کمرہ نیم روشن تھا۔ خاموشی یوں چھائی ہوئی تھی جیسے وقت نے سانس روک لی ہو۔ ہلکی ہوا کے جھونکے پردوں کو آہستہ آہستہ جھولاتے تو سائے دیواروں پر رقص کرنے لگتے۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 1:16 PM IST | Shaikh Fazaila Shahnawaz | Mumbai
کمرہ نیم روشن تھا۔ خاموشی یوں چھائی ہوئی تھی جیسے وقت نے سانس روک لی ہو۔ ہلکی ہوا کے جھونکے پردوں کو آہستہ آہستہ جھولاتے تو سائے دیواروں پر رقص کرنے لگتے۔
کمرہ نیم روشن تھا۔ خاموشی یوں چھائی ہوئی تھی جیسے وقت نے سانس روک لی ہو۔ ہلکی ہوا کے جھونکے پردوں کو آہستہ آہستہ جھولاتے تو سائے دیواروں پر رقص کرنے لگتے۔ سکون کی اس وادی میں ایک سویا ہوا وجود خواب اور بیداری کے بیچ معلق تھا، جیسے دو لہریں آپس میں ٹکرا رہی ہوں۔
’’واؤ! اٹس آمیزنگ!‘‘ اسکرین اسکرول کرتے ہوئے اس کے لبوں سے یہ جملہ جانے کتنی بار نکل چکا تھا۔ کبھی بے ساختہ ہنسی اس کے چہرے پر پھیل جاتی، اور کبھی پل بھر میں اداسی کے سائے آنکھوں میں اتر آتے۔ یوں محسوس ہوتا جیسے لمحہ بھر بھی نہیں لگتا تھا، اسے شادِ بہاراں سے دکھ کی خزاں میں منتقل ہونے میں۔
’’دادی.... دادی یہ دیکھئے!‘‘ وہ یک دم سے اچھل کر دادی کے پاس جا پہنچا۔ ’’اف اللہ! ابھی تو چاقو لگ جاتا!‘‘ دادی نے جھنجھلا کر اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے کہا۔ ’’سوری دادی....‘‘ اس نے معصومیت سے منہ بنایا۔ ’’اب کیا دیکھ لیا ہے اس فتنے میں؟‘‘ دادی نے موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اسکرین سے آواز ابھری ’’اسلام وعلیکم دوستو! مَیں ہوں عبدالعزیز، اور آپ اس وقت مجھے اس آتش فشاں زدہ علاقے میں امدادی ذخائر کے ساتھ دیکھ رہے ہیں، جہاں ہمارے بھائی بہنوں کو ہماری اشد ضرورت ہے۔‘‘
’’دیکھا دادی!‘‘ یہ فتنہ ہمیں کہاں سے کہاں کی خبر دے دیتا ہے۔ آخری جملہ کہتے ہوئے عباد نے اسکرین پر ہاتھ پھیرا، جیسے خبر کی وسعت کو آنکھوں اور انگلیوں سے ناپ رہا ہو۔ ان مکالموں کے بیچ بھی اسکرین کی آواز ایک مستقل دخیل کی طرح کمرے میں تیرتی رہی۔
’’مزید اپڈیٹس کیلئے ہمارے ساتھ جڑے رہئے.... شکریہ!‘‘ یہ جملہ کسی اعلان کی طرح نہیں، بلکہ عباد کے شعور پر دستک کی مانند تھا۔ وہ اسکرین میں یوں جھکا ہوا تھا جیسے روشنی نہیں، اپنی شناخت وہیں سے کشید کر رہا ہو۔
’’ہاں! وہ تو صاف دکھ ہی رہا ہے۔‘‘ دادی نے آہستہ کہا۔ آواز میں طنز نہیں تھا، بس ایک ٹھہرا ہوا دکھ تھا جو برسوں کے تجربے سے چھن کر آیا تھا۔ ان کے لبوں پر نیم مسکراہٹ ٹھہر گئی، مگر آنکھوں میں سوال لرز رہا تھا۔ وہ دیر تک عباد کو دیکھتی رہیں۔ اس وجود کو جو جسمانی طور پر اسی کمرے میں تھا مگر ذہنی طور پر ایک چمکتی ہوئی اسکرین کے اندر کہیں گم ہوچکا تھا۔ عباد، جو دادی کی موجودگی سے بالکل غافل تھا۔ ہر نئے فلیش، ہر نوٹیفکیشن پر یوں چونکتا جیسے کسی نے اس کے ہونے کی تصدیق کر دی ہو۔
’’اتنے بڑے سیلیبریٹی ہیں کہ سیکنڈوں میں وائرل ہو جاتے ہیں!‘‘ عباد کی آواز میں جوش تھا، آنکھوں میں چمک۔ وہ اسکرین کی طرف ایسے اشارہ کر رہا تھا جیسے کسی معجزہ کا حوالہ دے رہا ہو۔
’’آپ کو پتا ہے دادی....‘‘ وہ سانس لئے بغیر بولتا گیا، ’’یہ کوئی عام آدمی نہیں ہیں۔ ان کا نام ہر ملک، ہر شہر میں جانا جاتا ہے۔ جہاں یہ قدم رکھتے ہیں، کیمرے خود بخود جاگ اٹھتے ہیں۔ یہ سب کی مدد کرتے ہیں.... بغیر ذات، بغیر پہچان دیکھے!‘‘ وہ ایک کے بعد ایک خوبی اس طرح گنواتا رہا، جیسے کسی خواب کی تعبیر لفظوں میں ڈھل رہی ہو۔ جیسے ہر جملہ اس کے اپنے وجود کو بھی ذرا بڑا، ذرا روشن کر رہا ہو۔
’’مَیں بھی ان جیسا بنوں گا، دادی!‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے پہلی بار اسکرین سے نظر ہٹائی، مگر آنکھوں میں اب بھی وہی روشنی تھی۔ مستعار لی ہوئی۔ دادی نے اسے دیکھا۔ دیر تک دیکھا۔
ان کی خاموشی میں شور نہیں تھا، بس ایک ایسا سوال تھا جو بولتا نہیں تھا۔ دادی نے دھیرے سے کہا ’’بیٹا! جو آوازیں تمہیں اپنی طرف بلا رہی ہیں، وہ تمہیں سن نہیں رہیں۔‘‘
عباد نے قدرے چونک کر دیکھا، مگر اسکرین کی روشنی ابھی تک اس کی آنکھوں میں قید تھی۔
دادی اسی انداز میں بولتی رہیں ’’مشہور ہونا آسان ہے، بیٹا! مگر انسان ہونا.... وہ اکثر کیمروں کے بغیر بھی پہچانا جاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کہانی: انسانیت اور ہمدردی
عباد مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں سننے کی نہیں، صرف سنائے جانے کی خواہش تھی۔ دادی کے خاموش ہوتے ہی وہ پھر شروع ہوا۔
’’ایک دن آئے گا دادی....‘‘ عباد جوش میں بولا، ’’جب آپ کا یتیم پوتا غریبوں اور مسکینوں کا مسیحا بنے گا!‘‘ وہ کمرے میں چکر لگاتے ہوئے بات دہراتا رہا، کبھی ہاتھ فضا میں بلند کرتا، کبھی قابلِ ستائش اندازمیں کھڑا ہو جاتا۔ جیسے ابھی کسی اسٹیج پر تالیاں بجنے والی ہوں۔ دادی سبزی کاٹتے ہوئے خاموشی سے اس کی باتیں سنتی رہیں۔ چھری کی ٹک ٹک کمرے میں ایسی گونج رہی تھی جیسے وقت خود گفتگو میں شریک ہو۔ ان کے چہرے پر نہ حیرت تھی، نہ تردید۔ بس ایک ٹھہرا ہوا سکون، جو بہت کچھ جان لینے کے بعد آتا ہے۔
’’سب مجھے جانیں گے، دادی! میرا نام ہوگا.... میری پہچان ہوگی۔‘‘ دادی نے آلو کے چھلکے ایک طرف سرکائے، چھری روکی، اور بغیر نگاہ اٹھائے، نہایت سادگی سے بولیں ’’اچھا بھائی، یہ ساری باتیں بعد میں کرنا۔ پہلے جا کر پیاز لے آؤ۔ ورنہ آج کی سبزی بے ذائقہ رہ جائے گی۔‘‘
عباد ایک لمحے کو ٹھٹک گیا۔ اس کے خواب جو ابھی ابھی آسمان چھو رہے تھے.... زمین پر آ گرے۔ وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ دادی نے نرم مگر فیصلہ کن لہجے میں اضافہ کیا ’’بڑے بننے کے خواب خالی پیٹ نہیں دیکھے جاتے، بیٹا۔ پہلے ضرورت پوری ہوتی ہے، پھر نیت آزمائی جاتی ہے۔‘‘ عباد خاموشی سے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ پیچھے دادی نے دوبارہ چہرہ اٹھائی۔ اور کمرے میں زندگی کی وہی سادہ، مگر سچی آواز پھر سے گونجنے لگی۔
***
یہ منظر صبح کا تھا یا شام کا دھندلی روشنی میں اندازہ لگانا خاصا مشکل تھا۔ کھڑکی سے چھن کر آتی مدھم سی روشنی کمرے میں یوں ٹھہری ہوئی تھی، جیسے وقت خود کسی سوال پر آ کر رک گیا ہو۔ فضا میں ایک عجیب سا سکوت تھا، ایسا سکوت جو بولنے سے پہلے انجام کا وزن تولتا ہے۔
’’آپ کو پتا ہے دادی....‘‘ عباد کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔ آواز میں وہی جوش، وہی چمک۔ ’’عبدالعزیز اس دور کا سب سے بڑا سیلیبریٹی ہے۔‘‘ وہ بات مکمل کرتے ہوئے دادی کے قریب آ کر رک گیا، جیسے کسی عظیم نام کا ذکر خود بخود احترام مانگتا ہو۔
دادی نے پیاز ٹوکری میں رکھا، ایک لمحے کو ہاتھ رکا۔ پھر چھری تختے پر رکھ دی، ’’ریاکار ہے۔‘‘ یہ لفظ یوں گرا جیسے خاموشی کے تالاب میں اچانک کوئی پتھر پھینک دیا گیا ہو۔ عباد چونک گیا۔
’’کون؟ عبدالعزیز؟‘‘
اس نے بے یقینی سے پوچھا، جیسے اس کے کانوں نے بات ماننے سے انکار کر دیا ہو۔ دادی نے ایک اور پیاز اٹھایا، اس کا چھلکا آہستہ آہستہ اتارا، اور نہایت ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولیں ’’صرف وہ نہیں، اس جیسے تمام لوگ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: پھپھو کا بیٹا
نہ غصہ تھا، نہ طنز، بس ایسا یقین جو دلیل کا محتاج نہیں ہوتا۔ ’’ریاکار! وہ بھی عبدالعزیز؟‘‘ عباد کی آنکھیں پھیل گئیں، ’’دادی، آپ مذاق تو نہیں کر رہیں؟‘‘ دادی نے پہلی بار نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ نظر تیز نہیں تھی، بس اتنی گہری کہ عباد نے خود کو اس کے اندر گرتا ہوا محسوس کیا۔ کمرے میں طویل خاموشی اتر آئی۔ ایسی خاموشی جو آواز نہیں مانگتی، سچ مانگتی ہے۔ ’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ دادی نے اس کی جمی ہوئی نظریں محسوس کرکے پوچھا۔
’’بس.... سوچ رہا ہوں....‘‘ عباد نے آہستہ کہا۔ پھر جیسے دل کی تہہ سے ایک سوال کھینچ لایا ہو، ’’کل اگر میں بھی اسی مقام پر پہنچ گیا تو کیا تب بھی آپ یہی کہیں گی؟‘‘ دادی نے جواب دینے کے بجائے چولہے کی طرف قدم بڑھا دیا۔ چلتے چلتے بولیں، آواز میں نہ سختی تھی نہ نرمی۔ بس سچ تھا۔ ’’اگر پیشہ یہی رہا تو بالکل کہوں گی۔‘‘ عباد نے دو قدم آگے بڑھ کر کہا ’’مگر دادی، ایسا کیوں؟‘‘
دادی نے برتن سنبھالتے ہوئے کہا۔ نگاہیں کام میں الجھی تھیں مگر بات سیدھی دل پر پڑی، ’’کیونکہ یہ لوگ امداد نہیں کر رہے، خود کو پروموٹ کر رہے ہیں۔ اور جس کام میں اللہ کی خیر شامل نہ ہو، وہ آخرکار نیکی نہیں نمائش بن جاتا ہے۔‘‘
’’لیکن دادی!‘‘ عباد نے فوراً بات کاٹ دی، آواز میں بےچینی تھی، دفاع تھا۔ ’’وہ واقعی مدد کر رہے ہیں۔ اگر ساتھ میں دو چار تصویریں لے بھی لیتے ہیں تو اس میں برائی کیا ہے؟‘‘ وہ ایک لمحہ رکا، پھر آہستہ مگر یقین کے ساتھ بولا، ’’ہر انسان خوبصورت لمحے کو قید کرنا چاہتا ہے۔‘‘
دادی نے ہاتھ روک لئے۔ چولہے کی آنچ ہلکی کی اور بغیر پلٹے بولیں ’’بیٹا! فرق لمحہ قید کرنے میں نہیں، نیت قید کرنے میں ہوتا ہے۔‘‘
عباد خاموش ہوگیا۔ اس کے پاس جواب تھا، مگر یقین نہیں تھا۔ کچن کی نیم روشنی میں اس کے خواب پہلی بار اپنا عکس ڈھونڈنے لگے۔
***
’’اس دنیا سے پہلے بھی ایسے کئی عبدالعزیز گزرے ہیں۔‘‘ دادی کی آواز میں گہرا ٹھہراؤ تھا، جیسے ہر لفظ بولنے سے پہلے اپنے وزن کو پہچان رہا ہو، ’’مگر وہ تعریف سے بے نیاز تھے۔ نہ کیمرہ تھا، نہ تشہیر، نہ خود نمائی۔‘‘
وہ ذرا رکیں۔ کچن کی نیم روشنی میں ان کا چہرہ سایوں میں گھرا ہوا تھا، مگر لہجہ پوری طرح واضح۔ ’’شہرت خود ان کے در پر دستک دے جاتی تھی کیونکہ ان کا عمل دکھاوے سے پاک تھا۔ انہوں نے نیکی کو کبھی برانڈ نہیں بنایا، نہ خدمت کو کاروبار سمجھا۔‘‘ عباد ساکت کھڑا سن رہا تھا۔ اسکی آنکھوں میں اب وہ چمک نہ تھی جو چند لمحے پہلے اسکرین نے جگائی تھی۔ ’’ان کی عظمت اس میں تھی کہ وہ لوگوں کو سہارا دیتے تھے۔ خود کو اونچا دکھانے کیلئے نہیں، بلکہ دوسروں کو کھڑا کرنے کیلئے۔‘‘ دادی نے ہاتھ بڑھا کر میز پر پڑے موبائل کی طرف اشارہ کیا۔ اس اسکرین پر اب بھی کوئی ویڈیو خاموشی سے چل رہا تھا۔
’’یہ تھے اصل سیلیبریٹیز....‘‘ انہوں نے آہستہ کہا، جن کی پہچان ان کے عمل سے تھی، اسکرین سے نہیں۔ پھر وہ عباد کی طرف مڑیں، نگاہ میں سوال تھا، حکم نہیں، ’’تم ان جیسا بننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟‘‘ ایک لمحے کو وہ خاموش رہیں۔ کچن میں صرف مدھم روشنی اور عباد کی سانسوں کی آواز تھی۔ وہ سوال اب اسکرین سے نہیں، براہِ راست اس کے ضمیر سے مخاطب تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کہانی: خود سے خود کی پہچان
’’اور سچ بتاؤ، عباد....‘‘ دادی کی آواز اب اور بھی دھیمی ہوگئی، جیسے بات کان سے نہیں، سیدھی دل سے کہی جا رہی ہو، ’’ان جیسا بننے والوں کو آخر کون یاد رکھتا ہے؟ لیکن اس کے برعکس جس ذات کی خاطر تم اس راستے کو اپنانا چاہتے ہو۔ کیا اس کا یاد کرنا کافی نہیں؟‘‘ عباد نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے چہرے پر سوچوں کی دھند آہستہ آہستہ اترنے لگی۔ وہ نظریں جھکائے کبھی فرش کو دیکھتا، کبھی ہاتھ میں پکڑے موبائل کو۔ جیسے دونوں کے بیچ اپنی جگہ ڈھونڈ رہا ہو۔ دادی نے اس کی خاموشی پڑھ لی۔ وہ ’آہ!‘ بھرتے ہوئے بولیں، ’’جانے اس نسل کے دماغ میں کیا خرافات بھر دی گئی ہیں.... کسی بات کو سنجیدگی سے لیتے ہی نہیں۔ اور جس پر پوری توجہ دیتے ہیں، وہ بھی اکثر خسارے کا سودا نکلتا ہے۔‘‘
اب دونوں کمرے میں آ چکے تھے۔ روشنی یہاں نسبتاً صاف تھی، مگر عباد کے اندر ابھی بھی ایک ابہام پھیلا ہوا تھا۔ اس نے آہستہ سے نظریں اٹھائیں۔ ہونٹ ہلے، مگر آواز احتیاط کے ساتھ نکلی، ’’دادی! میں نے کب کہا کہ آپ کی بات غلط ہے؟ میں تو بس یہ پوچھ رہا ہوں....‘‘ وہ لمحہ بھر رکا، ’’کسی کے کام آنا کب سے رِیا میں شمار ہونے لگا؟‘‘
دادی نے اسے غور سے دیکھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ناراض ہوں بلکہ جیسے وہ فیصلہ کر رہی ہوں کہ اب بات کہاں تک لے جانی ہے۔ پھر نہایت ٹھہر ٹھہر کر بولیں، ’’نیکی تب تک خالص رہتی ہے، جب تک اس کے بارے میں تمہارا فرشتہ بھی لاعلم ہو۔ جہاں وہ چار لوگوں تک پہنچی اور تم نے کالر جھاڑ کر اس کا اعلان کیا۔ وہ نیکی نہیں رہتی، بیٹا! وہ دکھاوا ہو جاتی ہے۔‘‘ عباد کی پلکیں غیر ارادی طور پر نم ہوگئیں۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
دادی نے بات آگے بڑھائی، آواز میں اب نصیحت نہیں درد شامل تھا، ’’قرآن مجید اس کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے: بے شک منافق اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں حالانکہ وہ انہیں اس دھوکے کی سزا دینے والا ہے، اور جب وہ نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ سستی کے ساتھ (محض) لوگوں کو دکھانے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو یاد (بھی) نہیں کرتے مگر تھوڑا۔‘‘ (سورہ النساء: ۱۴۲)
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ مگر یہ خاموشی پہلے جیسی نہیں تھی۔ یہ وہ خاموشی تھی جس میں انسان اپنی نیت کے سامنے اکیلا کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور عباد آج پہلی بار اسکرین سے نہیں، اپنے اندر جھانک رہا تھا۔ عباد نے کچھ توقف کے بعد دوبارہ سوال کیا۔ آواز میں اب جوش نہیں تھا، بس تلاش تھی، ’’کیا.... آپ کے زمانے میں ریاکار نہیں تھے؟‘‘
’’بالکل تھے!‘‘ دادی نے فوراً جواب دیا، جیسے اسی سوال کی انہیں توقع تھی، ’’بلکہ ہر دور میں ہوتے ہیں۔‘‘ وہ ذرا ٹھہر کر بولیں، جیسے وقت کی تہوں کو کھول رہی ہوں، ’’فرق صرف یہ تھا بیٹا کہ اس وقت معاشرہ سادہ تھا۔ ذرائع کم تھے اس لئے ریاکاری بھی محدود اور کسی حد تک پوشیدہ تھی۔‘‘ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے کمرے میں پھیلی چیزوں کی طرف اشارہ کیا، ’’موبائل، اسکرین، روشنی۔ مگر آج ریاکاری ایک فن بن چکی ہے۔ جس کیلئے کیمرہ، اسٹیج اور تماشائی پہلے ہی موجود ہوتے ہیں۔‘‘ دادی ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے بولتی چلی گئیں، آواز میں دکھ بھی تھا اور مشاہدہ بھی، ’’لوگ عبادت کرتے تھے کہ نیک کہلائیں مگر آج عبادت تصویر کے بغیر ادھوری لگتی ہے۔ علم حاصل کرتے تھے عالم بننے کی چاہ میں آج خیرات بھی رسید کے بغیر نامکمل محسوس ہوتی ہے۔ سخاوت میں نیت سخی ہونے کی ہوتی تھی۔ آج خدمت ویڈیو میں قید ہو کر اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ عاجزی کے جسم میں کبھی تکبر کا دل چھپا ہوتا تھا۔ مگر آج آنسو، دکھ اور عاجزی سب ایک برانڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔‘‘
عباد نے سر جھکا لیا۔ لمحوں تک خاموش رہا، پھر جیسے کسی نتیجے پر پہنچ کر بولا ’’بات تو ایک ہی ہوئی نا، دادی.... پہلے عمل کردار میں ہوتا تھا، اب عمل مواد میں بدل گیا ہے۔‘‘ دادی نے اس کی بات آگے بڑھائی۔ ہلکے سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے، ’’ہاں! اور تم اسی مواد کو عمل بنا کر آگے بڑھانا چاہتے ہو۔‘‘ انہوں نے سوالیہ نگاہ سے اسے دیکھا۔
’’تو اس میں برائی کیا ہے؟‘‘
’’برائی نہیں....‘‘ دادی نے فوراً جواب دیا، ’’یہ توبرائی کی جڑ ہے۔‘‘ دادی کی آواز میں اس بار ذرا سختی اتر آئی، ’’پہلے بھی کچھ لوگ نیکی چھپ کر نہیں کرتے تھے۔ مگر خاموشی سے کرتے تھے۔ آج نیکی شناخت بن چکی ہے، لوگ نیکی کم، اس کی نمائش زیادہ کرتے ہیں۔‘‘ خاموش فضا میں کچھ وقت یہ بات گونجتی رہی۔
***
سوال پھر ہوا:
عباد نے ہلکی آواز میں کہا۔ جیسے لفظوں کو خود بھی یقین دلانا چاہتا ہو۔ ’’مگر دادی.... ضروری نہیں کہ سب کی نیت میں کھوٹ ہو۔‘‘
دادی نے اثبات میں سر ہلایا۔ چہرے پر نہ انکار تھا، نہ سختی۔ بس ایک ٹھہرا ہوا اعتراف، ’’صحیح کہا.... ہر شخص ایسا نہیں ہوتا۔‘‘ وہ لمحہ بھر رُکیں، پھر نہایت سنجیدگی سے بولیں، ’’لیکن جن جن کا نام تم نے لیا ہے نا، وہ سب اس بیماری میں مبتلا ضرور ہیں۔‘‘ ’’بیماری....؟‘‘ عباد چونک گیا۔ یہ لفظ اس کے لئے نیا تھا، اور ذرا خوفناک بھی۔
دادی نے نگاہ اس پر جما دی۔ آواز میں اب بھی وہی وقار تھا، ’’ریاکاری وہ بیماری ہے جو بظاہر نیکی کے لباس میں چھپی ہوتی ہے، مگر اندر ہی اندر خلوص کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔‘‘
کمرے میں سکوت پھیل گیا۔
عباد نے ایک لمحہ سوچا، پھر جیسے خود کو مجتمع کرکے اعتماد سے بولا، ’’لیکن آپ کا پوتا اس بیماری میں ملوث نہیں ہے، دادی۔‘‘ دادی نے اس کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں دعا اتر آئی، اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ٹھہر گئی۔ ایسی مسکراہٹ جو خوشی سے زیادہ فکر کا پتہ دیتی ہے۔ انہوں نے اسی جملے کو آہستہ مگر واضح انداز میں دہرایا، ’’واقعی میں ملوث نہیں ہو؟‘‘ ’’بالکل نہیں ہوں!‘‘ عباد اپنی بات پر بضد تھا۔ اس بار آواز میں دفاع تھا، شاید خود سے بھی۔ دادی نے اس کی آنکھوں میں گہری نظر ڈالی۔ ایسی نظر جو لفظوں سے زیادہ سوال کرتی ہے۔ پھر پرسکون مگر فیصلہ کن لہجے میں پوچھا، ’’اچھا.... تو اُس روز جو پارٹی دی تھی۔ وہ پیسہ کہاں سے آیا تھا؟‘‘ یہ سوال یوں گرا جیسے کسی نے اچانک اس کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔
عباد کے ہونٹ خشک ہوگئے۔ نگاہیں بھٹکنے لگیں۔ دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دینے لگی۔ وہ چاہتا تھا یہ بات کبھی دادی تک نہ پہنچے۔ مگر دادی ہمیشہ سب سے واقف رہی تھیں۔ اور اب خاموشی اس کی سب سے بڑی گواہ بن چکی تھی۔
’’وہ.... وہ دادی....‘‘ عباد کے لب ہلے مگر الفاظ ساتھ چھوڑ گئے۔ ’’ہاں، بولو۔‘‘ دادی کا لہجہ حیرت انگیز حد تک مطمئن تھا۔ جیسے جواب پہلے ہی معلوم ہوں۔ ’’ادھار لیا تھا۔‘‘ وہ بمشکل بولا۔ نگاہیں فرش پر جم گئیں۔ اور آواز لرز گئی۔
’’کیوں؟‘‘ یہ سوال مختصر تھا۔
’’کیونکہ....‘‘ اس نے گہری سانس لی۔ مگر آواز میں کچھ فرق نہ آیا، ’’میرے سارے دوست مجھے بھی اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ آگے کے لفظ گلے میں اٹک گئے۔ ’’تو تم نے ایسے دوست ہی کیوں بنائے؟‘‘ دادی نے نرمی میں لپٹی سختی سے پوچھا۔
چند لمحے خاموشی نے بات کی۔
پھر دادی نے خود ہی سلسلہ جوڑا، ’’بیٹا! جتنی چادر ہو، پاؤں بھی اتنے پھیلانا چاہئے۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر نہیں۔‘‘ اب دادی بول رہی تھیں، اور عباد خاموشی سے سنتا جا رہا تھا۔ سر جھکائے۔ ’’یہ عارضی تعریف، وقتی توجہ اور واہ واہ حاصل کرنے کی خواہش انسان کو اندر سے بے چین کر دیتی ہے۔‘‘ دادی کی آواز میں اب سنجیدگی اتر آئی تھی، ’’یہاں تک کی آدمی اسی نفسیات کا اسیر ہو جاتا ہے۔‘‘ وہ ذرا رکیں، پھر گہری سانس لے کر بولیں، ’’سارا محلہ جانتا ہے کہ مَیں نے تمہیں کس محنت، کس تڑپ کے ساتھ پالا ہے، کن مشقتوں سے تمہیں پڑھایا لکھایا ہے۔‘‘
انہوں نے اس کی طرف دیکھا، ’’اور تم؟ ایک وسیع دائرے میں اپنی ایسی مثبت تصویر قائم کر رہے ہو۔ جو حقیقت سے بالکل مختلف ہے۔‘‘
عباد نے کچھ توقف کے بعد دھیمی لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا، ’’تو.... آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مَیں Recognition Seeking کا شکار ہو رہا ہوں؟‘‘
دادی نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا، ’’کیوں؟‘‘ انہوں نے سوال الٹا رکھا، ’’کیا تم نے ان دوستوں کے درمیان اپنی ایک خاص تصویر پیش نہیں کی؟ جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہیں دیکھیں... نہ کہ جیسا تم واقعی ہو۔‘‘ ان کے لہجے میں سچ بھی تھا، اور طنز بھی مگر سب سے بڑھ کر فکر تھی۔
***
’’بیٹا، یہ تمہاری اصل شناخت نہیں بلکہ مصنوعی شخصیت کی پرورش ہے۔ جو کسی بھی لمحے ریت کے گھروندے کی طرح بکھر سکتی ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے دادی کی آواز نرم تھی مگر اس نرمی میں حقیقت کی کاٹ شامل تھی۔ عباد کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے سینے پر کوئی بوجھ رکھ دیا ہو۔ سانس ذرا بھاری ہوگئی۔ ’’اس شر سے ہمیشہ بچنا!‘‘ دادی نے باتوں ہی باتوں میں وصیت سی کر دی، ’’کیونکہ یہ دیمک صرف دنیا ہی نہیں، آخرت کو بھی چاٹ جاتی ہے۔‘‘ پھر انہوں نے نہایت وقار کے ساتھ بات کو دلیل کا لباس پہنایا، ’’اسی لئے رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خوف شرکِ اصغر کا ہے۔ صحابہؓ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ریاکاری۔ (مسند احمد)‘‘
عباد گردن جھکائے بیٹھا تھا۔ آج پہلی بار اس لفظ کی باریکی اس کے دل میں اتر رہی تھی۔
’’ریاکاری بطورِ گناہ نہیں، بطورِ بیماری۔‘‘
’’کیا.... اس سے ایمان بھی متاثر ہو جاتا ہے؟‘‘ اس نے دھیرے سے پوچھا۔ جیسے جواب سننے سے ڈر رہا ہو۔ ’’ہاں!‘‘ دادی نے اثبات میں سر ہلایا، ’’کیونکہ اس میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کر لیا جاتا ہے۔‘‘ ’’مگر میں نے تو....‘‘ عباد گھبرا کر بولا، ’’میں نے تو کسی کو شریک نہیں کیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: آخری اُمید
’’اچھی بات ہے۔‘‘ دادی نے فوراً کہا۔ پھر ہلکی سی سختی کے ساتھ بولی، ’’لیکن جو ہوچکا، اُس سے آگے مت بڑھنا۔‘‘ دادی نے کہا۔ آواز میں نرمی تھی، مگر لہجے کی تہہ میں سختی، ’’ورنہ کھانا پینا سب بند کر دوں گی۔‘‘ عباد کو یوں لگا جیسے یہ الفاظ ڈانٹ بن کر فضا میں ٹھہر گئے ہوں۔ اتنے بڑے گھر میں اس وقت صرف دو ہی وجود تھے۔ ایک کچی عمر کا، اور دوسرا زندگی کے اس موڑ پر جہاں موت کبھی بھی دستک دے سکتی تھی۔ مگر پوتے کی یتیمی نے دادی کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دے گئی تھی۔ ’’دادی....‘‘ عباد نے پوچھا، ’’کیا آپ نے کبھی یہ ہتھکنڈا نہیں اپنایا؟‘‘ وہ جانتا تھا، دادی جو سمجھا دیں اس پر دل مطمئن نہ ہو۔ یہ ممکن ہی نہیں۔ ’’کس ہتھکنڈے کو؟‘‘ انہوں نے لاپروائی سے پوچھا، جیسے سوال کی اہمیت کو جان بوجھ کر ہلکا کر رہی ہوں۔
’’نہیں....‘‘ عباد نے فوراً خود ہی سوال بدل دیا، ’’چھوڑیں۔‘‘ خاموشی ایک بار پھر کمرے میں اتر آئی مگر اب یہ خاموشی سکون نہیں، فہم کی علامت تھی۔ کچھ لمحوں کے بعد عباد نے جھجکتے ہوئے پوچھا، ’’دادی، آپ کا دل نہیں چاہتا تھا کہ لوگ آپ کو سراہیں؟ آپ کی طرف متوجہ ہوں؟ آپ کا ذکر کریں.... وغیرہ وغیرہ؟‘‘ یہ سوال لفظوں سے زیادہ اس کی آنکھوں میں تھا۔
دادی کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ ایسی مسکراہٹ جس میں عمر بھر کا تجربہ، صبر اور دعا کی روشنی شامل تھی۔ ’’سب کا ہی دل کرتا ہے، بیٹے۔‘‘ وہ لمحہ بھر کو رُکیں، جیسے الفاظ تول رہی ہوں، پھر آہستہ مگر گہرے اثر کے ساتھ بولیں، ’’مگر جہاں مقصد اللہ کی رضا ہو، وہاں تعریف اور توجہ کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ اور پھر جو مقام رب عطا کرتا ہے، اس کے آگے دنیا کی ہر واہ واہ بے معنی ہو جاتی ہے۔‘‘ ان کا لہجہ سنجیدہ تھا، مگر اس سنجیدگی میں شفقت کی ایسی حرارت شامل تھی جو دل کو تھام لیتی ہے۔ دادی نے آہستگی سے ٹیک لیتے ہوئے بات کو آگے بڑھایا، ’’اسی لئے زندگی کو ظاہری نمائش نہیں، باطنی سچائی کے ساتھ جینا سیکھو۔‘‘ یہ الفاظ نہیں تھے، نصیحت کی صورت میں رکھے گئے چراغ تھے۔ پھر وہ ذرا جھکیں، آواز میں ٹھہراؤ اور زیادہ گہرا ہوگیا، ’’کیونکہ ریاکاری انسان کو مستقل بے چینی میں مبتلا رکھتی ہے۔ وہ ہر وقت اسی فکر میں گھرا رہتا ہے کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔‘‘
دادی ایک ایک نکتہ اسکے شعور میں اس طرح منتقل کر رہی تھیں جیسے اندھیرے کمرے میں روشنی رکھ دی جائے۔ خاموشی میں ان کی باتوں کی بازگشت دیر تک ٹھہری رہی۔ انہوں نے گویا بات کو دلیل کا لباس پہنا دیا، ’’قرآن انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو خالص کرے، اپنی نیت کو درست کرے، اور اپنے باطن کو سنوارے۔ کیونکہ جب انسان اخلاص کا لباس پہن لیتا ہے تو اس کے اعمال میں برکت اتر آتی ہے، دل کو سکون نصیب ہوتا ہے، اور شخصیت میں سچائی اور استحکام جنم لیتا ہے۔‘‘ پھر انہوں نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا، ’’اخلاص ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی داخلی صداقت ہے، اور اس کا سب سے بڑا فیضان یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: لفافوں میں قید محبتیں
اچانک آواز فضا میں تحلیل ہوگئی، جیسے الفاظ تاریکی میں جذب ہوگئے ہوں۔
عباد ششدر رہ گیا۔ اس نے خالی کمرے کا جائزہ لیا۔ دیواریں، پردے، سنسان گوشے۔ سب اپنی جگہ خاموش کھڑے تھے۔ وہاں کوئی نہ تھا، سوائے ایک گہری خاموشی کے۔ اسی خاموشی میں ایک سوال اس کے دل میں گونج اٹھا، ’’میں اس بے چینی سے چھٹکارا کیسے حاصل کروں؟‘‘
سحر کی پہلی کرن نمودار ہوئی۔ تاریکی کو چیرتی ہوئی روشنی نے فضا میں تازگی گھول دی۔ عباد نے کھڑکی کی سمت دیکھا اور پھر اپنے اندر۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے روشنی صرف باہر نہیں، اس کے وجود میں بھی آہستہ آہستہ اترنے لگی ہو۔ شاید جواب کہیں باہر نہیں تھا۔ شاید وہیں، اسکے دل کے اندر، اخلاص کے پہلے قدم کی صورت میں موجود تھا۔