Inquilab Logo Happiest Places to Work

کہانی: خود سے خود کی پہچان

Updated: July 01, 2026, 1:52 PM IST | Shaikh Saeeda Unsari | Mumbai

نشاط کو ایسا لگا ہر آزمائش اپنے ساتھ مثبت پہلو لے کر آتی ہے۔ وہ آپ کو توڑتی نہیں بلکہ آپ کی خوبیوں کو ابھارتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

نشاط کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ کس طرح ایک ماہ خادمہ کے بغیر گزرے گا، خادمہ ایک ماہ کی چھٹی پر جو جا رہی تھی۔ وہ سوچنے لگی کیسے وہ گھریلو کاموں سے نپٹے گی؟ کیونکہ وہ اپنی مصروفیات میں اس قدر جکڑی ہوئی تھی کہ گھریلو کاموں کے لئے وقت کی گنجائش نظر نہیں آرہی تھی۔ کیونکہ کئی برسوں سے نشاط نے گھریلو کاموں کی ساری ذمہ داریاں خادمہ کو دے رکھی تھی صفائی کرنا، ڈسٹنگ کرنا، کچن کی صفائی، برتن دھونا، کپڑے دھونا سکھانا تہہ کرنا وغیرہ اور اچھی خاصی رقم بھی دیتی تھی۔

نشاط اپنی مصروفیات میں محدود ہو کر رہ گئی تھی اُس کو وقت کی گنجائش نظر نہیں آرہی تھی۔ اُس کو اس بات کا بالکل اندازہ ہی نہیں تھا کہ انسان کی اہلیت کی پیمائش ناممکن اور کٹھن حالات میں ہی ابھر کر سامنے آتی ہے جو اس کے ساتھ ہوا۔ پھر بھی نشاط نے اپنے آپ کو اس آزمائش سے بچانے کیلئے پڑوس کی خادماؤں سے کہا کہ میرا کام کر دو، مَیں زیادہ رقم دونوں گی، تمہارے وقت کے مطابق کرنا وغیرہ مگر کچھ بات نہیں بنی۔ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا سب نے معذرت کرلی۔ نشاط کے اوپر غصہ اور ایک اضطرابی کیفیت طاری ہوگئی۔ سمجھ میں نہیں آہا تھا کہ کیا کیا جائے؟ بات دراصل یہ ہے کہ ہر مسئلہ کا حل اپنی مرضی، اپنی پسند، اپنے مفاد کے مطابق نہیں ہوتا ہے۔ اکثر مسائل کا حل اپنی پسند اپنی مرضی کے خلاف بھی ہوتا ہے۔ ان کو ماننے ہی میں نجات کی راہ ہوتی ہے۔ نامناسب حالات سے ابھرنے کے لئے غصہ نہیں ٹھنڈے دماغ کی ضرورت ہوتی ہے۔ نشاط کو یہ بات سمجھ میں آئی کہ تبدیلی کے لئے حالات کو نہیں خود کو بدلنا پڑتا ہے خود کو حالات کے تئیں ڈھالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سرتاج

اس نے اپنے حالات اپنی مصروفیات کا جائزہ لیا کہ کہاں وہ وقت ایڈجسٹ کرسکتی ہے۔ اس نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالنے کی کوشش شروع کی، اس محاورے کے تحت ایک ہزار میل کا سفر بھی پہلے قدم کا محتاج ہوتا ہے.... اس کا یہ پہلا قدم آہستہ آہستہ آگے قدم جمانے لگا۔ پھر تھوڑی تھوڑی وقت کی گنجائش نکلنے لگی۔

نشاط نے اپنی مصروفیات اور گھریلو کاموں کو منظم کرنے کیلئے ٹائم ٹیبل کا سہارا لیا۔ جس کی وجہ سے اس کی مصروفیات اور گھریلو کاموں میں ایک توازن قائم ہوا۔ گھر کے کام اور مصروفیات ایک نظم و ضبط کے دائرے میں آگئے جن سے خوشی کا احساس ہوا۔ خوشی ایک کیفیت ایک رویہ کا نام جو انسان کو مسرور کر دیتی ہے۔

ایک بہت بڑی تبدیلی جو رونما ہوئی وہ یہ کہ ایک دن کی خادمہ کی غیر حاضری اس کو ناگوار گزرتی تھی وہ ناگواری اب نہیں رہی وہ خوشی خوشی سارے کام کررہی تھی۔ اس تبدیلی کا اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ کس طرح کچن کی صفائی، برتنوں کا دھونا چمکنا ترتیب سے رکھنا، باتھ روم کی صفائی، گھر کے فرنیچر کی ڈسٹنگ وغیرہ اس کے سکون کا باعث بن گئے ہیں۔ وہ گھر کا ہر کام خادمہ کے ذمے کرکے خود کو گھر سے الگ کر لیا تھا.... مگر اب گھر اور نشاط کے درمیان سے خادمہ کے وجود کا ختم ہونا گویا اُس کو اپنے گھر سے محبت سی ہوگئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: لفافوں میں قید محبتیں

نشاط کو ایسا لگا ہر آزمائش اپنے ساتھ مثبت پہلو لے کر آتی ہے۔ وہ آپ کو توڑتی نہیں بلکہ آپ کی خوبیوں کو ابھارتی ہے۔ ایک ایسے راستے پر ڈال دیتی ہے جس پر آسانیاں آپ کی منتظر ہوتی ہیں جہاں پر پوشیدہ صلاحیتوں کو فروغ ملتا ہے ’’خود سے خود کی پہچان‘‘ ہوتی ہے جس کام کو وہ ناممکن تصور کرتی تھی اب وہ اس پر قابو پا گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK