میں سوچ رہی ہوں کہ تعلیم پانے کا حق اور بچوں کو صحتمند غذا دونوں حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اس بے حسی کیخلاف کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔
EPAPER
Updated: April 06, 2026, 2:29 PM IST | Afiya Saifi | Mumbai
میں سوچ رہی ہوں کہ تعلیم پانے کا حق اور بچوں کو صحتمند غذا دونوں حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اس بے حسی کیخلاف کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔
مَیں اسکول سے پڑھا کے گھر لوٹ رہی تھی کہ گھر سے چند قدم پہلے چرچ کے ساتھ والی گلی کے موڑ سے ذرا آگے پہنچی ہی تھی کہ میرے کانوں میں ڈھولک کی تھاپ سنائی دی۔ ذرا اور بڑھی تو دیکھا کہ چار سے پانچ سال کی بچی اسٹیل کا تاشلہ ڈنڈی سے بجا رہی ہے اور اسکے برابر میں غالباً اس بچی کی ماں ہی ہوگی جو ڈھولک بجا کے بھیڑ اکٹھی کررہی ہے۔
ایک شخص لوہے کے بھاری ہتھوڑے سے زمین میں سوراخ کررہا تھا، کچھ ہی دیر میں جی جان سے محنت کرتے ہوئے اس نے آمنے سامنے زمین میں دو سوراخ کئے اور ان میں لوہے کی مضبوط راڈ گاڑ دی اور اس طرح راڈ کے سہارے قینچی نما انداز میں اونچے دو بانس مضبوط طریقے سے باندھے، تقریباً ۵؍ سے ۷؍ میٹر لمبی رسّی ان بانسوں میں باندھی۔ لیکن ایک بانس جو ان چاروں بانس سے زیادہ لمبا اور وزنی بھی تھا سائڈ میں رکھا تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ ایک ۷؍ یا ۸؍ سال کی بچی اس بانس کو گلے میں ڈالے ان بانسوں کے سہارے رسّی پر چڑھ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے توازن بنا کے آہستہ آہستہ رسّی پر چلنے لگی۔
یہ وہ تماشہ ہے جو عموماً سبھی نے دیکھا ہوگا، مَیں نے بھی اپنی زندگی میں بارہا دیکھا تھا، لیکن کبھی ٹھہر کر مکمل طور سے میں آج پہلی مرتبہ دیکھ رہی تھی۔ اب سے پہلے پڑھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے امی نے کھیل تماشوں کی طرف سے دھیان ہٹائے رکھا، ذرا بڑی ہوئی تھی کہ گھر سے نکلنا کم ہوگیا تھا، لیکن میں اب اسکول میں پڑھانے لگی تھی۔ اس لئے آج جی کھول کر خوشدلی سے پورا تماشہ دیکھنے کا موقع ملا۔ جیسے جیسے رسّی پر چلنے والی بچی اپنے پیر آگے بڑھاتی، ڈھولک والی عورت تھاپ دینے کی رفتار میں اضافہ کردیتی۔ اس بچی کے اندر خوف نام کی چیز نہ تھی، یا پھر اس کے والدین کی تربیت کا کمال تھا کہ وہ رسّی پر الٹے پیروں بھی چلی، سوچئے ذرا سی چوک ہوئی کہ ہڈی پسلی ٹوٹ کے برابر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
گلے میں ڈلے بانس کے ذریعے توازن بنا کے چلتے ہوئے اس نے چہرے سے اطمینان ظاہر کیا اور ساری بھیڑ کو اپنے کرتب سے حیرت زدہ کر دیا۔ غضب کا توازن اس بچی نے بنایا ہوا تھا۔ اس کے بعد چار سے پانچ سال کی بچی جو یقیناً اس کی بہن رہی ہوگی، اس نے اپنی بڑی بہن کو ایک سائیکل ریم دیا، اس ریم پر پاؤں جما کر آہستہ آہستہ رسّی پہ چلنے لگی۔ ایسا اس نے دو مرتبہ کیا۔ مَیں سوچ رہی تھی کہ کتنی سخت مشق کی ہوگی اس بچی نے اور اس کے باپ کا کتنا مضبوط دل رہا ہوگا، جو تماشہ دکھا رہی ہے، نہ جانے کتنی بار رسّی سے یہ بچی نیچے گری ہوگی، تب جا کے اتنی مہارت اس بچی کو حاصل ہوئی کہ آج بلاخوف اپنے والدین کے ساتھ کھیل دکھا رہی ہے۔
غور کیجئے کتنا دشوار ہوتا ہے توازن برقرار رکھتے ہوئے رسّی پر سیدھے اور الٹے چلنا۔ اس کے بعد اس بچی نے اپنے سر پر چھوٹی بڑی ۵؍ پتیلیاں رکھیں اور توازن کے ساتھ پھر اسی طرح رسّی پر چلی، یہ اس بچی کا تیسرا کرتب تھا۔ چوتھا اور آخری کرتب سر پر کانچ کی بوتل لے کر رسّی پر چلنا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کچھ کفارے کبھی ادا نہیں ہوتے
اب ڈھولک کی آواز میں کمی آنے لگی تھی، منہ میں پان کا بیڑا رکھی عورت زانوں بدل کر اپنے ہاتھ ڈھولک سے ہٹانے والی تھی، غالباً ان بچیوں کا باپ ہی رہا ہوگا وہ شخص جو عورت کے پیچھے ذرا فاصلے پر کھڑا، سر کے بے ترتیب بال، شرٹ کی ادھڑی جیب، میلی سی پینٹ، بیڑی میں لمبے لمبے کش لگا کے اپنی عادت کے مطابق کلیجہ پھونک رہا تھا۔ اس نے اشارہ کرکے اس بچی سے گلے سے بانس نکالنے کو کہا، اب کھیل ختم ہونے والا تھا۔
لہٰذا اس کی چھوٹی بہن اب اسٹیل کا پچکا ہوا سا ایک کٹورا لے کر بھیڑ کی طرف بڑھی، بعض نے ایک روپیہ، کچھ نے دو اور پانچ کا سکہ اس کے کٹورے میں ڈالا۔ چند ایک نے دس کا نوٹ اور سکہ بھی اس معصوم کے کٹورے میں ڈالا، لیکن بہت سے ایسے بھی تھی جنہوں نے اس کا کھیل دیکھا تو لیکن بے دلی سے اس چھوٹی سی معصوم بچی کی آس و امید بھری نظروں کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ گئے۔ وہ بچی گلی میں گھروں کے دروازوں پر دستک دینے پہنچی اور بابو جی، بھیّا، ماتا جی کی آواز لگانے کے ساتھ اپنے کٹورے کے پیسہ اچھال کر اشارہ کرتی اور دھیان راغب کرنے کی ناکام کوشش کرتی۔
اپنے فنکارانہ انداز میں اس نے کٹورا میرے پاس لاکے بھی اچھالا، اس سے پہلے میں اپنے پرس سے کچھ پیسے نکال کے اس کے کٹورے میں ڈالتی، تبھی میرے ذہن میں اپنے اسکول کی کلاس کا منظر آگیا، جہاں مجھے تیسری کلاس پڑھانے کے لئے ملی تھی، اور بعض دفعہ چوتھی اور پانچویں کلاس بھی پڑھانی پڑتی تھی۔ آج اس تماشہ نے مجھے میرے بچپن سے ملنے کے موقع تو دے دیا، لیکن مجھے یہ سوچنے پر بھی مجبور کردیا کہ اس ترقی کے دَور میں بھی ہم ابھی کتنے پیچھے ہیں کہ بھوک ہمارے ملک میں رسّی پر چلنے کے لئے معصوموں کو مجبور کردیتی ہے۔
میں سوچ رہی ہوں کہ تعلیم پانے کا حق اور بچوں کو صحتمند غذا دونوں حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس بے حسی کے خلاف کوئی آواز اٹھانے والا نہیں، بعض صوبوں کے گاؤں دیہات میں قابل رحم حالات بھی نہیں ہیں بلکہ پستی کی طرف غربت کے ستائے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ملک میں تعلیم کے مختلف اور نئے نئے طریقے آزمائے جا رہے ہیں ان سے قابل تعریف نتائج برآمد بھی ہو رہے ہیں، لیکن ۶؍ سال سے ۱۴؍ سال تک کے کروڑوں کی تعداد میں ایسے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا جو اسکول ہی نہیں جاتے؟
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: منزلیں اور بھی ہیں
میں نے اپنا ذہن جھٹکا اور یہ خیال ذہن میں بٹھایا کہ کوئی بچہ غربت کی وجہ سے، کوئی اسکول کی دوری کی وجہ سے، کوئی والدین کی لاپروائی کی وجہ سے، اور کوئی گاؤں دیہات میں ظلم و زیادتی کی وجہ سے اسکول نہیں جا پاتا۔ ایسا ہو بھی کیوں نہیں، غریب والدین چاہتے ہیں ان کا بچہ بڑا ہو اور کما کے لائے، ان کا رجحان تعلیم کی طرف نہیں ہوتا۔ بچوں کی خاطر قربانیاں دینا کم پسند اس لئے بھی کرتے ہیں کہ انہیں تعلیم کے فوائد کا علم ہی نہیں ہوتا۔ غرض کہ وجہ کچھ بھی ہو، اگر بچہ اسکول نہیں پہنچ رہا ہے تو اس کے لئے سماج کی ذی محترم شخصیات کو آگے آنے کی ضرورت ہے، تبھی رسّی پر بھوک چلنے سے باز رہ پائے گی۔ یو جی سی کے سابق چیئرمین پروفیسر یشپال نے ایک مرتبہ تعلیمی کانفرنس میں سوال اٹھایا تھا ’’دنیا کا کوئی ملک اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم نہیں رکھتا؟‘‘ تو پھر یہ تماشہ کیا ہے؟