پڑھئے اور غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ کی تدبیر صرف مسئلے کے خاتمے میں نہیں، خود مسئلے کے اندر بھی کسی آسانی کو رکھ سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 4:25 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai
پڑھئے اور غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ کی تدبیر صرف مسئلے کے خاتمے میں نہیں، خود مسئلے کے اندر بھی کسی آسانی کو رکھ سکتی ہے۔
قرآن کریم کی سورۂ الضحیٰ اور سورۂ الشرح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو تسلی اور دلجوئی کا انداز ملتا ہے، اس میں ایک ایسی گہرائی ہے جو ہر دور کے پریشان حال انسان کو اپنے قریب محسوس ہوتی ہے۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کی ہدایت کے لئے منتخب فرمایا، مگر نبوت کی عظیم ذمہ داری اپنے ساتھ آزمائشوں کا ایک غیر معمولی بوجھ بھی لائی تھی۔ دعوت کی راہ میں مخالفت، تمسخر، تکلیف، معاشرتی دباؤ اور اپنے لوگوں کی طرف سے سخت رویے، یہ سب اس سفر کا حصہ بنے اور زندگی مصائب کی زنجیر سے جکڑ سی گئی تھی۔ جس شخصیت پر پوری انسانیت کی اصلاح کی ذمہ داری ہو، اس کے سامنے مخالفت کا یہ طوفان معمولی بات نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یاد رکھئے، صرف حصولِ مال ہی ہمارا مقصدِ حیات نہیں ہے
یہاں قرآن کا انداز دیکھئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبیؐ سے صرف یہ نہیں فرماتا کہ پریشان نہ ہوں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم نے آپ کا سینہ کشادہ کیا،آپ کا بوجھ اتار دیا، اور یہ کہ آپؐ کے ذکر کو بلند کیا۔ یعنی تسلی صرف مستقبل کی امید سے نہیں دی گئی، ماضی کی گواہی بھی سامنے رکھ دی گئی۔ گویا جس رب نے پہلے سنبھالا تھا، وہ آئندہ بھی سنبھالنے پر قادر ہے۔ جس نے ایک مشکل مرحلے سے نکالا تھا، وہ دوسرے مرحلے میں بھی راستہ پیدا کرسکتا ہے۔
پھر وہ جملہ آتا ہے جس نے صدیوں سے تھکے ہوئے دلوں کو سہارا دیا ہے:’’بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
مصیبت کے وقت سب سے خطرناک جملہ یہ نہیں کہ ’’میں مشکل میں ہوں‘‘، بلکہ یہ ہے کہ ’’اب کبھی کچھ نہیں بدلے گا۔‘‘ پہلا جملہ حقیقت بیان کرتا ہے، دوسرا مستقبل کے بارے میں ایسا فیصلہ ہے جس کا علم انسان کے پاس نہیں۔ آج کا اندھیرا کل کی روشنی کا انکار نہیں ہوسکتا۔ ایک رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، وہ صبح کو روک نہیں سکتی۔ یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کی نگاہ کسی مرحلے تک محدود ہوتی ہے، مگر اللہ کی تدبیر پوری زندگی کو محیط ہے۔
ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو بظاہر معمول کی زندگی گزار رہے ہیں مگر اندر سے کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہیں؟ کوئی معاشی پریشانی سے دوچار ہے، کوئی رشتوں کی تلخی سے، کوئی اپنی ناکامیوں کے احساس سے، کوئی تنہائی سے، کوئی مستقبل کے خوف سے اور کوئی اپنے ماضی کے کسی ایسے زخم سے جس کا ذکر وہ کسی سے نہیں کرتا۔ بعض لوگ ہنستے ہوئے بھی اندر سے ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر زندگی معمول کے مطابق ہوتی ہے، مگر دل کے اندر سوالات کا شور برپا ہوتا ہے۔ ایسے ہر شخص کیلئے سورۂ الشرح کا پیغام عجیب قربت رکھتا ہے۔ یہ اسے یہ نہیں کہتی کہ تمہاری تکلیف جھوٹی ہے، بلکہ تکلیف کو تسلیم کرکے اس کے اندر امید کا راستہ دکھاتی ہے۔ یہ نہیں کہتی کہ زندگی میں بوجھ نہیں آئے گا؛ بلکہ بتاتی ہے کہ بوجھ اٹھانے والا رب موجود ہے۔ یہ نہیں کہتی کہ ہر راستہ آسان ہوگا؛ بلکہ یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ دشواری راستے کا آخری نقطہ نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:سیرتِ نبویؐ میں معیشت کے حوالے سے جامع معلومات اور رہنمائی ملتی ہے
اس سورہ کا اختتامی رخ بھی قابلِ غور ہے۔ جب ایک کام سے فراغت ہو تو دوسرے کام میں محنت کرو، اور اپنے رب ہی کی طرف متوجہ رہو۔ گویا قرآن کی امید انسان کو بے عملی نہیں سکھاتی۔ صرف یہ سوچ کر بیٹھ جانا کہ حالات خود بدل جائیں گے، اس پیغام کا مقصود نہیں۔ امید کے ساتھ حرکت، توکل کے ساتھ کوشش اور دعا کے ساتھ جدوجہد، یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو مایوسی کے جمود سے نکالتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اس سورہ کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے الفاظ صدیوں کا فاصلہ طے کرکے آج ہمارے دل کے دروازے پر آ کھڑے ہوئے ہوں۔ جیسے کوئی ہم سے کہہ رہا ہو: تمہارا بوجھ میں جانتا ہوں، تمہاری تنگی مجھ سے پوشیدہ نہیں، تم جس مقام کو آخری سمجھ رہے ہو وہ آخری مقام نہیں۔ ابھی راستے باقی ہیں، ابھی امکانات باقی ہیں، ابھی رب کی رحمت باقی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جب وقت کا ’رستم‘ حیران رہ جاتا ہے!
سورۂ الشرح آج بھی اتنی زندہ محسوس ہوتی ہے کہ اس میں صرف ایک زمانے کے انسان کیلئے تسلی نہیں، بلکہ انسان کی کمزوری اور اللہ کی رحمت کے درمیان ایک ایسا تعلق بیان ہوا ہے جو ہر زمانے میں باقی رہتا ہے۔ اس تعلق کو محسوس کرنا چاہئے۔ جب سینہ تنگ ہو، بوجھ بھاری ہو، راستہ دھندلا ہو اور امید کمزور پڑنے لگے، تب ان الفاظ کو صرف پڑھنے کے بجائے دل سے سننے کی ضرورت ہے: ’’سو بے شک، ہر دشواری کے ساتھ آسانی (آتی) ہے، یقیناً (اس) دشواری کے ساتھ آسانی (بھی) ہے۔‘‘
شاید آسانی ابھی ہماری نظر سے اوجھل ہو، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اللہ کی تدبیر سے بھی اوجھل ہے۔ شاید آج کی رات لمبی ہے، مگر صبح کا وعدہ باقی ہے۔ شاید آج قدم تھکے ہوئے ہیں، مگر سفر ختم نہیں ہوا۔ زندگی کے بعض ابواب آنسوؤں سے لکھے جاتے ہیں، مگر پوری کتاب کا اختتام آنسو نہیں ہوتا۔ بس انسان کو اس وقت تک قائم رہنا ہوتا ہے جب تک اللہ اس کے لئے وہ صفحہ نہ کھول دے جس پر لکھا ہو: جس مشکل کو تم آخری سمجھ رہے تھے جان لو کہ وہ درحقیقت ایک نئی آسانی کی تمہید تھی۔
ایک قابلِ غور نکتہ!
قرآن یہ نہیں کہتا کہ مشکل گزرنے کے بعد ہی آسانی آئے گی، بلکہ کہتا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اس فرق میں امید کا ایک پورا جہان پوشیدہ ہے۔ انسان اکثر سمجھتا ہے کہ جب تک مسئلہ ختم نہیں ہوگا، اس وقت تک سکون ممکن نہیں؛ لیکن قرآن اسے بتاتا ہے کہ اللہ کی تدبیر صرف مسئلے کے خاتمے میں نہیں، خود مسئلے کے اندر بھی کسی آسانی کو رکھ سکتی ہے۔ کبھی مشکل انسان کو ایک حقیقت دکھاتی ہے، کبھی کسی غلط سہارے سے آزاد کرتی ہے، کبھی کسی نئے راستے پر لے جاتی ہے اور کبھی اس کے اندر وہ قوت پیدا کرتی ہے جس کا اسے پہلے خود بھی علم نہیں ہوتا۔