ابھی اس نے سڑک عبور کرکے چند قدم ہی آگے بڑھائے ہوں گے کہ اس کے پیچھے زبردست دھماکے کے ساتھ ایک بم پھٹا۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 5:26 PM IST | Dr. Ejaz Rahi | Mumbai
ابھی اس نے سڑک عبور کرکے چند قدم ہی آگے بڑھائے ہوں گے کہ اس کے پیچھے زبردست دھماکے کے ساتھ ایک بم پھٹا۔
ابھی اس نے سڑک عبور کرکے چند قدم ہی آگے بڑھائے ہوں گے کہ اس کے پیچھے زبردست دھماکے کے ساتھ ایک بم پھٹا۔ اس کے اردگرد کی ہر چیز لرز گئی مگر اس نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ اب اس میں اتنی ہمت نہیں رہ گئی تھی کہ وہ خون میں لتھڑی ہوئی کوئی لاش یا ہنستے بستے گھر کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوتا دیکھ سکے۔ وہ اپنی مختصوص رفتار سے آگے بڑھتی رہی۔ اب اس کے دل میں یہ خوف بھی باقی نہ رہا تھا کہ کوئی دوسرا بم اسے بھی ٹکڑے ٹکڑے کرسکتا ہے یا چھپا ہوا کوئی شخص آسانی کے ساتھ اسے نشانہ بنا سکتا ہے۔
وہ اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لائی تھی۔ جنگ کے ان طویل سالوں میں سامانِ خوردونوش اور دوسری اشیاء جو وافر مقدار میں جمع کررکھی تھیں، انہیں دیکھ کر اس پر یہ انکشاف ہوا تھا کہ یہ چیزیں بھی اب زیادہ دیر تک اسے موت کے منہ میں جانے سے نہیں بچاسکیں گی۔ وہ نہ تو فاقوں سے مررہی تھی اور نہ ہی دیگر ضروریاتِ زندگی کے نہ ہونے کا غم تھا، اس کے پاس بہت کچھ تھا، پھر یہ سب کچھ جمع کرنے کا کیا فائدہ؟
اس کا فلیٹ فرنیچر اور آرائش کی دوسری چیزوں سے بھرا ہوا تھا۔ اب اس کے دل میں چوری، قبضے یا بم گرنے سے ان کے تباہ ہونے کا خوف ختم ہوگیا تھا۔ اس کے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ اگر وہ یہ سب کچھ یوں ہی چھوڑ دے تو کیا اس کی زندگی محفوظ ہوسکے گی؟ اب اس کے لئے اپنی زندگی کا تحفظ ہی سب سے بڑا سوال بن گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: الفاظ کی اپنی انوکھی دُنیا ہے اور ان کی آپ بیتی میں حیرت انگیز موڑ ہیں
گزشتہ رات وہ اپنے پڑوسیوں سے ملنے سامنے والے فلیٹ میں گئی تھی کہ اسے شور سنائی دیا ۔ پھر جلد ہی یہ شور تکرار میں بدل گیا۔ جب وہ باہر نکلی تو اسے اپنے فلیٹ کے سامنے کچھ مسلح افراد نظر آئے جو اس کے فلیٹ کا تالا توڑنے کی کوشش کررہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے محلے کے کچھ اور لوگ بھی اس کے فلیٹ کی طرف لپکے۔
ان کے پلازہ کا پورٹر مسلح افراد کو اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کررہا تھا کہ یہ فلیٹ خالی نہیں ہے اور جوں ہی اس کی نظر بڑھیا پر پڑی اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس نے بڑھیا سے چابی طلب کی تاکہ وہ یہ ثابت کرسکے کہ یہ فلیٹ خالی نہیں۔ اس نے چابی پورٹر کے سپرد کردی اور ایک نظر مسلح افراد پر ڈالی ۔ وہ نہ تو بندوقوں اور سنگینوں سے خوفزدہ تھی جو ان کے کاندھوں پر لٹکی ہوئی تھیں اور نہ ہی ان کی قہرآمیز نظروں سے لرزیدہ۔
پورٹر دروازہ کھولنے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہا تھا اور مسلح افراد فخریہ انداز میں اندر جا کر یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے کہ یہ گھر خالی ہے اور اس پر قبضہ کرنا ان کا حق ہے۔ جب دروازہ کھولا گیا تو وہ بے دھڑک اندر داخل ہوگئے۔ گھر رہتابستا نظر آرہا تھا اور وافر سامانِ خوردنی موجود تھا۔ پھر وہ بالکونی کی طرف آئے جہاں رسی پر کپڑے سوکھنے کے لئے لٹکے ہوئےتھے اور جب وہ کچن میں داخل ہوئے تو انہیں گیلی پلیٹیں نظر آئیں جن سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، شاید انہیں کچھ دیر پہلے ہی دھوکر رکھا گیا تھا۔ لیکن مسلح افراد اس پر بھی مطمئن نہ ہوئے، وہ اس فلیٹ پر قبضہ کرنے پر تلے ہوئے تھے اور کسی معقول عذر کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے تمام کمروں کا چکر لگایا جہاں کی ہر شے مکینوں کی موجودگی کا پتہ دیتی تھی۔
