Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: دوسری جنگ عظیم کے بعد ملک کا پہلا سکھ فائٹر جیٹ پائلٹ عرشدیپ

Updated: August 16, 2026, 10:06 PM IST | London

برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ملک کا پہلا سکھ فائٹر جیٹ پائلٹ عرشدیپ منتخب ہوا ہے، فلائٹ لیفٹیننٹ عرشدیپ سنگھ ڈانگ، جن کی آبائی جڑیں باپ کی طرف سے لدھیانہ اور ماں کی طرف سے امرتسر میں ہیں، نے رائل ایئر فورس ویلی سے گریجویشن کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔

Indian-origin Flight Lieutenant Arshdeep Singh Dang. Photo: X
ہندوستانی نژاد فلائٹ لیفٹیننٹ عرشدیپ سنگھ ڈانگ۔ تصویر: ایکس

پنجاب سے تعلق رکھنے والے۲۸؍ سالہ ہندوستانی نژاد فلائٹ لیفٹیننٹ عرشدیپ سنگھ ڈانگ برطانیہ کی رائل ایئر فورس (RAF) میں فائٹر پائلٹ کے طور پر گریجویٹ ہونے والے پہلے سکھ بن گئے ہیں۔ RAF کے مطابق، وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد RAF کے فائٹر اسکواڈرن سے ونگز حاصل کرنے والے پہلے سکھ ہیں۔جمعہ۱۴؍ اگست کو شمالی ویلز میں RAF ویلی میں ایک فاسٹ جیٹ پائلٹ گریجویشن تقریب منعقد ہوئی، جہاں برطانوی فضائیہ نےعرشدیپ کی اس کامیابی کا اعلان کیا۔دی انڈین ایکسپریس سے فون پر بات کرتے ہوئے عرشدیپ نے کہا، ’’یہ میرے دادا سردار سنتوکھ سنگھ ڈانگ کا خواب تھا کہ میرے والد پائلٹ بنیں۔ لیکن میرے دادا کا انتقال اس وقت ہو گیا جب میرے والد صرف۶؍ سال کے تھے۔ چنانچہ میرے والد کو کبھی واقعی وہ مواقع یا وسائل نہیں ملے کہ وہ اپنی خواہش پوری کر سکیں۔ میرے والدین نے مجھے حوصلہ دیا، اور میں نے یقین کرنا شروع کر دیا کہ میں پائلٹ بن سکتا ہوں۔ اور ایسا ہی ہوا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کی فضائی دفاعی پیداوار کا۸۵؍ فیصد سے زیادہ حصہ جنگ میں محفوظ رہا: ایران

عرشدیپ کے والد جگدیپ سنگھ ڈانگ کا تعلق لدھیانہ سے ہے، اور ان کی والدہ گگندیپ کور کا تعلق امرتسر سے ہے۔ تاہم عرشدیپ۱۹۹۸ء میں چندی گڑھ میں پیدا ہوئے، اور جب وہ صرف۶؍ سال کے تھے تو یہ جوڑا برطانیہ منتقل ہو گیا۔ عرشدیپ کہتے ہیں ، ’’میں نے تقریباً۲؍ سال تک موہالی میں ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی، لیکن مجھے زیادہ یاد نہیں ہے۔ البتہ ہم اپنے خاندانوں سے ملنے پنجاب آتے رہتے ہیں۔ دو سال قبل میں امرتسر اور لدھیانہ آیا تھا۔‘‘  برطانیہ میں یہ خاندان انگلینڈ کے شہر ساؤتھال میں رہتا ہے۔عرشدیپ نے برسٹل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، جہاں سے انہوں نے ریاضی اور فلسفہ میں بی ایس سی (آنرز) کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے فروری۲۰۲۲ء میں آفیسر ٹریننگ اور۲۰۲۳ء میں ایلیمنٹری فلائنگ ٹریننگ مکمل کی۔ قبرص میں خدمات انجام دینے کے بعد، ڈانگ کو۲۰۲۴ء میں فاسٹ جیٹ کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے مارچ۲۰۲۵ء میں اپنی فاسٹ جیٹ لیڈ-ان ٹریننگ شروع کی، اس کے بعد اسی سال جولائی میں بیسک فاسٹ جیٹ ٹریننگ حاصل کی۔انہیں اکتوبر۲۰۲۵ء میں ٹیکساس میں سولو بھیجا گیا اور جولائی۲۰۲۶ء میں ان کا ونگز ٹیسٹ پاس کیا۔ اب وہ فرنٹ لائن پر فائٹر جیٹس کو سنبھالنے سے پہلے ایک اور سال کی سخت تربیت سے گزریں گے۔عرشدیپ اپنی بیچ میں واحد ہندوستانی نژاد پائلٹ تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کولمبیا کےعوام اسرائیل کی جولان پہاڑیوں پرخودمختاری تسلیم نہیں کرتے: سابق صدر

انہوں نے کہا کہ ،’’میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں بین الاقوامی سطح پر اپنے سماج کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا سکھ ہوں، لیکن میں آخری نہیں بننا چاہتا۔‘‘ میں چاہتا ہوں کہ میری کامیابی دوسروں کو متاثر کرے۔ عرشدیپ اپنی کامیابیوں کی وجہ اپنی والدہ کو قرار دیتے ہیں، جنہوں نے ان کے اندر سماجی اقدار کو زندہ رکھا،اور انہیں اپنی ثقافت سے روشناس کرایا۔وہ کہتے ہیں ،’’ہمارے گھر میں ایک سخت قاعدہ ہے۔ ہم آپس میں پنجابی میں بات کرتے ہیں، اور گھر میں کسی اور زبان کی اجازت نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ گردوارہ جاتے ہیں، لنگر لیتے ہیں، اور سکھ مذہب کی بنیادی اقدار کو اپنے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے ہیرو اسکواڈرن لیڈر موہندر سنگھ پجی نے۱۹۴۰ء میں RAF کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیں اور وہ اس کے ابتدائی ہندوستانی سکھ فائٹر پائلٹ میں سے ایک تھے۔ انہوں نے برطانیہ، شمالی افریقہ کے سخت صحراؤں اور برما کے گھنے جنگلوں میں ہاکر ہریکین طیارے اڑائے۔ ان کے لیے ایک حسبِ ضرورت آکسیجن ماسک تیار کیا گیا جو ان کی پگڑی پر محفوظ طریقے سے فٹ ہو سکے۔ انہیں ان کی بہادری پر ڈسٹنگوئشڈ فلائنگ کراس (DFC) ملا، اور وہ جنگ کے دوران دو بار مار گرائے جانے کے بعد بھی زندہ بچ گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK