ایک ایسے دور میں جہاں صلاحیتوں کو پرکھنے کا معیاربدل گیا ہو، نفسانفسی کا عالم ہو، جہاں دوسروں کو گرا کر آگے بڑھنے اور ان کی گردنوں پر پیر رکھ کر اپنا قد بلند کرنے کو فن اور ہنرسمجھا جاتا ہو،اسی دور میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو دوسروں کیلئے جیتے ہیں اور خدمت خلق کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔
ایک ایسے دور میں جہاں صلاحیتوں کو پرکھنے کا معیاربدل گیا ہو، نفسانفسی کا عالم ہو، جہاں دوسروں کو گرا کر آگے بڑھنے اور ان کی گردنوں پر پیر رکھ کر اپنا قد بلند کرنے کو فن اور ہنرسمجھا جاتا ہو،اسی دور میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو دوسروں کیلئے جیتے ہیں اور خدمت خلق کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ یہ کام انفرادی تو کچھ لوگ اجتماعی طور پر کرتے ہیں اور اس کیلئے تنظیم، سوسائٹی اور ٹرسٹ بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جس کی لاٹھی اس کی بھینس !کیا آج ہی کیلئے یہ کہاوت بنائی گئی تھی؟
ممبئی کے مدن پورہ میں رہنے والے سفیان انصاری کا شمار بھی انہیں لوگوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے۲۰۰۱ء میںانفرادی طورپر سماجی خدمت کا بیڑا اُٹھایا تھا جو آج اجتماعی صورت اختیار کرکے ’فرسٹ ہیلپ چیریٹیبل ٹرسٹ‘ کے نام سےمشہور ہوچکا ہے۔۱۸؍ سال تک تنہا سماجی خدمت انجام دینے کے بعدجب ان کے کام کا دائرہ بڑھنے لگا تو انہیں وہ مشہور افریقی کہاوت یاد آئی کہ ’’اگر تمہیں تیز چلنا ہے تو تنہا چلو لیکن اگرتمہیں دور تک جانا ہے تو ساتھ میں چلو‘‘ اسلئے انہوں نے ۲۰۱۹ء میں اپنے ادارے کا رجسٹریشن کروایا۔ادارہ رجسٹرڈ ہونے تک بھی سفیان تنہا تھے لیکن پھر معروف فوٹو گرافر عبید خان، مشہور صحافی امتیاز خلیل ، سماجی خدمت کار شبینہ چودھری اور سفیان انصاری کی اہلیہ رمیزہ انصاری نے بھی ان کے ہاتھ سے ہاتھ ملایا اور اس طرح ’ ’لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔‘‘
’فرسٹ ہیلپ چیریٹیبل ٹرسٹ‘ فی الوقت ۶؍ بڑے محاذ کے ساتھ ہی کئی چھوٹے موٹے اوروقتی شعبوں میں کام کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتےمہاراشٹر کے بیشتر اخبارات نے اجیت پوار کی ناگہانی موت کو موضوع بنایا
طبی مدد کی فراہمی:
اس کے تحت مریضوں کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ اس کیلئے کئی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی مدد کیلئے اسٹاف تعینات کئے گئے ہیں جو انہیں فارم بھرنے سے لے کرڈاکٹروں تک پہنچانے اور تشخیص کرانے تک ان کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی غریب مریضوں کی مالی مدد کچھ اپنی جانب سے اور کچھ دوسرے ٹرسٹ اور خیرخواہوں کے ذریعہ کرائی جاتی ہے۔ سرکاری اسکیموں سے فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے اور میڈیکل کیمپوں کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۴ء میں ۳۳۶؍ مریضوں کو ٹرسٹ کی جانب سے ۴۱؍ لاکھ روپوں سے زائد کی مدد کی گئی جبکہ سرکاری اسکیموں اور دیگر مخیر حضرات کی مدد سے ۴۰۰؍ مریضوں کی ہارٹ سرجری میں تقریباً ساڑھے ۸؍ کروڑ روپے کی بچت کرانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ اسی طرح سال بھر میں ۶؍ ہزار سے زائد مریضوں کی رہنمائی کی گئی۔
راشن کٹ کی تقسیم:
ترقی کے اس دور میں بھی ہمارے آس پاس ایسے کئی گھر ہوتے ہیں جہاں دو وقت کے کھانوں کا انتظام نہیں ہوپاتا۔ ٹرسٹ کے ذمہ داران اپنے طور پر اور اپنے بہی خواہوں کی مدد سے پہلے اس طرح کے گھروں کا پتہ لگاتے ہیں اور پھر انہیں نہایت خاموشی سے طے شدہ وقت پر ہر ماہ راشن کے کٹ پہنچاتے ہیں جن میں چاول، آٹا، تیل، شکر، دال، نمک، مسالہ اور چائےپتی ہوتی ہے۔ فی الحال عام دنوں میں۳۱۰؍ اور رمضان میں ایک ہزار گھروں کو راشن فراہم کئے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دوسروں کی زندگیوں میں روشنی بکھیرنے کیلئے کوشاں نابینا حضرات
کھانوں کے پیکٹ کی تقسیم:
کھانوں کے پیکٹ کی تقسیم کا یہ سلسلہ لاک ڈا ؤن کے دوران شروع کیا گیاتھا لیکن اسے بند نہیں کیا گیاکیونکہ اس دوران ایسے کئی لوگوں سے سابقہ پڑا جنہیں دیکھ کر یہ محسوس ہوا کہ انہیں مناسب مقدار میں کھانا بالخصوص غذائیت سے بھرپور کھانا نہیں مل پاتا ہے۔ اسلئے یہ سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔اس کی وجہ سے اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں اور ان کے تیمار داروں کو کافی سہولت ہوتی ہے۔ فی الحال بائیکلہ اور ممبئی سینٹرل کے درمیان یومیہ ۵۰۰؍ پیکٹ کھانے تقسیم کئے جاتے ہیں۔
گونگے بہرے بچوں کی تعلیم اور روزگار:
اللہ تعالیٰ اگر کسی کو کسی صلاحیت سے محروم کرتا ہے تو اسے کئی دوسری صلاحیتیں ودیعت بھی کرتا ہے۔ایسے ہی گونگے بہرے بچے بھی ہیں جن کے پاس بے پناہ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ انہیں صلاحیتوں کو پہنچاننے، انہیں نکھارنے اور ان بچوں کو اس قابل بنانے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں، اس ٹرسٹ نے ایک کوشش کی ہے۔ اس کوشش کا آغاز ۲۰۱۵ء میںاس ٹرسٹ کی ایک رکن شبینہ چودھری نے انفرادی طور پرشروع کیا تھا جن کے اپنے چار بھائی گونگے بہرے ہیں۔ شبینہ نے اپنے بھائیوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے انہیں تعلیم دینے کی خاطر پہلے خود تربیت حاصل کی اور پھر اس تربیت سے سماج کوفائدہ پہنچانے کیلئے ۵؍ بچوں کے ساتھ ایک کلاس شروع کی جو آج ۳۰۰؍ سے زائد بچوں پر مشتمل ہے۔ اب ان کی گونگے بہرے بچوں کی یہ کلاس ’فرسٹ ہیلپ ٹرسٹ‘ کے تحت چل رہی ہیں۔ شروع میں صرف ایس ایس سی تک کی تعلیم کا نظم تھا لیکن اب گریجویشن تک کی تعلیم دی جاتی ہے اور تعلیم کے بعدان کیلئے ملازمتوں کا انتظام بھی کیاجاتا ہے اور ان کی شادیاں بھی کرائی جاتی ہیں۔ ٹرسٹ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۴ء میں ۵۵؍ طلبہ ایس ایس سی ، ۷۰؍ ایچ ایس سی اور ۵۵؍ نے گریجویشن میں داخلہ لیا تھا۔ اسی طرح ۲۰۲۴ء میں اس ادارے کی معرفت ۱۶۲؍ کو ملازمت دلائی گئی اور ۲۰۳؍ افراد کی شادیاں کرائی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: یومِ جمہوریہ: سیکولرزم، مساوات اور مشترکہ خودداری کی پہچان
بورویل کاانتظام:
ملک میں ایسے کئی علاقے ہیں جہاں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے۔ ایسے ہی علاقوں میں اس ٹرسٹ کے ذریعہ بورویل کا انتظام کیاجاتا ہے۔ ۲۰۱۳ء سے شروع ہوئے اس مشن کے تحت اب تک ملک کے مختلف خطوں (بھیونڈی، اترپردیش کے شاملی اور دیوبند، آسام اور جھارکھنڈ) میں ۱۰۰؍ سے زائد بورویل نصب کئے جاچکے ہیں جن سے ۳۰؍ ہزار سے زائد خاندان استفادہ کررہے ہیں۔ ایک بورویل کی تنصیب پر کم از کم ۵۰؍ ہزار روپے خرچ ہورہے ہیں۔
منشیات کے خلاف مہم :
منشیات ہمارے سماج کیلئے ایک بڑامسئلہ ہے۔ اس لت میں مبتلا افراد کو اس سے نجات دلانے اور بعد میں ان کی بازآبادکاری کیلئے ۲۰۲۱ء میں بھیونڈی تعلقہ کے مہاپولی میں ایک سینٹر قائم کیا گیا۔اس ادارے کے تحت سیکڑوں نوجوانوں کو اس لت سے نجات دلانے میں کامیابی حاصل کی جاچکی ہے۔ اس تعلق سے آگے چل کرکئی اہم منصوبے زیر غور ہیں۔
ریلیف اور بازآبادکاری:
اس کےساتھ ہی وقتاً فوقتاً، جہاں کہیں ریلیف کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔اس سلسلے کا آغاز ۲۰۱۴ء میں کشمیر سے کیا گیا جہاں سیلاب سے کافی کچھ نقصان ہوا تھا۔ اس کے بعد کیرالا اور اترپردیش کے شاملی ضلع میں سیلاب کے ساتھ ہی کوکن کے طوفان متاثرین کی مدد کی گئی۔
اس کےعلاوہ طلبہ میں کتابوں، بیاضوں ، اسکول بستو ں، چھتریوں اور ان کی دیگر ضروریات کی فراہمی بھی کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ملک کی عدلیہ سے عوام مایوس ہیں، آزادی کو خطرہ ہو تو جج آنکھیں پھیر لیتے ہیں
سماجی خدمات کاآغاز:
سفیان انصاری کی سماجی خدمات کے آغاز کی داستان کافی دلچسپ ہے۔ وہ ۲۰۲۱ء میں نیوی مرچنٹ کے طور پر بظاہر ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ اُس وقت ان کی عمر۲۴؍ سال اور ماہانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے زائد تھی۔ لیکن بقول سفیان ’’زندگی میں سکون نہیں تھا۔ اندر ہی اندر کچھ بے چینی سی محسوس ہورہی تھی، اسی بے چینی کے تحت میں نے اپنی ملازمت سے کچھ دنوں کیلئے چھٹی لی اور گھر آگیا۔ یہاں ایک دو ماہ گزارنے کے بعد وقتی طور پر کسی ایسی ملازمت کی تلاش شروع کی جہاں کچھ عوامی خدمت بھی ہوسکے۔ اس کے تحت فوزیہ اسپتال میںٹیلی فون آپریٹر کی ملازمت قبول کرلی جہاں پہلے مہینے ۱۵۰۰؍ روپے تنخواہ ملی۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایک لاکھ کی تنخواہ چھوڑ کر ڈیڑھ ہزار کی تنخواہ پر کام کرنا کیسا لگا ہوگا؟ گھروالوں کےساتھ ہی دوستوں نے بھی ڈانٹ ڈپٹ کی لیکن مجھے عوامی خدمت کرکے جو ذہنی سکون ملا، وہ میں کسی کو بیان نہیں کرسکتا۔ پھر میں اسی راہ پر آگے بڑھ گیا جہاں میرے لئے راستے کھلتے گئے۔‘‘
تقریباً ۱۸؍ سال تک تنہا اس راستے پر چلنے کے بعد اس کام میں شفافیت لانے اور اس کا دائرہ کار بڑھانے کیلئے اس کام کو منظم کرنے کا خیال آیا۔ اسی ادھیڑ بن میں ایک دن ممبئی سے بذریعہ بس بھیونڈی جارہا تھا۔ اس بس میں ’فاسٹ ریلیف‘ کے نام کا ایک اشتہار دکھائی دیا۔ یہ نام کچھ اپیل کر گیا،اسلئے اسی کو اپنے ٹرسٹ کا نام دینے کاخیال آیا۔ اسی کے تحت میں نے اس کا (ایف اے ایس ٹی) کا فل فارم بنانے کی کوشش کی تو وہ ’فاسٹ‘ کے بجائے ’فرسٹ‘ یعنی (فرینڈس انوویٹیو ریلیف سوشل ٹیم) بن گیا... لیکن یہ ’فرسٹ‘ بھی کچھ ادھورا سا لگ رہا تھا،اسلئے میں نے اسے ’فرسٹ ہیلپ چیریٹیبل ٹرسٹ‘ کا نام دیا اور اسے رجسٹرڈ کرالیا۔سفیان انصاری نےبتایا کہ اس ٹرسٹ میں کوئی صدر، سیکریٹری اور خزانچی نہیں ہے بلکہ سب ہی ’منیجنگ ٹرسٹی‘ کے طور پر خلوص کے ساتھ اپنی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:آج ہمارے ملک میں جمہوریت کی کیا اہمیت ہے،ہم اس کے تحفظ کیلئے کیا کریں؟
اس تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے عبیدخان نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے بہی خواہوں کی جانب سے ہمیں جس مد میں پیسے ملتے ہیں، اس کو اسی مد میں خرچ کریں۔ اگر کوئی کھانے کے پیکٹ کیلئے دیتا ہے تو اس رقم سے ہم طبی مدد نہیں کرتے بلکہ صرف اور صرف کھانے کے پیکٹ تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہماری یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ جو رقم ہمیں ملتی ہے، اس کو ۱۰۰؍ فیصداسی مد میں خرچ کرتے ہیں۔ٹرسٹ کے دیگر اخراجات کی تکمیل ہم لوگ اپنی جیب سے کرتے ہیں۔‘‘ اس کےساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اگر سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا، معاونین اور بہی خواہوں نے تعاون میں فراخ دلی دکھائی اوراللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت حاصل رہی تو آئندہ کچھ دنوں میں زیر غور منصوبوں کو بھی ان شاء اللہ عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں گے۔‘‘