• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’صدقہ (دینے) کا ثواب دس گنا ہے اور قرض (دینے) کا اٹھارہ گنا‘

Updated: October 06, 2026, 4:30 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

گزشتہ جمعہ کو سود کی حرمت کے متعلق کچھ تفصیل پیش کی گئی تھی، آج ملاحظہ کیجئے قرض لینے کی نوعیت، اس کی ادائیگی میں سہولت اور قرض کو صدقہ سے افضل کیوں بتایا گیا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم میں اپنے بندوں کے درمیان فرق کیا ہے ، اور یکسانیت نہیںبرتی ہے۔  اگر ایسا نہ ہوتا تو نہ کوئی شخص دوسرے کے یہاں ملازمت کامحتاج ہوتا اور نہ کسی سرمایہ دار کو کوئی مزدور اور کارکن ہاتھ آتا۔یہی احتیاج اور ضرورت بعض اوقات انسان کو قرض کے لین دین پر مجبور کرتی ہے۔ اگر جائز طریقہ پر اہلِ ثروت اپنے غریب بھائیوں کو قرض دے دیں تو خود بخود سود کا راستہ بند ہو جائے، افسوس کہ ایک تو مسلمانوں میں یہ برادرانہ اسپرٹ باقی نہیں رہی کہ وہ اپنے زائد از ضرورت مال میں دوسرے غریب بھائیوں کا حق محسوس کریں اور ان کو غیر سودی قرضے فراہم کریں ، اورنہ لوگ قرض کے احکام و مسائل اور فضائل و اجر ہی سے واقف ہیں ۔ 
قرض کے لین دین کا ثبوت قرآن مجید سے بھی ہے،  حدیث سے بھی، اور اس پر اجماع واتفاق ہے اور مصلحت کا تقاضا بھی ہے۔ قرآن نے اللہ کے راستہ میں انفاق کو ’’قرض حسن ‘‘ قرار دیا ہے ، (البقرۃ : ۲۴۵ ) اس میں قرض کے جائز؛ بلکہ مستحب اور مطلوب ہونے کی طرف واضح اشارہ ہے۔ ایک جگہ ’’ دَین ‘‘ کے ساتھ مدت لکھنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ دَین کا لفظ عام ہے اورقرض بھی اس کے دائرہ میں آتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ارشادِ نبوی نقل کرتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوبار قرض دینا ایک بار صدقہ کرنے کے برابر ہے۔ (سنن بیہقی : ۵؍ ۳۵۳ ، ابن ماجہ : ۲؍ ۶۰ مع تحقیق : الاعظمی، و فیہ سلیمان وہو متروک) اور بھی متعدد روایتیں ہیں جن میں قرض دینے کی فضیلت وارد ہے اسی لئے اس کے جائز ہونے پر اُمت کا اجماع ہے۔ (المغنی : ۴ ؍ ۲۰۷ ) پھر قرض ایک ایسی مصلحت ہے کہ بہت سے مواقع پر اس سے مفر نہیں ہوتا ؛ اس لئے اگر اس کی گنجائش نہ رکھی جائے تو تنگی اور دشواری کاباعث ہوگا ، اور ناقابلِ برداشت حرج و تنگی کو دُور کرنا شریعت کا ایک اہم ترین مقصد ہے، ارشاد ربانی ہے: ’’اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے ۔‘‘ (المائدہ : ۶ ) نیز فرمایا گیا: ’’اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا۔‘‘ (البقرۃ : ۱۸۵ )

یہ بھی پڑھئے: اُمت میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ آخری حد تک سو‘د سے بچے

قرض لینا گو کہ مباح ہےلیکن قرض دینا مستحب ہے کیوں کہ یہ نیکی اور بھلائی میں تعاون ہے۔  (الشرح الصغیر : ۳ ؍ ۲۹۲ ) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے قرض دینے کی فضیلت اوپر مذکور ہو چکی ہے، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور پاکؐ نے ارشاد فرمایا:  ’’میں نے جنت کے دروازہ پر شب اسراء میں لکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے اور قرض کا اٹھارہ گنا، میں نے حضرت جبریل علیہ السلام سے استفسار کیا کہ قرض صدقہ سے افضل کیوں ہے ؟ حضرت جبریل ؑ   نے کہا کہ وسائل رہنے کے باوجود دست سوال دراز کرتا ہے ( اور اس پر صدقہ کیا جاتا ہے)  اور قرض کا خواستگار ضرورت ہی پر طلب گار قرض ہوتا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ : ۲؍ ۵۶ ، حدیث نمبر : ۱۲۴۳۳)  نیز حضرت ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ : یہ بات کہ میں دو دینار قرض دوں پھر وہ واپس آجائیں اور میں ان کو کسی اور کو قرض دے دوں، مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ان کو صدقہ کردوں ۔ (المغنی : ۴؍ ۲۰۷ ) حضرت انس ؓ کی ایک روایت میں آپؐ  سے منقول ہے کہ کوئی چیز قرض دینا اس کو  صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔(سنن بیہقی : ۵ ؍ ۳۵۴ ) 
ان روایات سے نہ صرف قرض کی فضیلت اور اس کا استحباب ظاہر ہوتا ہے ؛ بلکہ مواقع و احوال کے لحاظ سے قرض کا بعض اوقات صدقہ سے بھی زیادہ باعث ِثواب ہونا معلوم ہوتا ہے۔ اگر محتاج کی حاجت مندی کا یقین کر کے اسے دیا جائے تو ظاہر ہے کہ صدقہ افضل ہے؛ لیکن اگر یقینی طور پر اس کا علم نہیں تو قرض کی فضیلت زیادہ ہے ؛ اس لئے کہ جو لوگ خود دار طبیعت کے مالک ہوں، وہ مجبوراً ہی قرض طلب کرتے ہیں۔ قرض کے مستحب ہونے کا حکم ظاہر ہے اس وقت ہے جب قرض دہندہ کے علم یا اندازہ کے مطابق قرض کسی جائز ضرورت کے لئے لیا جارہا ہو۔ اگر کسی مکروہ یا حرام و معصیت کے ارتکاب کیلئے قرض لے تو دانستہ اس مقصد کے لئے قرض دینا درست نہیں۔ مکروہ میں تعاون بھی مکروہ اور حرام کا تعاون بھی حرام ہے؛ کیوں کہ جو حکم مقصد کا ہوتا ہے ، وہی حکم ’’ذریعہ ‘‘ کا بھی ہوتا ہے۔ 
قرض لینا مباح ہے، (المغنی : ۴ ؍ ۲۰۷ )  البتہ یہ ضروری ہے کہ جائز مقصد کیلئے قرض لیاجائے۔ ابن ماجہ میں روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ قرض لینے والے کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ادا نہ کر لے، سوائے اس کے کہ کسی ایسے مقصد کیلئے دَین حاصل کرے ، جو اللہ کو ناپسند ہو ، (ابن ماجہ : ۲؍ ۵۶ ، حدیث نمبر : ۲۴۳۳ )یا اس ارادہ سے قرض کرلے کہ ادا نہیں کرنا ہے، یہ بھی گناہ کی بات ہے۔ آپؐ  نے فرمایا کہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں چور شمار کیا جائے گا۔ (حوالۂ سابق، حدیث نمبر : ۲۴۳۴ ) ایک اور روایت میں ہے کہ محض دوسروں کا پیسہ ڈبانے کیلئے قرض لے تو اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کردینگے۔ (حوالہ سابق ، حدیث نمبر: ۲۴۳۶ ) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا راوی ہیں کہ جو شخص اس ارادہ سے دَین لے کہ اسے ادا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کا دین ادا کرادینگے،  (حوالہ سابق ،حدیث نمبر : ۲۴۳۲ ) غرض شدید ضرورت کے بغیر، غیر شرعی ضرورت کیلئے اور عدم ادائیگی کی نیت سے قرض لینا گناہ ہے، جائز مقصد کیلئے، ضرورت کی وجہ سے اور وعدہ پر ادائیگی کی نیت سے قرض لینا مباح اور جائز ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سورہ الشرح پڑھی آپ نے؟

اگر مقروض تنگدستی میں مبتلا ہو، تو اس کو مزید مہلت دینی چاہئے اور ممکن ہو تو کچھ معاف بھی کردینا چاہئے۔ آپؐ  نے ارشاد فرمایا: ’’جو اللہ کے سایہ میں رہنا چاہتا ہے، اسے چاہئے کہ تنگدست شخص کو مہلت دے، یا اس کا کچھ حصہ معاف کر دے ۔‘‘ (حوالۂ سابق ، حدیث نمبر : ۲۴۴۴ ) 
پھر آپؐ  نے یہ بھی ہدایت فرمائی کہ قرض کی ادائیگی کامطالبہ مناسب طریقے پر کرنا چاہئے ۔ (حوالہ سابق ، باب حسن المطالبۃ) جہاں ایک طرف آپؐ  نے قرض دینے والے کو حسنِ سلوک کی ہدایت دی ہے، وہیں مقروض کو بھی تلقین فرمائی کہ وہ قرض خواہ کے ساتھ زیادتی نہ کرے اور بہتر معاملہ رکھے، باوجود استطاعت کے قرض کی ادائیگی میں کوتاہی اور ٹال مٹول کو آپؐ نے بہت ناپسند فرمایا ہے اورفرمایا کہ یہ چیز اس کی بے عزتی اور سزا کا جواز پیدا کردیتی ہے۔ (ابن ماجہ : ۲ ؍ ۶۰ ، حدیث نمبر : ۲۴۵۲ ) یہاں تک کہ آپؐ  نے متوفی کے مال میں سے پہلے اس کادَین ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ ( ابن ماجہ : ۲ ؍ ۶۰ ، حدیث نمبر : ۲۴۵۸ ) یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو دَین کی ادائیگی میں بہتر ہے، (ابن ماجہ : ۲ ؍ ۶۰ ، حدیث نمبر : ۲۴۴۸ ) ایک حدیث میں وارد ہے کہ مومن کی روح اس کے دَین کے ساتھ معلق رہتی ہے ؛ تاآں کہ اس کی طرف سے ادا کردیا جائے، (ابن ماجہ : ۲ ؍ ۶۰ ، حدیث نمبر : ۲۴۳۷)حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے آپؐ  کا ارشاد منقول ہے کہ جس کا انتقال ہو، اس پر ایک دینار یا درہم بھی باقی ہو تو اسے اس کی نیکیوں میں سے وصول کیا جائے گا ۔ (ابن ماجہ : ۲ ؍ ۶۰، حدیث نمبر : ۲۴۳۹ )
موجودہ حالات میں پسماندہ مسلمانوں کو اونچا اُٹھانے،  سودی قرض کی لعنت سے انہیں بچانے اور روز گار کے اعتبار سے خود مکتفی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ غیر سودی قرض فراہم کرنے والی انجمنیں قائم ہوں۔ یہ ہر محلہ اور گاؤں کی سطح پر ہو ںاور چھوٹے قرضے کمزور طبقہ کو فراہم کریں اور چھوٹی چھوٹی قسطوں میں اسے وصول کریں، یہ اپنے انتظامی اخراجات کیلئے ان ہی مقروضوں سے سروس چارج لے سکتی ہیں  نیز مسلمان سرمایہ دار اپنے محفوظ اورفاضل سرمایہ کا ایک حصہ ایک مقررہ مدت کیلئے ایسے اداروں کے حوالہ کریں۔ جائز مقاصد اور ضروری کاموں ہی کیلئے قرضے جاری کئے جائیں ، جب تک ہم اس طرح کے ادارے قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوں گے، سماج سے ایسے مظالم کا سد باب نہ ہوسکے گا۔ مسلمان مذہبی تنظیموں اور اداروں کو ترجیحی طور پر اس کام کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ، محض بیانات ، تقریروں اور فتوؤں سے ظالم سود خواروں کی ستم انگیزیوں کا سد باب نہیں ہوسکے گا، اس کیلئے عملاً آگے آنا ہوگا۔

قرضدار کی جانب سے ملنے والی دعوت یا تحائف کا حکم
سود خوار کی نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور سود کے چور دروازوں کو بند کرنے کی غرض سے آپ ﷺ نے مقروض کی طرف سے تحائف کے قبول کرنے میں بھی احتیاط برتنے کا حکم دیا ہے ۔ حضرت انس ؓ سے آپؐ  کا ارشاد مروی ہے کہ : جب کوئی قرض دے اور مقروض کوئی تحفہ دے، یا اپنی سواری پر بیٹھائے تو اسے قبول نہ کرنا چاہیے، سوائے اس کے کہ پہلے سے ان کے درمیان باہم تحائف کا لین دین رہا ہو ۔ (ابن ماجہ : ۲؍ ۸۱۳ ) حضرت ابی بن کعب ؓ جہاد کی غرض سے عراق کی طرف سے جارہے تھے تو زربن حبیش نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے کہا کہ آپ ایسی جگہ جارہے ہیں ، جہاں سود کا عام رواج ہے ؛ اس لئے آپ کسی کو قرض دیں اور آپ کو قرض کے ساتھ کچھ تحفہ بھی دے تو اس کا تحفہ قبول نہ کریں ۔ اسی بناء پر فقہاء نے بھی مقروض کے ہدایہ  و تحائف اور دعوتوں میں احتیاط کا حکم دیا ہے، حنفیہ کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جو لوگ پہلے سے دعوت نہ دیتے رہے ہوں،  یا ہدایہ و تحائف کا معمول نہ رہا ہو تو ایسی دعوت اور  تحفوں کا قبول کرنا جائز نہیں، ہاں، معاملہ قرض سے پہلے سے اس طرح کا معمول رہا ہو تو اب جائز ہے ، (ہندیہ : ۳ ؍ ۲۰۳ ) قریب قریب یہی رائے دوسرے فقہاء کی بھی ہے ۔ (دیکھئے : مواہب الجلیل : ۴ ؍ ۵۴۶ ، کشف القناع : ۳ ؍ ۳۰۵ ) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK