Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ : خواب حقیقت بنتے ہیں

Updated: August 19, 2026, 4:53 PM IST | Ansari Asmaira | Mumbai

کائنات بیس سالہ ایک باہمت لڑکی تھی، جس کی زندگی بے شمار مشکلات سے عبارت تھی۔ وہ بی اے سال دوم کی طالبہ تھی، مگر تعلیم کا سفر اس کے لئے آسان نہ تھا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کائنات بیس سالہ ایک باہمت لڑکی تھی، جس کی زندگی بے شمار مشکلات سے عبارت تھی۔ وہ بی اے سال دوم کی طالبہ تھی، مگر تعلیم کا سفر اس کے لئے آسان نہ تھا۔ گھر کے معاشی حالات کمزور تھے، اس لئے وہ اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام کام بھی انجام دیتی تھی۔

وہ نمازِ فجر سے پہلے بیدار ہوتی، وضو کرکے نماز ادا کرتی، پھر کالج کے لئے روانہ ہو جاتی۔

اس کا کالج گھر سے خاصا دور تھا۔ وہ روزانہ تقریباً ایک گھنٹے کا سفر ٹرین کے ذریعےطے کرتی۔ سفر کے دوران کھڑکی سے باہر گزرتے ہوئے مناظر کو دیکھتے ہوئے اپنے روشن مستقبل کے خواب بنتی، وہ خود کو ایک خودمختار، باوقار اور کامیاب لڑکی کے روپ میں دیکھتی، جو اپنے قدموں پر کھڑی ہے اور اپنے والدین کا نام روشن کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: طلاق کا سارا بوجھ عورت کے کندھوں پر کیوں آتا ہے؟

کائنات جانتی تھی کہ منزل آسان نہیں، لیکن اس کے دل میں یقین کی شمع ہميشہ روشن رہتی۔ کبھی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے کالج کا کام ادھورا رہ جاتا تو اساتذہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا، مگر وہ ہر تکلیف خاموشی سے ُبرداشت کرتی اور کبھی ہمت نہ ہارتی۔ اس کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ اپنی تقدیر بدلنے کا وسیلہ تھی۔

کائنات کے دل میں ایک اور خواب بھی پروان چڑھ رہا تھا۔ وہ صرف ایک تعلیم یافتہ لڑکی نہیں بننا چاہتی تھی بلکہ ایک اچھی شاعرہ، افسانہ نگار، مصنفہ اور ماہر ادب بننے کی خواہش بھی رکھتی تھی۔ اس کے احساسات بہت گہرے تھے مگر افسوس اس کے اس سفر میں اس کا کوئی رہنما موجود نہ تھا جو اس کی صلاحتیوں کو نکھارتا۔ اس نے خود ہی سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ شاعری، افسانے، ناول اور دیگر ادبی کتابوں کا مطالعہ کرتی، نئے الفاظ سیکھتی اور اپنی تحریر کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کرتی۔

اردو زبان سے اسے بے پناہ محبت تھی۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ اُردو ہی اس کے جذبات کی حقیقی ترجمان ہے۔ اسی محبت نے اسے اُردو زبان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا۔ لوگوں نے اسے سمجھایا کہ اُردو میں مستقبل کے مواقع کم ہیں، لیکن کائنات اپنے خوابوں پر یقین رکھتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کوئی زبان رکاوٹ نہیں بنتی، بلکہ کامیابی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اردو سے محبت ہی نے اسے ایک نئے راستے پر گامزن کیا۔ جب وہ جونئیر کالج میں تھی، تب اسکے کالج میں بیت بازی کے مقابلے کا اعلان ہوا، جس کے مختلف ادوار دوسرے کالجوں میں منعقد ہونے تھے۔ کائنات نے ہمت کرکے اس مقابلےمیں حصہ لیا۔ اس کیلئے اسٹیج پر کھڑے ہو کر ہزاروں لوگوں کے سامنے اشعار سنانا آسان نہ تھا، مگر اس نے اپنے خوف پر قابو پا لیا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : کاسۂ الفت

اس نے مجموعی طور پر چار بیت بازی کے مقابلوں میں شرکت کی۔ ان میں سے دو مقابلوں میں کامیابی حاصل کی اور ایک مرتبہ ’بہترین بیت خواں‘ کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔ جب اس کا نام اسٹیج پر پکارا گیا تو اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ اسے انعام کے طور پر نقد رقم بھی ملی جو اس کی محنت کا پہلا عملی صلہ تھا۔

کائنات کی لگن، محنت اور جذبے کو دیکھ کر تقریب کے مہمانِ خصوصی نے بھی اس کی بھر پور حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کائنات کو دعائیں دیں اور نصیحت کی کہ وہ اپنی تعلیم اور ادبی سفر کو اسی عزم اور استقامت کے ساتھ جاری رکھے۔

اس دن کائنات کے دل میں امید کی ایک نئی کرن روشن ہوئی۔ اس نے خود سے وعدہ کیا کہ وہ ہر مشکل کا ڈٹ کے مقابلہ کرے گی، اپنی تعلیم مکمل کرے گی اور ایک دن اپنی شاعری، تحریروں اور کردار سے اپنے والدین، اساتذہ اور اپنے ادارے کا نام روشن کرے گی۔

بلاشبہ خواب وہی حقیقت بنتے ہیں جنہیں پورا کرنے کیلئے انسان مسلسل محنت، صبر، استقامت اور یقین کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

(افسانہ نگار مہاراشٹر کالج، ناگپاڑہ، کی ایس وائی بی اے کی طالبہ ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK