امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج پرسوشل میڈیا صارفین نے پر مزاح میمز اور طنزیہ تبصروں سے امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی پارٹی ’ری پبلکن‘ کی درگت بنادی۔
EPAPER
Updated: November 05, 2026, 2:14 PM IST | Azhar Mirza | Mumbai
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج پرسوشل میڈیا صارفین نے پر مزاح میمز اور طنزیہ تبصروں سے امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی پارٹی ’ری پبلکن‘ کی درگت بنادی۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے سوشل میڈیا کے گلیاروںمیں ہلچل بڑھادی ہے۔نیٹیزنس نے ٹرمپ اور ان کی پارٹی ری پبلکن کی ایسی ’روسٹنگ‘کی ہے کہ ہر تبصرہ نہلے پہ دہلا معلوم ہورہا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ایک طرف شدت پسند ایکس صارفین بوکھلاکر اوٹ پٹانگ اور نفرت انگیز تبصرے کررہے ہیںدوسری طرف سیکولراور انصاف پسند انہیں جیسے کو تیسا جواب دے کر مزید طیش دلارہے ہیں۔ یہ سلسلہ منگل کی شب ابتدائی نتائج آتے ہی شروع ہوگیا تھا۔ طنزو مزاح اور کاٹ دار تبصروں کیلئے مشہور ’گاڈ‘ نامی ایکس اکاؤنٹ نےری پبلکن پارٹی کے جھنڈے کے سرخ رنگ کے تناظر میں تبصرہ کیا کہ ’’ آج رات کوئی چیز سرخ ہورہی ہے تو وہ فقط ٹرمپ کا چہرہ ہے۔‘‘ نِکی رُڈ نے لکھا کہ ’’الیکشن ہارنا ہو تو ایران کےساتھ جنگ کرلیں۔‘‘ لیام نِسان یوں رقمطراز ہوئے کہ ’’ٹرمپ ، ایران میں رِجیم چینج (حکومت بدلنے )میں ناکام ہوگئے لیکن ٹیکساس میں کامیاب ہوگئے۔‘‘کووی نامی صارف نے لکھا کہ ’’ پیٹ ہیگسیتھ چاہتےتھے کہ لوگ سزائے موت کو سرعام دیکھیں، لیجئے آج رات سب دیکھ رہے ہیں۔‘‘
ڈیموکریٹ کے ہمنوا صارف ’دی گرین ڈریگن ٹویرن‘ نے لکھا کہ ’’ پوری ڈیموکریٹک پارٹی کو ظہران ممدانی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ امریکی سیاست کے منظرنامہ پر ان کے ابھرنے سے پہلے تک (ڈیموکریٹک ) پارٹی بے سمتی کا شکار تھی۔ ہم نے اپنی راہ کھودی تھی، ہمارا اعتماد ڈانوا ڈول تھا، ہم نے ورکنگ کلاس کو بیچ منجدھار چھوڑدیا تھا، اس کا نتیجہ تھاکہ ووٹروں نے بھی ہمارا ساتھ چھوڑدیا ۔ ظہران نے ہمیں دوبارہ پوری توانائی ،یقین اور اعتماد کے ساتھ لوگوں سے جوڑنے کا کام کیا ، آج ہم جہاں ہیں وہ ظہران ممدانی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔‘‘ کواش نجفی نے لکھا کہ ’’لگتا ہے کہ ایران جنگ نے بالآخر رِجیم چینج کردیا۔‘‘ رون شِل مین نے شرارتاً ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ ’’ٹرمپ کو چاہئے کہ وہ ایپسٹین فائلز کےبقیہ حصے بھی جاری کردیں تاکہ انتخابی نتائج پر سے سب کی توجہ ہٹ جائے۔‘‘ یامنا سید نے طنزکیا کہ’’ وہ ایران میں رِجیم چینج کرنا چاہتے تھے لیکن یہ امریکہ اور اسرائیل میں ہوگیا‘‘ سلیمان احمد نے لکھا ’’ٹرمپ نے اسرائیل کے لئے ری پبلکن پارٹی کو بلی کا بکرا بنادیا۔‘‘ اِسنیکو نےنیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی فتح کی اہمیت کویوں باور کرایا کہ ’’ممدانی رِجیم نے امریکہ کو چینج کر دیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل معلق، یاہو ہونق
امریکہ میں دائیں بازو کی نفرت انگیز آواز سمجھی جانے والی صحافی لارا لُومر نے شوشہ چھوڑا کہ ’’امید ہے کہ سبھی عربی سیکھ رہے ہوں گے‘‘ انہیں معروف امریکی صحافی مہدی حسن نے جواب دیا کہ’’ان شاء اللہ‘‘ تاہم الیکس (فولی وولی ) نامی صارف نے لارا کی بدمعاشی کو بھانپتے ہوئے ان سے کہا کہ ’’میرے ساتھ دہرائیے : اشہدان لا الٰہ الا اللہ .... ‘‘ سوشل میڈیا پر نفرت انگیزکونٹینٹ پھیلانے والی انفلوینسر ویلنٹینا گومیز نے زہرافشانی کی کہ ’’ٹرمپ کامواخذہ جلد ہی ہوگا۔ وینس صدر نہیں بنیں گے۔ مسلمان ٹیکساس پر قبضہ کرلیں گے۔ مشکل وقت آرہا ہے۔‘‘ ٹرمپ کی ہار سے بوکھلا ئے وہاں کے ایک گودی اینکر جوئے منارینو نے لکھا کہ’’ایسا لگتاہے کہ ڈیموکریٹ کو ووٹ دینے والے بیشتر لوگ امریکہ سے محبت سے زیادہ اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں، یہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ ہم اپنے ملک کی باگ ڈور مسلمانوں کے ہاتھ سونپ رہے ہیں، کیونکہ آپ ٹرمپ کو اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ جب مسلمان آپ کی گردن اڑائیں گے تب آپ کو احساس ہوگا؟ ‘‘منارینو کی یہ تلملاہٹ ایک اور ایکس پوسٹ میں یوں آئی کہ ’’اس وقت سب سےزیادہ خوشی حماس منارہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سوال: کون راہل؟، جواب: رام لیلا والا، سمجھے؟
ہندوستانی ایکس حلقوں میں بھی ٹرمپ کی رسوائی کے چرچے ہیں۔ تشار گاندھی نے ٹرمپ کی انتخابی خواری پر ہندوستانی سیاق و سباق میں طنزاً لکھا کہ ’’ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات کی ذمہ داری گیانو کو سونپنی چاہئے تھی۔‘‘ صحافی اوما شنکر سنگھ نے معصومانہ انداز میں سوال پوچھا کہ ’’ٹرمپ کیلئے کہیں ہون پوجن ہورہا ہے کہ نہیں؟‘‘پروفیسر ڈاکٹر کفیل خان نے مذاقاً لکھا’’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘‘ سندیپ مانودھنے نےتبصرہ کیا کہ’ ’ایران میں حکومت کی تبدیلی کا عمل ہولناک انداز میں ایک ایسی تحریک میں تبدیل ہو گیا ہے، جو برازیل، امریکہ، سربیا، البانیہ، یوکرین، اسرائیل اور شاید پورے خلیج تعاون کونسل میں بھی حکومتوں کی تبدیلی یا انتہائی دائیں بازو کی قوتوں کی مکمل تباہی کا سبب بن سکتی ہے!‘‘اور ایران آج بھی وہیں کھڑا ہے، جہاں پہلے تھا۔‘‘ پرینکا ککڑ نے لکھا کہ ’’آج پوٹس(پریسڈنٹ آف یو ایس ) کل لوٹس‘‘ شیرین نے لکھا کہ ’’پیارے امریکیو! آپ کی تباہی کا ذمہ دار ایران نہیں، اسرائیل ہے۔‘‘
معروف ہندوستانی مصنف ٹونی جوزف نے لکھا کہ ’’امریکہ ، سربیا، ہنگری، برازیل میں دائیں بازو کا بخاراترگیا ہے۔امید کرتے ہیں کہ بحالی کا یہ عمل دنیا بھر میں ہوتا رہے گا۔‘‘
نریندر ناتھ مشرا نے لکھا کہ’’امریکہ میں ٹرمپ مخالف آندھی میں ووِیک راما سوامی کی بھی ہار۔ بھلے ہی ہندنژاد ہیں، لیکن بہت اینٹھن میں رہتے تھے۔‘‘ ترون گوتم نے لکھا کہ ’’دنیابھر میں دائیں بازو کا زوال شروع ہوچکا ہے، انتظارکیجئےاور تماشادیکھئے۔‘‘
جینل این گالا نے لکھا کہ ’’دنیا بدل رہی ہے، امریکہ سے برازیل سے تک، ہنگری سے سربیا تک۔ عوام نفرت کی سیاست کو مسترد کررہے ہیں۔ یہ شدت پسندی کا بخار اب اُتررہا ہے۔ دُنیا ٹھیک ہورہی ہے اور ہندوستان اپنی محبت ، سمویشٹھا اور سمودھان کی طاقت سے اس ریکوری کو سمت دے گا۔ہندوستان پلیورل ازم کا اصل آئیڈیا ہے، اب ہماری باری ہے کہ ہم دنیا کو اتحاد کی طاقت اورکمپیشنیٹ ڈیموکریسی دکھائیں۔‘‘