اعلیٰ تعلیمی اداروں میںذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو روکنے کیلئے پہلےضوابط متعارف کرانا اور پھر سپریم کورٹ میں ان کی کمزور پیروی کرکےان پرروک لگنے دینا ،کیا یہ ’باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی‘جیسی سیاسی چال نہیں معلوم ہوتی۔
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 4:59 PM IST | Asim Jalal | Mumbai
اعلیٰ تعلیمی اداروں میںذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو روکنے کیلئے پہلےضوابط متعارف کرانا اور پھر سپریم کورٹ میں ان کی کمزور پیروی کرکےان پرروک لگنے دینا ،کیا یہ ’باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی‘جیسی سیاسی چال نہیں معلوم ہوتی۔
مودی سرکار میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میںتمام طلبہ کیلئے مساوات کو یقینی بنانے اور بطور خاص درج فہرست ذات وقبائل نیز اوبی سی طلبہ کو امتیازی سلوک سے محفوظ رکھنےکیلئے یو جی سی کے نئے ضوابط نےجتنا حیران کیا اتنا ہی حیران کن سپریم کورٹ کا پہلی ہی سماعت میں اس پر روک لگا دینا بھی ہے۔ ایسا لگ رہاتھا کہ یہ معاملہ مودی سرکار کیلئے ’’سانپ کے منہ میں چھچھوندر‘‘ جیسی کیفیت پیدا کر دےگاکہ اگر واپس نہ لیا تو اعلیٰ ذاتیں ناراض ہوںگی اور واپس لیا تو وہ طبقات سراپا احتجاج ہوں گے جنہیں تحفظ فراہم کرنے کا نظم مذکورہ ضوابط میں کیاگیاہے۔ مگر سپریم کورٹ کافیصلہ مودی سرکار کے ’’سنکٹ موچن‘‘ کا ذریعہ بن گیا۔ عدالت نے ضوابط کےغلط استعمال کے اندیشے کے پیش نظر داخل کی گئی عرضی پر ان ضوابط کے نفاذ پر یہ کہتے ہوئے روک لگا دی کہ ’’اگر ہم نے مداخلت نہ کی تواس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں،معاشرہ تقسیم ہوگا اور اس کے بھیانک اثرات مرتب ہوںگے۔‘‘ اس طرح مودی سرکار کیلئے بڑی آسانی سے ’’باغباں بھی خوش رہے، راضی رہے صیاد بھی‘‘ جیسی کیفیت پیدا ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:بین المذاہب ہم آہنگی، برادران وطن سے مکالمہ اور مزید بہتری کے امکانات
خود کو ’’سوَرن‘‘ کہلانےوالے طبقہ کو اندیشہ تھا کہ اگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ ’’ اعلیٰ ذاتوں ‘‘کے ساتھ نااضافی ہوگی۔ انہیں لگ رہاتھا کہ اُن پر جھوٹے الزامات عائد کرکے درج فہرست ذات وقبائل کے طلبہ انہیں پھنسانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس طرح الٹا وہ خود امتیازی سلوک کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کے اس اندیشے کی وجہ یہ تھی کہ ان ضوابط کے تحت شکایات کے ازالے کیلئے بنائی جانے والی کمیٹیوں میں نمائندگی آبادی کے تناسب سے دی گئی تھی۔ یعنی درج فہرست ذات وقبائل اور او بی سی کے نمائندے مذکورہ کمیٹی میں ملک میں اپنی آبادی کے تناسب سے جگہ پاتے اور اعلیٰ ذات کے نمائندوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے جگہ ملتی۔ اس کو اس طرح سمجھیں کہ تمام اہم عہدوں، شعبوں اور اداروں میں سب سے زیادہ نظر آنے والی اعلیٰ ذاتوں یعنی ’سوَرن‘ ہندوؤں کا تناسب ملک کی آبادی میں ۱۴؍ سے ۲۰؍ فیصد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ او بی سی ملک کی آبادی کا ۴۱؍ سے ۴۵؍فیصد، درج فہرست ذاتیں۱۷؍ سے ۲۳؍ فیصد اور درج فہرست قبائل ۹؍فیصد کے آس پاس ہیں۔ اس لحاظ سے یہ فطری تھا کہ کمیٹیوں میں نمائندگی ایس سی،ایس ٹی اور اوبی سی کی ہوتی اور ’سوَرنوں‘ کو اندیشہ تھا کہ اس صورت میں امتیازی سلوک کی شکایت پر کمیٹی کی رائے ملزم بنائے گئے اعلیٰ ذات کے طلبہ کے خلاف ہی ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ ذاتوں نے تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ کی اس کوشش کی پرزور مخالفت شروع کردی۔ وزیراعظم مودی کیلئے ’’قبر کھدے گی‘‘ کے نعرے بلند ہونے لگے اور باقاعدہ حلف لیتے ہوئے ویڈیو شیئر کئے جانے لگے کہ جب تک حکومت یو جی سی کے نئے ضوابط کو واپس نہیں لے لیتی، تب تک بی جےپی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ایسا لگ رہاتھا کہ یہ تحریک منڈل کمیشن جیسی تحریک کی شکل اختیار کرلے گی مگر پھر اچانک معاملہ سپریم کورٹ پہنچا اور پہلی ہی سماعت میں سپریم کورٹ نے ضوابط کے غلط استعمال کے اعلیٰ ذات کے اندیشوں کوتسلیم کرلیا اور روک لگادی۔
یہ بھی پڑھئے: خدمت خلق کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھنے والے بلندعزائم رکھنےوالوں کا ایک گروپ
ا لبتہ ایک بڑا حلقہ یہ سوال ضرور کررہاہے کہ غلط استعمال تو یو اے پی اے کا بھی ہو رہاہے، جوخود ایک سے زائد عدالتی فیصلوں سے ظاہر ہوچکا ہے، جہیز مخالف قوانین کا استحصال اظہر من الشمس ہے، عدالتی فیصلے ہی اس کے گواہ ہیں، ای ڈی جس طرح منی لانڈرنگ مخالف قانون کا استعمال کررہی اس پر خود عدالتیں کئی بار سرزنش کرچکی ہیں، تو کیا ان قوانین اور قوانین کے تحت بننے والےضوابط پر بھی روک لگائی جاسکتی ہے؟ اس بات کی بھی نشاندہی کی جارہی ہے کہ ’’شہریت ترمیمی ایکٹ‘‘ جس کے تحت مسلمان شہریت حاصل نہیں کرسکتے اور اس طرح جو قانون فی نفسہٖ امتیاز برتنے والا ہے، اس پر روک نہیں لگائی گئی اور جن ضوابط کا مقصد ’’امتیاز‘‘ کا خاتمہ ہے ،ان پر روک لگادی گئی۔ مودی سرکار کے ذریعہ پاس کئے گئے ’وقف ترمیمی ایکٹ‘ کے تعلق سے بھی سپریم کورٹ میں اندیشوں کا اظہار کیاگیا مگر عدالت نے پورے قانون پر روک نہیں لگائی۔ شاید اس لئے کہ سی اے اے ا ور وقف ترمیمی ایکٹ یا اس طرح کے دیگر معاملات میں مودی سرکار نے جس شدت سے سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کیا تھا،اس شدت سے یو جی سی کے ضوابط کے معاملے میں نہیں کیاگیا۔
یہ بھی پڑھئے: نصاب کے ذریعے معصوم ذہنوں پر فرقہ پرستی کی کاشت کاری : ہم کتنے تیار ہیں؟
اسی لئے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ مودی حکومت اپنے وضع کردہ ضوابط کا سپریم کورٹ میں دفاع کرنے میں ناکام رہی یا کمزور پیروی کر کےجان بوجھ کر ناکام ہوئی؟ ایک رائے یہ ہے کہ سب کچھ منصوبہ بند تھا۔ یعنی ضوابط وضع کرکے آئندہ سال ۲۰۲۷ء میں یوپی کے اسمبلی الیکشن میں اور پھر ۲۰۲۹ء کے پارلیمانی الیکشن میں وزیراعظم مودی کو ’دلتوں کا مسیحا‘ بنا کر پیش کرنے کیلئے ضوابط وضع اور نافذ کئے گئے اور پھر سپریم کورٹ میں کمزور پیروی کے ذریعہ ان کے نفاذ پر روک بھی لگ جانے دی گئی ۔اس طرح دلتوں کو یہ تاثر دیاجائے کہ حکومت نے تو ضوابط وضع کردیئے تھے مگرعدالت نے روک لگادی جس پرحکومت کا کوئی زور نہیں۔ ایسے وقت میں جبکہ اتر پردیش میں اکھلیش یادو کے’پی ڈی اے‘ (پچھڑا دلت اور اقلیتیں) اور قومی سطح پر راہل گاندھی کی سماجی انصاف کی سیاست اسمبلی اور پارلیمانی الیکشن میں دلت ووٹروں کو اُن کی جانب متوجہ کرسکتی تھی،یوجی سی ضوابط کے تحت ہلچل پیدا کرکے وزیراعظم مودی کو دلتوں کا سب سے بڑا خیر خواہ بنا کر پیش کیاگیاہے۔ اس لئے تجریہ نگاروں اور ناقدین کے ایک حلقے کی یہ رائے توجہ طلب ہے کہ یو جی سی کے یہ ضوابط دراصل راہل گاندھی کے ’’سماجی انصاف‘‘ کے نعرہ کو بے اثر کرنے اور خود(مودی) کو دلتوں اور پسماندہ طبقات کا سب سے بڑا محافظ بنا کر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ زعفرانی پارٹی کو امید ہے کہ احتجاج، مخالفت اور کیمپس میں بے چینی کےبعد سپریم کورٹ کی روک سے جہاں اعلیٰ ذاتوں کے ووٹ اس کے حق میں محفوظ رہیں گے وہیں ، دلتوں کی ’’مسیحائی‘‘ کی و جہ سے وہ دلت ووٹ جنہوں نے بی جے پی کو اقتدار تک پہنچانے اور اس پر بنے رہنے میں اہم رول ادا کیا ہے،اس سے دور نہیں جائیں گے اوراس طرح ۲۰۲۷ء میں یوپی اور ۲۰۲۹ء میں دہلی پر قبضہ برقرار رہ پائےگا۔