اے آئی ایجنٹ کے بے قابو ہونے یا انسانی ہدایات کے بغیر اپنے طور پر فیصلے کرنے کے واقعات یقیناً تشویشناک ہیں، لیکن اس سے زیادہ تشویشناک تکنالوجی پر بے جا انحصار ہے۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 6:27 PM IST | Asim Jalal | Mumbai
اے آئی ایجنٹ کے بے قابو ہونے یا انسانی ہدایات کے بغیر اپنے طور پر فیصلے کرنے کے واقعات یقیناً تشویشناک ہیں، لیکن اس سے زیادہ تشویشناک تکنالوجی پر بے جا انحصار ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دنیا کی بڑی کمپنی انتھروپک کے محقق جیکب کوکسن کے استعفیٰ اوراس انتباہ نے کہ’’جولوگ اے آئی بنارہے ہیں وہ خود بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ اس دہائی کے آخر تک اے آئی انسانیت کو بھی ختم کرسکتی ہے‘‘ ، خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ پوری دنیا میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور اے آئی کے شعبے میں ہونےوالے یکے بعد دیگرے استعفے اور پھر خود اے آئی بنانے والی کمپنیوں کے اس اعتراف کےبعد کہ جس تیزی سے اے آئی ترقی کر رہا ہے اس تیزی سے اس پرکنٹرول اوراس سے تحفظ کا نظام تیار نہیں ہورہاہے،اس بات پر اتفاق ہوتا نظر آرہاہے کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کی ضرورت ہے۔ انتھروپک جومصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی کھلاڑی اور’کلاؤڈ اے آئی‘ کی مالک ہے، کے سی ای او ڈاریو اموڈی نےگزشتہ دنوں جب اپنے ایک بلاگ میں اس ضرورت کا اعتراف کیاتو حیرت انگیز طورپر ان کے حریف اور اوپن اے آئی کے بانی سیم آلٹ مین نے ان کی تائید کی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کیلئے ’ایکس اے آئی‘ متعارف کرانےوالے دنیا کے سب سے امیر آدمی ایلون مسک نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
یہ بھی پڑھئے: UPI: کیش لیس ہندوستان کی علامت بنایا گیا تھا، اب کیوں چارج لگایا جا رہا ہے؟
آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہم میں سے اکثر کیلئے تو بس ’چیٹ جی پی ٹی‘،’جیمنائی‘ یاانتھروپک کی ’کلاؤڈ‘ سروس ہی اے آئی ہے جس سے ہم سوال کرتے ہیں اور وہ ہمیں جواب دیتے ہیں۔ یہ دراصل چیٹ بوٹ ہیں۔ ہم سوال کرتے ہیںاور وہ جواب دیتے ہیں ، غلط جواب نقصان دہ ہو سکتا ہےمگر وہ اس وقت تک نقصان نہیں پہنچاسکتا جب تک کہ ہم آنکھ بند کر کے اس پر عمل نہ کربیٹھیں۔ دوسری طرف اے آئی ریسرچرس نے جن کے تعلق سے اندیشوں کا اظہار کیا ہے وہ ’’اے آئی ایجنٹ‘‘ ہیں۔ یہ آپ کے دیئے گئے ٹاسک کو مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے کام کیلئےکمپیوٹر استعمال کرنے، ویب سائٹس کھولنے، کوڈ چلانے، فائلیں بدلنے اور دوسرے ایجنٹس سے رابطہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ انہیں اتنا ایڈوانس کردیاگیاہے کہ ان میں سے بعض بہت کم انسانی مداخلت کے ساتھ گھنٹوں بلکہ کئی کئی دنوں تک کام کرتے رہتے ہیں۔ اے آئی چیٹ بوٹ اور اے آئی ایجنٹ میں وہی فرق ہے جو تجویز دینے والے اور بٹن دبانے والے میں ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناظرین کی توجہ ’’ہتھیانے‘‘ کی ہوڑ، اِس کوشش میں جو جیتا وہی سکندر ہے!
آج انسان کمپیوٹر کو حکم دیتا ہے، لیکن اگر مستقبل میں ایسےاے آئی نظام وجود میں آگئے جو پیچیدہ منصوبے خود بنا سکیں، مختلف نظاموں سے رابطہ کرسکیں اور اپنے مقاصد کے حصول کیلئےآزادانہ فیصلے کرسکیں تو صورت حال مختلف ہوسکتی ہے۔ اس مختلف صورتحال کا اندازہ خود اوپن اے آئی کے ایک تجربہ سے ہوا ۔ اوپن اے آئی نے جولائی میں سافٹ ویئر کی خامیاں ڈھونڈنے کیلئےبڑی تعداد میں اے آئی ایجنٹس کو استعمال کیا۔ یاد رکھیے، یہ ایجنٹ خود سے انٹرنیٹ پر نمودار نہیں ہوئے تھے۔ بتایا جارہاہے کہ تقریباً ۱۲۰۰؍ ایجنٹس نے ایک ایسے میسیج بورڈ پر ۷۰؍ ہزار ہزار سے زیادہ پیغامات اور فائلوں کا تبادلہ کیا اورہدف طے کر کے آپس میں کام تقسیم کرلئے جن کی انہیں اجازت نہیں دی گئی تھی۔ یعنی انہوں نے من مانی کی اور پھر تقریباً۷۰۰؍ اے آئی ایجنٹس نے ’’ہگنگ فیس ‘‘نامی ایک اے آئی پلیٹ فارم میں گھسنے کی کوشش کی۔ یہ سب پکڑا اس لئے گیا کہ ان کی کسی حرکت سے سسٹم میں ڈسٹربینس آگیا یعنی اگر وہ ذرامحتاط ہوتے تو شایدکسی کو پتہ بھی نہ چلتا کہ انسانوں کے بنائے ہوئے یہ اے آئی ایجنٹ انسانوںکو کانوں کان خبر ہوئے بغیر کیا حرکتیں کرگزرے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ اعتراف کرتے چلیں کہ یہ ساری باتیں جن کا ہم نے اوپر کی سطروں میں ذکر کیا، خود ہماری سمجھ میں بہت آسانی سے نہیں آپارہی تھیں تاہم ایک بات واضح ہے کہ سہولت کو سہولت کی طرح استعمال کیا جانا چاہئے، اس کا استحصال نہیں ہونا چاہئے۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی تکنالوجی معرض وجود میں آئی ہے تواسے تکنالوجی کی طرح استعمال کیا جانا چاہئے ،اس کا اسیر نہیں ہونا چاہئے۔ افسوس کہ اے آئی کی دوڑ جس تیز رفتاری سے جاری ہے اور بغیر سوچے سمجھے زندگی کے ہر شعبہ میں اس کو رسائی دی جارہی ہے، وہ انسانیت کےخاتمے کا سبب بنے یانہ بنے، تباہی کا سبب ضرور بنے گا۔ یہی کیا کم تباہی ہے کہ اس مصنوعی ذہانت کی وجہ سے حقیقی ذہانت کو زنگ لگتا ہوا معلوم ہورہاہے۔ جن لوگوں کو تکنالوجی تک رسائی ہے اور آج کے اسمارٹ فون کے دور میں کم لوگ ہی ایسے ہیں جو اس سے محروم ہیں، وہ اس پر منحصر ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس کی وجہ سے ذہنوں کا استعمال کم سے کم تر ہوتاجارہاہے۔
یہ بھی پڑھئے: گزشتہ ۱۲؍ برسوں میں اگر ملک میں کچھ برا ہوا ہے... تو اب کچھ اچھا بھی ہو رہا ہے
انسانی جسم کی ساخت کچھ اس طرح کی ہے کہ عمومی طور پر آپ جس عضو کا استعمال کم کردیں، وہ سست ہوتا چلا جاتا ہے۔ مثال کے طورپرگزشتہ دنوں ہم اپنے ڈاکٹر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،اس نے نشاندہی کی کہ فروزن شولڈر کا مسئلہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ برسوں سے ہم نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا ہی نہیں۔سر جھکا کر موبائل دیکھنے میں ہم اس قدر مگن رہتے ہیں کہ ہفتوں چہرہ اوپر کی طرف نہیں کرتے، نتیجتاً سروائیکل کے مسائل سے جوجھنے لگتے ہیں۔ اس لئے اگر اے آئی بنانے والوں کو یہ احساس ہو رہاہے کہ وہ اس کی تیاری اور اس کو جدید تر کرنے میں بہت زیادہ عجلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں تویقیناً یہ باعث خیر مقدم ہے۔ اس سے پہلے ہمیں یہ احساس کرنا ہے کہ ہمارے پاس دماغ ہے جس کا متبادل کچھ نہیںہوسکتا ا لئے اے آئی پر بے جاانحصار کرکے اسے ناکارہ نہ بنائیں،اس جانب حکومتیں اور خاص طور سے’ایس آئی آر‘ کے دوران الیکشن کمیشن بھی توجہ دے لے تو ناموں میں املے کے فرق کی وجہ سے جو کروڑوں شہری پریشان ہیں ،ان کی پریشانی دور ہوسکتی ہے۔