’’اس فلیٹ میں کتنے افراد رہتے ہیں؟‘‘ مسلح افراد میں سے ایک نے ، جس کا لہجہ تلخ اور آنکھوں میں قہر تھا، سوال کیا۔
’’پانچ…‘‘ قریب ہی کھڑے ایک پڑوسی نے جواب دیا۔
’’وہ لوگ اب کہاں ہیں؟‘‘
’’وہ عزیزوں کو ملنے قریب کی بستی میں گئے ہیں۔‘‘ ایک دوسرے پڑوسی نے جلدی سے جواب دیا۔ پھر تمام پڑوسیوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا اور سب کی نظریں بوڑھی عورت پر جم گئیں جو خاموش نظروں سے ، ایک لفظ بھی ادا کئے بغیر مسلح حملہ آوروں کو گھور رہی تھی۔ پڑوسیوں کو اپنے ارد گرد دیکھ کر اس کے اندر ایک قوت بیدار ہورہی تھی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کچھ دیر پہلے وہ اپنے آپ کو کمزور سمجھ رہی تھی، مگر اب وہ اپنے حق کا تحفظ کرسکتی ہے۔ اس نے سوچا ، انہیں پتہ چلے کہ یہ گھر بنانے کیلئے اسے کس قدر محنت کرنی پڑی ہے اس نے کتنی راتیں جاگر کر گزاریں، آخری عمر کے سکون کیلئے اسے کس قدر کام کرنا پڑا، اس نے یہ گھر سنوارنے کیلئے کتنے ہی سن و سال بے آرام گزاردیئے تھے۔ وہ بڑے فخر کے ساتھ لوگوں کو سنایا کرتی تھی، مگر اب… اسے یہ ثابت کرنا پڑ رہا تھا کہ کیا یہ فلیٹ واقعی اس کا ہے؟ آخرکار یہی ہوسکتا تھا کہ مسلح افراد اس سے اس کا شناختی کارڈ طلب کرتے جس سے اس کی ملکیت ثابت ہوسکتی۔
یہ بھی پڑھئے: ادیب کے تخلیقی کارنامے سماج میں پائی جانے والی حقیقتوں کا عکس ہوتے ہیں
اسی لمحے اس کے دوسرے پڑوسی رائفلوں اور بندوقوں کے ساتھ اس کے گھر میں داخل ہوگئے۔ اسے اب تک پتہ نہیں تھا کہ اس کے پڑوسیوں کے پاس اس قدر اسلحہ موجود ہے۔ اسے ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا تھا کہ اگر وہ کبھی مشکل میں پھنس گئی تو وہ مدد کو پہنچیں گے۔ مگر آج تمام پڑوسی اس کے اردگرد موجود تھے۔ اچانک اس نے خود کو بڑا ہلکا پھلکا محسوس کیا۔ اس کے چاروں طرف اس کے اپنے لوگ کھڑے تھے۔ اسے اب تنہائی کا احساس نہیں تھا مگر مسلح افراد کی موجودگی بدستور پریشان کن تھی۔ ہر کوئی بے حس و حرکت کھڑا تھا۔ وہ پڑوسی اور حملہ آور سب، ہر کوئی آنے والے لمحوں کی شدت محسوس کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اچانک ایک حملہ آور نے اپنی رائفل سیدھی کی اور کھڑکی کی طرف رخ کرکے فائر کردیا۔ گولی کی آواز نے کمرے کا سکوت ایک چھناکے سے توڑ دیا۔ ہر چہرے پر خوف کی لکیریں ابھر آئیں۔ اسی لمحے جس نے فائر کیا تھا، غصے سے پیر پٹکتا ہوا فلیٹ سے باہر نکل گیا جس کی تقلید میں دوسرے بھی ایک ایک کرکے نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
اس سے قبل کہ اس کے اعصاب جواب دے جاتے، اس نے دیکھا، اس کے تمام پڑوسی اس کے گرد حلقہ کئے کھڑے ہیں۔ اس نے ان کی آنکھوں میں جھانکا، ہر آنکھ کہہ رہی تھی :
’’تم ہم میں سے ایک ہو۔ ہم تمہارے اپنے ہیں۔ جب تک ہم زندہ ہیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: وے صورتیں الٰہی… امتیاز علی تاج کی ۵۶؍ ویں برسی (۱۹؍ اپریل ۱۹۷۰ء) پر
اس نے باری باری سب لوگوں کی طرف دیکھا اور ہر چہرہ اسے اپنا لگا۔ مگر اب اس کے اندر ایک نیا خوف ابھر آیا تھا ۔ اس نے جھرجھری لی اور خود سے سوال کیا، یہ حقیقت سہی کہ آج وہ لوگ میرے فلیٹ پر قبضہ نہ کرسکے۔ یہ بھی درست ہے کہ وہ میرے فلیٹ کو تباہ کئے بغیر چلے گئے ، یہ بھی ٹھیک ہے کہ انہوں نے مجھے ہلاک یا زخمی کرنے کی آج جرأت نہیں کی ۔ میرے ساتھ آج کچھ بھی نہیں ہوا ، لیکن کون جانتا ہے کہ یہ سب کچھ اس کے ساتھ کل نہیں ہوگا؟