Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: سرتاج

Updated: June 29, 2026, 1:55 PM IST | Ilma Ansari | Mumbai

احمد صاحب رات کے کھانے کے بعد آنگن میں ٹہل رہے تھے جب اُنہوں نے ندا کو آواز دی ’’ندا آؤ تھوڑا ٹہل لو۔‘‘

Photo: INN
تصویر: آئی این این

احمد صاحب ندا کی خاموشی کو بہت دیر سے محسوس کر رہے تھے۔ جب سے وہ لیاقت صاحب کے گھر سے ہو کر آئی تھی کسی گہرئی سوچ میں گم تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے رات کے کھانے کے دوران بھی وہ خاموشی سے کھانا کھاتی رہی۔ احمد صاحب ندا سے بے تحاشا محبت کرتے تھے اور کرتے بھی کیوں نہ وہ اُن کے اکلوتے بیٹے رضا کی لاڈلی بیٹی تھی.... اُن کے گھر کی رونق.... جب وہ پڑھائی کے سلسلے میں شہر جاتی تو احمد منزل میں بیاباں کا سا گماں ہوتا۔

احمد صاحب رات کے کھانے کے بعد آنگن میں ٹہل رہے تھے جب اُنہوں نے ندا کو آواز دی ’’ندا آؤ تھوڑا ٹہل لو۔‘‘

’’جی دادا جان!‘‘ ندا آکر اُن کے قدم سے قدم ملانے لگی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: آخری اُمید

’’دیکھو آنگن میں کتنی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے اور تم کمرے میں تنہا بیٹھی ہو۔‘‘ احمد صاحب مسکراتے ہوئے بولے۔

ندا بھی آسمان کو دیکھتے ہوئے دادا کی بات پر مسکرا دی۔

احمد صاحب سے مزید صبر نہیں ہوا سو اُنہوں نے پوچھ ہی لیا کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ ’’میری گڑیا اتنی خاموش کیوں ہے؟ آج تھک گئی ہے یا کوئی اور بات ہے؟‘‘

ندا نے دادا جان کی جانب دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔

ندا نے بات کا آغاز کیا ’’دادا جان آج میں لیاقت انکل کے گھر گئی تھی نا....‘‘

’’ہاں بولو کیا ہوا وہاں؟‘‘ احمد صاحب نے فوراً پوچھا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: لفافوں میں قید محبتیں

ندا نے دھیمی آواز میں کہنا شروع کیا ’’پورا محلّہ جانتا ہے کہ لیاقت انکل کا مزاج کیسا تھا، اُن کی دلچسپی نہ کبھی لوگوں سے ملنے ملانے میں رہی اور نہ ہی انہیں کبھی آسیہ بی  یا کسی سے بھی سے محّبت سے ہنستے بولتے دیکھا گیا۔ وہ ہمیشہ لوگوں سے چڑتے تھے.... بس اپنے میں مگن رہتے.... یہ تو آسیہ بی کی نیک طبیعت اور خوش مزاجی تھی کہ لوگ اُن کے گھر جاتے ورنہ کون پوچھتا! لیکن آج جب میں آپ کے کہنے پر اُن کے گھر گئی تو دیکھا کہ آسیہ بی آنگن میں بچھی چارپائی پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور فوراً گلے سے لگا لیا ’’ارے ندا میری بچی...‘‘ آسیہ بی کی آواز بھیگ گئی۔

میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر چارپائی پر بیٹھا دیا اور خود بھی ایک کنارے پر ٹک گئی۔

’’آسیہ بی پریشان نہ ہوئیے اللہ سب کا مدد گار ہے اور آپ کیوں گھبرا رہی ہیں.... ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘ میں نے ان کو تسلی دینے کی کوشش کی۔

’’ندا دیکھو میرے بیٹے کو....‘‘ اُنہوں نے آنگن میں دوڑتے اپنے پانچ سالہ بیٹے کی جانب اشارہ کیا جو شادی کے تقریباً آٹھ سال بعد پیدا ہوا تھا۔ ’’میرا بیٹا بنا باپ کے بڑا ہوگا.... میرے گھر کا محافظ چلا گیا.... لوگ آ رہے ہیں تسلی دے رہے ہیں لیکن میرا دل اُن کی تسلیوں سے مطمئن نہیں ہو رہا....‘‘ آنسو اُن کا چہرہ بھگونے لگے۔

’’آپ پریشان نہ ہوں، اس میں اللہ کی کچھ بہتری ہی ہوگی۔‘‘ مَیں نے دھیرے سے کہا۔

’’ندا تم یہ بات ابھی نہیں سمجھ پاؤ گی شوہر جیسا بھی ہو سر کا تاج ہوتا ہے اور میرا سرتاج چلا گیا....‘‘ سسکیوں میں اُن کی آواز دب سی گئی۔

اُن اس طرح روتا دیکھ میرا دل بے چین ہونے لگا۔ میں نے بیگ سے دادا جان کے دیئے ہوئے پیسے نکالے اور چپ چاپ اُن کے ہاتھ میں رکھ کر دئیے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: قربِ الٰہی

آسیہ بی بھیگی آنکھوں سے میری طرف دیکھنے لگیں۔ مَیں نے ان کو گلے لگاتے ہوئے دھیرے سے کہا دادا نے بھیجے ہیں پھر آؤں گی۔ میں نے نقاب درست کیا اور آسیہ بی کو الوداع کہتے ہوئے دروازے کی طرف چل دی۔

لیاقت صاحب سے میرے گھر کا فاصلہ چند قدم کی دوری پر تھا لیکن مجھے بہت دور معلوم پڑ رہا تھا۔ آسیہ بی کی آواز اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی تھی ’’شوہر سر کا تاج ہوتا ہے اور میرا سرتاج چلا گیا....!‘‘

ندا نے بات مکمل کرکے دادا جان کی جانب دیکھا جو اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔

’’کچھ بولیں گے نہیں؟‘‘ ندا دادا جان کو خاموش دیکھ بولی۔

’’کیا بولوں؟‘‘ دادا جان اپنے مخصوص انداز میں مخاطب ہوئے۔

’’کیا شوہر واقعی سر کا تاج ہوتا ہے؟‘‘ ندا نے فوراً سوال کیا۔

’’یہ بات تم خود طے کرکے مجھے بتاؤ....؟‘‘ دادا جان ندا کو دیکھتے ہوئے بولے ’’شوہر محافظ ہوسکتا ہے.... کفیل ہوسکتا ہے تو کیا سرتاج نہیں ہوسکتا....؟‘‘

’’ہوسکتا ہے....‘‘ ندا نہ جانے کس سحر کے تحت بولی۔

دادا جان ندا کا جواب سن کر مسکرائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK