• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: یہ نئے مزاج کے رشتے

Updated: January 28, 2026, 5:40 PM IST | Maryam Bint Mujahid Nadwi | Mumbai

رشتوں سے زیادہ دولت اور جائیداد کو فوقیت دینے والوں کے دلوں کو جھنجھوڑنے والا افسانہ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

وہ اوائل جنوری کی ایک عام سی صبح تھی۔ گلی میں خاموشی تھی، کیونکہ ابھی سورج افق پر پوری طرح ابھرا نہیں تھا، لیکن اس کی کچھ باریک کرنیں ’نکہت وِلا‘ کی کھڑکیوں سے چھن کر نکہت کے چہرے پر پڑتی ہوئی اس کی سنہری آنکھوں میں چمک رہی تھیں۔ نکہت اپنی بیٹی زینب سے بات کر رہی تھی جو امریکہ میں رہائش پذیر تھی۔ نکہت چائے کا ایک بڑا سا مگ لئے صحن میں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی تھی۔ اپنے سامنے والی کرسی پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھوں میں ایک اداسی اتر آئی، میز پر رکھے پھولوں کی خوشبو اسے دور سے آتی محسوس ہوئی۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی نکہت کی خاموشی زینب کے دل کے زخموں کو کرید رہی تھی۔ کچھ دیر بات کرنے کے بعد نکہت نے فون کال منقطع کی اور کرسی سے ٹیک لگاکر آنکھیں موند لیں۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : آخر یہ خواب بکھرنے ہی تھے!

وکیل عامر صاحب کو اس دار فانی سے کوچ کئے سال مکمل ہوچکا تھا، مگر ایسا لگتا جیسے عامر ابھی اپنی مارننگ واک سے آکر چائے کی فرمائش کریں گے۔ ہمیں کچھ چیزوں کے جانے کا احساس ان کے جانے کےفوراً بعد نہیں ہوتا، کیونکہ وہ چیزیں کسی نہ کسی شکل میں ہمارے ساتھ رہ جاتی ہیں!

عامر صاحب ایک بڑے وکیل تھے، جنہوں نے عزت اور ایمانداری سے اپنے کریئر میں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن پچھلے سال ہی وہ ایک کار حادثہ میں مالک حقیقی سے جا ملے۔ ان کی اچانک حادثاتی موت نے نکہت کے شب و روز اور ذہنی سکون کو کافی حد تک متاثر کیا تھا۔ ان کے تینوں بیٹے الگ رہتے تھے اور سیٹل تھے۔ ایک بیٹی امریکہ میں رہتی تھی۔ دو منزلے کا یہ مکان عامر صاحب نے بڑے چاؤ اور ارمان سے بنایا تھا، جس کا ہر کمرہ بیچ میں بنے کھلے صحن میں کھلتا تھا، جہاں ہر طرح کے پھول کیاریوں میں سجے مہکتے رہتے تھے۔ جن دیواروں نے نکہت اور عامر کی ہنسی اور کلکاریاں سنی تھیں، آج وہاں خاموشیوں کا راج تھا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : برابری

آج کا دن نکہت کے لئے بہت خاص تھا۔ کئی راتوں سے وہ ایک نکتہ کے متعلق سوچ کر مضطرب اور پریشان ہوتی رہی تھی، لیکن آج وہ ایک فیصلہ کرکے مطمئن ہوچکی تھی۔ آج نکہت نے ایک چھوٹی سی دعوت رکھی تھی۔ سورج کے سر پر چڑھنے سے پہلے ہی ’نکہت وِلا‘ میں اشتہا انگیز کھانوں کی خوشبو رقص کر رہی تھی۔ صاف ستھرا گھر مہمانوں کا منتظر تھا۔ پہلی بار گھنٹی بجی تو نکہت اور عامر کا بڑا بیٹا سرور، اپنی بیوی علیزے اور دو بچوں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ ماحول معتدل تھا، ابھی چائے کا دور چل ہی رہا تھا کہ پھر سے گھنٹی بجی۔ ملازمہ دروازہ کھولنے کے بعد آنے والے مہمانوں کو اندر لے آئی۔ نعمان، ان کا سب سے چھوٹا بیٹا، اپنی بیوی اور ایک بیٹی کے ساتھ آیا اور اپنی نشست سنبھال لی۔ سرور اور نعمان دونوں ایک دوسرے کو وہاں دیکھ کر کچھ حیران ہوئے تھے۔ انہیں لگا یہ صرف ’ان کی فیملی‘ کی دعوت تھی۔ دونوں کا رویہ سرد تھا، مگر دونوں نے ہی کچھ بھی کہنے سے، یا پھر سے جائیداد کی تقسیم والے موضوع کو چھیڑنے سے خود کو باز رکھا۔ ہلکی پھلکی گفتگو چل رہی تھی۔ چائے ابھی ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ تیسرا مہمان، منجھلا بیٹا احمد، اپنی بیوی اور چار سالہ بیٹے کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔ دونوں بھائی احمد سے کافی سرد مہری سے ملے، محض علیک سلیک پر ہی اکتفا کیا اور اپنا موبائل نکال کر مصروف ہوگئے۔ البتہ ہمیشہ لڑنے جھگڑنے والی خواتین خوش گپیوں اور زندگی کے ان مسائل پر ایک نہ ختم ہونے والی گفتگو میں منہمک ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سسرال سے آگے....

آج کل اکثر خاموشیاں گنگنانے والا ’نکہت وِلا‘ بچوں اور بڑوں کی ہنسی میں مدہوش تھا۔ ایسا منظر اسے کم ہی نصیب ہوتا، کیونکہ نکہت کے تینوں بیٹے اپنے گھروں اور زندگیوں میں مصروف رہتے۔ نکہت وقتاً فوقتاً ایسی دعوتوں کا اہتما م کرتی رہتی تھی، مگر ان میں سے کوئی آتا کوئی غائب رہتا۔ ایسا بہت کم ہوتا کہ وہ سب اکٹھے جمع ہوتے۔

کچھ دیر بعد ٹیبل پر ناشتہ لگنے پر سب اپنی اپنی کرسیاں کھینچ کر بیٹھ گئے۔ نکہت اپنی پوتی سے اس کی اسکول ٹرپ کا پوچھ رہی تھی۔ اچانک علیزے، سرور کی بیوی بول پڑی، ’’امی، اب کیا بتاؤں، صوفیا اور ارسلان کی پڑھائی اور فلیٹ کا خرچ اتنا زیادہ ہے کہ دوسرے اخراجات میں کمی کرنی پڑتی ہے۔ ہمیں ٹرپ کینسل کرنی پڑی۔ ارسلان کی ٹیوشن کی فیس کا ایڈوانس جمع کروانا تھا۔‘‘ پھر کچھ توقف کے بعد چہرے پر مظلومیت سجائے، اپنی پلیٹ میں مٹن کوفتہ نکالتے ہوئے بولی، ’’اگر پاپا (عامر) ہمیں وہ پلاٹ خریدتے وقت ہمارا حصہ دے دیتے تو آج ہمارا خود کا گھر تو ہوتا!‘‘

’’علیزے بھابھی، سرور بھائی ایک اچھی پوسٹ پر ہیں، پھر آمدنی بھی بہتر ہی ہے۔ احمد تو ابھی تک اسی پوسٹ پر اٹکے ہوئے ہیں جس پر دو سال پہلے تھے۔‘‘ احمد کی بیوی حنا نے لقمہ جوڑا۔

’’اگر دو سال پہلے پاپا مجھے کچھ رقم ادھار، یا میرا حصہ ہی دے دیتے تو میری بھی پوزیشن آج سرور بھائی جیسی ہوتی۔‘‘ احمد حسب ِ عادت وہی شکوہ کرنے لگا۔ یہ اس کی عاد ت تھی وہ ہمیشہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ اپنے مرحوم والد کے کندھوں پر مڈ کر خود مطمئن ہوجاتا تھا۔

نکہت یہ سب سن رہی تھی، مگر اس نے دسترخوان کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاموشی برقرار رکھی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : درد سے مسکراہٹ تک

اب نعمان کی باری تھی، جب سب شکوہ کر رہے ہوں تو اس کا چپ رہنا عجیب سا لگ رہا تھا۔ وہ تو اپنی زندگی کی ہر ناکامی کا ذمہ دار والدین کو ٹھہراتا تھا، ’’آپ کا پھر بھی آفس میں ترقی کا معاملہ ہے۔ مجھے تو کچھ پیسے اور دے کر وہ بیرون ملک والی جاب مل جاتی، مگر....‘‘

’’اگر تمہیں اتنی ہی شکایتیں ہیں بیٹا، تو ٹھیک ہے، یہ گھر بیچ ہی دیتے ہیں۔‘‘ نکہت مزید سن نہیں سکی اور بول پڑی۔ ’’کیا سچ میں، امی!‘‘ علیزے اور حنا ایک ساتھ بولیں۔ ’’رکو، مَیں ابھی آتی ہوں۔‘‘

نکہت اپنے کمرے سے کچھ کاغذا ت لے آئی۔ بچے اس دوران صحن میں کھیلنے جا چکے تھے۔ نکہت کی آواز میں ایک ٹھہراؤ تھا، ’’مَیں نے پہلے ہی احمر بھائی سے سب انتظام کروا لیا ہے۔ تم لوگ یہاں دستخط کردو۔‘‘ احمر جو عامر صاحب کے جگری دوست اور خود بھی ایک وکیل تھے، نے نکہت کو قانونی کارروائی میں مدد کی تھی۔

کمرے میں ایک لمحے کے لئے خاموشی چھا گئی۔ پھر خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سب کے چہروں پر ابھر آئے۔ کیونکہ عامر کے انتقال کے بعد جب بھی یہ گھر بیچنے کی بات ہوتی، نکہت انکار کر دیتی، اور اکثر تو رو بھی دیتی تھی کہ اتنے ارمانوں سے بنایا گھر کو کیوں کر فروخت کریں؟

وہ ہر طرح سے اپنے بچوں کو جوڑ کر رکھنے کی کوشش کرتی رہتی تھی۔ ہر چھوٹے، بڑے موقع پر دعوت کا اہتمام کرتی۔ تینوں بیٹوں کو بلاتی، اکثر تو وہ بہانے تراشتے رہتے مگر جب بھی دعوت میں آتے تو نکہت انہیں سمجھانے کی اور انہیں آپس میں باندھ کر رکھنے کی کوشش کرتی۔ مگر تقریباً ہر دعوت کا اختتام ناراضگی یا بحث سے ہوتا، جس سے رشتوں میں محبت کے بجائے اور کشمکش بڑھتی گئی۔ نکہت پریشان رہتی کہ کیسے اپنے بچوں کو جوڑ کر رکھے گی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : گھر تو آخر اپنا ہے....

جہاں سب خوشی خوشی دستخط کر رہے تھے، وہیں بہوؤں کی سوچ ایک الگ نقطے پر مرکوز تھی: اگر یہ گھر نہیں رہے گا تو امی کہاں رہیں گی؟

ایک سوال جس نے تینوں بہوؤں کی خوشی کو آدھا کرکے رکھ دیا تھا۔ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی آزادی کھونا نہیں چاہتی تھیں۔ سرور، نعمان اور احمد بھی اپنی بیویوں کے مزاج سے خوب واقف تھے۔ اور انہیں بھی یہی فکر لاحق ہوگئی۔ تینوں بہوئیں نکہت کو کن انکھیوں سے دیکھنے لگیں۔

’’زینب کی کال آئی تھی، وہ مجھے اپنے پاس بلا رہی ہے۔ ورنہ میں تم تینوں کے پاس تھوڑا تھوڑا رہ لیتی۔‘‘ ماں آخر ماں ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی آنکھوں سے ان کے دل کی ہر بات پڑھ لیتی ہے، سمجھ لیتی ہے۔ اور کبھی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہتی جو ان کے لئے تکلیف کا باعث بنے۔ نکہت بھی اپنے بیٹوں کے چہرے کی ہوائیاں بھانپ گئی اور اس نے اس طرح اپنے قیام کے مسئلے کا حل پیش کر دیا۔ یہ سننا تھا کہ تینوں بیٹے تجاہل عارفانہ برتتے ہوئے ماں سے اپنے پاس رہنے کی التجا کرنے لگے۔ لیکن نکہت جانتی تھی کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں، اور یہ سب میٹھی میٹھی باتیں صرف دور سے ہی اچھی لگیں گی۔ اس لئے کہ اس کی بہوئیں نئے زمانے کی، اپنی مرضی کے مطابق رہنے والی تھیں۔ وہ خود کو زبردستی ان پر مسلط کرکے نہ ان کے گھر کا سکون برباد کرنا چاہتی تھی، نہ ہی اپنا ذہنی سکون۔ وہ تو اللہ کا شکر تھا کہ اس کے داماد نے ہی یہ بات زینب سے کہلوائی تھی کہ امی کو ہمارے پاس ہی بلوالے۔

دعوت کے اختتام پر، عامر کے جانے کے بعد آج پہلی بار سب لوگ ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر اٹھے تھے!

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : مسٹر پرفیکٹ

امریکہ کی سرد ہوا کا مزہ لیتے ہوئے نکہت بالکونی میں بیٹھی فون پر احمد سے بات کر رہی تھی۔ زینب نے چائے کے دو جمبو سائز مگ نکہت کے سامنے ٹیبل پر رکھے۔ انہیں یوں مسکراتے، باتیں کرتے دیکھ کر زینب خود بھی مسکرا دی۔

آہستہ آہستہ تینوں بھائیوں کے رویوں میں بھی نرمی آنے لگی تھی۔ ہر ہفتے دو ہفتے میں ان لوگوں کی کالز آنے لگیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے آپسی معاملات میں بھی بہتری آنے لگی۔

ایک گھر بیچنے کی قیمت یہ ہے کہ ان بھائیوں کے آپسی رشتوں میں مٹھاس قائم ہوگئی ہے۔ نکہت چائے پیتے ہوئے دل میں سوچ رہی تھی کہ جب اس کے شوہر عامر کے والد مرحوم کی وراثت تقسیم ہوئی تھی تو انہوں نے اور ان کے بھائیوں نے کس طرح خود پر اپنے بھائیوں کو ترجیح دی تھی اور کس طرح تکلفاً وراثت میں اپنے حصے کو قبول کیا تھا۔ اور اب یہ عجیب نئے مزاج کے رشتوں کا دور آیا ہے کہ جہاں صرف دولت، جائیداد، روپیہ، پیسہ ملنے پر ہی لوگ مسکراتے ہیں اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ تف ہے ایسی محبت پر، ایسے تعلق پر، ایسے رشتوں پر۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK