Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: لفافوں میں قید محبتیں

Updated: June 16, 2026, 9:43 PM IST | Mumbai

پرانی لکڑی کی صندوقچی برسوں سے کمرے کے ایک کونے میں رکھی تھی۔ گھر کے دوسرے افراد کیلئے وہ محض ایک بے کار اور فرسودہ شے تھی، مگر دادی اماں کے لئے وہ زندگی کا قیمتی اثاثہ تھی۔ جس سے ماضی کی خوبصورت یادیں وابستہ تھیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

پرانی لکڑی کی صندوقچی برسوں سے کمرے کے ایک کونے میں رکھی تھی۔ گھر کے دوسرے افراد کیلئے وہ محض ایک بے کار اور فرسودہ شے تھی، مگر دادی اماں کے لئے وہ زندگی کا قیمتی اثاثہ تھی۔ جس سے ماضی کی خوبصورت یادیں وابستہ تھیں۔ انہیں پرانی چیزیں سنبھال کر رکھنے کی عادت تھی۔ پرانے سکے، بلیک اینڈ وہائٹ تصویریں، ٹوٹے ہوئے چشمے کے فریم، دادا جان کی جیب گھڑی، چند مدھم پڑی یادگاریں اور زندگی کے مختلف موسموں سے جڑی چھوٹی چھوٹی نشانیاں، سب اسی صندوقچی میں محفوظ تھیں۔ لیکن ان تمام چیزوں میں سب سے زیادہ عزیز وہ زرد پڑے خطوط تھے جو برسوں سے اس کے سینے میں دفن تھے۔

اس روز نہ جانے کس خیال نے دادی اماں کے دل میں دستک دی کہ انہوں نے صندوقچی کا ڈھکن اٹھایا۔ یوں محسوس ہوا جیسے بند یادوں نے اچانک سانس لینا شروع کر دیا ہو۔ انہوں نے احتیاط سے لفافوں کی ایک گڈی نکالی۔ کاغذ وقت کی دھوپ میں زرد ہو چکے تھے، مگر ان پر ثبت محبت کی روشنائی ابھی تک مدھم نہیں پڑی تھی۔ دادی اماں نے ایک خط اٹھایا، اس پر لرزتی انگلیاں پھیریں اور ہلکے سے مسکرا دیں۔ وہ مسکراہٹ ایسی تھی جیسے کسی بہت پرانے دوست نے برسوں بعد آکر خاموشی سے دروازہ کھٹکھٹایا ہو۔

اسی لمحے کمرے کا دروازہ کھلا ’’دادی! آپ پھر اپنی خزانے والی صندوقچی کھول کر بیٹھ گئیں؟‘‘ یہ عنایہ تھی، ان کی پندرہ سالہ پوتی، جس کے ہاتھ میں موبائل فون تھا اور کانوں میں وائر لیس ایئر بڈز۔ اس کی دنیا چند انچ کی اسکرین میں سمٹ آئی تھی، جہاں لمحوں میں پیغام آتے، لمحوں میں جواب جاتے اور لمحوں میں لوگ غائب بھی ہو جاتے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: قربِ الٰہی

اچانک اس کی نظر صندوقچی سے نکلنے والے زرد پڑے کاغذوں پر پڑی، ’’دادی! یہ کیا ہے؟‘‘ دادی نے محبت بھری نگاہ اس پر ڈالی، ’’آؤ، خود دیکھ لو۔‘‘ عنایہ قریب آ گئی۔

اس نے ایک لفافہ اٹھایا، پلٹا، گھمایا اور حیرت سے بولی ’’یہ تو کسی پرانے زمانے کا پارسل لگ رہا ہے!‘‘ دادی بے اختیار ہنس پڑیں ’’ارے نادان! یہ پارسل نہیں، خط ہے۔‘‘

’’خط؟‘‘

’’ہاں، خط۔‘‘

’’یعنی میسیج؟‘‘

’’میسیج ہی سمجھ لو، مگر ایسا میسیج جس میں دل کی دھڑکن بھی بند ہوتی تھی۔‘‘

عنایہ نے قہقہہ لگایا، ’’دادی! میسیج میں دھڑکن کیسے بند ہوسکتی ہے؟‘‘ دادی نے لفافے کو انگلیوں سے سہلایا، ’’تمہاری نسل کو شاید یقین نہ آئے، مگر کبھی کبھی ایک خط انسان کو زندہ رکھتا تھا۔‘‘

عنایہ خاموش ہوگئی۔ دادی نے ایک خط کھولا۔ کاغذ کی تہیں کھلتے ہی جیسے ماضی کی کوئی خوشبو کمرے میں پھیل گئی، ’’تم جانتی ہو، ہمارے زمانے میں پیغام بھیجنا ایک تقریب ہوا کرتی تھی۔‘‘

’’کیسے؟‘‘

’’سب سے پہلے کاغذ چنا جاتا، پھر قلم۔ پھر کئی بار سوچا جاتا کہ کیا لکھا جائے۔ ایک ایک لفظ دل سے نکلتا تھا۔‘‘ عنایہ نے شرارت سے کہا، ’’اور اگر غلطی ہو جاتی تو بیک اسپیس؟‘‘ دادی ہنس پڑیں۔

’’بیک اسپیس نہیں ہوتا تھا۔ سوچ سمجھ کر لکھنا پڑتا تھا۔‘‘ ’’کتنا مشکل زمانہ تھا!‘‘

’’مشکل؟‘‘ دادی نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، ’’شاید.... لیکن اس مشکل میں ایک لطف تھا۔‘‘ عنایہ دلچسپی سے سننے لگی۔ ’’تمہارے دادا شہر میں ملازمت کرتے تھے۔ مہینوں ملاقات نہیں ہوتی تھی۔ تب یہی خطوط ہمارے درمیان رابطہ کا پل بنتے تھے۔‘‘

’’کتنے دن میں پہنچتے تھے؟‘‘

’’کبھی دس دن، کبھی پندرہ، کبھی پورا مہینہ۔‘‘

عنایہ کی آنکھیں پھیل گئیں، ’’ایک مہینہ؟ اتنی دیر؟‘‘ ’’ہاں، اور اس کے بعد جواب آنے میں بھی اتنا ہی وقت لگتا تھا۔‘‘ عنایہ بے اختیار ہنس دی، ’’دادی، اتنے عرصے میں تو آج کل لوگ دوستی بھی ختم کر دیتے ہیں۔‘‘

دادی اماں کی مسکراہٹ میں ہلکی سی اداسی گھل گئی، ’’اسی لئے شاید آج تعلق جلدی بنتے بھی ہیں اور جلدی ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔‘‘ کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔ دادی نے ایک اور خط نکالا، ’’اور تم نے کبھی ڈاکیہ دیکھا ہے؟‘‘

’’صرف فلموں میں۔‘‘

’’ہماری گلی میں ایک ڈاکیہ آتا تھا۔ اس کی سائیکل کی گھنٹی کی آواز سنتے ہی دل دھڑکنے لگتا تھا۔‘‘ دادی کی آواز آہستہ آہستہ ماضی کی راہوں پر چلنے لگی، ’’تمہیں معلوم ہے، بعض اوقات پورا گاؤں ڈاکیے کی راہ دیکھتا تھا۔‘‘ ’’اتنی اہمیت تھی اس کی؟‘‘ ’’جتنی آج تمہارے موبائل کے نیٹ ورک کی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔‘‘

عنایہ ہنس پڑی، ’’اگر نیٹ ورک نہ ہو تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔‘‘ ’’اور اگر ڈاکیا نہ آئے تو ہم۔‘‘ دونوں ایک ساتھ مسکرا دیں۔ ’’دوپہر کے وقت جب دھوپ دیواروں پر رینگتی تھی، میں صحن میں آ کر بیٹھ جاتی۔ ہر گزرنے والی سائیکل پر نگاہ ٹھہر جاتی۔ جب وہ ہمارے دروازے کے سامنے رکتا تو یوں لگتا جیسے خوشی خود چل کر آ گئی ہو۔‘‘

’’صرف ایک خط کے لئے؟‘‘

’’صرف خط کیلئے نہیں، اس شخص کیلئے جس کی محبت اس خط میں قید ہوتی۔‘‘ عنایہ پہلی مرتبہ سنجیدہ ہوئی۔ دادی نے خط کھول کر چند سطریں پڑھیں۔ ان کے لب کانپے، آنکھیں نم ہوگئیں، ’’یہ تمہارے دادا کا خط ہے۔‘‘ عنایہ نے آہستہ سے پوچھا، ’’آپ نے اسے اتنے سال کیوں سنبھال کر رکھا؟‘‘ دادی نے خط کو اپنے سینے سے لگا لیا، ’’کیونکہ کچھ چیزیں زندگی ہوتی ہیں۔‘‘ عنایہ نے موبائل کی اسکرین بند کر دی۔ اس نے محسوس کیا کہ دادی صرف پرانی باتیں نہیں کر رہیں، ایک پورا زمانہ اسکے سامنے کھول رہی ہیں۔ ایک لفافے پر پرانا ڈاک ٹکٹ چسپاں تھا۔ ’’یہ رنگ برنگا اسٹیکر کیا ہے؟‘‘ عنایہ نے حیرت سے پوچھا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کرایہ دار

’’یہ ڈاک ٹکٹ ہے۔‘‘

’’اس کا کیا کام؟‘‘

’’یہ خط کا کرایہ تھا۔‘‘

عنایہ کی آنکھیں پھیل گئیں، ’’واہ! اس زمانے میں بھی ڈیلیوری چارجز ہوتے تھے!‘‘

دادی بے اختیار ہنس پڑیں۔

’’ہاں، مگر اس زمانے کی ڈیلیوری میں جذبات فری ہوتے تھے۔‘‘

’’اور اس سے پہلے؟ جب خط بھی نہیں تھے؟‘‘

دادی مسکرائیں، ’’تب کبوتر ہوا کرتے تھے۔‘‘

’’واقعی؟‘‘

’’ہاں! ہمارے بزرگ بتایا کرتے تھے کہ تربیت یافتہ کبوتر پیغامات لے کر جاتے تھے۔‘‘

عنایہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ چند کبوتر سامنے والی چھت پر بیٹھے تھے۔

’’عجیب بات ہے۔‘‘

’’کیا؟‘‘

’’اتنا لمبا سفر طے کیا انسان نے۔ کبوتر سے خط، خط سے ٹیلی فون، ٹیلی فون سے موبائل۔‘‘

دادی نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’سفر تو طے کیا، لیکن کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ کہیں راستے میں کچھ کھو بھی تو نہیں دیا؟‘‘

’’کیا؟‘‘

’’انتظار۔‘‘

عنایہ چونک گئی، ’’انتظار؟‘‘

’’ہاں۔‘‘ دادی کی نگاہیں کہیں دور جا ٹھہریں، ’’انتظار انسان کو محبت سکھاتا تھا۔ صبر سکھاتا تھا۔ قدر سکھاتا تھا۔‘‘

عنایہ نے دھیرے سے کہا ’’اور اب؟‘‘

’’اب سب کچھ فوراً مل جاتا ہے۔ شاید اسی لئے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔‘‘

شام ڈھلنے لگی تھی۔ اس نے سوچا کہ چند سیکنڈ میں پہنچنے والے پیغامات اور مہینوں کے انتظار کے بعد ملنے والے خطوط کے درمیان صرف وقت کا فرق نہیں تھا، احساس کا بھی فرق تھا۔

کمرے میں سنہری روشنی پھیل گئی تھی۔ دادی اماں ایک ایک خط واپس صندوقچی میں رکھ رہی تھیں، جیسے کسی مقدس امانت کو سنبھال رہی ہوں۔ عنایہ خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔ اس نے یہ محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ میں موجود موبائل ہزاروں پیغامات محفوظ کرسکتا ہے، مگر شاید ان میں سے کسی ایک کو بھی وہ پچاس سال بعد اس طرح اپنے دل کے قریب نہ رکھ سکے گی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سجدۂ شکر

اس رات وہ دیر تک جاگتی رہی۔ اس نے موبائل کھولا۔ درجنوں پیغامات، نوٹیفیکیشنز اور تصویریں اسکرین پر نمودار ہوگئیں۔ چند لمحے وہ انہیں دیکھتی رہی، پھر نہ جانے کیوں سب کچھ بے معنی سا محسوس ہونے لگا۔ اس نے میز کی دراز سے کاغذ نکالا، قلم ہاتھ میں لیا، اور زندگی میں پہلی بار ایک خط لکھنا شروع کیا۔

اگلی صبح دادی اماں کی آنکھ کھلی تو تکیے کے پاس ایک چھوٹا سا لفافہ رکھا تھا۔ لرزتے ہاتھوں سے انہوں نے اسے کھولا۔ اندر چند سطریں لکھی تھیں:

’’پیار ی دادی اماں!

کل تک مجھے لگتا تھا کہ پیغام صرف الفاظ کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ آج معلوم ہوا کہ بعض اوقات ان کے ساتھ انتظار، لمس، خوشبو اور یادیں بھی سفر کرتی ہیں۔ شاید اسی لئے آپ کے خط آج بھی زندہ ہیں۔

آپ کی پوتی،

عنایہ!‘‘

دادی اماں کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ انہوں نے خط کو سینے سے لگا لیا۔

کمرے کے کونے میں رکھی پرانی صندوقچی خاموش تھی، مگر یوں لگتا تھا جیسے اسکے اندر سوئی ہوئی یادیں مسکرا رہی ہوں۔ دادی اماں نے خط صندوقچی میں رکھ دیا۔ انہیں محسوس ہوا کہ آج ان کے اثاثے میں ایک نیا خط شامل نہیں ہوا، بلکہ دو زمانوں کے درمیان ٹوٹا ہوا ایک رشتہ دوبارہ جڑ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK