معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کی بگڑتی ہوئی صحت اور لداخ سے متعلق ان کی تحریک نے قومی ضمیر کو جھنجھوڑا ہے جس پر تقریباً تمام بڑے ہندی، مراٹھی اور انگریزی اخبارات نے نہ صرف ان کے مطالبات کی تائید کی بلکہ مرکزی حکومت کی بے حسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
شہریت کے نظام سے متعلق ایک معاملے میں عدالت عظمیٰ نے نہایت واضح الفاظ میں کہا ہےکہ شہریت سے متعلق معاملات غیر معمولی آئینی اہمیت رکھتے ہیں ۔ تصویر: آئی این این
معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کی بگڑتی ہوئی صحت اور لداخ سے متعلق ان کی تحریک نے قومی ضمیر کو جھنجھوڑا ہے جس پر تقریباً تمام بڑے ہندی، مراٹھی اور انگریزی اخبارات نے نہ صرف ان کے مطالبات کی تائید کی بلکہ مرکزی حکومت کی بے حسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب مہاراشٹر میں جاری’ایس آئی آر‘ مہم پر مراٹھی اخبارات نے شفافیت اور غیر جانب داری سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے اس عمل کو مکمل انصاف اور قانون کے دائرے میں انجام دینے پر زور دیا ہے۔ اسی سلسلے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے شہریت کے تعین کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس پرکئی اخبارات نے اداریے تحریر کیے ہیں ۔ ادھر عالمی منظرنامے میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر بھڑکتی کشیدگی کو بیشتر اخبارات نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن اور معاشی استحکام کیلئے ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔
بدعنوانی کے ناسور سے پاک کرنے کی اصولی جنگ
پربھات( مراٹھی، ۱۷؍جولائی)
’’دارالحکومت دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر کی تپتی ہوئی سڑکوں پر جب کوئی سماجی مصلح یا ملک کے سنہرے مستقبل کا ضامن کوئی نوجوان دم توڑتی امیدوں کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھتا ہے تو یہ محض کوئی عام احتجاجی سرگرمی نہیں ہوتی۔ درحقیقت یہ ہمارے مروجہ انتظامی و سیاسی نظام کی فکری و عملی ناکامی کی ایک ایسی جیتی جاگتی مثال ہے جس سے نظریں چرانا ممکن نہیں ۔ معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کا جمعرات کو ۱۹؍ واں روز ہے۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ۱۹؍ دن گزر جانے کے بعد بھی اقتدار کے ایوانوں میں کوئی ایسی ہلچل دکھائی نہیں دیتی جو اُن کے مطالبات پر سنجیدہ غور و خوض کی عکاس ہو۔ طبی ماہرین مسلسل خطرے کے گھنٹی بجا رہے ہیں کہ وانگ چک کا وزن ۹؍ کلو گرام تک گر چکا ہے۔ خون میں شکر کی سطح خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے اور ان کے اندرونی اعضاء شدید متاثر ہو سکتے ہیں ۔ لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا دہلی کےاقتدار کے ایئر کنڈیشنڈ ایوانوں میں براجمان مقتدر حلقوں کو اس عوامی درد اور انسانی جان کی تڑپ کا ذرا برابر بھی احساس ہے؟ملک میں حالیہ نیٹ امتحانات میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے سنگین معاملے نے لاکھوں ہونہار طلبہ کے مستقبل کو تاریکی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ جس ملک میں متوسط اور خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کے بچوں کا واحد سہارا ان کی اپنی صلاحیت و قابلیت ہو وہاں اگر امتحانات کی شفافیت کا ہی جنازہ نکل جائے تو اس سے بڑا قومی المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہ بات ارباب اختیار کو اول وقت میں سمجھ لینی چاہئے کہ وانگ چک کی یہ تحریک محض کسی ایک وزیر کے استعفیٰ کا سطحی مطالبہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے پورے تعلیمی ڈھانچے کو بدعنوانی کے ناسور سے پاک کرنے کی ایک اصولی جنگ ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نے عدالتی جرأت اور حکومتی کارکردگی جیسے موضوعات پر اداریہ لکھا
الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور نیت پر سنگین سوالات
مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۱۴؍جولائی)
’’ملک کی مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر مہم کے تلخ و شیریں تجربات کے بعد یہ توقع فطری تھی کہ مہاراشٹر میں انتظامیہ اس حساس معاملے میں زیادہ سنجیدگی اور عوامی سہولت کا مظاہرہ کرے گی مگر افسوس کہ ریاست میں جاری موجودہ عمل تفتیش نے ووٹرس کی سہولت کے بجائے ان کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ برسوں سے بلا ناغہ حقِ رائے دہی استعمال کرنے والے ہزاروں جائز اور عام شہریوں کو آج محض یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ اس ملک کے ووٹر ہیں، ایک کٹھن اور صبر آزما آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ موقف اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے کہ یہ پوری مہم آئینی حدود کے اندر چلائی جا رہی ہے لیکن زمینی سطح پر اس کے ناقص نفاذ اور ضابطوں میں روزانہ کی تبدیلیوں نے خود کمیشن کی کارکردگی اور نیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں ۔ سیاسی پارٹیوں کے اعتراضات کو اگر ایک طرف رکھ بھی دیا جائے تب بھی شہریوں کی جائز پریشانیوں کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ کمیشن اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر عوامی شکایات کا فوری ازالہ کرے اور اس پورے عمل کو سہل اور شفاف بنائے۔ اگر اس مہم کے تحت اب تک ہونے والے اخراج کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال تشویشناک حد تک سنگین نظر آتی ہے۔ فہرست کو پاک و صاف کرنے کے نام پر اب تک بہار سے ۶۵؍ لاکھ، مغربی بنگال سے ۹۰؍ لاکھ، تمل ناڈو سے ۷۴؍ لاکھ اور گجرات سے ۶۸؍ لاکھ شہریوں کے نام خارج کیے جا چکے ہیں ۔ اب یہی تلوار مہاراشٹر سمیت ۱۶؍ ریاستوں اور ۳ ؍مرکزی زیرِ انتظام علاقوں پر لٹک رہی ہے۔ ‘‘
امریکہ ایران تنازع سے تیل کی قیمتیں آسمان پر
دی انڈین ایکسپریس( انگریزی، ۱۵؍جولائی)
’’ مغربی ایشیا ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر آ کھڑا ہوا ہے اور خطے میں تصادم کی نئی لہر نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مسلسل تین روز سے جاری امریکی فضائی حملوں اور اس کے جواب میں ایرانی فورس کی جانب سے امریکی اتحادیوں اور تجارتی بحری جہازوں پر حملوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اس کشیدگی کا فوری اثر عالمی معیشت پر پڑا ہے جہاں تیل کی قیمتیں یکدم ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ رواں سال ۱۴ جون کو طے پانے والی وہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) جس کا مقصد ۶۰؍ روز کی مہلت کے اندر ایک پائیدار جنگ بندی اور وسیع تر تصفیہ تلاش کرنا تھا اب اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔ ایرانی رہنما علی خامنہ ای کی تدفین کے فوراً بعد تہران کی جانب سے تجارتی شہ رگ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اقدام اور اس کے ردعمل میں امریکی صدر کی طرف سے اقتصادی ناکہ بندی کا دوبارہ نفاذ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں فریقین سفارت کاری سے زیادہ طاقت کی زبان پر یقین رکھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے اس وقت پوری دنیا ایران کے خطرناک بلیک میل اور ٹرمپ انتظامیہ کی ہلاکت خیز یکطرفہ پسندی کی چکی میں پس رہی ہے۔ امریکی پالیسیوں کا تضاد اس وقت کھل کر سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو جہاز پر ۲۰؍ فیصد فیس عائد کرنے کا منصوبہ پیش کیا جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا۔ یہ تجویز خود ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ستونوں بالخصوص نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ان یقین دہانیوں کے صریحاً منافی تھی کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی بھی ملک عالمی آبی گزرگاہوں پر ٹول وصول نہیں کر سکتا۔ اگر یہ فیس نافذ ہو جاتی تو تیل کی ترسیل کے اخراجات دگنا سے بھی زیادہ ہو جاتے۔ ٹرمپ کی یہ دھمکی دراصل امریکہ کی اس اسٹریٹجک بے بسی اور محدود اختیارات کا منہ بولتا ثبوت ہے جو اسے ایرانی حکومت کے سامنے درپیش ہیں کیونکہ تہران کسی بھی قیمت پر ہرمز پر اپنی گرفت چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نے بارش کے واقعات، پیپر لیک اور سیاسی جوڑ توڑ کو موضوع بنایا
شہریت کے نظام پر ایک بنیادی سوالیہ نشان
نو بھارت ٹائمز( ہندی، ۱۴؍جولائی)
’’سپریم کورٹ کی جانب سے گوہاٹی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینا جس میں ۲۷؍ اپیل کنندگان کو غیر ملکی قرار دینے کے احکام برقرار رکھے گئے تھے محض ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ ہندوستانی شہریت کے نظام پر ایک بنیادی سوالیہ نشان بھی ہے۔ عدالت عظمی نے نہایت واضح الفاظ میں کہا ہے کہ شہریت سے متعلق معاملات غیر معمولی آئینی اہمیت رکھتے ہیں اسلئے ان کا فیصلہ صرف منصفانہ اور شفاف طریقۂ کار کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ اس سچائی کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ کسی شخص کی شہریت کا معاملہ اس کی شناخت اور بنیادی حقوق سے جڑا ہوا ہے، لہٰذا اس میں معمولی سی کوتاہی بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی یہ سوال پوری شدت سے موجود ہے کہ آخر ہندوستانی شہریت کا حتمی ثبوت کون سی دستاویز ہے؟ شہریت ایکٹ ۱۹۵۵ شہریت کے حصول اور اس کے خاتمے کے قانونی اصول تو بیان کرتا ہے لیکن ایسا کوئی واحد دستاویز موجود نہیں جسے ہر صورت میں شہریت کا قطعی ثبوت قرار دیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حکومت یہ کہتی ہے کہ پاسپورٹ محض سفری دستاویز ہے یا آدھار اور ووٹر شناختی کارڈ صرف شناخت کے محدود ذرائع ہیں تو عام شہری کے ذہن میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر آخر اس کی شہریت کا ناقابل تردید ثبوت کیا ہے؟یہ ابہام حالیہ’ایس آئی آر‘ کے دوران بھی نمایاں طور پر سامنے آیا۔ مختلف ریاستوں میں لاکھوں شہری اس خدشے میں مبتلا رہے کہ اگر ان سے شہریت کا ثبوت طلب کیا جائے تو وہ کون سی دستاویز پیش کریں جو ہر سرکاری ادارے کے نزدیک بلاچوں و چراں قابلِ قبول ہو۔ ‘‘