مجتبیٰ کی بیوی ثریا ہر دن مشکلات کا سامنا کر رہی تھی۔ وہ بھی پڑھی لکھی، اچھے گھرانے کی لڑکی تھی۔ کبھی صبر کرتی تو کبھی اپنے ابو سے شکایت کرتی۔
EPAPER
Updated: June 09, 2026, 5:15 PM IST | Tasneem Muzammil Shaikh | Mumbai
مجتبیٰ کی بیوی ثریا ہر دن مشکلات کا سامنا کر رہی تھی۔ وہ بھی پڑھی لکھی، اچھے گھرانے کی لڑکی تھی۔ کبھی صبر کرتی تو کبھی اپنے ابو سے شکایت کرتی۔
مجتبیٰ اپنے کمرے کی گیلری میں ٹہل رہا تھا۔ اچانک وہ رکا اور نیچے دیکھنے لگا۔ سڑک پر گاڑیاں چل رہی تھیں اور تیز ہوائیں اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ ایک ہاتھ سے وہ اپنے بال صحیح کرنے لگا۔ اس کے اندر کی خاموشی گاڑیوں کی آوازوں سے ٹوٹ رہی تھی، اور وہ بے چین کبھی گاڑیوں کو دیکھتا، کبھی ٹہلنا شروع کر دیتا۔ اچانک اسے یاد آیا کہ اس کی پریشانی صرف ایک ہی شخص دور کرسکتی ہے، اور وہ اس کی اپنی امی ہے۔ وہ بے چین ہو کر فون اپنی جیب سے نکالتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ امی کو کال کرے یا نہیں؟ کیا کہے؟ امی کیا سوچیں گی؟ وہ کشمکش میں تھا، پھر اس نے آخرکار تھوڑی سی ہمت اور ڈر کے ساتھ کال ڈائل کر دی۔
’’امی! میں بول رہا ہوں۔ اس اتوار تک نہیں آئی تو دیکھئے... امی! وہ لڑکی بہت عزیز ہے مجھے۔ آپ کے دیر کرنے کی وجہ سے اگر اس کا رشتہ کہیں اور ہوا تو میں زندگی بھر شادی نہیں کروں گا!‘‘
’’ارے بیٹا! یہاں بھی ضرورت ہے میری، تمہاری نانی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور میں نے یہاں ایک سرپنچ کی لڑکی دیکھ رکھی ہے جو بہت خوبصورت ہے۔ وہ ایک سو ایکڑ زمین اور کافی کچھ دینا چاہتے ہیں۔ بہت اچھا رشتہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کرایہ دار
’’امی! وہ آپ کے پاس ہی رکھئے۔ جو لڑکی مجھے پسند ہے مجھے اُسی سے شادی کرنی ہے۔ آخری بار بول رہا ہوں کہ آپ آرہی ہیں یا نہیں۔‘‘
مجتبیٰ اپنی امی کومسلسل منانے کی کوشش کررہا تھا؛ لیکن امی کو اس کی شادی کسی اور لڑکی سے شادی کروانی تھی۔ جیسے تیسے مجتبیٰ نے اپنے گھر والوں کو منا لیا؛ لیکن جو لڑکی پسند کی تھی ابھی اس کے والدین کی رضامندی باقی تھی۔
مجتبیٰ کے تین بھائی اور تھے۔ بڑے بھائی کی شادی ان کی خالہ زاد بہن سے ہوچکی تھی۔ چھوٹے گاؤں سے ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کا طریقہ تھا کہ پہلے خاندان کی لڑکیوں سے شادی کروائی جائے۔ مجتبیٰ کے لئے بھی اس کی امی نے ان کے خاندان کی لڑکی دیکھی تھی جو جہیز کے نام پر اپنے ساتھ کافی کچھ لے کر آنے والی تھی۔ اگر بہو کے انتخاب میں ماں باپ کی پسند کی شامل نہ ہو تو زندگی کٹ جاتی ہے؛ لیکن زندگی مزیدار ہو یہ ضروری نہیں۔ ایسا ہی مجتبیٰ کے ساتھ ہوا۔ خیر سے شادی تو ہوگئی مجتبیٰ کی۔ مجتبیٰ کے گھر جڑواں بیٹے ہوئے۔ وہ بہت خوش تھے۔
مجتبیٰ کی بیوی ثریا ہر دن مشکلات کا سامنا کر رہی تھی۔ وہ بھی پڑھی لکھی، اچھے گھرانے کی لڑکی تھی۔ کبھی صبر کرتی تو کبھی اپنے ابو سے شکایت کرتی۔ اس کے ابو ہمیشہ اُسے ایک بات کہتے ’’بیٹا ثریا! زندگی میں وقت ایک جیسا نہیں ہوتا، آج وہ لوگ تمہیں پسند نہیں کر رہے، لیکن مجتبیٰ کا رویہ کتنا اچھا ہے، وہ ایک اچھا زندگی کا ساتھی ثابت ہو رہا ہے اور جو پریشانی، چاہے معاشی ہو یا گھریلو، آج نہیں تو کل ختم ہوجائے گی۔‘‘ ’’ابو! لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آتی، میرے سسرال والوں کی کہ ان کا رویہ مجتبیٰ کے سامنے الگ ہوتا ہے ان کے پیچھے الگ۔‘‘
’’بیٹا! یہ تو دنیا داری ہے۔ کوئی بھی اپنے بیٹے کو یہ نہیں بتائے گا کہ تم اس کی بیوی انہیں ناپسند ہے۔‘‘
’’ابو! لیکن یہ تو منافقانہ رویہ ہوا نا !‘‘
’’ کوئی بات نہیں، ہر رویہ اپنے مثبت عمل سے ہم بدل سکتے ہیں اور لوگوں کو اپنی اچھائی سے اپنا بنا سکتے ہیں۔‘‘
زندگی کی گاڑی تیز رفتاری سے چلنے لگی۔ مجتبیٰ کے باقی دو بھائیوں کی بھی شادی دوسری خالہ زاد بہنوں سے ہوگئی۔ مجتبیٰ کے والدین نے ثریا کو کبھی اپنایا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ہائے وہ اشک
کبھی کبھی زندگی میں دو لوگوں کی محبت کامیاب ہوجاتی ہے؛ لیکن ان سے جڑے رشتے ناکام ہوجاتے ہیں۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ ثریا اپنے ساتھ ہوتی زیادتیاں خاموشی اور صبر کے ساتھ برداشت کر رہی تھی۔ مجتبیٰ اپنے بچوں کے لئے دن رات محنت کرتا رہتا۔ تینوں بھانجیاں اپنی خالہ کو بہت عزیز تھیں اور ثریا کے ساتھ ہر شخص زیادتی کرتا۔ دھیرے دھیرے وہ بات مجتبیٰ کے علم میں آگئی۔ آخرکار ایک دن ایسا کچھ ہوا کہ مجتبیٰ اپنی بیوی، بچوں کو لے کر علاحدہ ہوگیا۔
مجتبیٰ کو اپنے گھر والوں پر بہت بھروسہ تھا۔ وہ بھروسہ ٹوٹنے کے بعد کہیں نہ کہیں اس کا دل اداس ہوگیا۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتا کہ یہ صرف اس لئے ہے کہ یہ الگ گھرانے کی لڑکی ہے اور اس کو اس وقت بہت افسوس ہوا جب اس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اپنے والدین کا منفی رویہ بہت تکلیف دہ تھا۔ اس کے لئے اس نے اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر علاحدہ ہوگیا؛ لیکن وہ مہینے میں دو مرتبہ بیوی بچوں کو لے کر والدین سے ملنے جاتا اور جو فرائض اپنے والدین کے تحت تھے، وہ ذمہ داری کے ساتھ پوری کرنے کی کوشش کرتا۔
علاحدہ ہونے کے بعد بھی اس نے کبھی اپنے والدین سے بدتمیزی یا اپنے بھائیوں سے گلہ شکوہ نہیں کیا۔ اس کا مانتا تھا کہ رشتوں میں ساتھ رہنا ضروری نہیں، رشتہ محبت سے قائم رہنا ضروری ہے۔ مجتبیٰ کی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آنے لگے، جس میں ثریا نے قدم سے قدم ملاکر اس کا ساتھ دیا؛ لیکن مجتبیٰ کا صبر کا پیمانہ ایک دن آنکھوں سے چھلک پڑا، جب اُسے پتہ چلا کہ ان کا آبائی گھر بیچ کر اس کے والدین نے دو بیٹیوں اور تینوں بیٹوں کوبرابر حصہ دیا اور ایک کاروبار کرکے اپنے تینوں بیٹوں کے نام کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: قربانی
جب وہ اپنے بھائیوں کے نئے گھر گیا تو آنکھوں میں کئی سوال تھے اور شکوہ بھی تھا دل میں اپنے والدین سے لیکن جب سوال کیا: ایسا کیوں؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ تمہاری جو عالیشان شادی کروائی تھی، اس میں بہت خرچ ہوا تھا، اس کا قرض ہم نے تمہارے حصے میں سے ادا کر دیا۔ وہ خاموش ہوگیا۔ جہاں تک والدین کی بات آتی ہے، چاہے دنیا ہو یا دین۔ ان کے ساتھ سختی سے پیش آنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ وہ یہ سوچ کر خاموشی سے نئے کاروبار اور گھر کی مبارکباد دے کر واپس آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے قسمت میں نہیں لکھا ہوگا۔
ثریا نے بہت جھگڑا کیا لیکن مجتبیٰ نے کہا ’’کما لیں گے ہم۔ اور ابھی اللہ نے بہت اچھے حال میں رکھا ہے، تم فکر نہ کرو، سب ٹھیک کردوں گا مَیں۔‘‘
مجتبیٰ نے ثریا کو سمجھا تو دیا؛ لیکن اس کو اپنے والدین اور اپنے بھائی بہنوں کی یہ حرکت بالکل اچھی نہیں لگی۔ وہ عصر کی نماز پڑھ کر وہیں بیٹھ گیا مسجد میں اور سوچنے لگا کہ وہ کہاں غلط تھا کہ اس کے اپنے رشتوں نے اس کے ساتھ ایسا کیا۔ اچانک اس کے بچپن کا دوست عبدالرحمٰن جو حافظ قرآن تھا نظر آیا۔
’’السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! مجتبیٰ بھائی! کیا حال ہے؟‘‘
بجھے بجھے لہجے میں مجتبیٰ نے کہا ’’الحمدللہ! ٹھیک ہے۔‘‘
عبدالرحمٰن نے کہا ’’نہیں! ٹھیک تو نہیں لگ رہا ہے کچھ۔‘‘
مجتبیٰ نے مسکرا دیا۔
’’ارے بھئی! بتاؤگے نہیں تو راستہ کیسے ملے گا اور دوستوں کے سامنے تو دل کا حال رکھ دینا چاہئے، ہوسکتا ہے کہ کچھ صحیح مشورہ مل جائے۔ دوستوں کی باتوں میں اللہ نے شفا رکھی ہے۔‘‘
عبدالرحمٰن کی باتیں اس وقت مجتبیٰ کے دل پر مرہم کا کام کررہی تھیں۔ مجتبیٰ نے سارا حالِ دل سنا دیا کہ ’’یہ مسئلہ ہے: اپنی مرضی سے شادی کی، تو والدین اور گھر والوں نے نہ بیوی کو تسلیم کیا اور نہ اچھا سلوک اور اب الگ ہوگیا ہوں، تو یہ کارنامہ کیا، یہ دولت جو بانٹ دی گئی یا جو جائیداد میرے والدین نے میرے بھائیوں کیلئے خریدی ہے، کیا یہ ساری زندگی چلے گی، کیا ان کو کچھ یاد نہیں کہ سب اولادوں کیساتھ برابری کا سلوک ہونا چاہئے؟‘‘
مجتبیٰ کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔ عبدالرحمٰن نے مجتبیٰ کے گلے میں ہاتھ ڈالا اور بڑی گرمجوشی سے کہنے لگا ’’دنیا تو جگہ ہی دھوکہ کی ہے میرے یار! اور تم تو وہ فرمانبردار بچے ہو کہ گھر سے خاموشی سے نکل آئے۔ اس کے بدلے اللہ تمہارا درجہ بلند کرنے والا ہے۔ پتہ ہے، اللہ تعالیٰ دنیا میں ہمیں اپنے اپنوں سے توڑتا ہے، وہ سارے رشتے جسے ہم اپنے ہونے کاد عویٰ کرتے ہیں؛ کیونکہ ان کی محبتیں اتنی ہوتی ہیں کہ ہمیں دوسری چیزیں دکھائی نہیں دیتی۔ اور اب تمہارا دل خالی ہوچکا ہے۔ اب تمہیں قربِ الٰہی حاصل ہوگا اور جس کے دل میں صرف اللہ بس جائے اس کی ہر چیز آسان، یہاں گھر اور معاش نہیں دیا اپنوں نے تو ذرا صبر کرو، جنت میں آپ کے صبر کیلئے محل تیار ہے۔ اللہ نے تمہیں اپنے قرب کیلئے چنا ہے، تو یہ معاملہ بھی اس پر چھوڑ دو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: نانی اور رانی
اچانک مجتبیٰ کے موبائل کی کال بیل بجی۔ عبدالرحمٰن کی طرف دیکھ کر مجتبیٰ نے کہا ’’ایک منٹ! کمپنی کا فون ہے۔‘‘
’’بھائی کال لے لو۔‘‘
’’جی جی ضرور۔‘‘
مجتبیٰ نے فون پر بات ہونے کے بعد عبدالرحمٰن کو گلے لگایا اور کہا ’’امریکہ کے لئے جن دس لوگوں کا انتخاب ہوا، اس میں میرا بھی نام شامل ہے اور مجھے اگلے ہفتے جانا ہے۔‘‘
عبدالرحمٰن نے مبارکباد دی اور کہا ’’جسے قربِ الٰہی حاصل ہو، اس کو ہر قدم، ہر مرحلے پر کامیابی حاصل ہوتی ہے۔‘‘
دو سال گزرے تھے کہ مجتبیٰ کی فیملی بھی امریکہ منتقل ہوگئی اور امریکہ پہنچتے ہی سارے رشتوں میں مٹھاس بھی آگئی۔
ایک دن شام میں گھر کے گارڈن میں مجتبیٰ اور ثریا چائے پی رہے تھے۔ ثریا نے کہا ’’یہ سب ایک خواب سا لگتا ہے نا، اپنے بچے امریکہ کے کالج میں پڑھ رہے ہیں، تمہارے والدین اتنی محبتیں لٹاتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں فون پر۔ کمپنی نے یہاں اتنا عالی شان گھر دیا ہے رہنے کے لئے، ایسا سوچا بھی نہیں تھا، یہ سب ہوگا۔‘‘
مجتبیٰ نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھ کر جواب دیا ’’یہ قرب الٰہی ہے اور قرب الٰہی صبر سے حاصل ہوتا ہے۔ زندگی میں کچھ پانا ہو تو وہ کچھ کھونے کے بعد ہی نصیب ہوتا ہے۔ جنت بھی مرنے کے بعد ہی نصیب ہوگی اور ہمیں زندگی میں قرب الٰہی مل گیا۔ جس سے اللہ راضی، اس کے قدموں میں دنیا آجاتی ہے۔ کبھی کبھی وہ آزماتا ہے، کبھی رشتوں سے، کبھی تکلیف سے؛ لیکن جب دنیا کی محبت ختم ہو جاتی ہے تو خود بخود قرب الٰہی حاصل ہوجاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سجدۂ شکر
ثریا نے کہا ’’ابو ہمیشہ ایک شعر کہتے تھے، اس کا مطلب اب سمجھ میں آیا:
’’دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجئے رشتہ
دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے!‘‘
مجتبیٰ نے کہا ’’بے شک!‘‘ دونوں نے الحمد للہ کہا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیئے۔