موجودہ صدر کی پالیسیاں وہ نہیں ہیں جن سے امریکہ، امریکہ بنا۔ یہ وہ ملک ہے جس نے بیرونی لوگوں کا خیرمقدم کرکے اپنی ترقی کو یقینی بنایا۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 11:45 AM IST | Mumbai
موجودہ صدر کی پالیسیاں وہ نہیں ہیں جن سے امریکہ، امریکہ بنا۔ یہ وہ ملک ہے جس نے بیرونی لوگوں کا خیرمقدم کرکے اپنی ترقی کو یقینی بنایا۔
امریکہ کے بارے میں ایسا بہت کچھ ہے جس کی ستائش کی جاتی ہے۔ اور ایسا بھی بہت کچھ ہے جسے ناپسند کیا جاتا ہے۔ جس چیز کی سب سے زیادہ ستائش کی جاتی ہے وہ اس کا دُنیا بھر کے باصلاحیت لوگوں کیلئے پُرکشش ہونا اور اُنہیں اپنے ہاں موقع دینا ہے۔ امریکی آبادی کا ۱۵؍ فیصد ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو غیر ملکی نژاد ہیں۔ ان میں ۵۰؍ لاکھ ہندوستانی بھی ہیں۔ یہ اس کا بڑا اثاثہ ہے۔ ایک ملک، مثلاً ہندوستان، ایک بچے کی غذا پر، اس کے تحفظ پر، اس کی پڑھائی لکھائی اور کپڑے لتے پر خرچ کرتا ہے۔ وہ بچہ سرکاری اداروں میں تعلیم حاصل کرتا ہے جنہیں حکومت نے رعایت (سبسیڈی) دے رکھی ہے، لیکن وہی بچہ عمر کی ۲۰؍ ویں منزل پار کرنے کے بعد امریکہ چلا جاتا ہے جسے امریکی ادارے جیسے مائیکروسافٹ، گوگل، ٹیسلا یا امریکی یونیورسٹیاں ملازمت دے کر اُن کی خدمات سے مستفید ہوتی ہیں۔ اس مثال سے کیا سمجھ میں آتا ہے؟ افراد کی نشوونما اور اُن کی صلاحیت و قابلیت نکھارنے کیلئے خرچ یہاں کیا جاتا ہے مگر اس کا فائدہ غیر ملک (مثلاً امریکہ) نے اُٹھایا۔
یہ بھی پڑھئے: معاہدہ ہو یا نہ ہو، بے عزتی ہرگز نہ ہو!
دیگر ملکوں کے لوگوں کو موقع دینے اور اُن سے استفادہ کرنے کی یہ صلاحیت امریکہ کے علاوہ یورپ میں بھی دکھائی دیتی ہے لیکن چین اور ہندوستان جیسے ملکوں میں نہیں ہے۔ ہم اگر اپنی ہی بات کریں تو حقیقت یہ ہے کہ ہم غیر ملکی صلاحیتوں کیلئے کشش رکھتے ہیں نہ ہی اُنہیں یہاں بلانا چاہتے ہیں۔ اگر ہم ایماندار ہیں تو ایمانداروں میں جو باہر جانا چاہتے ہیں اور انہیں موقع ملتا ہے وہ بلاتامل باہر چلے جاتے ہیں۔ اعدادوشمار اس کی توثیق کرتے ہیں۔ مگر، امریکہ نے تیور بدل لئے اور اب وہ بیرونی صلاحیتوں کو اپنے یہاں موقع دینے کا سلسلہ ختم کررہا ہے، بھلے ہی تارکین وطن کو تلاش کرنے کی مہم کے دوران اس کے اپنے شہریوں کی ہلاکت ہوجائے۔ جو لوگ دیگر ملکوں سے امریکہ گئے، اُنہیں امریکی حکومت کا یہ طرز عمل ناگوار گزر رہا ہے۔
یہ بھی پرھئے: سیاست میں نظریہ اور نظریہ میں سیاست
دوسری طرف، جو لوگ بالخصوص دوسری جنگ عظیم کے بعد کے امریکی طور طریقوں سے واقف ہیں، اُنہیں یہ طور طریقے بالکل پسند نہیں ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ نے یگر ملکوں جیسے ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکی ملکوں حتیٰ کہ یورپ کے بھی لاکھوں لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ۱۹۵۰ء کی دہائی میں ہوئی جنگ ِ کوریا سے لے کر ۱۹۹۰ء کی سربیا میں ہونے والی جنگ تک امریکہ کا یہی طرز عمل رہا ہے جسے نائن الیون کے بعد کے حالات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وینزوئیلا، قدرتی وسائل اور امریکہ کی حریصانہ نگاہ
مگر یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ ایسے طور طریقے اپنا رہا ہے جن کی وجہ سے اس کے اچھے کاموں پر بھی پانی پھر رہا ہے۔ اس کے برخلاف جن باتوں کی وجہ سے اُسے ناپسندیدہ قرار دیا جاتا تھا اُن میں اضافہ ہورہا ہے۔ تارکین وطن کیلئے امریکی دروازے بند کرکے امریکہ کسی اور سے زیادہ خود اپنا نقصان کررہا ہے۔امریکہ میں ایچ وَن بی ویزا کے حامل ہندوستانی تارکین وطن کافی زیادہ ہیں۔ تعداد کم و بیش تمام ہندوستانی تارکین وطن کا دو تہائی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ لوگ ہندوستان میں نہیں رہنا چاہتے مگر امریکہ پر بوجھ نہیں ہیں۔ یہ اس کی معیشت کو اپنی خدمات کے ذریعہ فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ رہی بات اُن لوگوں کی جو غیر قانونی طور پر امریکہ میں ہیں، وہ اس لئے وہاں گئے ہیں کہ اپنی محنت کا لوہا منوا سکیں۔ ان تمام لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور نئے لوگوں کی آمد پر پابندی لگانا امریکہ کے حق میں فائدہ مند ہرگز نہیں ہے۔ پچھلے سال سے اب تک امریکہ میں تارکین وطن پر حملوں کے سبب بے روزگاری بڑھی ہے کیونکہ ایک بڑی معیشت میں جب کام کرنے والوں پر حملے ہوتے ہیں تو اس سے معیشت کو نقصان ہوتا ہے۔ جس خوبی کیلئے امریکہ کی ستائش کی جاتی تھی، امریکہ خود اُسے ختم کررہا ہے۔
جن امریکی اقدامات کو ناپسند کیا جارہا ہے اُن میں سے ایک اس کا آمرانہ طرز عمل ہے جس کے ذریعہ وہ غیر ملکوں میں تشدد سے بھی گریز نہیں کررہا ہے۔ وینزویلا میں جو ہوا اس کی خبریں چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔وینزویلا میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران کئی درجن لوگ مارے گئے مگر ذرائع ابلاغ میں اس سلسلے کی خبروں کو جگہ نہیں ملی۔ ان لوگوں سے ہمدردی کا اظہار بھی نہیں کیا گیا۔ایران پر بمباری اور دیگر ملکوں پر حملے کیلئے اسرائیل کی پشت پناہی نے بھی امریکہ کو ناپسندیدہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹرمپ کے دور میں حلیفوں کے خلاف بھی سخت تیور اور جارحانہ رُخ اپنانے کی مثال قائم ہوئی ہے۔ وہ کنیڈا، گرین لینڈ اور پناما پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ بے چارے یورپی جو نسلی بنیادوں پر امریکہ سے قربت محسوس کرتے تھے پریشان ہیں کہ اس امریکی طرز عمل کے خلاف کچھ کہیں تو کیا کہیں۔ وہ چوکنا ہیں مگر ٹرمپ نے اپنے بحری جہازوں کو گرین لینڈ بھیج دیا تو وہ کیا کرلیں گے؟
یہ بھی پڑھئے: دہلی فساد کیس میں ضمانت اور ’’ناضمانت‘‘
جاپان اور کوریا جو سلامتی اور تجارتی اُمور میں امریکہ کے شراکت دار اور کئی دہائیوں سے حلیف ہیں، تجارتی معاہدوں میں خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ خود ہندوستان حیران ہے جس نے امریکہ سے دوستی بڑھانے میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس میں شک نہیں کہ ہماری حکومت نے ٹرمپ کے ساتھ تجارتی اُمور طے کرنے میں جتنی مہارت درکار تھی اس سے کام نہیں لیا مگر یہ اس مضمون کا موضوع نہیں ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ خود کو کتنا نقصان پہنچا رہا ہے۔ دُنیا کی عظیم حکومتیں مختصر وقت میں بے اثر نہیں ہوئیں۔ روم کا زوال چند مہینوں یا چند برسوں میں نہیں آیا۔ اس کیلئے طویل مدت درکار ہوئی۔ مگر، عہد ِ جدید میں سب کچھ بہت تیزی کے ساتھ ہونے لگا ہے۔ دہلی میں برطانیہ کا دبدبہ ۱۹۱۱ء میں کچھ اور تھا اور ۱۹۴۵ء میں کچھ ہو گیا۔ اس کا سورج ڈھلنے لگا۔ ہفتوں میں سوویت یونین تحلیل ہوگیا مگر ان میں سے کوئی ملک ایسا نہیں تھا جس نے خود کو نقصان پہنچایا ہو جیساکہ امریکہ کررہا ہے۔ ٹرمپ بیرونی ملکوں کی اُن صلاحیتوں کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں جن سے امریکہ کو بہت فائدہ ہوا مگر ٹرمپ فائدے کے دروازے بند کرکے اپنے ہی ملک کے زوال کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ اس صورت حال سے امریکہ کو پسند کرنے والے رنجیدہ ہیں مگر امریکہ کو پسند نہ کرنے والے مطمئن ہیں کہ جو ہورہا ہے ٹھیک ہورہا ہے۔