Inquilab Logo Happiest Places to Work

حالاتِ حاضرہ اور ادب کے طلبہ

Updated: March 08, 2026, 11:04 AM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

آج ہمارے ہزاروں طلبہ’ ادب‘ مضمون کے ساتھ گریجویشن میں داخلہ لیتے ہیں۔ اُن میں کئی طلبہ اُردو ادب کے ساتھ گریجویشن کرتے ہیں، ان میں سے کچھ طلبہ اپنی مرضی سے داخلہ لیتے ہیں اور کچھ زباند انی کے صدر شعبے کی ترغیب پر داخلہ لیتے ہیں تاکہ اُن کا شعبہ زندہ ر ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

آج ہمارے ہزاروں طلبہ’ ادب‘ مضمون کے ساتھ گریجویشن میں داخلہ لیتے ہیں۔ اُن میں کئی طلبہ اُردو ادب کے ساتھ گریجویشن کرتے ہیں، ان میں سے کچھ طلبہ اپنی مرضی سے داخلہ لیتے ہیں اور کچھ زباند انی کے صدر شعبے کی ترغیب پر داخلہ لیتے ہیں تاکہ اُن کا شعبہ زندہ ر ہے۔ بہرحال دلچسپی سے اگر ادب یا لٹریچر کے ساتھ گر یجویشن کر لیا جائے تو اُس میں کریئر کے مواقع بھی ہیں، نیز ادب کے ذریعے معاشرے کی خدمت بھی ہو سکتی ہے۔ 

ادب کے طلبہ کو عام طورپر ہم یہ مشورہ دیتے ہی رہتے ہیں کہ وہ معاشرے کی بیداری کے لئے انتہائی کلید ی کردار ادا کر سکتے ہیں لہٰذا وہ قلم کے ذریعے اس میں جُٹ جائیں۔ یہی نہیں وہ طلبہ جو اَدب کے بجائے دیگر مضامین کے طلبہ ہیں جیسے سائنس، سماجیات ، نفسیات حتّیٰ کہ سائنس  اینڈٹیکنالوجی وہ بھی ادب کو اپنا مشغلہ بنائیں، اس سے اُن کے کریئر کی پیش رفت میں کیا بہتری ہوگی، اُس کا ہمیں علم نہیں البتہ سکونِ قلب ملے گا، اس کی پوری گیارنٹی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گاؤں کاموسم بدل رہا ہے، آموں کے بور سے بغیا مہکنے لگی ہے

آج اُردو ادب کے محاذ پر سنّاٹا ہے۔ لگتا ہے سکونِ قلب کا بھی کوئی متلاشی نہیں ہے اورمعاشرے کی بیداری کے لئے احساس بھی جاگا نہیں ہے، ورنہ اس درجہ واقعات (بلکہ سانحات ) ہورہے ہیں اِس کے باوجود خصوصا ًہمارا اُردو فکشن ’افسانہ‘ (کہانی) نے مون برت رکھا ہے اور المیہ یہ ہے کہ اُردو تنقید بھی اس خاموشی پر خاموش ہے۔ اپنے عہد کی بے رحم اور سفاک حقیقتوں پر بھی اُردو فکشن کا سلوک کیا ہے ؟ اس عہد کے ہو لناک و دل دہلانے والے واقعات کو بھی ہماری زبان کے فکشن نگاروں اور کہانی کاروں نے حاشیے پر چھوڑ دیا ہے۔ فکشن کی خاموشی ہر معاشرے کا بڑا المیہ ہے اور لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ فکشن کی خاموشی کسی خوف، مصلحت یا جمالیاتی ترجیحات کے دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے اور آج اس درجہ تہی دامنی، اس قدر محرومی ، اتنا بڑا خلاء اور پھر بھی ہم بضد ہیں کہ اُردو فکشن زندہ ہے ؟ 

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ہندوستان میں اے آئی کے ذریعے ’زندہ‘ ہوتے لوگ، ایک اُبھرتی ہوئی معیشت

چند دہائیوں قبل تک یہ بے حِسی نہیں تھی۔ ہمیں یاد آتا ہے کہ شہر ممبئی ہی میں کئی کالجوں میں اُردو کے شعبے زندہ تھے اور بڑے طمطراق کے ساتھ زندہ تھے۔ سینٹ زیویئرس کالج، کے سی کالج، مہارشی دیانند کالج، مہاراشٹر کالج، برہانی کالج  اوراکبر پیر بھائی کالج، غرض یہ کہ سبھی جگہ اُردو شعبہ زندہ تھااور ہر کالج میں ایک بزم اُردو بھی ہواکرتی تھی، سالانہ میگزین شائع ہوتی تھی نیز وہاں پر نقشِ دیوار یا وال میگزین کا اہتمام ہوا کرتا تھا جہاں طلبہ اپنی تخلیقات پیش کرتے تھے۔ انہی نقوشِ دیوار پر انور خان، عبد اللہ کمال، انور قمر، ساجد رشید،م ناگ،عبد الاحد ساز ، قاسم امام، اقبال نیازی، حامد اقبال صدیقی، رفیعہ شبنم، صادقہ نواب، عرفان جعفری اور عبید اعظم اعظمی جیسے بے شمار ادبا و شعراء نے جنم لیا مگر اُس کے بعد اب بالکل سنّاٹا ہے۔ نئے افراد قلم تھام نہیں رہے اور آج یہ حال اُس ادب کے وارثوں کا ہے جس کے علمبرداروں میں کرشن چندر، خواجہ احمدعباس، منٹو، بلونت سنگھ، اور بیدی کا شمار ہوتا ہے۔ یہ لوگ تو اب واپس نہیں آئیں گے ، دراصل اُ ن جیسے لوگ بھی نہیں آئیں گے کیونکہ وہ اپناکاغذ، قلم، دوات سب کچھ اپنے ساتھ لے گئے۔ جاتے وقت اُنہوں نے اُردو معاشرے کو آواز دی تھی کہ ’ساغر کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلامیں‘۔ ہم میں سے کسی نے وہ آواز نہیں سُنی، کسی نے سُنی بھی تو اَن سُنی کردی کہ یہ ادب، یہ فکشن، یہ افسانہ، یہ کہانی صرف اور صرف گھاٹے کا سودا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت، ایران پر حملے سرخی میں رہے

ادب کے نئے طلبہ سے ہم پھر آس لگائے ہیں کہ وہ اُردو ادب کے محاذ کا تعطل توڑیں گے اور اس کاآغاز ہو اُردو کی افسانچہ نگاری سے۔ اُردو کہانی کو زندہ رکھنے کیلئے اگر ہم واقعی سنجیدہ ہیں تو ہم ادب کے طلبہ کیلئے مختصر کہانی یا افسانچہ نگاری یا کم از کم یک سطری کہانی نویسی کیلئے تربیتی ورکشاپ یاا جلاس منعقد کرناشروع کریں۔ہر جگہ ہر سُوایسے ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں کہ اُن سے ہر حسّاس دل متاثر ہورہا ہے۔ اُن واقعات پر اپنے تاثرات قلمبند کرنے کی تربیت دینی ضروری ہے۔ یہ ضروری ہے ہمارے قیمتی طلبہ، اُن کی ذہنی صحت نیز معاشرے اور ادب کی صحت کیلئے بھی۔

موجودہ حالات پر ہم نے چند یک سطری کہانیاں تخلیق کی ہیں، پیش خدمت ہیں۔( طلبہ یہ سلسلہ جاری رکھیں اور مختصریا کم از کم یک سطری کہانیاں شیئر کریں، اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے ہر شہر، ہر قصبے سے ہزاروں کہانیاں جنم لیں گی):

(۱) معلوم ہو گیا سبھوں کو یا نہیں کہ ایک فائل کو دبانے کیلئے ہم ایک عالمی جنگ بھی برپا کرسکتے ہیں؟

 (۲)جنگل کے جانور سہمے ہوئے تھے اور کانا پھوسی کر رہے تھے کہ انہوں نے شیر کو راجا تو تسلیم کرہی لیا ہے پھر وہ اس قدر دہشت کیوں پھیلا رہا ہے۔

(۳)ہیڈ ماسٹر صاحب پوری شدّت سے چلّا رہے تھے :’’ مت پوچھو ہم سے ، کبھی مت پوچھو کہ اقوام متحدہ کا دفتر کہاں ہے ؟ ‘‘

(۴) محکمۂ تعلیم کا جی آر آیا ہے۔بچّوں کو یاد کرائو:’’بھارت ہماری ماتا ہے، اسرائیل پتا ہے اور امریکی صدر راشٹر پِتا ہے۔‘‘

(۵) ارے ان بستیوں سے حافظ، رومی، سعدی اور اقبال کے نام کے بورڈتو ہٹا دو۔

(۶)نظریاتی جنگ ....مُلکوں کی جنگ....ابھی تو صرف ہتھیاروں کی جنگ ہوتی ہے۔ 

ّ(۷) یہ بے وقوف لوگ کیسے بھول گئے کہ ہم ہی ہیروشیما و ناگا ساکی کی حیوانیت کے وارث ہیں۔ 

(۸)سنکی راجہ جھوم رہا تھا، ڈھول تاشے کے شور میں چلّا رہا تھا: ’’۲۰؍ فیصد....نہیں نہیں۳۰؍فیصد... نہیں پوری ۴۰؍فیصد لگان چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’انفرادی سطح پر اجتماعی نظمِ زکوٰۃ کی کوشش کیسے ممکن ہے، اس کے فوائد کیا ہیں؟‘‘

(۹) ایک بار بم پھٹنے بند ہوجائیں تو ہم موم بتّی کے جلوس نکالیں گے۔

(۱۰)اُن فائلزسے ثابت ہو ہی گیا تھا کہ ہم آدم خور ہیں مگر یاد رکھئے ہم عالمی انسانی حقوق کمیٹی کے صدر بھی ہیں۔

(۱۱) اعلان تو ہم نے کر ہی دیا تھا جب گودھرا والا اور غزہ والا دونوں گلے مل کر ایک دوسرے کی پیٹھ تھپتھپا رہے تھے۔ 

(۱۲) شُکر کرو ہم آپ کی بستیوں پر بلڈوزر چلارہے ہیں ، ہمارا آقا تو بم برسارہا ہے ۔

(۱۳) بستیاں کی بستیاں بے چراغ کردوںگا۔ ہا ہا کار مچادوں گا جب تک مجھے امن کا نوبل انعام نہیں ملتا۔ 

(۱۴) آپ جاننا چاہتے ہیں کہ میں کس جانب ہوں؟ فلسطین؟ انسانیت؟ .... ارے بھئی صرف گرین کارڈ۔

(۱۵) بہت ہوگیا۔ وقت آگیا ہے ایک اور کووڈ جیسی بیماری پیدا کرنے کا۔ جو جنگ سے بچ جائے وہ بیماری سے مرے گا۔ 

(۱۶)بم پھٹنے کی آوازوں کے ہم عادی ہو چکے ہیں مگر بھوک سے بلکتے بچّوں کی آوازوں سے کان ہی نہیں کلیجہ بھی پھٹتا جا رہا ہے۔ 

(۱۷) زیادہ سے زیادہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرو کیونکہ وہ ہمدردی اور انسانیت سے عاری ہے، اسلئے ہم بستیاں دربستیاں اُجاڑ سکتے ہیں۔

(۱۸) یا درکھو ، ہماری ایک فائل کھولیں گے تو ہم لاکھوں انسانوں کی زندگی ہی کی فائل بند کردیں گے۔

(۱۹) اب تو مان گئے کہ سارے عقیدے، سارے فلسفے ،ساری تھیوری سب کچھ ہیچ ہیں،ہماری ٹیکنالوجی کے سامنے ۔

(۲۰) جنگ کے خاتمے تک انتظار، پھر ملّت بچائو کانفرنس، انسانی حقوق سیمینار اور آل انڈیا مشاعرے کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت: ڈیٹا سینٹرز پر ہندوستان کا بڑا داؤ، مگر پانی کہاں سے آئے گا؟

(۲۱) بیٹی بچائو، بیٹی پڑھائو ہمارا انتخابی کا نعرہ ہے۔ تہران کی لڑکیوں کی اسکول پر بم گرانے والوں کو تھوڑے اس سے واقفیت ہے ؟ 

(۲۲) پتہ ہے تین گنا لگان سے ہاہاکار مچ جائے گا مگر اُسے دکھائے گا کون؟ پورا میڈیا ہم خرید چکے ہیں۔

(۲۳)فوری طور پر سرجن چاہئے جو۵۵؍ ملکوں کے سربراہان کی ریڑھ کی ہڈّی کا آپریشن کرسکے۔ 

(۲۴) لوگ ابھی سے چیخ رہے، چلّار ہے۔ جب ہم کلوننگ سے دہشت گرد پیدا کرنا شروع کریں گے تب یہ کیا کریں گے ؟.... ہاہاہا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK