• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئسکریم پارلرز: ایک Scoop کے ذریعے توجہ پانے کیلئے برانڈز لے رہے ہیں رِسک!

Updated: October 01, 2026, 6:34 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ہندوستان میں آئس کریم کا کاروبار اب صرف ذائقے اور ٹھنڈک تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسے صارف کیلئے ایک مکمل تجربے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ نئے آئس کریم پارلرز منفرد ڈیزائن، نت نئے فلیورز اور بیٹھنے کی سہولت کے ذریعے گاہکوں کو زیادہ وقت گزارنے پر راغب کر رہے ہیں، جبکہ کوئک کامرس پلیٹ فارم سہولت کے ساتھ آئس کریم گھر تک پہنچا رہے ہیں۔ یوں اس صنعت میں ’’پروڈکٹ‘‘ کے ساتھ ’’تجربہ‘‘ بھی کاروبار کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔

Scoop room. Photo: INN
اسکوپ روم۔ تصویر: آئی این این

Let`s get a scoop of ice cream

from the Scoop Room as the

SCOOP is empty.

ایک ایسی آئسکریم شاپ کا تصور کریں جو بظاہر کیفے جیسی ہو لیکن اس میں آئس کریم لینے کیلئے بنا کاؤنٹر پلیٹ فارم ’’اسکوپ‘‘ جیسے کمرے میں ہو، یعنی آپ ایک گاہک کے طور پر کیفے میں داخل ہوں، پھر اسکوپ نما کمرے میں جائیں، اپنی پسندیدہ آئس کریم خریدیں، کمرے سے باہر آئیں اور میز کرسیوں پر اپنا فلیور انجوائے کریں۔ یہ ہے آئسکریم انجوائے کرنے کا نیا طریقہ۔ ایک وقت تھا جب آئس کریم خریدنے کیلئے دکان میں رکنا بھی ضروری نہیں تھا۔ فریزر کھولا، پسند کی اِسٹک یا کپ اٹھایا، پیسے دیئے اور چل پڑے۔ مگر اب تبدیلی آرہی ہے۔ ہندوستان میں آئس کریم کیلئے الگ دکانیں، کیفے اور پارلرز بڑھ رہے ہیں، جہاں مقصد صرف ’’ٹھنڈی میٹھی‘‘ چیز بیچنا نہیں، گاہک کو کچھ دیر روکے رکھنا بھی ہے۔ یعنی آئس کریم اب صرف پروڈکٹ نہیں رہی؛ اسے ایک تجربہ بنایا جارہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت حقیقی ذہانت کیلئے خطرہ تو ہے ہی، اب انسانیت کیلئے بھی خطرہ!

اسے یوں سمجھ لیجئے کہ پہلے گاہک پوچھتا تھا، ’’کون سا فلیور ہے؟‘‘ اب سوال ہو سکتا ہے، ’’کیا یہاں بیٹھنے کی جگہ ہے؟‘‘ یہی معمولی فرق پورے کاروباری ماڈل کو بدل دیتا ہے۔ اگر گاہک صرف کپ لے کر نکل جائے تو برانڈ کی آمدنی ایک اسکوپ تک محدود ہے۔ اگر وہ دوستوں کے ساتھ بیٹھے، دوسرا فلیور آزمائے، مِلک شیک منگوائے اور تصویر سوشل میڈیا پر ڈالے تو ایک ہی گاہک کئی مرتبہ برانڈ اور پروڈکٹ کی ویلیو پیدا کرتا ہے۔ بنگلور میں واقع ’’اسکوپ روم‘‘ نامی آئسکریم پارلر نے اس تجربے کو مزید پرکشش بنانے کیلئے پوری جگہ کو ’’اسکوپ‘‘ کی شکل دے دی اور رنگوں اور ۹۰ء کی عشرے کی چھوٹی موٹی اشیاء کو ایسے سجا دیا کہ گاہک یہاں آئسکریم کا صرف ایک اسکوپ لینے نہیں آتے بلکہ ٹھہر کر مینو دیکھتے ہیں اور کم سے کم ایک اسکوپ وہیں بیٹھ کر کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

