ان واقعات میں ایک پیٹرن نظر آتا ہےجو یہ ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ کھلے عام بدمعاشی کی گئی، انہیں کوئی سامان سمجھ کر چھوا گیا، بے بس سمجھ کر ڈرایا گیا، کمزور سمجھ کرپکڑا گیا، اب کیا ایسے بدمعاشوں کی اصلاح کیلئے ’بیٹا بچاؤ بیٹا پڑھاؤ‘ مہم کی ضرورت ہے؟
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 6:45 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
ان واقعات میں ایک پیٹرن نظر آتا ہےجو یہ ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ کھلے عام بدمعاشی کی گئی، انہیں کوئی سامان سمجھ کر چھوا گیا، بے بس سمجھ کر ڈرایا گیا، کمزور سمجھ کرپکڑا گیا، اب کیا ایسے بدمعاشوں کی اصلاح کیلئے ’بیٹا بچاؤ بیٹا پڑھاؤ‘ مہم کی ضرورت ہے؟
بہار سے حالیہ دنوںسامنے والے کچھ ویڈیوز انتہائی پریشان کن ہیں۔ یہ ویڈیولڑکیوں کو سرعام چھیڑنے ، انہیں ہراساں کرنے اوردست درازی سےمتعلق ہیںجنہیںدیکھ کرافسوس ہونے کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ہوتا ہےکہ ایسا کرنے والے اس قدر بے حس کیسے ہوسکتے ہیں؟ایسا ایک ویڈیوپہلے جموئی سے سامنے آیاجہاں ایک دسویں کی طالبہ اور اس کے ساتھ موجودلڑکےکےساتھ بدمعاشوںنے انتہائی واہیا ت رویہ کامظاہرہ کیا۔ دوافراد نے لڑکی کو سرعام اٹھایا،اس کے ساتھ بدتمیزی کی ،لڑکے کوڈرایا دھمکایا ،پھر کسی طرح دونوںوہاںسے نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔ اس کے بعد سمستی پور سے مزید دوایسے ویڈیوز سامنے آئے جن میں کچھ افراد نے لڑکیو ں کو عین اسی طرح چھیڑنے ، انہیں روکنے اوران کے ساتھ دست درازی کرنے ا ورانہیںخوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔یہ مضمون لکھے جانے تک ریاست کے بانکا ضلع سے بھی لڑکی کےساتھ غیر انسانی سلوک کی خبر سامنے آئی تھی ۔ان سبھی واقعات میںایک پیٹرن نظرآتا ہےجویہ ہےکہ لڑکیوںکے ساتھ کھلے عام بدمعاشی کی گئی، انہیںکوئی سامان سمجھ کر چھوا گیا ،بے بس سمجھ کرڈرایا گیا ،کمزور سمجھ کرپکڑا گیا۔جموئی کے معاملے میںپولیس نے اپنی کارروائی کی۔ ۸؍ افراد کوگرفتار کیا ۔ ایک ملزم کو انکاؤنٹر میںپاؤں میںگولی ماری گئی مگربہار کے وزیروںشراون کمار،اُمیش کشواہا اور اشوک چودھری نے اس سنگین واقعے کو ’ چھٹ پٹ‘کہہ کر نہ صرف اس جرم کی سنگینی کو کمتر کرنے کی کوشش ہے بلکہ لڑکیوں اورلڑکیوں کے تحفظ کے تعلق سےاپنی بے حس ذہنیت کو بھی خود بے نقاب کیا ہے۔بہار کے وزیر برائے دیہی ترقی شراون کمار نے کہاکہ دنیا جرائم سے پاک نہیںہے ا وراس کےچھٹ پٹ واقعات ہوتے رہتے ہیں، یہ کہہ کر انہو ںنے قصور واروںکے خلاف قانونی کارروائی کی یقین دہانی کی ۔امیش کشوا نے اسے چھٹ پٹ واقعہ قراردے کرریاست میں جرائم کی صورتحال کا ۲۰۰۵ء سےپہلے کے حالات موازنہ کیا۔ اشوک چودھری نے کہا کہ امریکہ اور جاپان میں بھی جرائم ہوتے ہیں ۔ تینوں وزیروں نے واقعے کوغلط ضرور کہا اورقانونی کار روائی کی بھی بات کی لیکن لڑکی کےساتھ زیادتی ہوئی ہے،یہ اعتراف سب سے پہلے اورکھلے دل سے نہیںکیا ۔اس بارےمیں کوئی تبصرہ نہیںکیاکہ لڑکی جس کا ویڈیووائرل ہوا ہے ،اس کے دل پر اس حادثےکے بعد کیا گزری ہوگی ۔ لڑکی کی دلدہی کی کوشش نہیںکی ۔غیر ذمہ دارانہ بیانا ت کا سلسلہ یہیںنہیںتھما بلکہ خودوزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری بھی کہہ گئےکہ اگرقصورواراس طرح کا ویڈیوز نہ بنائیںتوایسے واقعات عام ہی نہ ہوں ۔بعد میںانہوںنے وضاحت کی کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ویڈیوبنانا یعنی پولیس کو چیلنج کرنا اوراگرایسے ویڈیوز مجرم عام کریںگے تو پولیس ۲۴؍ گھنٹے کے اندر کارروائی کرےگی۔
یہ بھی پڑھئے: آئسکریم پارلرز: ایک Scoop کے ذریعے توجہ پانے کیلئے برانڈز لے رہے ہیں رِسک!
وزیر اعلیٰ کے بیان سےبھی پہلے یہ تاثر ملا کہ بدمعاش، لڑکیوںکے ساتھ جہاںچاہیںچھیڑ خانی کریں لیکن اس کا ویڈیو نہ بنائیں۔اگران کے بیان کے پہلے حصے کا یہ مطلب نہیںہوتا تو وہ آگے وضاحت نہیںکرتے کہ ویڈیو بنانا پولیس کو چیلنج کرنا ہے۔ جبکہ بیان کاد وسراحصہ بھی کوئی امید افزا نہیںہے۔اس میںانہوں نے اپنی ریاست کی پولیس کی تعریف کی ہے کہجرم سامنے آنے پر وہ مجرموں کے خلاف ۲۴؍ گھنٹے میں کارروائی کرے گی۔حالانکہ ریاستی پولیس اتنی مستعد ہوتی اورمجرموں کی نگرانی کا نظام اتنا فعال ہوتا تو جموئی اور سمستی پور جیسے واقعات ہوتے ہی نہیں۔پولیس کو چیلنج کرنے کی بات بھی بے معنی ہے۔اس کا اطلاق اس صورت میں ہوتا ہےکہ مجرموں میںجرم کی واردات انجام دینے سے پہلے پولیس کا خوف ہو۔
سمستی پوراورجموئی کے ویڈیوز دیکھ کر تو لگتا ہےکہ مجرم بے خوف ہونےکے ساتھ ساتھ بے باک بھی ہیں۔انہوں نے لڑکیوںکو چھیڑا،دست درازی کی، یہ کیا کم تھاکہ اس کا ویڈیو بھی بنایا ۔لیکن وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی جانب سے بھی متاثرہ لڑکیوںکی دلدہی کے تعلق سے کچھ نہیںکہا گیا۔کیاایسے معاملات میںصرف جرم کا اندراج ، مجرمو ں کی شناخت اوران کے خلاف کارروائی ہی کافی ہے؟کیا اہل اقتدار کی یہ ذمہ داری نہیںکہ پہلے وہ متاثرہ لڑکیوںکی دلدہی کیلئے دوالفاظ کہہ دیں اور یہ یقین دلائیںکہ وہ ریاست کی بیٹیاں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت حقیقی ذہانت کیلئے خطرہ تو ہے ہی، اب انسانیت کیلئے بھی خطرہ!
بہار میںبی جےپی اورجے ڈی یو کی حکومت ہے۔بی جے پی وہ پارٹی ہے جس کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہریانہ کے پانی پت سے ۲۰۱۵ء میں’بیٹی بچاؤ ،بیٹی پڑھاؤ‘ مہم شروع کی تھی۔یعنی اس مہم کے تعلق سے بی جے پی کا ہر لیڈر واقف ہوگااوراس سے اتحاد کرنے والی ہر پارٹی کا لیڈر بھی اس مہم کےتئیںپابند عہد ہوگا۔ اسلئے بی جےپی کی زیر اقتدار اس ریاست میںلڑکیوں کے ساتھ چھیڑ خانی کے ایسے پریشان کن ویڈیو سامنے آنا اور اس پر وزراء کے ایسے بیانات پر در اصل خودپارٹی کی اعلیٰ کمان ا ور وزیراعظم کو وضاحت کرنی چاہئےلیکن اس اس پارٹی کے لیڈران کا طرز عمل بھی ایسا ثابت ہوچکا کہ انہیںکسی بات کی وضاحت نہیںکرنی ہے،سوالوں کا جواب نہیںدینا ہے،صرف دعوے اور اعلانات کرنے ہیں۔ کسی مہم کا ا علان کردینا ہے۔اس کے کیا مضمرات سامنے آرہے ہیں،ان سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں،کوئی واقعہ اس مہم پر کتنا اثرکرتاہے،اس سے بھی کوئی سروکار نہیں۔یہ تو کچھ واقعات کے ویڈیوز جو ہیںسامنے آگئے ہیںاور سوشل میڈیا کے زمانے میں وا ئرل ہوگئے ہیں،ورنہ ایسے کتنےواقعات ہوتے ہوں گےجو نہ سامنے آتے ہیں، جن کی نہ ایف آئی آر درج ہوتی ہے ، نہ گرفتاریاں ہوتی ہیں اورنہ مجرموں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہوتی ہے۔ان ویڈیو ز میں مجرم ایسے نظرآئے ہیںجیسےانہیںکسی نےجرم کرنے کا حق دے دیا ہو۔یہ ان مجرموںکی بھی عجیب بے حسی ہے اورمعاشرہ کی بھی۔یعنی کیا یہ اب وقت آگیا ہےکہ ایک مہم ’ بیٹا بچاؤ اور بیٹا پڑھاؤ‘ بھی شروع کی جانی چاہئےتاکہ ایسے نالائق بیٹوں کوجو کسی کی بیٹی کوہاتھ لگانے سے نہیں ڈرتے،کچھ آداب سکھائے جائیں کیونکہ یہ بے حسی کے ساتھ ساتھ جہالت کی بھی ا نتہا ہے ۔ بہر حال جب اُس مہم سے لڑکیوںکوتحفظ نہیںفراہم کیاجاسکا تو اِس مہم سے بگڑی اولادوںکو کیاراہ راست پر لایاجاسکے گا!!