چائے کا ایک گھونٹ لے کر اس نے اپنی پسندیدہ میگزین اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اتنے میں فون کی رِنگ سنائی دی۔ ہاتھ بڑھا کر صوفے کی اس جانب دیکھا تو بھائی کا نام بلنک کر رہا تھا۔
EPAPER
Updated: March 24, 2026, 3:06 PM IST | Maryam Bint Mujahid Nadwi | Mumbai
چائے کا ایک گھونٹ لے کر اس نے اپنی پسندیدہ میگزین اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اتنے میں فون کی رِنگ سنائی دی۔ ہاتھ بڑھا کر صوفے کی اس جانب دیکھا تو بھائی کا نام بلنک کر رہا تھا۔
’’دانیال، آفرین! تم دونوں کب سے ویڈیو گیم کھیل رہے ہو، چلو! جا کر پڑھائی کرو۔‘‘ نمل نے اپنے دونوں بچوں کو زبردستی پڑھنے کے لئے بٹھا دیا۔ باہر بارش کی چند برستی بوندوں نے ماحول میں نمی پیدا کر دی تھی۔ نمل اپنے لئے بھانپ اڑاتا ایک چائے کا کپ لے کر صوفے پر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گئی۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے معاملے میں بہت سخت تھی۔ جب بھی دونوں پڑھائی چھوڑکر کوئی دوسری سرگرمی میں لگے رہتے، وہ زبر دستی انہیں پڑھنے بٹھا دیتی تھی۔ کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ اس کے بچے بھی ویسی ہی محنت کریں جیسی اس نے کی تھی۔ اسے تو اسکول اور کالج کے زمانے میں گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنے کا بھی موقع نہیں ملتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: منزلیں اور بھی ہیں
اس کی امی ہمیشہ کہتی تھیں ’’اتنا پڑھ کر افسر بننا ہے کیا؟‘‘ اور وہ مسکرا کر ’ہاں‘ میں جواب دے کر پھر سے کتابوں میں سر چھپا دیتی تھی۔ زیادہ تر وقت کتابوں کے ساتھ گزارنے سے اس کی آنکھوں کے گرد ہمیشہ سیاہ حلقے موجود ہوتے تھے۔ ان کے گھر کے حالات برے نہیں تھے، مگر زیادہ مستحکم بھی نہیں تھے۔ چار بھائی، امی، ابو، دادا، دادی، اور وہ خود، تین کمروں اور ایک چھوٹے سے صحن والے گھر میں رہتے تھے۔ مہینے کے آخر میں بجٹ میں کھینچ تان کرنی پڑتی تھی۔ نمل کی خواہش تھی کہ وہ کسی ایسے گھر میں رہے جہاں ہر فرد کے لئے الگ کمرہ ہو، اسے مہینے کے آخری دنوں کی فکر نہ کرنی پڑے اور وہ اپنی مرضی سے وہ سب خریدنے کی استطاعت رکھتی ہو جو اسے پسند آجائے۔ بچپن میں اکلوتی بیٹی ہونے کے سبب اس کی ہر خواہش کا احترام کیا جاتا تھا، مگرکبھی کبھی حالات ایسے ہوتے کہ اسے سمجھو تہ کرنا پڑتا۔ آج اس نے اپنی برسوں کی محنت، لگن اور جستجو سے ایک بہترین نوکری حاصل کرلی تھی اور وہ سب پالیا تھا جس کی اسے تمنا تھی۔ اس کا گھر شہر کے سب سے پوش علاقے میں تھا۔ عالیشان دو فلور کا گھر جو ہر طرح کی آرائش و آسائش سے آراستہ تھا۔ موسم کی مناسبت سے وہ اپنے بچوں کے ساتھ مل کر اس کی سجاوٹ کرتی تھی۔
چائے کا ایک گھونٹ لے کر اس نے اپنی پسندیدہ میگزین اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اتنے میں فون کی رِنگ سنائی دی۔ ہاتھ بڑھا کر صوفے کی اس جانب دیکھا تو بھائی کا نام بلنک کر رہا تھا۔ ’’ہیلو، السلام علیکم بھائی، خیریت؟ گھر میں سب کیسے ہیں؟‘‘ فون کان سے لگاتے ہوئے اس نے پوچھا۔ اس کے بڑے بھائی ظہیر نے بتایا کہ سب تو ٹھیک ہیں، مگر اماں کی طبیعت کل رات سے ناساز ہے۔ انہیں اسپتال میں داخل کروایا ہے۔ اور اسے آنے کے لئے کہا، یہ بھی بتایا کہ رات کو امی اسے بہت یاد کر رہی تھیں۔ اس نے ’’جی، ہوں، ہاں!‘‘ کرنے کے بعد کال منقطع کر دی۔ اصل میں اس کا ابھی وہاں جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ان دنوں وہ بہت زیادہ مصروف تھی، اس کا پروموشن قریب تھا اور جس پوسٹ پر کام کرنا اس کا مقصد تھا، اس پوسٹ کو حاصل کرنے کا یہ واحد موقع اس کے ہاتھ میں تھا۔ اور چاہے کچھ بھی ہو، وہ اس موقع کو اپنے ہاتھوں سے گنوانا نہیں چاہتی تھی۔ رہی بات امی کی طبیعت کی، تو اسے یقین تھا کہ وہ جلد ہی صحت یاب ہو کر گھر آجائیں گی۔ ایسا پہلے بھی کئی بار ہوچکا تھا؛ بھائی کی اطلاع پر وہ دوڑی دوڑی، اپنا ہر ضروری کام چھوڑ کر امی کے پاس بھاگی چلی جاتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ اس پر کام کا بوجھ اتنابڑھ چکا تھا کہ اب بار بار سب چھوڑ کر جانا اس کے لئے ممکن نہیں تھا۔ اس کی امی کو ہارٹ کا پرابلم تھا۔ کبھی کبھی ان کی طبیعت خراب ہوجاتی تھی۔ مگر وہ جلد ہی ٹھیک بھی ہوجایا کرتی تھیں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوگا؛ اس نے خود کو دلاسہ دیا: اور کیا ہوا اگر مَیں ایک بار نہ جاؤں۔
ویسے بھی ابھی ایک مہینہ بعد عید منانے کے لئے اسے امی کے پاس جانا ہی تھا۔ اور ان کا خیال رکھنے کے لئے وہاں اس کے چاروں بھائی موجودتھے۔ اس نے امی کے لئے عید کا تحفہ بھی خرید لیا تھا۔ یہ سب سوچتے سوچتے اس کی چائے ٹھنڈی ہوگئی تھی۔ اس نے کچھ دیر رمضان المبارک کی پہلی سحری میں بننے والے پکوان انٹرنیٹ پر ڈھونڈا۔ اس کا دل بار بار اسے کسی انہونی کا احساس دلا رہا تھا۔ مگر اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس نے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا لیا؛ اور اپنے پروجیکٹ پر کام کرنے لگی۔ دل اور دماغ کی اس جنگ میں اس کا دماغ سبقت لے گیاتھا۔
***
’’میری نمل کہاں ہے؟‘‘ امی کی نحیف سی آواز نے دوسرےشہرمیں بیٹھی بیٹی کو پکارا۔ اتنی علالت کے باوجود وہ نمل کو دیکھنے کی ضد کئے جا رہی تھیں۔ ’’اماں، مَیں اسے کال کرچکا ہوں، ان شاء اللہ، وہ جلد ہی آپ سے ملنے آنے والی ہے۔‘‘ ظہیر بھائی نے اپنے تینوں چھوٹے بھائیوں کی طرف باری باری دیکھا، امی کے دلاسے کے لئے انہیں جھوٹ بولنا پڑا۔ کیونکہ انہیں نمل کے انداز گفتگو سے لگ رہا تھا کہ اس کا ابھی آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ اسے زیادہ فورس بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اس کی پروموشن اور اس ڈریم پوسٹ کے بارے میں سب ہی واقف تھے۔ امی یہ سن کر چپ ہوگئیں۔ امید کی ٹکٹکی باندھے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگیں۔
دو دن بعد بھی جب ان کی طبیعت نہیں سنبھلی اور ڈاکٹر نے بتایا کہ امی کی حالت بہت زیادہ نازک ہوچکی ہے تو ظہیر بھائی نے پھر سے نمل کو کال کی، اس بار انہوں نے اسے کھل کر صورتحال سے آگاہ کیا۔ نمل کو تب جا کر حالت کی سنگینی کا احساس ہوا جب ظہیر بھائی کی آواز بھیگی ہوئی محسوس ہوئی۔ جس وقت ان کا فون آیا تھا وہ افطاری کے بعد چائے کا کپ لے کر بالکونی میں بیٹھی تھی۔ اس دن چوتھا روزہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: شناخت کا سفر
اس نے جلدی سے اپنے شوہر اور بچوں کو یہ اطلاع دی۔ اس کے شوہر نے فوری طور پر کار کا انتظام کردیا۔ یہ طے ہوا کہ فوری طور پر چھٹی نہ مل پانے کی وجہ سے اس کے شوہر اور اسی طرح اس کے بچے بھی ساتھ میں نہیں جائیں گے۔ نمل کو مسلسل اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا کہ وہ دو دن پہلے کیوں امی سے ملنے نہیں گئی۔ اس کے لب مسلسل اپنی ماں کے لئے دعاگو تھے۔ یہ سفر اسے اب تک کا سب سے لمبا سفر معلوم ہوا۔
پیچھے اس کی چائے کا کپ ٹیبل پر پڑا رہ گیا تھا: چائے کی روح ایسی محسوس ہورہی تھی جیسے اس کی روح قبض ہوچکی ہو، اور نمل کی بھی حالت کچھ اس سے مختلف نہ تھی۔
***
’’امی جان!‘‘نمل کی آواز پر امی نے بڑی مشقت کے ساتھ اپنی آنکھیں کھولیں۔ نمل کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں جگنو سی چمک اتر آئی، ان کے چہرے پر گویا کسی باغ کی تروتازگی نمایاں ہوگئی۔ دو آنسو لڑھکتے ان کے جھریوں بھرے گال پر پھسل کر بالوں میں کہیں گم ہوگئے۔ گزشتہ تین دنوں میں گویا وہ عمر کے لحاظ سے اچانک بیس سال آگے بڑھ چکی تھیں۔ نمل نے آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور پیشانی پر ایک بوسہ دیا۔
امی نے اشارے سے چہرے کا ماسک ہٹانے کو کہا۔ کمرہ ٹھنڈا تھا، اس میں موجود ہر فرد روزے سے تھا اور دل کے ساتھ ساتھ ہونٹوں سے بھی امی کے لئے دعا کا عمل جاری تھا۔ ماسک کے نکلتے ہی امی نے اس کا نام لیا: میری بچی، میری نمک۔ (وہ اس کو بڑے پیار سے نمک ہی پکاراکرتی تھیں) اور اپنے لرزتے ہاتھوں سے نمل کے گالوں پر پھسلتے آنسو صاف کئے۔ امی اپنی ہر اولاد کو جان سے زیادہ عزیز رکھتی تھیں، مگر نمل ان کی زندگی اور دل کا وہ حصہ تھی، جو سب سے زیادہ ضروری اور خاص ہوتا ہے۔ اور جس کی کمی سے زندگی نامکمل سی لگتی ہے، جیسے کھانا بغیر نمک کے۔ نمل کو اس نام سے چِڑ تھی، مگر اب.... شاید وہ آخری بار امی کے منہ سے اس نام کو سن رہی تھی؟
یہ بھی پڑھئے: افسانہ : شہری راکھ
ڈاکٹر کا کہنا تھا، اب ان کا دل اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ اس کا علاج اب تقریباً ناممکن ہے۔ ان کا سفر حیات اب قریب الختم تھا۔ نمل کی سوچ غلط ثابت ہوئی تھی؛ شاید امی اب کبھی گھر نہیں آپائیں گی۔ اور یہ سوچ اس کے جسم کو مفلوج کر رہی تھی۔ ’’میری نمک گڑیا، اچھا ہوا تو آگئی، یہ ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں سنا؟‘‘ وہ بڑی ہی محبت سے نمل کا ہاتھ تھامے ہوئے تھیں۔ وہ اسے شکر نہیں نمک گڑیا کہہ کر پکارتی تھیں۔ ’’امی!‘‘ نمل کی آواز اس کے گلے میں کہیں گم ہوگئی۔ اس کے ہاتھ میں امی کے لئے بڑے چاؤ سے لایا ہوا عید کا تحفہ بھی موجود تھا؛ جو اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر اب نیچے فلور پر گرچکا تھا۔ کمرے میں موجود ٹھنڈ سب کو ریڑھ کی ہڈی میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔ روم کے باہر سے آتی آوازیں کچھ اور معدوم ہوگئیں۔ گویا کہ باہر چہچہاتے پرندے بھی چپ ہوگئے۔ ڈاکٹر سلیم نے ایک مایوس نگاہ کا تبادلہ ظہیر بھائی سے کیا۔ ڈاکٹرز پوری کوشش کر چکے تھے۔ امی کی سانسیں وقفے وقفے سے آنے لگیں۔ ان کے چہرے پر موجود شادابی جو نمل کو دیکھ کر آئی تھی معدوم ہوچکی تھی.... ’’میرا دل.... دل کر رہا تھا کہ.... مَیں تجھ سے ڈھیر ساری.... باتیں کروں۔ تو جلدی کیوں نہیں آئی میری بچی؟‘‘ امی کی سانس آنے میں دقت کچھ اور بڑھ گئی، نمل کے رونے میں بھی تیزی آگئی۔ امی کی گرفت نمل کے ہاتھوں میں ڈھیلی پڑنے لگی۔ نمل نے جلدی سے ان کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ اس کا دل حلق سے باہر آنے کو تھا۔ ظہیر، شہیر اور سلمان اور ان کی بیویاں سبھی لوگ بیڈکے قریب آکر کھڑے ہوگئے۔ نمل کی ہچکیاں اب کمرے میں موجود دوسرے افراد کی ہچکیوں کے ساتھ گڈمڈ ہو گئیں۔ ’’مم میں نے سوچا تھا کہ.... تجھے اور انعم (نمل کی بیٹی) کو بیسن کی روٹی بنا کر کھلاؤں گی۔ تجھے وہ پسند ہے نا.... اور....‘‘ امی جیسے ان ساری خواہشوں کو دہرا رہی تھیں؛ جو شاید اب کبھی پوری نہیں ہوسکتی تھیں۔ آنسوؤں سے ان کا بھی چہرہ تر تھا۔
’’امی، آپ.... ٹھیک ہو جائیں گی۔‘‘ نمل نے رونے کے درمیان نہ جانے کسے دلاسہ دینے کی کوشش کی تھی۔ ’’میری بچی، تو نے آنے میں بہت دیر کردی....‘‘ اب امی کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔ یہ جملہ سن کر نمل کا بچا ہوا ضبط بھی جواب دے گیا تھا۔ ڈاکٹر کے ہاتھ تیزی سے سانس کی مشین پر چلنے لگے۔ ’’میرا دل کر رہا تھا کہ تو جلدی آجائے تو....‘‘ امی کا جملہ ہمیشہ کے لئے ادھورا رہ گیا۔ انہوں نے انتہائی تکلیف کے عالم میں کلمہ پڑھا اور پھر نمل کی طرف ہی دیکھتی رہ گئیں۔ ان کے چہرہ پیلا پڑگیا، اور ان کا لاغر ہاتھ نمل کے ہاتھ میں سرد پڑ چکا تھا۔
’’ڈاکٹر، پلیز! کچھ کیجئے، آپ کھڑے کیوں ہے کچھ کیجئے۔ میری امی!‘‘نمل ہیجانے انداز میں چلّانے لگی۔ مگر جب تک سب کچھ ختم ہو چکا تھا: ’’شی اِز نو مور!‘‘ ڈاکٹر یہ کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں؟ اچانک کمرے میں چاروں خواتین کی رونے کی آواز بلند ہوگئی۔
***
امی کو گزرے دو دن ہوچکے تھے۔ نمل اس کے بچپن کی ایک تصویر کو نہ جانے کب سے دیکھ رہی تھی۔ جس میں وہ اور امی کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ کچھ دیر پہلے اس کی بھابھی چائے کا بھانپ اڑاتا کپ اس کے ہاتھ میں پکڑا کر گئی تھی؛ جو ذہن کے ساتھ ماضی کے سفر میں منہمک نمل کے ہاتھ میں اب پوری طرح ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اس کا ذہن حزن و ملال اور افسوس کی اتاہ گہرائیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بار بار آنسو امڈ آتے۔ یہ عادت شاید انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ اسے کسی نعمت کی قدر اس کے کھو جانے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔ نمل کو بھی امی کے چلے جانے کے بعد ایک ایک بات یاد آرہی تھی: ان کے ساتھ گزارے ہوئے خوشگوار لمحے، نمل کے لئے ان کا حد درجہ فکرمند ہونا، ظہیر بھائی کی فون کال جب وہ کہہ رہے تھے کہ امی اسے یاد کر رہی ہیں، امی کے لئے خریدا ہوا وہ تحفہ، امی کے آخری لمحات میں کیا گیا معصوم سا سوال: نمل جلدی ان سے ملنے کیوں نہیں آئی، ان کے لہجے میں پنہاں پچھتاوا: تُو نے آنے میں بہت دیر کر دی میری بچی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ : آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
نمل جب بھی یہ جملہ سوچتی، اس کا دل گویا مٹھی میں جکڑا ہوا محسوس ہوتا۔ واقعی اسے آنے میں بہت دیر ہوچکی تھی۔ اپنے پروموشن اور اس ڈریم پوسٹ کے خمار میں وہ اپنی جان سے زیادہ پیاری امی کی التجا پر بھی ان سے ملنے جلدی نہیں آئی۔ وہ پروموشن اسے زندگی میں پھر شاید کبھی مل بھی جاتا، مگر اس کی والدہ جو ہمیشہ کے لئے اسے چھوڑ کر جا چکی ہیں؛ اور اب کبھی واپس نہیں آئیں گی؛ یہ احساس اسے اندر سے کھائے جا رہا تھا۔ زندگی میں دوسری چیزوں کو اپنے اس عزیز ترین رشتے پر ترجیح دینے کی غلطی کا کفارہ نمل کبھی ادا نہیں کر پائے گی۔