برانڈز روایتی فلیورز بھی ترک کررہے ہیں۔ دہلی اور گروگرام میں Zimero جیسے برانڈز روایتی ونیلا اور چاکلیٹ سے آگے بڑھ کر وائلڈ چیری، گوٹ چیز اینڈ بلیوبیری، ساؤتھ انڈین فلٹر کافی اور ڈارک چاکلیٹ پستہ جیسے ذائقے پیش کر رہے ہیں۔ نیچرلس اور باسکن اینڈ روبنز جیسے بڑے برانڈز نے کئی شاخیں قائم کرلی ہیں۔ اس پورے رجحان کے پیچھے صارف کا بدلتا ہوا مزاج ہے۔

منٹیل کی ۲۰۲۶ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۸؍ سال یا اس سے کم عمر صارفین ڈیزرٹ کیٹیگری میں سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔ ان کیلئے ذائقے کے ساتھ نیا پن، نیچرل ٹیسٹ اور بصری کشش بھی اہم ہیں۔ یعنی آئس کریم اب صرف میٹھا کھانے کا فیصلہ نہیں؛ یہ ذوق، تجربے اور سوشل میڈیا پر شناخت کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔ 

کاروبار کیلئے اس تبدیلی کا اہم نکتہ ’’پریمیمنائزیشن‘‘ ہے۔ صارف زیادہ قیمت تب دیتا ہے جب اسے بہتر اجزا، منفرد فلیور، خوبصورت پیشکش یا یاد رہ جانے والا تجربہ ملے۔ ٹیٹرا پیک کی تحقیق کہتی ہے کہ ہندوستانی آئس کریم مارکیٹ ۲۰۳۳ء تک تقریباً ۵۷۵۰۰؍ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے جبکہ ۲۰۲۵ء تا ۲۰۳۳ء تقریباً ۱۱؍ فیصد سالانہ شرح نمو متوقع ہے۔ پریمیم کھپت نسبتاً چھوٹے شہروں (ٹائر ۲) تک بھی پھیل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: UPI: کیش لیس ہندوستان کی علامت بنایا گیا تھا، اب کیوں چارج لگایا جا رہا ہے؟

کہانی کا دوسرا رخ یہ ہے کہ آئس کریم بار گاہک کو بیٹھنے، تجربہ کرنے اور زیادہ خرچ کرنے کی وجہ دے رہا ہے، دوسری طرف کوئک کامرس اسے گھر تک چند منٹوں میں پہنچا رہا ہے۔ یہ دونوں ماڈل ساتھ بڑھ رہے ہیں: ایک سہولت بیچتا ہے، دوسرا تجربہ۔ یہی دلچسپ مقابلہ ہے۔ اگر رات گیارہ بجے آئس کریم چاہئے تو صرف ایک فون کال کافی ہے؛ اگر دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر نیا فلیور آزمانا ہے تو دکان کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی بھی خاموشی سے کھیل بدل رہی ہے۔ کوئک کامرس پلیٹ فارم خریداری کے رویے کی معلومات دیتے ہیں جبکہ فزیکل پارلر گاہک کے رُکنے، پسند اور دوبارہ آنے کے امکانات سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ یوں آئس کریم کی صنعت فریزر سے نکل کر ’’تھری ڈی‘‘ (ڈیٹا، ڈیزائن اور ڈسٹری بیوشن) کی دنیا میں داخل ہو رہی ہے۔

اس نئی معیشت میں چھوٹے کاروبار بھی مقامی فلیور، موسمی پھل، صاف اجزا اور منفرد پیشکش کے ذریعے اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ پارلر کھولنا مہنگا ہے؛ کرایہ، عملہ، کولڈ چین، سجاوٹ اور ضائع ہونے والے اسٹاک کی لاگت ہر اسکوپ کے پیچھے چھپی ہے۔ اس لئے خوبصورت دکان خود بخود منافع بخش کاروبار نہیں بن جاتی۔ ہندوستان میں آئس کریم اب صرف گرمی کا جواب نہیں، وقت گزارنے کی ایک وجہ بھی بن رہی ہے۔ کل تک گاہک آئس کریم خریدتا تھا؛ آج کچھ برانڈز کوشش کر رہے ہیں کہ گاہک آئس کریم خریدنے کیلئے باہر نکلے۔ جب ایک اسکوپ کو ’’یادوں‘‘ میں بدل دیا جائے تو قیمت صرف آئس کریم کی نہیں رہتی۔ اصل چیز وہ اضافی وقت ہے جو گاہک وہاں گزارنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ اور آج کی تجرباتی معیشت میں یہی سب سے مہنگا اسکوپ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK