• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

UPI: کیش لیس ہندوستان کی علامت بنایا گیا تھا، اب کیوں چارج لگایا جا رہا ہے؟

Updated: October 01, 2026, 6:22 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

تاجروں کی تشویش اورعوام کا یہ ڈر کہ انہیں دوبارہ نقدی کی طرف لوٹنا پڑے گا غلط نہیں ہے، حکومت اگر واقعی اس معاملے میں ایماندار ہے تو اسے پورے یوپی آئی ماڈل میں مزید شفافیت لانی ہوگی اور عوام کو اعتماد میں لینا ہو گا۔

The government says that consumers will not be charged, but if the fixed costs for merchants rise, the impact will inevitably fall on the consumer. Photo: INN
حکومت کہہ رہی ہے کہ صارف سے چارج نہیں لیا جائیگا لیکن اگر مرچنٹ پر مستقل لاگت بڑھتی ہے تو اس کا اثر صارف پر ضرور پڑیگا۔ تصویر: آئی این این

یو پی آئی کے ٹرانزیکشن پر مرکزی حکومت نے ایم ڈی آر (مرچنٹ ڈسکائونٹ ریٹ)عائدکرتےہوئےجو چارج    لگانے کا اعلان کیا ہے اس سے پورے ملک میں ہلچل مچ گئی ہے اور اس ہلچل کا مچنا واجب بھی ہے کیوں کہ گزشتہ ۱۰؍ سال کے دوران ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کے نام پریوپی آئی کو جتنا فروغ دیا گیا  اس نے عوام کے روزانہ کے چھوٹے چھوٹے لین دین میں بھی جگہ بنالی تھی۔کسی بھی حکومت کی معاشی پالیسی کو سمجھنے کے  لئے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں ہوتا کہ آج صارف سے کتنے پیسے  لئے جا رہے ہیں، یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ کل اسے کس سہولت کا عادی بنایا گیا تھا اور آج اسی عادت کی قیمت کیسے وصول کی جا رہی ہے۔ یو پی آئی کے معاملے میں یہی سوال اس وقت سب سے زیادہ اہم ہے۔ برسوں تک ملک کو نقدی سے ڈیجیٹل ادائیگی کی طرف منتقل کرنے کے لئے یو پی آئی کو تقریباً مفت، آسان اور ہر جگہ قابلِ استعمال بنایا گیا۔ اب جب یہ نظام ہندوستانی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے تو ۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کی  مرچنٹ ادائیگیوں پر ۰ء۴؍ایم ڈی آر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہاں اصل بحث ایم ڈی آر کی نہیں، اصول کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناظرین کی توجہ ’’ہتھیانے‘‘ کی ہوڑ، اِس کوشش میں جو جیتا وہی سکندر ہے!

حکومت کا کہنا ہے کہ ایم ڈی آر صارف پر براہ راست عائد نہیں ہوگا بلکہ مرچنٹ سے وصول کیا جائے گا۔ دو ہزار روپے تک کی ادائیگی اور شخص سے شخص کو ہونے والی یو پی آئی ٹرانزیکشن بدستور مفت رہیں گے۔ چھوٹے تاجروں کیلئے بھی کچھ رعایتیں رکھی گئی ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ یو پی آئی پر یہ تبدیلی کسی غیر ملکی دباؤ کے نتیجے میں کی گئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی یو پی آئی پالیسی آزادانہ طور پر طے کی جاتی ہے اور مقصد ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو مالی طور پر پائیدار بنانا ہے۔  

لیکن سیاسی بحث اس مقام پر رُکنے والی نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈروں بالخصوص راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ یو پی آئی پر ایم ڈی آر کا فیصلہ امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے مترادف ہے اور اس سے امریکی کارڈ کمپنیوں کے لئے ہندوستانی ڈیجیٹل ادائیگی کی مارکیٹ میں جگہ بن سکتی ہے۔ یہ الزام حکومت نے صاف طور پر مسترد کیا ہے۔ لہٰذا یہاں دو الگ باتوں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ایک طرف حکومت کا سرکاری موقف ہے، دوسری طرف اپوزیشن کا سیاسی الزام۔ امریکی دباؤ اور ایم ڈی آر کے درمیان براہ راست تعلق ثابت کرنے کے لئے فی الحال عوام کے سامنے ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے اس الزام کو قطعی حقیقت قرار دیا جا سکے مگر اس سے ایک بنیادی سوال ختم نہیں ہوتا کہ  آخر یو پی آئی کو پہلے مفت رکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تھی اور اب اس پر چارج کیوں لگایا جارہا ہے؟ جواب بہت سادہ ہے۔ ہندوستان میں ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دینا تھا۔ صارف کو نقد رقم رکھنے، اے ٹی ایم تلاش کرنے یا بینک کی قطار میں کھڑے ہونے کے بجائے موبائل فون سے ادائیگی کی سہولت دینی تھی۔ دکاندار کو بھی بتایا گیا کہ کیش گننے، چھٹا  رکھنے اور رقم بینک تک پہنچانے کی جھنجھٹ کم کیجیے، کیو آر کوڈ لگائیے اور ادائیگی براہ راست اکاؤنٹ میں حاصل کیجیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یو پی آئی ہندوستانی معیشت کے روزمرہ لین دین کا بنیادی ذریعہ بن گیا۔ اگست ۲۰۲۶ء میں یو پی آئی کے ذریعے۲۴؍ ارب سے زائد ٹرانزیکشن ہوئے جن کی مجموعی مالیت تقریباً ۲۹؍ لاکھ کروڑ روپے تھی ۔یعنی حکومت نے صرف ایک ادائیگی کا نظام نہیں بنایا، اس نے ایک عادت بنائی اور اسے مستحکم کیا۔ 

جب کوئی صارف کسی سہولت کا عادی ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اس سہولت کی قیمت بڑھانا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یو پی آئی پر ایم ڈی آر کا معاملہ محض چند پیسوں کا حساب نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کو کسی ایسی عوامی ڈیجیٹل سہولت کو جسے برسوں تک صفر ایم ڈی آر کے ذریعے بڑے پیمانے پر فروغ دیا گیا، اب تجارتی آمدنی کا ذریعہ بنانا چاہئے؟حکومت کے پاس اس کا جواب بھی ہے۔ مفت نظام کو ہمیشہ جاری رکھنے کے  لئے بینکوں، پیمنٹ ایپس اور دوسرے اداروں کو کسی نہ کسی طرح مالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ نئی ایم ڈی آر پالیسی سے ادائیگی کے پورے ماحولیاتی نظام کیلئے تقریباً ۱۵؍ ہزار کروڑ روپے کی آمدنی کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت اور اس کے حامیوں کا استدلال ہے کہ اگر یو پی آئی کو طویل مدت تک محفوظ، تیز اور وسیع پیمانے پر قابلِ استعمال رکھنا ہے تو اس کے انفراسٹرکچر کی قیمت بھی کہیں نہ کہیں سے آئے گی۔ یہ دلیل اپنی جگہ درست ہو سکتی  ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ تاجر آخرکار کاروباری لاگت کو کسی نہ کسی شکل میں قیمتوں میں شامل ہی کرے گا۔ حکومت نے بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ تاجر ایم ڈی آر کا بوجھ صارف پر منتقل نہ کریں، لیکن بازار میں لاگت اور قیمت کے درمیان تعلق کو صرف سرکاری ہدایت سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ممبئی  کے مارکیٹوں  سے لے کر دہلی کے چاندنی چوک تک تاجروں نے کھل کر خدشات ظاہر کئے ہیں کہ اضافی لاگت انہیں دوبارہ نقد ادائیگی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بالی ووڈ اسٹارسنجے دت نے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ کے سامنے مراٹھی کیوں نہیں بولی؟  

یہی وہ مقام ہے جہاں موبائل ڈیٹا کا پرانا تجربہ یاد آتا ہے۔کبھی ہندوستان میں موبائل ڈیٹا بھی ایک نسبتاً مہنگی سہولت سمجھا جاتا تھا۔ پھر انتہائی کم قیمت ڈیٹا نے ہندوستانی صارف کی پوری زندگی بدل دی۔ ویڈیو، سوشل میڈیا، آن لائن تعلیم،ڈیجیٹل بینکنگ، او ٹی ٹی، آن لائن خریداری سب کچھ موبائل انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے لگا۔ آج موبائل ڈیٹا محض ایک ٹیلی کام سروس نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا بنیادی ڈھانچہ ہے لیکن اسے دھیرے دھیرے مہنگا کیا جارہا ہے۔ اس تجربے سے ایک معاشی سبق ضرور نکلتا ہے کہ جب کسی بنیادی سہولت کی قیمت مسلسل کم کرکے صارفین کو اس کا عادی بنا دیا جائے تو بعد میں قیمت میں اضافہ محض قیمت کا اضافہ نہیں رہتا وہ صارف کے طرزِ زندگی میں تبدیلی بن جاتا ہے اور وہ اسے قبول کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔  یو پی آئی کے معاملے میں بھی یہی خدشہ ہے۔ آج حکومت کہہ رہی ہے کہ صارف سے براہ راست چارج نہیں لیا جائیگالیکن اگر مرچنٹ پر مستقل لاگت بڑھتی ہے تواس کا اثر اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں، رعایتوں میں یا ادائیگی کے طریقوں میں دکھائی دے سکتا ہے اور اگر آج۲؍ ہزار روپے کی حد سے آغاز ہوا ہے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوگا کہ مستقبل میں حد کہاں تک جائے گی؟ حکومت کا موجودہ فیصلہ اس سوال کا مستقبل کے  لئےکوئی جواب نہیں دیتا۔

یہاں امریکہ کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن اسے فیصلہ کن وجہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ امریکہ میں ویزا، ماسٹرکارڈ جیسے روایتی کارڈ نیٹ ورکس کا اپنا تجارتی ماڈل ہے جبکہ یو پی آئی نے ہندوستان میں ایک مختلف قسم کا ڈیجیٹل ادائیگی ماڈل قائم کیا ہے۔ اس لیے یو پی آئی کی کامیابی صرف ہندوستانی بینکنگ کی کامیابی نہیں بلکہ ایک متبادل ڈیجیٹل ادائیگی نظام کی کامیابی بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: منوسمرتی کی پول کھلنے سے بی جے پی اور آر ایس ایس کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں

یہی وجہ ہے کہ اس نظام کی قیمتوں، ملکیت، رسائی اور عالمی توسیع سے متعلق ہر پالیسی فیصلہ محض داخلی معاشی معاملہ نہیں رہتا۔اصل تشویش یہ ہونی چاہئے کہ یو پی آئی عوامی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر رہے گا یا آہستہ آہستہ ایک عام تجارتی ادائیگی پلیٹ فارم بن جائے گا؟اگر حکومت واقعی یو پی آئی کو خود کفیل بنانا چاہتی ہے تو اسے اس پورے ماڈل میں مکمل شفافیت لانی چا ہئے۔ اس پر کتنی لاگت آتی ہے؟ بینکوں کا  خرچ کتنا ہے؟ پیمنٹ ایپس کو کتنی آمدنی ملے گی؟ ایم ڈی آر سے حاصل ہونے والی رقم کہاں جائے گی؟ سائبر سیکوریٹی اور انفراسٹرکچر پر کتنی رقم خرچ ہوگی؟ اور سب سے اہم، کیا یہ رقم واقعی نظام کو بہتر بنانے پر خرچ ہوگی یا صرف ایک نئے تجارتی ریوینیو ماڈل میں تبدیل ہوجائے گی؟کیونکہ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جانیں کہ جس یو پی آئی کو برسوں تک ’’کیش لیس ہندوستان‘‘ کی علامت بنایا گیا، اس کی قیمت اب کیوں اور کس منطق کے تحت طے کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK