ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب میں یہا ں کی زبانیں اوربولیا ں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ہمارے ملک کی ہر علاقا ئی زبان کا ادب اپنی علا حیدہ شناخت رکھتا ہے۔بعض علا قوں کی بولیا ں زبان کا درجہ نہ بھی رکھتی ہو ں مگر ان کا لوک ساہتیہ اپنی مثال آپ ہے۔آج جب دنیا کو ایک گائو ں کہا جا رہا ہے یہ امر افسوسناک ہے کہ ہم اپنے ہی ملک کے ریا ستی ادب سے بڑی حد تک نا واقف ہیں۔
ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب میں یہا ں کی زبانیں اوربولیا ں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ہمارے ملک کی ہر علاقا ئی زبان کا ادب اپنی علا حیدہ شناخت رکھتا ہے۔بعض علا قوں کی بولیا ں زبان کا درجہ نہ بھی رکھتی ہو ں مگر ان کا لوک ساہتیہ اپنی مثال آپ ہے۔آج جب دنیا کو ایک گائو ں کہا جا رہا ہے یہ امر افسوسناک ہے کہ ہم اپنے ہی ملک کے ریا ستی ادب سے بڑی حد تک نا واقف ہیں۔ مہا راشٹراسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادیمی کے جریدے امکان کے مراٹھی عصری انتخاب کی پہلی جلد میں ملکی ادب کے تراجم کی اہمیت پر قاضی سلیم لکھتے ہیں : ’’بحیثیت ایک ہندوستانی قوم کے ہمارے مسائل ،ہمارے دکھ درد ایک جیسے ہیں ،ہماری تمنائیں مشترک ہیں۔ہمارے حساس ادیب ایک جیسے خواب دیکھ رہے ہیں ،ایک ہی ورثے سے علم کی طاقت حاصل کرتے ہیں، (ان تراجم سے) باہمی اعتماد کی فضا ہموار ہوگی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ادیب زندگی اور موجودات کے دجلے کا ایک قطرہ ہے
بلا شبہ زبانو ں کے آدان پردان کا یہ سلسلہ ملک کی دوسری زبانو ں کے ادب کو سمجھنے میں بڑی حد تک مدد گا ر ثابت ہو گا۔ ساہتیہ اکادمی دہلی اور نیشنل بک ٹرسٹ جیسے اہم ادارے اس کام کو کسی حد تک فروغ دے رہے ہیں۔کچھ ریاستی اردو اکادمیاں بھی اپنی ریاستو ں کے ادب کو اردو قارئین تک پہنچانے کاکام اپنے رسائل کے توسط سے یا مترجمین کو ان کی کتابو ں پر مالی امداد بہم پہنچا کرانجام دے رہی ہیں۔مہاراشٹر،کرناٹک اور مغربی بنگال کی اردو اکادمیاں اپنی ریا ستی زبانو ں کا ادب ،اردو زبان میں منتقل کرنے میں پیش پیش ہیں۔باوجود اس کے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ترجمے کے کام کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔
کسی زبان کی ادبی تخلیق کو مکمل طور پرکسی زبان میں منتقل کرنا مشکل عمل ہے کیو نکہ ہر زبان کی لسانی اور جمالیا تی حدود یکساں نہیں ہوتیں۔دونو ں زبانو ں پر دسترس رکھنے والا مترجمان حدود کو کسی حد تک کم کرنے میں کامیاب ضرور ہو سکتا ہے مگر کچھ کسر رہ ہی جاتی ہے۔ ترجمہ ایک زبان کے لفظ کو دوسری زبان کے لفظوں میں ڈھالنے کا نام نہیں ہے۔ دراصل تخلیق کی رو ح کو دوسرے قلب میں ڈھالنے کا نام ترجمہ ہے۔جمیل جالبی فرماتے ہیں ’’مترجم کا فرض یہ ہے کہ وہ مصنف کے لہجے اور طرز ادا کا خیال رکھے۔لفظوں کا ترجمہ قریب معنی ادا کرنے والےالفاظ سے نہ کرے ، ضرورت پڑنے پر نئے مرکبات بنائے۔نئی بندشیں تراشے اور الفاظ وضع کرے۔ایسا کرنے سے ترجمے کے ذریعے ایک زبان کی تہذیب دوسری زبان کی تہذیب کے ساتھ مل کر نئے نئے گل کھلا سکتی ہے‘‘(ایلیٹ کے مضامین ؍جمیل جالبی)
یہ بھی پڑھئے: ادھو مہاجن بسمل : ایک مراٹھی مانس کی خالص اردو میں خامہ فرسائی پرلوگ رشک کرتے تھے
جس طرح ایک شاعر یا ادیب کو وسیع النظراور وسیع القلب ہونا چا ہئے وہی ذمہ داری ایک مترجم پر بھی عائد ہوتی ہے۔ایک اچھے مترجم کیلئےدونوں زبانو ں کے مزاج سے وقفیت ضروری ہے۔ترجمے میں لفظو ں کا ہیر پھیر، صحافتی ترجمے کیلئے مناسب ہو سکتا ہے مگر ادبی تراجم کیلئے یہ نامناسب ہے۔ایسا کرنے سے آپ کے ادبی ترجمے سے قاری کو عدم دلچسپی پیداہو سکتی ہے۔گوگل کی مدد سے ترجمہ کرنے کو مترجم آج آسان سمجھنے لگے ہیں مگر وہ جان لیں کہ ادبی تراجم کیلئے گوگل پرمکمل اعتماد مناسب نہیں ہے۔
ساہتیہ اکادمی اور نیشنل بک ٹرسٹ کی جانب سے کئے جانے والے تراجم زیادہ تر فلٹر زبان سے ہو تے ہیں۔کسی مجبو ری کے تحت کسی دوسری زبان یا ہندی ، انگریزی سے ترجمہ کرنا ٹھیک ہے مگر جب اصل زبان سے مترجمین میسر ہو ںتو فلٹر لینگویج کا استعمال مناسب معلوم نہیں ہو تا۔یہ اس زبان کے اصل مترجمین کے ساتھ نا انصافی بھی ہے۔
اردو مراٹھی اردو تراجم میںسنت رام داس کے ’’منا چے شلوک‘‘ کا پہلا ترجمہ ’’من سمجھاون‘‘ کے نام سے شاہ تراب چشتی کا سمجھا جاتا ہے۔اس کے بعد آنندی بائی جو شی کی خود نوشت کا ترجمہ احمد علی شوق نے کیا۔ محققین کے مطابق مراٹھی اردو تراجم پر اس کے بعد کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔اس کی باقاعدہ طور پر ابتدا بدیع الزماں خا ور اور نور پرکار سے ہوتی نظر آتی ہے۔ان کے بعد پروفیسر عبدالستار دلوی،ڈاکٹریونس اگاسکر، یعقوب راہی، سلام بن رزاق، رفیعہ شبنم عابدی،خالد اگاسکر، اسلم مرزا ،معین الدین جینا بڑے،انجم عباسی کے نام اہم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سیمابؔ اکبرآبادی نے شاعری کو محض فن سمجھ کر اختیار نہیں کیا
اردو سے مراٹھی ترجمہ کرنے والو ں میں سیتو مادھو رائو پگڑی، را-بھ جوشی،شریپد جوشی،ڈاکٹر رام پنڈت، پردیپ نپھاڑکر اور منیشا پٹوردھن کے نامو ں کا ذکر مجھے اس لئے ضروری محسوس ہو رہا ہے کہ یہ وہ مترجم ہیں جو فارسی رسم الالخط جانتے تھے یا جانتے ہیں۔انھو ں نے جو کام کیا ہے وہ براہ راست اردو ہی سے کیا۔یہ بات میں پگڑی صاحب، رام جی اور منیشا صاحبہ کے ساتھ کام کرنے کے سبب دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہو ں۔یہا ں میں یہ بتا تا چلو ں کہ ہندی اور انگریزی میںسعادت حسن منٹو کی کہا نیو ں اور غالب کے اشعار کے ترجمو ں کی بڑی مانگ ہے۔ہندی زبان میں اردو کا بیشتر اہم فکشن اور کلاسیکی شاعری ترجمہ ہو چکی ہے ، ہندی کے ذریعے سے مراٹھی مترجمین اردو کے دوسرے اہم لکھنے والو ں کو بھی مراٹھی میں ترجمہ کریں تو نہ صرف اردو بلکہ مراٹھی زبان کے لیے بھی یہ عمل سود مند ثابت ہو گا۔
اردو مترجمین میں بدیع الزماں خاور کا نام اہم ہے کہ انہوں نے نہ صرف مراٹھی سے اردو تراجم کو مشن بنایا بلکہ مراٹھی زبان میں شاعری بھی کی اور مراٹھی غزل کو ایک نئی جہت عطا کرنے والو ں میں بھی ان کا نام اہم جانا جاتا ہے۔ مرا ٹھی سے اردو نظمو ں کے تراجم کا پہلا انتخاب ’’خوشبو ‘‘ ۱۹۷۴ء میں خاور کیلئے ماہنامہ نقش کوکن ممبئی نامی رسالے کے مدیر ڈاکٹر عبدالکریم نائک نے شائع کیا۔اس مجمو عے میں مرڈھیکر ،وندا کرنیکر ،ماڈگلکر ،کسماگرج اور شانتا شیلکے جیسے شعراءکی منتخب نظمیں شامل ہیں۔دوسرامجموعہ ’’سبیل‘‘۱۹۷۸ء میں شائع ہوا،کیشو سوت،نارائن وامن تلک، گووند اگرج ، سانے گروجی ،یشونت، انیل،کانیکر،کسماگرج ،شنکر وید ، سریش بھٹ ،مہا نو ر جیسے کئی اہم مراٹھی شاعروں کی نظمیں اس میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ مراٹھی سنت شاعرو ں گیانیشور،نام دیو ،جنا بائی، ایکناتھ،تکارام ،رام داس اور سنت شیخ محمد کے مشہور ابھنگوں کے مقفی تراجم اس میں شامل ہیں۔’ ’مراٹھی رنگ‘‘ عصری مراٹھی نظمو ں کا دوسرا انتخاب شائع ہوا۔ نرنجن اذگرے کا شعری مجموعہ ’’دینار‘‘ اور بابو رائو جگتاپ کا مجمو عہ ’’نیلے پہا ڑ کی نظمیں ‘‘شاید یہ دونو ں مجمو عے فرمائشی تراجم تھے۔اگر ایسا ہو بھی تو یہ نظمیں اردو والو ں کے لیے نیا مو ضوع تھیں۔خاور کا ایک اور اہم کارنا مہ ان کی کتاب ’’مہا راشٹر کی تہذیبی اور ادبی قدریں ‘‘ہے۔ مراٹھی تہذیب اورزبان و ادب کو سمجھنے کے لیے یہ ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ ۲۴۶؍ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں شامل چند مضامین کے عنوانات ہی سے آپ کو اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔بدیع الزماں خاور کے سبھی اردو شعری تراجم کے مجمو عو ں کو یکجا کرکے یعقوب راہی اور راقم نے خاور کے صاحبزادے عابد امام کے مالی تعاون سے ’’کلیات خاور ‘‘شائع کی ہے۔
نور پرکار اردو مترجمین میں ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے ۱۹۶۷ء میں، لکھنو سے عابد سہیل کی ادارت میں شائع ہو نے وا لے جریدے ’’کتا ب‘‘ کیلئے ،عصری مراٹھی کہانی اورڈرامہ کا خصوصی شمارہ ترجمہ و ترتیب دیا ہے۔ یہ’’صبا آوارہ ‘‘ کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔ موصوف نے نہ جانے کیو ں بعد میں ترجمہ و تخلیقی ادب سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ قلم پبلی کیشنز ،ممبئی نے ان کی ایک کتاب ’’گل ناآشنا ‘‘کچھ عرصہ قبل شائع کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرین کی سیٹ
پر وفیسرعبدالستار دلوی نے جو اردو تراجم کئے ہیں ان میں پرشوتم شیورام ریگے کے ناولٹ ’ساوتری ‘ ، ’ اولو کتا ‘اور وشرام بیڈیکر کے ’رن آنگن‘ کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جیونت دلوی کا سہ بابی ڈرامہ’’ بیرسٹر‘‘ اور وجے تنڈولکر کا ڈرامہ ’’خاموش عدالت جاری ہے‘‘ بھی انھو ں نے اردو کے قالب میں ڈھالے ہیں۔یہ ان کا اہم کام ہے۔
ڈاکٹر یو نس اگاسکر نے اپنے تراجم کی کتاب ’’بے چہرہ شام‘‘ میں مراٹھی کی اہم چنندہ کہا نیو ں کا انتخاب کیا ہے، جن میں گنگا دھر گاڈگل،اروند گوکھلے، وینکٹیش ماڈگلکر،مدھو منگیش کرنک،شن نا نو رے،نارائن گنیش گورے،وسنت دیشمکھ کی کہا نیا ں شامل ہیں۔مشہور مراٹھی ناٹک ’’نٹ سمراٹ‘‘ کا بھی انہوں نے ترجمہ کیا ہے۔راجا جی کی را مائن : بال کانڈ ( رام جنم سے سیتا سوئمبر تک ) کا ڈاکٹر اگاسکر نے ترجمہ کیا ہے۔’’مراٹھی ادب کا مطالعہ‘‘ مراٹھی ادب کو سمجھنے کے لیے ان کی ایک اہم کتاب ہے۔
سلام بن رزاق کا نام اردو فکشن میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ مشہو ر مراٹھی ادیب مدھو منگیش کرنک کے ناول ’’ماہم کی کھاڑی‘‘اور جی اے کلکرنی کی کہا نیا ں انھو ں نے اردو میں ترجمہ کی ہیں۔ان کی یہ دونوں کتا بیں اردو میںکافی پسند کی گئی ہیں۔یعقوب را ہی اردو ادب میں بطور احتجاجی شاعر جانے جاتے ہیں۔’’دلت آواز‘‘ نامی مجموعے میں اہم مراٹھی دلت شاعروں کی نظمو ں کے تراجم شامل ہیں۔ بابو رائو باگل، نارائن سروے،کیشو مشرام،دیا پوار،نام دیو ڈھسال،سے لے کر پردنیا لو کھنڈے وغیرہ کی نظمیں اس مجمو عے میں شامل ہیں۔ یعقوب را ہی کی ایک کتاب ’’مراٹھی شاعری کے کچھ اور تراجم‘‘ بھی منظر عام پر آئی ہے۔اس کے علاوہ ’’مرا ٹھی شاعری کے اردو تراجم‘‘ میں راہی نے اردو ترجمہ نگارو ں کے تراجم کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔خالد اگاسکر ترجمے کی دنیا میں اہم نام بن کر ابھرے۔ ان کی کتاب ’’کتھا‘‘ کیلئے ، ساہتیہ اکادمی ،دلی سے ترجمے کا انعام بھی ملا تھا۔’’کتھا‘‘ میں راجا کدم، لکشمن لو نڈھے،سدھاکر جیونت ،رام چندر منجواڈکر، اور دیگر کی منتخب مراٹھی کہا نیا ں شا مل ہیں۔ تخلیقی ادب اور اردو ترجمہ سے خالد اگاسکربھی دور ہو گئے۔میں سمجھتا ہوںاس سے اردو زبا ن و ادب کا نقصان ہی ہوا ہے۔ رفیعہ شبنم عابدی نے نارائن سروے کے مجموعے ’’مازھے ودیا پیٹھ‘‘ اور منگیش پڈگائونکر کے مجمو عے ’’سلام‘‘ کا ترجمہ کیا ہے۔یہ تراجم شاید شعبہ اردو میں، مراٹھی زبان و ادب سے واقفیت کی غرض سے کیے جانے والے تراجم تھے۔ سہ ماہی تکمیل بھیونڈی میں اس مو ضوع پر بحث بھی ہو تی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ثقافت اور اَدب کی طرح جمہوریت کی تازہ موجوں کی آمد بھی معاشرے کیلئے ضروری ہے
معین الدین جینا بڑے، جب تک ممبئی یو نیو ر سٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ رہے، انھو ں نے بھی، وشنو سکھارام کھانڈیکر کی منتخب کہانیو ں کے تراجم کے علاوہ چند ممتاز مراٹھی خواتین افسانہ نگارو ں کی کہا نیا ں بھی ترجمہ کی ہیں ،ان کے یہ تراجم سوغات،بنگلور،کتاب نما،دہلی اور امکان ،ممبئی جیسے اہم جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔موصوف نے اہم مراٹھی فکشن نگارو ں کے جو انٹرویو زلیے تھے، وہ بھی اہم ہیں۔ان کے تراجم اور یہ انٹرویوز کتابی شکل میں شائع ہوں تو اردو کے حق میں اہم بات ہوگی۔قاسم ندیم نے مراٹھی سے کافی ترجم کئے ہیں۔سہ ماہی تکمیل اور اردو چینل میں ان کے تراجم پڑھنے کا موقع ملتا رہا ہے۔’’اذان ‘‘ اور ’’مجھے گھر چاہیے گھر‘‘نامی کہانیو ں کے مجمو عے منظر عام پر آچکے ہیں۔’اذان‘ نامی مجموعے میں کھانڈیکر ،ماڈگلکر،مدھو منگیش کرنک،گنگا دھر گا ڈگل،ارون سادھو ودیگر اہم کہا نی کارو ں کی کہانیاں شامل ہیں۔ ’’مجھے گھر چاہیے گھر‘‘میں نما ئندہ مراٹھی خواتین کہانی کارو ں کی کہا نیا ں شامل ہیں۔ انجم عبا سی نے مرا ٹھی کہا نیو ں کے اردو تراجم ’’کہکشا ں‘‘ کے نام سے شائع کیے ہیں۔اس کے علاوہ سہ ماہی ’ترسیل‘ کے شماروں میں وقتا فوقتا مراٹھی زبان و ادب پر ان کے مضامین و تراجم پڑھنے کا موقع ملتا رہا ہے۔اسلم مرزا ترجمہ نگاری میں مراٹھوا ڑہ سے ایک اہم نام ہے۔’مورپنکھ‘،’فساد اور دیگر نظمیں ‘،’پیاری انو‘، اور ’مراٹھی کے تین نامورشعرا‘(کسماگرج،وندا کرندیکر،منگیش پڈگائوں کر )ان کے مرا ٹھی نظمو ں کے تراجم کے مجمو عے ہیں۔
ڈاکٹر سید یحی نشیط ودربھ کے اسکالرس میں اہم نام ہے۔’’اردو مراٹھی کے تہذیبی رشتے ‘‘ اور ’’اردو مراٹھی کے باہمی روابط‘‘ ان کی اہم کتا بیں ہیں جو اردو مراٹھی کے رشتے کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔ راقم نے بھی کچھ تراجم کیے ہیں۔ ڈاکٹر یو نس اگاسکر کی ادارت میںممبئی سے شائع ہو نے والے سہ ماہی جریدے ’’ترسیل‘‘، ساجد رشید مرحوم کے ’’نیا ورق‘‘ مظہر سلیم مرحوم کے ’’تکمیل‘‘ اور قمر صدیقی کے جریدے ’’اردو چینل‘‘نے اردو مراٹھی تراجم کو اپنے یہا ںہمیشہ اولیت دی ہے۔’’آج ‘‘ کراچی کے شمارو ں میں وقتا فوقتا مراٹھی تراجم کو جگہ دی جاتی ہے ،راقم کے ترجمے ’’سکھارام بائنڈر‘‘ کو انھو ں نے شائع کیا تھا۔مہاراشٹراسٹیٹ اردو اکادمی کے جریدے امکان کے شماروں میں بہترین مرا ٹھی کہانیاں ، نظمیں اور یک بابی و سہ بابی ڈرا مو ں کا انتخاب شائع ہوتا رہا ہے اور ہو تا رہے گا کیونکہ ریا ستی زبان اور اردو کو قریب لا نا بھی اس کے قیام کا ایک اہم مقصد ہے۔ ریاستی حکومت کے مراٹھی ساہتیہ سنسکرتی منڈل سے ایک گزارش ہے کہ وہ ترجمے کے فن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مراٹھی سے دوسری زبانوں میںکیے جا نے والے تراجم پر انعام دینے کا سلسلہ شروع کرے جس سے مراٹھی زبان سے بہترین ادب ملک کی دوسری زبانوں میں منتقل ہوکر قارئین تک پہنچے گا۔
یہ بھی پڑھئے: حکمراں علم دوست بھی ہوتے ہیں!
مہا راشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادیمی جو وزارت اقلیتی امور کے ماتحت کام کر تی ہے ، اس نے نہ جانے کیو ں مراٹھی- اردو اوراردو- مراٹھی خدمات کے لئے دیا جانے والا ترجمہ کا انعام بند کردیا ہے۔گزارش ہے کہ سیتو مادھورائو پگڑی کے نام سے دیا جانے والا یہ انعام دوبا رہ شروع کیا جائے۔ (یہ مضمون ہندوستانی پرچار سبھا سمینار ’’اردو اورمراٹھی کا باہمی رشتہ ‘‘میں پڑھا گیاتھا۔ )