Inquilab Logo Happiest Places to Work

جب سب کچھ جنتا ہی کو کرنا ہے تو سرکار کیا کرے گی؟

Updated: May 17, 2026, 6:41 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

اگر اقتدار کا کام صرف زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہا تو عوام کہاں تک اپنی دیش بھکتی کا ثبوت دیں گے؟ آخر ان کے بھی تو کچھ فرائض ہیں جو خود کو عوام کا نمائندہ کہتے ہیں ؟افسوس کہ عوام کو پیٹرول اور ڈیزل کم استعمال کرنے کا پاٹھ پڑھانے کے فوراً بعد وزیر اعظم نے گجرات میں تین بڑے روڈ شو کئے۔

Narendra Modi during a roadshow. Photo: INN
نریندر مودی ایک روڈ شو کے دوران۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ اتوار کو اقتدار اعلیٰ نے دیش بھکتی کا حوالہ دیتے ہوئے اہل وطن کے لئے جو فرمان جاری کیا ہے وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے دوران جس مسئلے پرمسلسل بے فکری کا مظاہرہ کیا جاتا رہا وہ اب ایک تلخ حقیقت کی شکل میں عوام کے سامنے آن کھڑا ہوا ہے۔ عالمی سیاست کے ماہرین اور ملک کے دور اندیش سیاست دانوں کے ذریعہ بارہا حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ مغربی ایشیا کے جنگی حالات کے پیدا کردہ ممکنہ بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز حکمت عملی اختیار کرنے کے علاوہ خارجہ پالیسی میں دوبارہ وہی رنگ بھرنے کی ضرورت ہے جو ۲۵؍ اور ۲۶؍ فروری کو وزیر اعظم کے دو روزہ اسرائیلی دورے کے بعد سے مسلسل فق پڑتا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : جس مٹی میں کھیل کود کر بچے، بڑے ہوتے ہیں، وہ اُسے کیسے بھول سکتے ہیں ؟

اقتدار نے ان باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی حالانکہ ایک عام فہم انسان بھی یہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ حالات کے اثرات صرف اسی خطے تک ہی محدود نہیں رہیں گے اور اب عالمی سطح پر یہ اثرات ظاہر ہونا شروع بھی ہو گئے ہیں۔ اتوار کے روز اقتدار اعلیٰ نے عوام سے جو مطالبات کئے ہیں وہ دراصل ان اثرات کا ہی پرتو ہے۔ اقتدار ان اثرات سے اُبرنے کیلئے کیا اقدام کرے گا اس کا تو کوئی ذکر نہیں لیکن عوام کو ایک فہرست تھما دی گئی ہے کہ وہ اپنی روز مرہ زندگی میں کھانے پینے، گھومنے پھرنے اور پہننے اوڑھنے میں مثالی کفایت شعاری کا مظاہرہ کرے۔ 

یہ بھی پڑھئے : دانتے واڑہ کے جنگلوں میں اروندھتی کے ساتھ انجم بھی تھی

بلاشبہ ملک اور دنیا کا بیشتر حصہ ان دنوں مشکل حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ صہیونی اکساوے اور امریکی ہٹ دھرمی کے سبب چھڑنے والی اس جنگ میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر ملوث ممالک کے علاوہ ان ملکوں میں بھی صبر و تحمل، کفایت شعاری اور دور اندیشی پر مبنی اقدام درکار ہیں جو جنگ زدہ حالات سے کسی نہ کسی طور پر متاثر ہونے والے ہیں، لیکن ان اقدام سے کامیابی اسی وقت ممکن ہے جبکہ اقتدار اور عوام کی مشترکہ کوششیں اس میں شامل ہوں۔ اگر اقتدار کا کام صرف زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہا تو عوام کہاں تک اپنی دیش بھکتی کا ثبوت دیں گے؟ اس معاملے میں آخر ان کے بھی تو کچھ فرائض ہیں جو بڑے فخر کے ساتھ خود کو عوام کا نمائندہ کہتے ہیں ؟ اس سوال کا موزوں جواب اسی وقت ملے گا جب کہ عوام سے کئے گئے مطالبات کی تعمیل میں یہ عوامی نمائندے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، جس کی امید محض ایک خیال خام ہے۔ یہ امید خیال خام اس لئے ہے کہ عوام کو پیٹرول اور ڈیزل کم استعمال کرنے کا پاٹھ پڑھانے کے فوراً بعد وزیر اعظم نے گجرات کے جام نگر، سوم ناتھ اور بڑودہ میں تین بڑے روڈ شو کئے۔ ان روڈ شو میں وہ اپنے مخصوص جاہ و جلال کے ساتھ عوام سے روبرو ہوئے۔ ان کے قافلے میں شامل گاڑیاں جب عوام کے ۲؍ رویا صفوں کے درمیان سے گزری ہوں گی تو یقیناً عوام نے اس وقت خود کو اقتدار اعلیٰ سے افضل محسوس کیا ہوگا۔ جو شخص پیٹرول اور ڈیزل کے کم استعمال کی تلقین کر رہا تھا، وہ خود اس پر عمل کرنے سے قاصر ہے اور ایسی صورت میں اگر عوام حسب استطاعت دیش بھکتی کا مظاہرہ کرنے کا عزم کرلیں تو ان کے اندر احساس فضیلت پیدا ہونا فطری ہے۔ عوام کا یہ عزم کوئی نئی بات نہیں ہے، ملک و معاشرہ پر جب بھی مشکل حالات آئے ہیں ان کا بیشتر مقابلہ عوام ہی نے سینہ سپر ہو کر کیا ہے۔ 
اقتدارایک طرف عوام سے دیش بھکتی دکھانے کا مطالبہ کرتاہے اور دوسری جانب امریکہ کے دباؤ اور اسرائیل کی محبت میں روس سے گیس اور ایران سے کھاد لینے سے انکار کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر عوام ان مطالبات کو بروئے کار لاتے بھی ہیں تو اقتدار کا یہ متضاد رویہ درپیش مشکلات کو کس طرح آسان بنا پائے گا؟ایسے میں تو بس یہی لگتا ہے کہ اقتدار اور عوام کے رابطے کی نوعیت اس ڈاکٹر اور مریض جیسی ہے جو ڈاکٹرمریض کو منشیات سے دور رہنے کی تنبیہ تو کرتا ہے لیکن خود سگریٹ اور شراب پینے سے باز نہیں آتا۔ 

یہ بھی پڑھئے : بی جے پی کے اعتماد کا مقابلہ کس طرح کیاجائے؟

ممکن ہے کہ وہ لوگ جو اَب سے کچھ پانچ برس قبل تالی و تھالی بجا کر اور روشنی کے ذریعہ کورونا وائرس کو بھگا رہے تھے وہ اس موقع پر بھی اپنی اسی مثالی فہم و فراست کا مظاہر ہ کریں ۔ حالانکہ یہ ایک اچھا موقع ہے جب وہ اقتدار اعلیٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ پی ایم کیئر فنڈ کا استعمال ایسے مشکل وقت میں نہیں کریں گے تب کب کریں گے؟ یا پھر ان کی پارٹی جو اقتصادی سطح پر ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے وہ پارٹی فنڈ کا کچھ حصہ اس مشکل سے نمٹنے کیلئے مختص کیوں نہیں کر دیتی ؟ اقتدار اعلیٰ اور ان کی پارٹی کو اپنی دیش بھکتی دکھانے کا یہ ایک سنہری موقع ہے بلکہ اگر انہی کی زبان میں کہیں تو ’آپدا میں اوسر ‘ ہے۔ اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو لاکھ ٹکے کا جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ ’فادر لینڈ اور مائی ڈیئر فرینڈ‘ ان مشکلات سے نکلنے کی ان تدابیر پر عمل کرنے کی اجازت اقتدار اعلیٰ کودیں گے جس کا ایک راستہ آبنائے ہرمز سے ہوکر گزرتا ہے؟گزشتہ ڈھائی مہینوں کے حالات اور اس سے قبل آپریشن سیندور کے دوران کے حالات یہ واضح اشارہ کرتے ہیں کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہی ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK