخابی فائدے کیلئے نفرت کی سیاست کو نظرانداز کرے گی؟ریاست میں انتخابات قریب ہیں اور بی جے پی تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے سرگرم ہے۔ ایسے میں یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ شرما حکومت نے ترقی اور فلاحی اسکیموں کے بجائے پولرائزیشن اور فرقہ وارانہ تقسیم کو انتخابی حکمتِ عملی بنا لیا ہے۔سپریم کورٹ نے اکتوبر ۲۰۲۲ء میں واضح ہدایت دی تھی کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف پولیس کو بغیر کسی شکایت کے خودکار طور پر کارروائی کرنی چاہئے بصورت دیگر توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں آسکتی ہے۔ اس کے باوجود آسام پولیس کا شرما حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے اس ویڈیو کے بنانے والے یا ذمہ داران کےخلاف آزادانہ اور غیر جانبدار کارروائی کرنا بظاہرناممکن دکھائی دیتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتےمہاراشٹر کے بیشتر اخبارات نے اجیت پوار کی ناگہانی موت کو موضوع بنایا

آرمی چیف جنرل نرونے کے الزامات سنگین ہیں

نوبھارت(ہندی، ۱۰؍ فروری)

’’ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہماری افواج کی تربیت، صلاحیت، تجربہ اور بلند حوصلہ بے مثال ہے اور دنیا بھر میں انہیں نظم و ضبط کی اعلیٰ ترین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس عسکری قوت کے باوجود ایک جمہوری ریاست میں سیاسی قیادت اور عسکری کمانڈروں کے درمیان واضح اور شفاف روابط کا ہونا ناگزیر ہے۔ اس تناظر میں وزیر اعظم یا وزیر دفاع کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد آرمی چیف کو واضح نپے تلے اور غیر مبہم احکامات جاری کریں۔یہ صورتحال کسی بھی طور قابل قبول نہیں کہ سیاسی قیادت فیصلہ سازی میں تذبذب کا شکار ہو کر بحران کے وقت واضح احکامات دینے کے بجائے ذمہ داری کمانڈر پر ڈال دے کہ’جو مناسب سمجھو، کر لو۔‘ سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے نے اپنی آپ بیتی ’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘ میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح بعض اوقات عسکری قیادت کومحدوداختیارات کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ ذمہ داری کا تعین اور مناسب عسکری ہدایات جاری کرنا سیاسی قیادت کا وہ فرض ہے جس سے پہلو تہی نہیں کی جا سکتی۔اگر ہم اپنے پڑوسی ممالک پر نظر ڈالیں تو پاکستان اور بنگلہ دیش کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں جمہوریت ہماری طرح مستحکم نہیں رہ سکی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے بیشتر اخبارات نے منی پور کے حادثے، اور اترا کھنڈ کے واقعے کو موضوع بنایا

کروڑوں کسانوں کو معاشی گرداب میں دھکیل دیا گیا

سنچار(مراٹھی، ۹؍ فروری)

’’۳؍فروری کو ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کی بازگشت ہر سو ہے مگر افسوس کہ اس کی تفصیلات ابھی تک عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ مودی حکومت کے سینئر وزراء ذمہ داری کا بوجھ ایک دوسرے کے کندھوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش میں ہیں۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل، امریکی میڈیا اور ٹرمپ انتظامیہ کے رفقاء اس معاہدے سے امریکی کسانوں اور تاجروں کو ملنے والے فوائد کے گن گا رہے ہیں۔ حقائق یہ ہیں کہ امریکی حکومت اپنے کسانوں کو سالانہ۶۰؍ ہزار ڈالرکی خطیر سبسیڈی فراہم کرتی ہےجبکہ ہندوستانی کسان پہلے ہی معاشی تنگی کا شکار ہیں۔ جبکہ ہمارے کسان خود تاریخ کےدھارے میں گم ہونے کے دہانے پر کھڑے ہیںجسے ٹیرف کہا جا رہا ہے وہ درحقیقت ایک غنڈہ گردی پر مبنی ریاست کی جانب سے ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک پر عائد کی گئی زبردستی کی وصولی ہے جس نے کروڑوں کسانوں کو معاشی گرداب میں دھکیل دیا ہے۔ معاہدے کی رو سے امریکہ سے درآمد ہونے والی اشیاء پر صفر فیصدکسٹم ڈیوٹی ہوگی جبکہ ہندوستان سے برآمد ہونے والی زرعی اور دیگر مصنوعات پر ۱۸؍ فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔یہ عدم توازن واضح کرتا ہے کہ ملکی مصنوعات وہاں مہنگی ہو جائیں گی جبکہ امریکی زرعی اجناس اور دودھ کی مصنوعات یہاں سستی ہو کر مارکیٹ پر چھا جائیں گی۔اس کا منطقی نتیجہ ہمارے کسانوں کی معاشی کمر ٹوٹنے اور امریکی تاجروں کی دولت میں بے پناہ اضافے کی صورت میں نکلے گا۔۱۴۰؍ کروڑ نفوس پرمشتمل ہندوستانی مارکیٹ کو امریکہ کیلئے کھول دینا کس قسم کا قومی مفاد ہے؟ پانچ سال قبل دہلی میں کسانوں کے احتجاج کے نتیجے میں حکومت کو زرعی قوانین واپس لینے پڑے تھےمگر اب معاہدوں کی آڑ میں کسان طبقے کو تباہ کرنے کی نئی سازش رچی جا رہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کئی اخبارات نے ایران کی صورتحال، خطے اور دنیا کے امن کیلئے خطرہ کو موضوع بنایا

کیرالا حکومت کا قابل تقلید فیصلہ

پربھات(مراٹھی، ۱۱؍فروری)

’’ملک میں شرح خواندگی میں سرفہرست ریاست کیرالا نے ایک بار پھر تعلیمی میدان میں تاریخی قدم اٹھا کر دیگر ریاستوں کیلئے ایک روشن مثال قائم کر دی ہے۔کیرالا حکومت نے اپنے حالیہ بجٹ میں تعلیمی شعبے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ریاست میں گریجویشن تک کی تعلیم مکمل طور پر مفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف تعلیمی میدان میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ انسانی وسائل کی ترقی کی جانب ایک انقلابی قدم بھی ہے۔اگرچہ ملکی سطح پر بارہویں جماعت تک تعلیم مفت فراہم کرنے کی پالیسی موجود ہےمگر گریجویشن تک اعلیٰ تعلیم کو بلا معاوضہ کرنے والی کیرالا پہلی ریاست بن گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب نجی تعلیمی اداروں کی فیس اور تعلیمی مافیا کے اثر و رسوخ کے باعث عام آدمی کیلئے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا مشکل ہوگیا ہے۔دلچسپ یہ ہے کہ جہاں ملک کی دیگر ریاستیں ووٹروں کو لبھانے کیلئے براہ راست مالی امداد کی اسکیموں (جیسے لاڈلی بہن وغیرہ) پر خطیر رقم خرچ کر رہی ہیں وہیں کیرالا حکومت نے براہ راست علم کی شمع روشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلاشبہ اس فیصلے سے ریاستی خزانے پر مالی بوجھ پڑے گا لیکن قوموں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کا یہ سب سے بہترین اور دور رس طریقہ ہے۔ تعلیم پر خرچ کی جانے والی رقم کبھی خسارہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا روشن مستقبل ہوتی ہے گریجویشن تک تعلیم مفت ہونے سے طلبہ کا مالی بوجھ ختم ہو جائے گا جس سے شرح خواندگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ معیار تعلیم میں بھی بہتری آئے گی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK