آج قانون کی پابندی کو اکثر مجبوری سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ صرف ایک آئینی ذمہ داری ہے بلکہ دینی تقاضا بھی ہے، اسلئے اس موضوع پر سنجیدہ گفتگو وقت کا تقا ضا ہے۔
EPAPER
Updated: July 13, 2026, 8:37 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai
آج قانون کی پابندی کو اکثر مجبوری سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ صرف ایک آئینی ذمہ داری ہے بلکہ دینی تقاضا بھی ہے، اسلئے اس موضوع پر سنجیدہ گفتگو وقت کا تقا ضا ہے۔
ابھی حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیوکلپ دکھائی دیا تھاجس میں برادران وطن سے تعلق رکھنےوالے ایک وکیل صاحب مسلمانوں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ’’آپ اپنے بچوں کے ایک ہاتھ میں آئین ہند کی کتاب اور دوسرے ہاتھ میں قرآن دیں اور اس کے بعد اگر کسی مرحلے پر آپ کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوتی ہے تو آپ کی طرف سے لڑنے کیلئے ہم اور ہمارے ساتھی موجود ہیں۔‘‘ان کی باتوں میں ایک خیرخواہانہ شکایت تھی کہ ہم نہ تو ٹھیک سے قرآن پر عمل کرتے ہیں، نہ ہی آئین پر۔یہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ ایک آئینہ تھا، جس میں ہم اپنی اجتماعی صورت دیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم دل پر ہاتھ رکھ کر اس شکایت پر غور کریں تو اس میں کہیں نہ کہیں سچائی نظر آئے گی۔اس کے ساتھ ہی ہمیں محسوس ہوگا کہ قانون کی پاسداری کے بارے میں ہمارے معاشرے میں سنجیدہ گفتگو کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج قانون کی پابندی کو اکثر مجبوری سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ صرف ایک آئینی ذمہ داری ہے بلکہ دینی تقاضا بھی ہے۔ اسلام نے عدل، دیانت، وعدوں کی پابندی اور اجتماعی نظم کو بنیادی اقدار قرار دیا ہے۔ ایک حدیث ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ ’’اگر کسی ملک کے قانون کو ماننے سے شریعت کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو تو اس قانون کی اتباع مسلمانوں پر ضروری ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: کیا روایتی ضوابط ۲۱؍ ویں صدی کی کان کنی کیلئے سودمند ہیں؟
یہاں ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ کیا صرف قانون کی پابندی سے تمام مسائل ختم ہوجائیں گے؟ یقیناً نہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ قانون شکنی کسی خاص مذہب یا طبقے کا مسئلہ ہے۔ ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔
لیکن ان تمام حقائق کے باوجود ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی ایک تعداد ایسی ہے جو غلط صحبت، غیر ذمہ دارانہ آزادی یا وقتی سنسنی کی خاطر محلے میں غنڈہ گردی، مار پیٹ، موبائل چوری یا جیب تراشی، چھیڑ چھاڑ، خطرناک بائیک اور ٹرین اسٹنٹ کرنے جیسے معاملات میں ملوث ہے۔ ان سے محلے کے بڑے بزرگوں کے ساتھ ہی ان کے والدین بھی نالاں رہتے ہیں۔ وجوہات بہت ساری ہیں لیکن یہ ایک واضح سچائی ہے کہ آج جیلوں میں ہماری تعداد دوسروں کے مقابلے بہت زیادہ ہے۔ یہ بات کسی الزام کے طور پر نہیں بلکہ خود احتسابی کے جذبے کے ساتھ کہی جارہی ہے کیونکہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کیے بغیر ہم اپنی اصلاح کا سفر شروع نہیں کرسکتے۔
یہ بھی پڑھئے: این آر سی نما ایس آئی آر: ۶؍ کروڑ نام حذف، ہر ووٹر مشکوک اور ہر شہری فکرمند
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں غیر معمولی صلاحیت، بے باکی، جرأت اور قیادت کی خوبیاں ہوتی ہیں۔اس سلسلے میں سابق ایڈوکیٹ جنرل اتر پردیش ایس ایم اے کاظمی مرحوم جو انقلاب کے کالم نویس بھی تھے، کا ایک دلچسپ واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک مرتبہ وہ انقلاب کے ممبئی دفتر میں تشریف لائے تھے۔اس موقع پرانہوں نے ایک بڑے سیاسی لیڈر سے ہونے والی ایک غیر رسمی اور بے تکلفانہ گفتگو کا تذکرہ کیا تھا۔ کاظمی صاحب نے بتایا کہ انہوں نے مجھے چھیڑتے ہوئے کہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ کے لوگ (یعنی مسلمان) اکثر جرم کی دنیا کے بادشاہ بنتےہیں؟ کاظمی صاحب نے بتایا کہ ہم نے بھی انہیں اسی موڈ میں جواب دیا کہ دراصل یہ ہماری فطرت ہے کہ ہم جہاں بھی رہتے ہیں پہلی صف میں رہتے ہیں۔ پیچھے رہنا ہمیں پسند نہیں ہے۔ اگر موقع ملتا ہے تو ہم ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، سید ظہور قاسم، عبید صدیقی، سالم علی، عامر سبحانی، دلیپ کمار، شاہ رخ خان، محمد اظہرالدین اور ثانیہ مرزا بنتے ہیں لیکن اگر کام نہیں کرنے دیا گیا تومستان مرزا، داؤد ابراہیم اور کریم لالہ بھی بن جاتے ہیں۔ اس واقعے کو بطور مثال یہاں جملہ معترضہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، ورنہ سچ تو یہی ہے کہ اگر سازگار مواقع ملیں اورہماری صلاحیتیں صحیح تربیت اور مثبت مواقع کے ساتھ پروان چڑھیں تو ہم سائنس، تعلیم، کھیل، صحافت، عدلیہ اور انتظامیہ سمیت ہر میدان میں ملک و ملت کا نام روشن کر سکتے ہیں،لیکن اگر تربیت کافقدان ہو تو ہماری یہی صلاحیت اور توانائی غلط سمت بھی اختیار کرسکتی ہے جس کانقصان صرف فرد کو نہیں بلکہ پوری قوم کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مطلب یہ کہ اصل مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ اس کی صحیح سمت کا ہے۔
بعض نوجوان ناانصافی یا امتیازی سلوک کے احساس کی وجہ سے بھی قانون سے بدظن ہوجاتے ہیں۔ یہ احساس اپنی جگہ درست ہوسکتا ہے، لیکن اس کا حل قانون شکنی نہیںبلکہ تعلیم، قانونی شعور، آئینی جدوجہد اور مضبوط کردار ہے۔قانون سے دوری انصاف کو قریب نہیں لاتی بلکہ مشکلات میں اضافہ کرتی ہے اور ہمارے تئیں لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم قانون کی پاسداری کرتے ہیں تو لوگوں کی ہمدردیاں ہمارے ساتھ ہوتی ہیں، جیسا کہ وکیل صاحب کی ہیں۔
ہمارے ساتھ اکثر ایک غیر ضروری بحث چھیڑ دی جاتی ہے کہ ہم پہلے مسلمان ہیں یا پہلے ہندوستانی؟ سچ یہ ہے کہ یہ سوال پوری طرح سے بے بنیاد ہے۔ ایک مسلمان اپنے دین پر کامل یقین رکھتے ہوئے اپنے وطن سےسچی محبت کرسکتا ہے۔ مولانا فضلِ حق خیرآبادی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی، مولانا علی میاں ندوی، مولانا صفی الرحمان مبارکپوری اور مولانا اسعد مدنی جیسی شخصیات اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ مذہبی وابستگی اور حب الوطنی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ سماج میں ہمارے بارے میں مثبت رائے قائم ہو، مشکل وقت میں لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور ہمارے حقوق کی آواز مضبوط ہو، تو ہمیں اپنے کردار کو بھی اسی معیار پر استوار کرنا ہوگا۔ قانون کی پاسداری کمزوری نہیں بلکہ کردار کی طاقت ہے،اسلئے ہمیں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ ایک اچھا شہری ہی درحقیقت ایک اچھا مسلمان ہے اور ایک اچھا مسلمان ، ایک اچھا شہری بھی ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو
اس مشن میں ہم سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ والدین، پڑوسی، محلے کے بڑے بزرگ، سماج کے ذمہ دار افراد، رشتہ دار، اساتذہ اور علمائے کرام، سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔ جب نئی نسل کے ایک ہاتھ میں قرآن کی تعلیمات اور دوسرے ہاتھ میں آئین کا شعور ہوگا، تب وہ نہ صرف اپنے حقوق کی حفاظت اور دیانت داری سے اپنے فرائض ادا کرسکے گی بلکہ دونوںجہان میں سرخروئی کا سامان بھی تیار کرسکے گی۔ یہی ایک مضبوط، باوقار اور بااعتماد معاشرے کی بنیاد ہے۔