ان دونوں کو طاقت کا اس قدر زعم ہے کہ یہ یوری دنیا کو اپنا محکوم سمجھنے لگے ہیں ، نتیجہ یہ ہے کہ ان کی وجہ سے تیسری عالمی جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 11:04 AM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
ان دونوں کو طاقت کا اس قدر زعم ہے کہ یہ یوری دنیا کو اپنا محکوم سمجھنے لگے ہیں ، نتیجہ یہ ہے کہ ان کی وجہ سے تیسری عالمی جنگ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
جنگ اور غارت گری کو اپنی دل بستگی کا سامان سمجھنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی جنایت کاری کی حمایت کرنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سبب دنیا اس وقت ایسے حالات سے دوچار ہے جس نے تیسری عالمی جنگ کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ان دونوں کو طاقت کا اس قدر زعم ہے کہ یہ یوری دنیا کو اپنا محکوم سمجھنے لگے ہیں۔ یہ طاقت کا زعم ہی تھا جس کے سبب سفارتکاری کے تمام ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے اسرائیل نے ایران پر حملہ کر آیت اللہ خامنہ ای کو ان کے اہل خانہ کے بیشتر افراد کے ساتھ شہید کر دیا۔یہ حملہ اُس وقت ہوا جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا اور یہ کہا جا رہا تھا کہ ان مذاکرات سے ایسی کوئی راہ نکل آئے گی جو جنگ و جدل کے بجائے باہمی اتفاق سے مسائل کو حل کرنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: پھر مٹی کے چولہے پر کھانا پکانے کا جتن ہونے لگا
اس امید کے حقیقت میں بدلنے سے قبل صہیونی لیڈر نے ایران پر حملہ کیا اور اس حملے کاجواز یہ پیش کیا کہ اسے خدشہ تھا کہ ایران اس پر حملہ کر سکتا ہے لہٰذا اس نے پیشگی دفاعی اقدام کے طور پر حملہ کیا۔ حفظ ما تقدم کی ایسی بیہودہ مثال اور پورے خطے کو جنگ زدہ حالات میں مبتلا کر دینے والا شخص نہ تو عالمی قوانین کی پاسداری میں یقین رکھتا ہے اور نہ ہی دیگر ملکوں کی خودمختاری اور پرامن فضا ہی اسے راس آتی ہے۔ چونکہ اس کی سینہ زوری کو تقویت پہنچانے والاشخص ان دنوں وہائٹ ہاؤس میں صدارت کی کرسی پر براجمان ہے لہٰذا ان دونوں کو یہ لگتا ہے کہ دنیا ان کے اشاروں پر چلے گی اور یہ جو بھی سیاہ سفید کریں گے اس پر نہ تو کوئی انگلی اٹھائے گا اور نہ ہی کسی میں یہ ہمت ہے کہ ان سے باز پرس کر سکے۔
اگر گزشتہ کچھ دنوں سے جاری جنگ کے تناظر میں ان سفاک لیڈروں کی اس فکر کا تجزیہ کیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس معاملے میں انھیں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ ہتھیاروں کی جنگ کا جو بھی نتیجہ ہو ، حالانکہ ایران نے اب تک جس عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ ان کے مقابلے انیس نہیں ثابت ہوگا ،تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ جس طرح خود کو دنیا کا حاکم سمجھنے لگے تھے ان کی اس ہیکڑی کو ایران نے اپنے محدود جنگی وسائل کی مدد سے خاک میں ملا دیا ہے۔ حملے سے قبل ٹرمپ اور یاہو دونوں کو یہ گما ن تھا کہ کچھ گھنٹوں یا بہت ہوا تو ایک آدھ دن میں ایران شکست سے ہمکنار ہو جائے گا اور وہاں کے عوام کو بنام جمہوریت اور آزادی ورغلا کر ایران کا اقتدار اپنے کسی ایسے غلام نما حکمراں کو سونپ دیں گے جو اس ملک کے وسائل کو ان کے مفاد کے لیے مہیا کروانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا۔ فی الوقت جو حالات ہیں ان کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ اور یاہو اپنے مقصد میں نہ صرف ناکام ہوئے ہیں بلکہ انھوں نے جنگ کی صورت میں خود اپنے ملک کے لیے ایسے مسائل پیدا کر دئیے ہیں جن کے سبب ان کی عوام کو کئی طرح کی پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔
صہیونی وزیر اعظم کو یہ گمان تھا کہ جس طرح اس نے غزہ کو تاراج کر دیا اور سوائے ایران دنیا کے بیشتر ممالک اپنے مفاد کے پیش نظر اس کی سفاکی پر خاموش رہے اسی طرح ایران پر حملہ کرنے کے بعد بھی دنیا میں زیادہ شور وغل نہیں ہوگا اور وہ اپنے دوست ٹرمپ کے ساتھ مل کرجو بین الاقوامی قوانین کو اپنی خواہش کا تابع سمجھتے ہیں، ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے منصوبے کو بہ آسانی عملی شکل دے دیں گے۔ لیکن آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے پوری قوت اور عزم کے ساتھ نہ صرف ان کے منصوبوںپر پانی پھیر دیا بلکہ ان دو بے لگام لیڈروں کو اضطراب اور کسی حد تک مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ جنگ کے چوتھے دن ٹرمپ نے امریکہ میں ہتھیاروں کی قلت کا ٹھیکرا جس طرح سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے سر پھوڑا ہے کہ انہوں نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی میں بڑی فراخدلی دکھائی تھی، اس سے یہی لگتا ہے کہ دنیا میں سپر پاور کے طور پر مشہور اس ملک کے ہاتھ پاؤں اب پھولنے لگے ہیں اور اگر ایران اسی طرح محاذ پر ڈٹا رہا تو بہت ممکن ہے کہ صہیونی وزیر اعظم اور امریکی صدر کو اس جنگ میں خفت اٹھانی پڑے۔
یہ بھی پڑھئے: اخباروں میں ایران جنگ، رسوئی گیس اور نیپال انتخابی نتائج اداریوں کا موضوع رہے
اس جنگ میں ایران کے مرحوم سپریم لیڈر کا کردار ایک ایسے جواں مرد کے طور پرنمایاں ہوا جسے اپنی جان کی بقا سے زیادہ اپنے عوام کے جان ومال کی حفاظت کی فکر تھی ۔ یہی سبب تھا کہ وہ کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے بجائے اپنے گھر اور دفتر میں اپنی منصبی ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے یہ ثابت کردیا کہ شہادت مرد حق پسند کی میراث ہوتی ہے۔ اس حوصلے کا عشر عشیر بھی ان نام نہاد بڑے لیڈروں کے دل میں نہیں پیدا ہو سکتا جو کم عمر بچوں کو اپنی جنسی ہوس (ایپسٹین فائل)اور ظالمانہ سفاکی (غزہ) کا شکار بناتے ہیں اور پھر دوسرے ہی پل خود کو امن عالم کا ٹھیکیدار اور حقوق انسانی کا محافظ بھی قرار دیتے ہیں۔