حماس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اتوار کو قاہرہ میں مصری حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔ فلسطینی تنظیم کے مطابق، بات چیت کا مقصد مصر کو اسرائیل کی مبینہ خلاف ورزیوں سے آگاہ کرنا اور غزہ کے لیے طے کیے گئے روڈ میپ پر عمل درآمد کو یقینی بنانا تھا۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 10:07 PM IST | Gaza
حماس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اتوار کو قاہرہ میں مصری حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔ فلسطینی تنظیم کے مطابق، بات چیت کا مقصد مصر کو اسرائیل کی مبینہ خلاف ورزیوں سے آگاہ کرنا اور غزہ کے لیے طے کیے گئے روڈ میپ پر عمل درآمد کو یقینی بنانا تھا۔
حماس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اتوار کو قاہرہ میں مصری حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔ فلسطینی تنظیم کے مطابق، بات چیت کا مقصد مصر کو اسرائیل کی مبینہ خلاف ورزیوں سے آگاہ کرنا اور غزہ کے لیے طے کیے گئے روڈ میپ پر عمل درآمد کو یقینی بنانا تھا۔حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ یہ ملاقاتیں ثالثوں کے ساتھ تنظیم کے جاری سفارتی رابطوں کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس مصری حکام کو ان واقعات سے آگاہ کرنا چاہتی ہے جنہیں وہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیاں سمجھتی ہے اور یہ بھی یقینی بنانا چاہتی ہے کہ اسرائیل ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ساتھ طے شدہ روڈ میپ پر عمل کرے۔
خبررساں ادارے اناطولیہ کے حوالے سے حماس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ حماس کے لیڈر خلیل الحیہ کی قیادت میں وفد قاہرہ پہنچا ہے۔ مذاکرات میں غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ثالث جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور اس پر عمل درآمد سے متعلق اختلافات دور کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی ناکہ بندی کے دوران غزہ میں ۲۲ آکسیجن اسٹیشنز ناکارہ: فلسطینی وزارتِ صحت
واضح رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ پٹی میں فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، تنازع شروع ہونے کے بعد سے۷۳؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ ۷۴؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ بعد ازا ںاکتوبر۲۰۲۵ء سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بھی اسرائیلی فوج کے حملے جاری رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق، جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے ان حملوں میں کم از کم ۲۶۰؍ افراد ہلاک ۴۲۰۰؍سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
ذہن نشین رہے کہ حماس کے وفد کا قاہرہ کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ثالث جنگ بندی کو ٹوٹنے سے روکنے اور غزہ کے وسیع روڈ میپ پر عمل درآمد آگے بڑھانے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ جبکہ اس سے تقریباً ایک ہفتہ قبل اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ کے لیے امریکہ کی حمایت یافتہ تازہ ترین امن منصوبے کو مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کی کسی بھی واپسی سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا ضروری ہے۔جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات میں کامیابی کے اعلان کے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے بعد نیتن یاہو نے پہلی مرتبہ اس منصوبے پر براہِ راست ردعمل ظاہر کیا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانوی رکن پارلیمنٹ نے لیورپول میں جیف بیزوس سے منسلک سرمایہ کاری کی مذمت کی
یاد رہے کہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے غزہ میں مستقل امن یقینی بنانے کے مقصد سے۱۵؍ نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔ نیتن یاہو نے کہا، ’’میں یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اسرائیل۱۵؍ نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ’’ اسرائیلی فوج اس وقت تک بالکل پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا اور وہ اپنے فوجیوں اور شہریوں کو لاحق خطرات کو روکنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس معاملے پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ امریکہ کے پاس کچھ ایسے خیالات ہیں جنہیں اسرائیل قبول کر سکتا ہے، جبکہ بعض دیگر تجاویز سے وہ متفق نہیں ہے۔ بعد ازاں نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا، ’’جب تک میں وزیر اعظم ہوں، کوئی فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی-نہ غزہ میں اور نہ ہی مغربی کنارے میں۔‘‘ ٹرمپ کی جانب سے۳۱؍ جولائی کو مذاکرات میں پیش رفت کا اعلان کیے جانے کے بعد غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تیزی آئی تھی، تاہم گزشتہ چند دنوں کے دوران حملوں میں کمی آئی ہے۔