’’میری منگنی طے ہوگئی ہے۔‘‘ عریشہ نے اطلاع دی جب وہ سب کینٹین میں سموسوں سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ ’’کس کے ساتھ؟‘‘ سب سے پہلے یہی سوال آیا۔ ’’پھپھو کے بیٹے کے ساتھ۔‘‘ عریشہ نے جواب دیا۔
’’اب ہمارے پاس بھی پھپھو کی آمد و رفت زیادہ ہوگئی ہے اور کافی مشکوک بھی.... اور یہ سموسہ میں کیا ہے جو اتنا تیکھا لگ رہا ہے!‘‘ سونیا نے سموسہ کھاتے کھاتے کہا تھا۔
’’تم نے تو سموسہ اور پھپھو دونوں کو مشکوک کر دیا۔‘‘ بیلا کو ہنسی آئی۔ ’’ہاں، سچ میں.... سموسہ میں پھپھو کا تیکھا پن تو شامل نہیں کیا....‘‘ شفا بھی ہنسی۔
’’اب مجھے یہ تو نہیں پتا لیکن تم لوگوں کو سچ مچ پھپھو کے بیٹوں کے علاوہ کوئی اور نظر کیوں نہیں آتا۔‘‘ بیلا نے ناک چڑھائی۔ ’’ہمارے یہاں ملّا کی دوڑ مسجد تک ہی ہوتی ہے۔‘‘ سونیا نے محاورہ جھاڑا تو وہ سب سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگیں۔
’’یہ رشتوں کی بات میں ملّا کہاں سے آگئے۔‘‘ ’’ملّا کی دوڑ مسجد تک یعنی رشتے گھوم پھر کر پھپھو یا ماموں کے بیٹوں کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔‘‘ سونیا نے وضاحت دی تو وہ سب اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگیں۔
’’ہمارے یہاں بھی ملّا صاحب کی دوڑ مسجد تک ہی ہے۔‘‘ وہ سب وہی محاورہ اداس بھرے لہجے میں دہرانے لگیں۔ ’’لیکن ہمارے ملّا کی دوڑ کا تو پتا نہیں لیکن مابدولت کسی پھپھو کے بیٹے سے شادی نہیں کریں گے۔‘‘ بیلا نے اعلانیہ ہوا میں ہاتھ لہرائے۔ ’’اچھا! تمہارے امی ابا مان ہی جائیں گے جیسے....‘‘ سونیا نے جل کر کہا۔
’’تم سب عام لڑکیوں کی طرح اپنے پھپھو کے بیٹے ’شفیق رفیق‘ سے شادی کرنا اور زندگی بھر اپنی امی اور پھپھو کی لڑائی دیکھتے رہنا۔ مَیں تو کبھی نہ کروں پھپھو کے بیٹے سے شادی۔‘‘ بیلا نے ان سب کو ایسے جلایا کہ وہ سب سموسہ چھوڑ بیٹھیں۔ اور اس کے لتے لینے کھڑی ہوگئیں۔
’’کیسے نہیں کرو گی میڈم؟ بھئی.... جب پھپھو صاحبہ رشتہ لے کر آتی ہیں تو اپنے خود کے ابّا پرائے بن جاتے ہیں۔ بیٹی سے زیادہ بہن پیاری ہو جاتی ہے۔ اور بہن کی ہر خطا معاف، اور امی جو ساری زندگی نند سے دور رکھنے کی کوششیں کرتی ہیں اچانک ابّا کی ہم نوا بن کر پھپھو کی طرف دار بن جاتی ہیں.... چلو جی قصہ تمام شد۔‘‘ سونیا نے سموسہ بھی اپنے قصہ کی طرح ہی ختم شد کر دیا تھا۔
’’اب بتاؤ.... تم کیسے روک پاؤ گی یہ پھپھو نما سونامی کو؟‘‘ شفا بھی کمر بستہ تھی بیلا پر چڑھائی کرنے کیلئے۔ ’’وہ ایسے کہ میری پھپھو تو کئی برس پہلے ہی ہم سے لڑ کر جو باہر چلی گئیں تو اب تک واپس نہ آئیں۔ اب تو ہم سب بھول بھی گئے کہ ہماری پھپھو بھی ہیں۔ ہاہا.... یعنی ایسی کوئی امید ہی نہیں۔‘‘ بیلا نے اطمینان سے کہا تو وہ سب اسے رشک سے دیکھنے لگیں۔ ’’سچ میں بیلا....‘‘
’’ارے لڑ کرہی گئی ہیں تو صلح تو کبھی بھی ہوسکتی ہے۔ ایسی نا ممکن چیز تو نہیں....‘‘
’’ابھی تو دونوں پارٹی صلح صفائی کے موڈ میں نہیں لگ رہیں۔ ہمارے یہاں تو نام بھی نہیں لیتے کبھی جیا پھپھو کا....‘‘ بیلا نے سموسہ کو اپنے دانتوں سے کترا۔
اور وہ سب ’’چچ... چچ...‘‘ کرنے لگیں۔
’’کیا چچ... چچ... کر رہی ہو بھئی۔ میرے لئے تو یہ اطمینان کافی ہے کہ کم از کم ہمارے گھر کوئی پھپھو اپنے بیٹے کا رشتہ لےکر نہیں آئے گی۔ کیونکہ جیا پھپھو اکلوتی ہیں۔‘‘ بیلا کی اس بات پر تو ان سب کا منہ قابل رشک والے انداز میں کھلا۔
’’سچ میں....‘‘
’’بیلا تم تو کافی قسمت کی دھنی ہو۔ اکلوتی پھپھو۔ وہ بھی پردیس میں.... نہ آنے جانے کا سوال نہ جھگڑا.... میرے یہاں تو ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی پھپھو آجاتی ہیں۔ اور جب جب آتی ہیں کسی نہ کسی بات پر منہ پھلا کر ضرور بیٹھ جاتی ہیں۔ اور یوں لگتا ہے پھپھوؤں میں بھی کوئی مقابلہ آرائی ہو کہ دیکھیں کون کس بہانے سب سے اچھا منہ پھلا لیتا ہے۔‘‘ سونیا کے جلے کٹے انداز پر ان سب کی ہنسی نکل گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سرتاج
’’تو یہ طے ہے کہ اپنے پاپا اور پھپھو کے اختلاف کا فائدہ بیلا صاحبہ اُٹھا رہی ہیں۔‘‘
’’بالکل! آکر تو دیکھے کوئی پھپھو کا بیٹا شفیق۔ ایسا وار کروں گی کہ اِسے نانی ہی یاد آجائے۔‘‘ بیلا ہنسی تھی اور وہ سب اسے رشک سے دیکھ کر رہ گئیں۔
وہ کالج سے پڑھائی کم گپ شپ زیادہ کرکے واپس آئی تو ہال کا نقشہ سبزی منڈی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ٹماٹر، لیموں یہاں وہاں اوندھے پڑے تھے۔ کدو، ہری مرچیں اور پالک کھیرے گاجروں سے آدھا ہال بھر چکا تھا۔
’’آہ! امی.... آج سبزی منڈی کا چکر لگانا ضروری تھا کیا....‘‘ وہ سبزیوں کو دیکھ کر ہی چڑ گئی۔
’’اچھا ہوا آگئیں تم۔ جلدی سے منہ ہاتھ دھو آؤ۔ اور یہ ساری ترکاری فریج میں رکھ دو۔‘‘ امی اس سبزی کے ڈھیر سے بھنڈیاں چن چن کر نکال رہی تھیں۔ ’’یہ ہر ہفتہ گھر میں سبزی منڈی کیوں سجتی ہے۔‘‘ اس کا موڈ ان کے منصوبہ پر آف ہوا۔
’’سبزیاں صحت کیلئے اچھی ہوتی ہیں۔‘‘ امی کی بھنڈی کی تلاش جاری تھی۔
’’یہ آپ ہر بار کہتی ہیں لیکن ہمیں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ پڑوسی کی بکریوں کی صحت اچھی ہوجاتی ہے۔‘‘ وہ صوفہ پر لڑھک گئی۔ اس کی بات پر اس سے چھوٹے دونوں بھائی ہنسنے لگے۔ ’’ہاں آپی! فی الحال سبزیوں کے فوائد ہم سے زیادہ پڑوسی کی بکری کو پہنچ رہے ہیں۔‘‘ ہادی اس سے تین سال چھوٹا تھا جبکہ سعدی پانچ سال۔
’’اب بیکار کی باتیں مت کرو۔ جلدی آؤ۔ یہ سب صاف کرنے ہے اور عصر تک ہو جانا چاہئے۔‘‘ امی نے اسے گھرکا تو وہ بادل ناخواستہ اٹھی تھی۔ جب کچھ دیر بعد واپس آئی تو امی ابھی بھی بھنڈیوں میں الجھی تھیں۔ ہادی اپنی کتابیں لے کر بیٹھا تھا اور سعدی صوفہ پر اپنا ہوم ورک کر رہا تھا۔ وہ بیزار ہو کر امی کے قریب آ بیٹھی تھی۔ جہاں امی ڈھیر ساری سبزیاں کارپٹ پر ڈالے انہیں الگ الگ کر رہی تھیں۔ ’’یہ لو، دھنیا صاف کرو۔ اس کے بعد یہ پھلی توڑنا۔‘‘ امی پالک کے پتے ایک ہاتھ میں جماتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اسے دھنیا دیتے ہوئے بولیں۔ ’’ جی!‘‘ اس نے بادل نخواستہ ڈھیر سارا دھنیا اٹھایا اور توڑنے لگی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کرایہ دار
’’پتا نہیں یہ ہر ہفتہ ترکاری منڈی گھر میں کیوں لگ جاتی ہے۔ اور وہ بھی صرف ہم عورتوں کیلئے۔‘‘ اس نے دھنیا توڑتے ہوئے بے فکر صوفہ پر بیٹھے ہادی اور سعدی پر نظر ڈالی تھی۔
’’یہ ہادی کیوں نہیں توڑتا سبزی۔ وہ بھی تو کھاتا ہے۔‘‘ دھنیا توڑتے کافی دیر ہوئی تو آخر اس نے پُرسکوں بیٹھے ہادی کو نشانہ بنا ڈالا۔
’’اس کا ایگزام ہے بیلا۔‘‘ ہادی سے پہلے بیٹے کی حمایتی ماں بول پڑی۔ ’’اور سعدی....‘‘ اسے آرام سے صوفہ پر بیٹھا سعدی کھٹکنے لگا۔
’’اسے سمجھ ہی نہیں کون سی ترکاری کیا ہے۔ وہ میتھی پالک دھنیا سب کو ایک ہی چیز سمجھتا ہے۔‘‘ امی کی تلاش شاید ختم ہوگئی تھی وہ ساری بھنڈیاں الگ کر چکی تھیں۔ ’’تو وہ تو مجھے بھی سمجھ نہیں۔ یہ جو آپ نے مجھے توڑنے دیا ہے وہ پالک ہے؟ اس نے وہ پتہ ہاتھ میں لہرایا۔
’’دھنیا ہے وہ۔ پالک وہاں ہے۔‘‘ امی نے قہر برساتی نظروں سے اشارہ کیا۔ ’’اوہ....‘‘
لیکن آپ جو یہاں صنفی فرق رکھتی ہیں نا وہ مجھے بہت محسوس ہوتا ہے۔ یہ سبزیاں توڑنے، چننے، کاٹنے کا کام صرف عورت کیلئے کیوں مخصوص کیا گیا ہے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا۔‘‘ اس نے تقریر کے انداز میں کہا لیکن امی کی ایک نظر ہی کافی ہو جاتی تھی تقریر کو خاموشی میں بدلنے کیلئے۔ وہ بھی خاموش ہوگئی۔
’’امی! یہ دھنیا ختم کیوں نہیں ہو رہا۔‘‘ کچھ دیر کے بعد اس نے پھر ایک شکوہ کیا۔
’’ہاں! زیادہ منگوایا ہے۔ تمہاری جیا پھپھو آگئی ہیں دبئی سے۔‘‘
امّی کی بات پر وہ حیران ہوگئی۔
’’تو کیا جیا پھپھو دبئی سے یہ ترکاری کھانے آرہی ہیں۔‘‘ ہادی بھی اپنی پڑھائی روک کر پوچھ بیٹھا۔ بیلا اور سعدی بھی امی کو دیکھنے لگے تھے۔
’’افوہ! تم لوگ بس بات پکڑنے بیٹھ جانا۔ اب جیا آئی ہے تو دعوت تو رکھنی ہوگی نا۔ ویسے بھی وہ اپنے بیٹے کا رشتہ بیلا کیلئے کہہ گئی ہے۔‘‘ امی نے ساری بھنڈیاں اٹھائیں اور فریج میں رکھیں۔
’’کیا....‘‘ بیلا چیخی تھی۔
اس کے ہاتھ میں دبا دھنیا بھی یوں مرجھایا جیسے وہ بھی صدمہ میں ہو۔
ز ز ز
بیلا نے جب سے جیا پھپھو کے آنے کی خبر سنی تھی جلے پیر کی بلی کی طرح یہاں وہاں پھر رہی تھی۔ ایک تو اچانک آمد اور دوسری رشتہ کی خبر.... وہ تو یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ اپنی سہیلیوں کو کیا منہ دکھائے گی۔ کیونکہ امی پاپا کے انداز سے یوں لگ رہا تھا کہ اس بارے میں وہ سنجیدہ ہیں۔ اور وہ جو کبھی بھی پھپھو کے بیٹے سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر بیٹھی تھی اب بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگی تھی۔ اس نے شفا کو ساری کہانی سنائی تب شفا نے یہ نادر مشورہ دیا کہ وہ اپنی امی اور نند کے بنتے رشتے میں دراڑ ڈال سکتی ہے تو ڈال دے۔ اور وہ اب وہی دراڑ ڈالنے امی کے پاس آبیٹھی تھی۔ دل میں سو باتیں یاد کر آئی تھی جنہیں کہہ کر وہ امی کو نند سے بدظن کرسکتی تھی۔
’’امّی! یہ جیا پھپھو اچانک کیسے آرہی ہیں۔ اور آتے ہی رشتہ دینا اور وہ بھی میرا۔ سب چھوڑ کر انہوں نے مجھے کیوں پسند کیا؟ اس میں ضرور کچھ ایسا ہے جو آپ کو سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ اس نے اپنے لہجہ کو حتی الامکان سنسنی خیز بنانے کی کوشش کی تاکہ امّی سوچ میں پڑجائیں۔ ’’مطلب....‘‘ امّی کشن سیٹ کر رہی تھیں۔ مصروف کے درمیان بولیں۔
’’کچھ تو گڑبڑ ہے دیا تم نہیں سمجھو گے!‘‘ اس نے بالکل اے سی پی پردیومن کے انداز میں ہاتھ لہرائے تھے۔ ’’کیا بک بک کئے جا رہی ہو۔‘‘ امی کو اپنے کام میں یوں مداخلت ویسے بھی پسند نہیں آتی تھی۔ اور اس کے انداز پر ان کا دماغ کا میٹر گھومنے لگا تھا۔ ’’سوچیں ذرا.... خاندان میں تایا تائی کی بیٹیاں ہیں۔ چاچا چاچی کی بیٹی ہے اور دوسری کئی لڑکیا ں بھی ہیں پھر آخر انہیں مجھ میں کیا نظر آیا جو وہ یوں رشتہ کرنے آ رہی ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ وہ پرانی دشمنی کی کوئی کسر نکالنے کیلئے یہ رشتہ کر رہی ہوں۔‘‘ اپنی دانست میں اس نے بہت عقلمندی کی بات کی تھی مگر جب امی کو دیکھا تو لگا وہ کچھ غلط بول گئی ہے۔ ’’تایا کی دونوں بیٹیاں جیا کے بیٹے سے کافی بڑی ہیں اور چچا کی بیٹی کافی چھوٹی۔ اب تم میں ویسے تو سچ مچ کوئی ہیرے نہیں جڑے مگر وہ بھی کیا کرے اس کے بیٹے کی جوڑ کی تو تم ہی تھی۔ تو وہ کیا کرتی بیچاری۔‘‘ امی نے اس انداز میں کہا کہ وہ تپ کر رہ گئی۔ ’’آپ تو کہتی ہیں جیا پھپھو کی شادی آپ کی شادی کے بعد ہوئی، تو ان کا بیٹا مجھ سے بڑا کیسے ہوگیا۔‘‘
’’ہاں شادی تو بعد میں ہی ہوئی تھی مگر تم جلدی نہ ہوئیں۔ اس کا تو شادی کے ساتھ ہی بیٹا ہوگیا تھا۔ تم پورے پانچ سال بعد دنیا میں خراماں خراماں تشریف لائی تھیں۔‘‘ امی کے کہنے پر اسے پہلی بار اپنی سستی کاہلی پر غصہ آیا۔
’’کتنا اچھا ہوتا اگر اس سے پہلے وہ خود آتی۔ یوں آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا.... اُف یہ نا تھی میری قسمت!‘‘ اس نے دل ہی دل میں خود کو کوسا۔
’’کہہ تو آپ ایسے رہی ہیں جیسے اس میں بھی میری غلطی ہو۔‘‘ کہنے کے ساتھ ہی وہ پچھتائی تھی۔ چونکہ اب امی اسے ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے کچا چبا جائیں گی۔ ’’مطلب.... وہ.... مجھے کسی پھپھو کے بیٹے ’شفیق رفیق‘ سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ اس نے دل کڑا کر کہہ دیا۔
’’اس کا نام اویس ہے ’شفیق‘ نہیں۔‘‘ امی نے لب چبا کر کہا۔ ’’جو بھی ہو۔ مَیں پہلے ہی کہہ دے رہی ہوں مجھے پھپھو کے بیٹے سے شادی نہیں کرنی۔‘‘ اس نے ہمت کرکے کہہ ہی دیا۔
’’لیکن کیوں؟‘‘ امی اس کے انداز پر زچ سی ہوگئیں۔ ’’اب دیکھیں نا.... جیا پھپھو کی اور آپ کی لڑائی اتنے برسوں کی ہے۔ تو وہ اچانک اس رشتہ سے ختم تو نہ ہوگی! یوں بھی نند بھاوج کے رشتہ کی تلخی ہمیشہ ایسے رشتوں کے درمیان رہتی ہے۔ آگے وہی لڑائی جھگڑے تو تکار نئے رشتے کو بھی خراب کر دیتے ہیں۔‘‘ اس نے شفا کی دی گئی، رٹی رٹائی دلیل سے امی کو سمجھانے کی کوشش کی۔
’’تم سے کس نے کہا جیا اور میری لڑائی تھی۔‘‘ امی اسے اب گھور رہی تھیں۔
’’تو جب آپ سے لڑائی نہیں تھی تو کس سے ہوئی تھی؟ عام طور پر نند بھاوج کی لڑائی ہی سنا تھا۔‘‘ وہ حیران ہوئی۔ ’’تمہارے پاپا اور جیا کی۔‘‘ امی نے اطمینان سے کہا۔ ’’ہیں سچی.... یہ بھائی بہن ہو کر لڑے تھے اور وہ بھی اتنی لمبی لڑائی۔ مَیں اور ہادی تو ایک دن میں صلح کر لیتے ہیں۔‘‘ وہ تو حیرانی کے سمندر میں ہی غوطہ زن ہوگئی تھی۔
’’ہاں! بات تو معمولی ہی تھی۔ جب جیا کا رشتہ آیا تھا تمہارے پھوپھا کا تو وہ گاؤں میں رہتے تھے۔ تمہاری پھپھو اس زمانہ کی گریجویٹ، خوبصورت سی جبکہ تمہارے پھوپھا عام شکل و صورت کے اور کچھ سیدھے سادے تھے۔ شروع شروع میں تو جیا نے کوئی شکایت نہیں کی مگر تمہارے تایا چاچا کو چونکہ یہ رشتہ زیادہ پسند نہیں آیا تھا جبکہ تمہارے پاپا اس رشتہ کے لئے بضد تھے تو سب کو ہاں کرنی پڑی۔ تمہارے پاپا زیادہ سوجھ بوجھ والے تھے اور تایا کے مقابل پڑھے لکھے بھی تو اس وقت سب چپ رہے لیکن بعد میں جیا کے کان بھر دیئے کہ اسے کئی اچھے رشتے آسکتے تھے مگر وحید نے زبردستی اس رشتہ کیلئے ہامی بھروائی۔ اس وقت جیا غصہ میں تھی بھائی سے لڑ پڑی۔ تمہارے پاپا کا مزاج کون سا ٹھنڈا.... انہوں نے بھی جیا کو باتیں سنائیں۔ غصہ سے جیا ہمیشہ نہ آنے کا کہہ کر چلی گئی۔ وہاں سسرال کے نام پر تو بس ایک بوڑھی ساس تھی۔ جیسے ہی وہ مر گئی تمہارے پھوپھا پہلے خود باہر گئے بعد میں جیا کو بلا لیا۔ اس وقت اویس بس ایک سال کا تھا۔ جب باہر چلی گئی تو یوں بھی آنا جانا کم ہوا۔ اور کبھی آئی بھی تو تایا کے پاس کچھ دن رہ کر چلی جاتی۔ تمہاے پاپا سے ملنے وہ کبھی نہیں آئی۔‘‘ امی جیسے ماضی میں کھو گئیں۔ ’’اوہ.... تو اس کہانی کے ولن پھوپھا تھے۔‘‘ اس نے بہت بڑی گتھی سلجھانے کے انداز میں سر ہلایا۔ ’’نہیں بلکہ رشتے ناطوں میں ولن کوئی نہیں ہوتا۔‘‘ امی نے فورا کہا۔ ’’تو پھر ولن کون ہے؟‘‘ اس کی سوئی جیسے وہیں کہیں اٹکی تھی۔
’’رسالے کہانیاں فلموں نے تمہارا دماغ خراب کر دیا ہے۔‘‘ امّی کو غصہ ہی آگیا۔
’’ولن ہوتے ہیں وقت اور حالات... کیونکہ جھگڑا تو کب کا ختم ہوچکا تھا، تمہارے پھوپھا بھی کافی بدل گئے۔ شہر کے رنگ ڈھنگ سیکھ کر وہ ایسے اسمارٹ ہوگئے کہ جیا کے سارے شکوہ دور ہوگئے۔ ادھر تمہارے تایا چاچا بھی وقت کے ساتھ ہمارے ساتھ ٹھیک ہوگئے۔ بس جیا ہی کبھی کبھار آتی تھی تو ملاقات ہوجاتی تھی۔ بس گھر پر وہ نہیں آئی۔ اب ارادہ ہے اس کا آنے کا۔ تمہارے ابا بھی اب سب بھول جانا چاہتے ہیں۔ دونوں میں محبت بھی تو بہت تھی۔‘‘
امی پھر ماضی میں کھو گئیں۔ اور وہ جیا پھپھو کے ارادہ کا سن کر کچھ اور حواس باختہ ہوگئی تھی۔
’’آنا تھا تو یوں ہی آجاتیں نا پھپھو۔ یہ شوشہ کیوں چھوڑا...‘‘ وہ دل ہی دل میں بڑبڑا کر رہ گئی۔
’’بیلا.... بیلا....‘‘ امی کی پکار پر وہ ان کے کمرے میں چلی گئی۔ ’’دیکھو! آج جیا کے پاس جانے کا پلان ہے۔ تم تیاری کر لو۔‘‘ انہوں نے نسبتاً نرم لہجہ میں کہا۔ ’’پاپا، ہادی سعدی نہیں آئیں گے۔ صرف میں اور آپ؟‘‘ وہ کچھ حیران ہوئی۔
’’وہ بعد میں آجائینگے۔ ہم کچھ جلدی چلے جائینگے۔ وہاں کچھ ہیلپ ہو جائیگی جیا کو۔‘‘ ’’لیکن وہ تو خود یہاں آنے والی تھیں نا۔ پھر ہم کیوں جا رہے ہیں؟‘‘ اس نے مشکوک نظروں سے امی کو دیکھا۔
’’اس کا ارادہ تو وہی تھا مگر تمہارے پاپا نے اور مَیں نے سوچا پہلے ہم جائینگے.... اس بہانے تم جیا کا گھر بھی دیکھ لوگی۔‘‘ امی نے آرام سے بات ختم کی تھی اور بیڈ پر کروٹ بدل کر لیٹ بھی گئی تھیں۔
’’اوہ! تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے وہ ’شفیق‘ مجھے دیکھے گا.... پسند کریگا.... پھر رشتہ بھیجے گا.... ہونہہ! اللہ کرے مَیں اسے پسند ہی نا آؤں....‘‘ وہ دل ہی دل میں منصوبے بنا نے لگی کہ وہ ایسے کیا کرے کہ وہ اسے دیکھتے ہی ریجیکٹ کر دے۔
دوسری صبح اس نے سرمئی رنگ (بقول امی کے اداس رنگ) کی کرتی، بلیک ٹراؤزر پہنا تھا۔ بالوں میں ڈھیر سارا تیل ڈال کر کس کر بال بنائے۔ اور پھر دوپٹہ سر پر اوڑھ لیا۔ کانوں میں اور گلے میں زیور پہننا غیر ضروری سمجھا اور ہاتھ میں ایک بریسلیٹ ڈال کر وہ امی کے سامنے آئی تھی۔ امی نند کے گھر لے جانے والے گفٹ مٹھائی چیک کر رہی تھیں اس پر سرسری نگاہ ڈال کر وہ اپنے کاموں میں مصروف ہوگئی تھیں۔
وہ لوگ ٹھیک ایک بجے پہنچے جیا پھپھو کے وسیع و عریض بنگلہ پر جو پھپھو نے کرایہ پر لیا تھا۔ وہ متاثر ہوتی اندر کی جانب بڑھی تھی۔
امی مسلسل اسے وہ ہدایات دے رہی تھیں جو وہ اکثر کسی بھی میزبان کے گھر جاتے ہوئے دیتی تھیں۔ لکڑی کے منقش دروازے کو وہ جب دھکیل کر اندر بڑھیں تو جیا پھپھو صوفہ پر بیٹھی تھیں۔ انہیں دیکھ کر فوراً اُٹھی تھیں اور امی کی جانب بڑھ کران کے گلے لگ گئی تھیں۔ وہ سلام کرنے کی غرض سے جھکی تو اِسے بھی گلے لگایا۔ اور اسے صوفہ پر بیٹھا گئیں۔ امی بھی ساتھ ہی بیٹھ گئی تھیں۔ کچھ دیر بعد جیا پھپھو کا بیٹا بھی وہاں آکر سلام کرکے اور امی سے ایک دو بات کرکے چلا گیا تھا۔ بیلا تو دیکھ بھی نہ سکی وہ کیسا تھا۔
اس کے بعد تو باتوں کا سلسلہ شروع ہوا جو ایسا لگ رہا تھا کہ اگلے دو گھنٹوں تک جاری رہنے والا تھا۔ وہ اب کافی بوریت محسوس کرنے لگی تھی۔ سارے لاؤنج پر چار پانچ بار نظریں ڈال کر پھپھو کے ذوق کی داد بھی دے چکی تھی۔
اس کی پانچویں جماہی پر جیا پھپھو ہنسی تھیں ’’بیلا! تم ایسا کرو کچن میں چائے بنا لاؤ۔ مَیں خود بناتی مگر میرے جوڑوں میں درد ہے۔ اس لئے زیادہ چل پھر نہیں پا رہی۔‘‘ امی نے بھی اسے دیکھ کر جیا پھپھو کی بات کی تائید کی۔
’’ہاں بیلا..... جاؤ!‘‘
اور امی کی بات پر وہ فوراً اُٹھی تھی۔ اور کچن کی جانب بڑھی۔
لیکن کچن میں جاتے ہی اسے جھٹکا سا لگا کہ وہاں جیا پھپھو کا بیٹا ٹیبل پر ٹماٹر کھیرا پیاز کاٹ رہا تھا۔ وہ چونکہ اندر آچکی تھی اس لئے اب فوراً باہر جانا کچھ عجیب سا لگتا اس لئے وہ وہیں کھڑی رہی۔
’’وہ مَیں چائے بنانے آئی تھی۔‘‘ اس نے گاجروں کو نفاست سے کاٹتے اویس کو دیکھ کر کہا تھا۔ ’’اوہ! مَیں بنا دیتا ہوں۔‘‘ وہ چھری سائیڈ میں رکھ کر اٹھا ۔ تو وہ ٹیبل کے ساتھ رکھی کرسی پر ٹک گئی۔
’’آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔ ملازمہ سے کروا دیتے۔‘‘ وہ حیرانی سے ٹیبل پر دھری سبزیوں کو دیکھنے لگی تھی جو اس مشاقی سے کاٹی گئی تھیں کہ داد کی لازمی حقدار تھیں۔
’’ہمیں ملازموں کے ہاتھوں کا کھانا زیادہ پسند نہیں.... تو امی اور مَیں ہر چیز مل کر کرتے ہیں۔‘‘ وہ چائے چڑھا کر واپس ٹیبل پر آیا تھا۔
’’اوہ!‘‘
اسے لگا اسے بھی کچھ مدد کرنی چاہئے تو وہ کھیرا کاٹنے لگ گئی لیکن جب قریب رکھے خوبصورت کٹے کھیروں کو دیکھا تو دل چاہا پوچھے کھیرے گاجر کاٹنے کا کوئی کورس تو نہیں کیا! خود اس سے کٹنگ صحیح نہیں ہو رہی تھی جس پر وہ شرمندہ ہوئے جا رہی تھی جبکہ وہ بہت آرام سے سب کام کر رہا تھا۔ اتنی دیر میں چائےپک گئی تو وہ چائے کے کپ نکالنے لگا۔ بیلا بھی وہیں سلیب کے قریب ٹھہر کر اسے چائے نکالتے دیکھنے لگی۔ وہ چائے نکالتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا، ’’اتنی حیرت کس بات پر ہے۔ مَیں تو وہاں ہمیشہ سے امی کی ہیلپ کرتا رہا ہوں۔‘‘
’’جی! لیکن کبھی یہاں کسی مرد کو یہ سب کرتے نہیں دیکھا۔ مطلب اس طرح ٹماٹر کھیرے کاٹتے....‘‘ اس نے سچ بات بتائی وہ ہنس دیا۔ ’’میرے خیال میں مردوں کو بھی کچن کے کچھ بنیادی کام کرنے آنے چاہئیں۔ اگر کبھی ضرورت پڑے تو کوئی دقت نہ ہو۔ اس لئے.... ویسے امی بتا رہی تھیں آپ کو کچھ ایشو ہے پھپھو کے گھر رشتہ کرنے سے۔‘‘ بیلا دنگ رہ گئی۔
’’اف!‘‘ اب کیا کہے۔ امی پر غصہ آیا پہلے معلوم ہوتا تو وہ کچھ تیاری ہی کر آتی۔ ویسے وہ اس طرح اچانک اس سوال پر آئے گا اس نے سوچا نہ تھا لیکن جواب تو دینا تھا۔
’’ساری فرینڈز کے سامنے شو مار چکی تھی کہ ایسے عام روایتی رشتے پھپھو ماموں کے بیٹے سے شادی نہیں کرنی کیونکہ آگے ایسے رشتوں میں تلخیاں آتی ہیں تو ایسی جگہ رشتے کرنا مجھے کبھی بھی پسند نہیں رہا۔ غیروں میں زیادہ لحاظ ہوتا ہے بہ نسبت اپنوں کے۔ تو بس یہی بات تھی ورنہ تو کوئی ایشو نہیں۔‘‘ وہ اعتماد سے بولی تھی۔
امی اور جیا پھپھو کی اس ملاقات کی وجہ بھی اب سمجھ آئی تھی۔
’’اوکے! لیکن میرا حساب الٹ تھا۔ میں شروع سے اپنے خاندان، مٹی سے جڑنے کا آرزو مند رہا۔ مجھے وہ لوگ عجیب لگتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اپنوں سے غیر اچھے۔ میرے خیال میں غیر کتنے ہی اچھے کیوں نا ہوں اپنے خونی رشتوں کا نعم البدل کبھی نہیں ہوسکتے۔ مَیں نے وہاں سب رشتہ داروں سے کٹ کر زندگی گزاری تو اس بات کا زیادہ احساس ہوتا تھا۔ کئی غیروں میں اپنے ماموں چچا کو ڈھونڈنا چاہا مگر وہ خون کی گرمی تڑپ ویسے کہیں نظر نہیں آئی جیسی اپنے خون میں ہوتی ہے۔ مجھے چچا ماموں اور ماموں کی فیملیز ہمیشہ یاد آتی تھیں۔ اس لئے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ شادی اپنوں میں ہی کرنی ہے۔‘‘ وہ اب چائے کپوں میں انڈیل رہا تھا۔ بیلا پر شدید حیرت غالب تھی۔
’’ویسے آپ کی ساری کوششیں رائیگاں ہی گئیں۔ کوئی چاہے کتنا ہی سر پر تیل انڈیل کر، ڈل کلر کے لباس پہن لے مگر جس نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہو اس پر کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔‘‘ وہ اب اسے کیبنٹ سے بسکٹ وغیرہ نکالنے کا اشارہ دے کر خود ایک پلیٹ پکڑ کر کھڑا تھا۔
بیلا کچھ حواس باختہ سی کیبنٹ کھول کر بسکٹ نکال کر پلیٹ میں رکھنے لگی۔
’’آپ کی بات اس وقت درست ثابت ہوتی جب میری امی اور آپ کی امی میں واقعی ہی نند بھاوج والی چپقلش ہو تی۔ یہاں تو راوی شروع سے چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ یعنی وہ روایتی نند بھابھی والی لڑائی موجود ہی نہیں تھی تو اب اعتراض کس بات کا۔‘‘ اس کا انداز ایسا تھا کہ وہ یکدم پلٹ گئی۔ ’’خوامخواہ کچن میں چلی آئی۔ یہ امی اور پھپھو بھی نا!‘‘
’’آپ یہ چائے لے چلیں.... مَیں بسکٹ لے کر آتا ہوں۔‘‘
اس کی گھبراہٹ کو محسوس کرتے ہوئے وہ مسکرا کر اسے چائے کی ٹرے تھما چکا تھا۔ اس نے جلدی سے ٹرے تھامی اور تیزی سے باہر آئی تھی۔
امی کی نظریں اس پر ہی تھیں۔ اویس بھی بسکٹ کی پلیٹ تپائی پر رکھ کر اس کے مقابل صوفہ پر بیٹھ چکا تھا۔ سب کو چائے دے کر وہ خود بھی ایک کپ لے کر بیٹھ گئی تھی۔
اسے کبھی شرمانا نہیں آیا تھا۔ وہ ہمیشہ ایسی ہیروئنز کی شرمانے والی اداؤں کا مذاق اڑاتی تھی جو کبھی پلّو دانتوں میں لیتی تھیں تو کبھی ایک ادا سے اپنا چہرہ چھپاتی تھیں۔ اور اٹھتی گرتی پلکوں سے شرم کا اظہار بھی اسے ہنسنے پر مجبور کرتا تھا۔ مگر اب وہ چائے کے کپ کو گھورتی سرخ گال لئے شرما رہی تھی اور خود کو ہی کوس رہی تھی کہ یہ موئی شرم آ کیوں رہی ہے جبکہ اس کے مقابل بیٹھا شخص تو چائے پینے میں مصروف تھا۔
امی اور جیا پھپھو اسے ایک نظر دیکھ کر مسکرا کر دوبارہ باتوں میں مشغول ہوگئی تھیں۔
اور وہ سوچ رہی تھی۔ اگر پھپھو کا بیٹا اس طرح سبزی ٹماٹر کاٹنے میں ہیلپ کرسکتا ہے تو بھلا کون کافر انکار کرے۔ یہ تو اس کے حساب سے بڑا عالمی مسئلہ تھا کہ مرد بھی گھر کے کاموں میں یوں دلچسپی لیں۔ عورت کا بوجھ آدھا آدھا بانٹیں ۔ ایسے مرد کہاں ہوتے ہیں۔
اب چائے کے کپ تھامے وہ سوچ رہی تھی کہ اپنی فرینڈز کو کیسے کہے گی کہ پھپھو کے بیٹے اتنے بُرے بھی نہیں ہوتے!