EPAPER
Updated: August 04, 2026, 11:27 AM IST | Arifa Khalid Sheikh | Mumbai
آج آفتاب نے اپنی امّی کی آنکھیں کھول دیں۔ سعدیہ بیگم پہلے تو آفتاب پر خوب ناراض ہوئیں، پھر اُن کی اپنی احتسابی نگاہوں نے خود کا احاطہ کیا تو اپنے رویے کی خود ہی سختی سے سرزنش کی۔ یہ وہ کس راستے پر چل پڑی تھیں۔ وہ تو ایسی بالکل بھی نہ تھیں اور نہ ہی اُس کے اجداد ہی اِس نظریے کے حامل تھے۔ کینہ، بغض یہ الفاظ تو اُس کے کردار کی ڈائری میں بالکل بھی نہیں تھے....
اچھا ہوا آج اُن کے بیٹے آفتاب نے اُنہیں ٹوک دیا۔ ورنہ وہ ہمیشہ کیلئے اپنی ہی نظروں میں گر جاتیں۔ آفتاب کی تنبیہ ایسی تھی جیسے وَن وے میں دوسری جانب سے آتی گاڑی کو روک لینا....
***
زندگی کی پُر پیچ راہوں پر چلتے چلتے سعدیہ بیگم کب اکیلی رہ گئیں اُنہیں پتہ ہی نہیں چلا۔ ہوش تو تب آیا جب اُنہوں نے محسوس کیا کہ بچّے جوان ہو کر اپنی ذاتی منزل کی طرف گامزن ہیں۔
زندگی کے سالہا سال سعدیہ بیگم نے شوہر نامدار کے ہوتے ہوئے بھی تنہا ہی طے کئے تھے۔ جس کا اُنہیں بے حد افسوس تھا۔ اختر سعدیہ کے شوہر، معاشی طور پر کمزور تھے۔ اِس کے باوجود سعدیہ بیگم نے اپنی اَنا اور بھرم کو قائم رکھا اور اپنے بچوں کی کفا لت خودداری سے کی۔ زندگی کے تپتی صحرا میں برہنہ پا چلتے چلتے وہ اکثر آبلہ پا ہو جاتیں لیکن کبھی ہمت نہیں ہاریں اور اپنے بچّوں کے سر پر مضبوط چٹان کی طرح سایہ فگن رہیں۔ خود بھوکی رہیں مگر بچّوں کی تعلیم کے تئیں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا.... یہی وجہ تھی کہ آج اُن کے لخت ِ جگر عزت کی زندگی گزار رہے تھے۔
سعدیہ بیگم کا وہ سیاہ دن اُن کے ذہن کے دریچوں میں آج بھی تازہ دم تھا جب اُن کے اپنوں نے ہی اُن کے ارمانوں کو سولی پر چڑھا دیا تھا.... یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب صحرائے شباب پر نخلستان جلوہ نما ہوا تھا۔ سولہ سترہ سالہ سعدیہ کے انٹر امتحان کا نتیجہ نکلا تھا۔
***
آج سعدیہ بے انتہا خوش تھی۔ وہ فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئی تھی۔ لمبا قد، چھریرا بدن اور گلابی رخساروں والی سعدیہ کو امّاں نے فرط جذبات سے گلے لگا لیا۔ آج اُن کی بھی محنت رنگ لائی تھی۔ بہنوں نے نذر نکالی تو بھائیوں نے خوشی میں مٹھائی تقسیم کی۔ خوش باش سعدیہ کے سپنے جواں تھے۔ اُس نے آگے پڑھنے کے لئے کمر کس لی۔ مگر کاتب ِ تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بیری کے درخت پر لکھے اُس کے نام کے پھل پر ایک وزنی پتھر آن گرا اور وہ ٹوٹ کرنیچے آن گری۔ رشتہ اچھا تھا سو امّاں نے تھام لیا۔ اُس کی زندگی میں ایک تلاطم برپا ہوا جس کے منجھدھار میں اُس کی کشتی ہچکولے کھا تی رہی۔ وہ لاکھ منع کرتی رہ گئی مگر اُس کی ایک نہ چلی اور امّاں نے اُس کی نسبت طے کر دی....
اختر سعدیہ کے شوہر کے روپ میں ایک سخت گیر شخص تھے۔ بات بے بات طیش میں آنا اُن کی فطرت تھی.... ہنسنا تو دور مسکرانا تک وہ جانتے نہ تھے۔ شروع شروع میں سعدیہ اپنے نصیب سے شاکی رہی مگر جلد ہی خود کو ایک قلعے کی طرح مضبوط کر لیا۔ اُس نے ہر چند اختر کی طبیعت بدلنی چاہی، اُن کے اکھڑے مزاج کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہا مگر کامیاب نہ ہوسکی.... سعدیہ کے سسرالی رشتے داروں میں سبھی قسم کے افراد شامل تھے۔ کچھ آگ لگا کر تماشہ دیکھنے میں ماہر تھے تو کچھ پرائی آگ میں ہاتھ سینکنے کا گُن رکھتے تھے۔ جلے پر نمک چھڑکنا اور آگ میں گھی ڈالنے والوں نے اُنہیں زندگی کا سکھ لینے ہی نہیں دیا۔ یہاں تک کہ دو گھڑی ساتھ چین سے بیٹھنے کا بھی موقع نہ دیا بلکہ ہر دم یہ آنکھ جمائے بیٹھے رہے کہ کب اُن دونوں میاں بیوی میں اَن بن ہو اور کب تین تیرہ ہو جائے۔ مگر سعدیہ کی بردباری، ازدواجی زندگی کی گاڑی کا ایندھن نہ بنتی تو آج اِس گاڑی کے پرزے پرزے بکھر گئے ہوتے۔ اُس کے تحمل و برداشت کا ہی نتیجہ رہا کہ آج وہ بری الذمہ تھیں۔
یوں تو اختر کا ساتھ فقط نام کو تھا.... لیکن سعدیہ کے لئے یہی غنیمت رہا۔ دل کا حال سننے والا اور دردِ دل سمجھنے والا کوئی نہ تھا۔ وہ رونے دھونے اور دوسروں کو دکھڑا سنانے کی عادی نہ تھی۔ وہ جانتی تھی ہر آزمائش کو ایک نہ ایک دن ختم ہوجانا ہے۔ ہر رات کی صبح ہوتی ہے.... سعدیہ کے دن ذمہ داریوں کیلئے وقف ہوتے مگر راتیں اُس کی اپنی ہوتیں۔ شب کی تنہائیوں میں وہ اپنے معبود کے قریب ہوتی۔
رفتہ رفتہ دن گزرتے گئے اور سعدیہ کو صبر آتا گیا۔ دھیرے دھیرے بچّے بھی بڑے ہوتے گئے اور پھر ایک ایک کر اپنی نجی زندگی میں کھو گئے۔ سعدیہ بیگم اِن ہی کے بیچ کہیں گُم ہوگئیں۔ اب اُن کے پاس وقت ہی وقت رہ گیا تھا۔ فارغ اوقات میں وہ پچھلی زندگی کی محرومیوں پر کڑ ھتیں، دوستوں اور رشتے داروں کی بے رُخی پر سوگ مناتیں اور اپنے ساتھ کی گئی حق تلفیوں اور ناانصافیوں پر بپھر جاتیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ماضی کی کڑوی کسیلی یادوں کا سیاہ باب ایک جونک کی طرح اُن سے لپٹا ہوا ہی رہا۔
***
فروری کے اوائل کی کھلی کھلی دھوپ میں سعدیہ بیگم بالکنی میں بیٹھی دھوپ سینک رہی تھیں۔ سامنے میز پر ناشتہ لگا ہوا تھا۔ نشست کے پیچھے آم کے پیڑ پر بیٹھا کوّا مسلسل چلائے جا رہا تھا۔ بالکنی میں سجے پھولوں کی مہک اور گرم چائے سے اُٹھتی میٹھی خوشبو نے مل کر ماحول کو خوشگوار بنانے کی اپنی سی کوشش کر رکھی تھی۔
سورج رنگوں کی کہکشاں بکھیرتا شاہانہ انداز سے چلا جا رہا تھا کہ اپنے ہی خیالات میں گھری سعدیہ بیگم کا موڈ اُس وقت اور زیادہ خراب ہوگیا جب ملازمہ نے آکر خبر دی کہ اُن کی نند اُن سے ملنے آئی ہیں۔
سعدیہ بیگم کے چہرے پر ایک ناگوار تاثر ابھرا۔ وہ تن کر بیٹھ گئیں۔
نند نے بڑے احترام سے اُنہیں سلام کیا اور اُن کے سامنے والی خالی نشست پر بیٹھ گئیں۔ سعدیہ بیگم نے رعونت سے اپنی نند کو دیکھا۔ آخر کو آج بڑے دنوں بعد سعدیہ بیگم کو بدلہ لینے کا موقع ہاتھ آیا تھا۔ اُنہیں اپنی نند کی طرف سے کی جانے والی پچھلی ساری زیادتیاں یاد تھیں۔ اُنہوں نے غصّے میں چند طنز کے تیر اپنی نند کی طرف چھوڑے۔ پہلے سعدیہ بیگم کا وقت خراب تھا، آج اُن کی نند کا وقت خراب چل رہا تھا۔ کل تک جس مقام پر سعدیہ بیگم کھڑی تھیں آج وہاں اُن کی نند کھڑی تھی۔ وقت اور کردار دونوں بدل چکے تھے لیکن الفاظ اور جملے وہی تھے، جو آج سے برسوں پہلے ادا کئے گئے تھے، بس منظر بدل گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کہانی: انسانیت اور ہمدردی
آفتاب ابھی ابھی آفس سے آیا تھا۔ اُس نے اپنی امّی کی ساری باتیں سنیں۔ سعدیہ بیگم کی یہ حرکت اُسے بالکل پسند نہیں آئی۔ وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ پھو پھو کے جاتے ہی وہ سعدیہ بیگم کے پاس آیا۔ صدمے اور رنج کے ملے جلے انداز میں اُس نے اُن سے کہا:
’’امّی! یہ آپ نے اچھا نہیں کیا....؟ مانا پھوپھو نے آپ کے ساتھ بُرا سلوک کیا تھا۔ مگر وہ گزرا وقت تھا۔ آج آپ کو اُن باتوں کا بدلہ لے کر اُنہیں شرمندہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ آج پھوپھو کو اپنی غلطی کا احساس تھا اور یہی ضمیر کی ملامت اُنہیں ہمارے گھر لے آئی تھی۔ مگر آپ نے اُن کے ضمیر کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے بجائے اُن پر شرمندگی کا بوجھ لا د دیا۔‘‘
آفتاب اِتنا کہہ کر رُکا.... اُس نے سعدیہ بیگم کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی۔ مگر وہاں ضد اور بے رُخی کے سوا کچھ نہ تھا۔
وہ دوبارہ گویا ہوا، ’’آپ ماضی کو بھول کیوں نہیں جاتیں....؟ آپ اُس وقت اِس قابل نہیں تھیں کہ لوگوں کا مقابلہ کرتیں اور اُن کی کڑوی کسیلی باتوں کا جواب دیتیں، لیکن آج آپ کو اللہ نے اِس قابل بنا دیا ہے کہ آپ سماج میں سر اُٹھا کر جی سکیں تو آپ مغرور و متکبر ہوگئیں۔ آج جن باتوں کو لے کر پھوپھو شرمندہ ہیں کل آپ بھی اُن کی جگہ خود کو نادم و شرمندہ محسوس کریں گی۔ خدارا....! کسی کی بد دُعا نہ لیں۔ سوچیں ذرا! کل ہم کیا تھے ؟ ہمارے کیا حالات تھے ؟ آج اگر حالات بدلے ہیں تو رب کے آگے سجدہ ریز ہو جائیں مگر نفاق و بغض کو دل میں جگہ نہ دیں۔ جو جیسا کرے گا اُسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔ آپ کے صبر و شکر سے آج اچھے دن آئے ہیں اُنہیں گھمنڈ اور غرور کے چلتے یوں اکارت میں نہ ڈالیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: پھپھو کا بیٹا
آفتاب کی نصیحت آمیز باتیں سعدیہ بیگم کو بہت بری لگیں۔ وہ آفتاب پر خوب برسیں۔ اگلے پچھلے واقعات کی روشنی میں خود کو معصوم و مظلوم گردانا۔ بیتے دنوں میں کسی سے دو ٹوک بات کرنے کی اُن میں نہ تو بساط تھی اور نہ ہی طاقت، اِس لئے آج برسوں سے دبے لاوے نے آتش فشاں کا روپ اختیار کر لیا تھا۔ وہ دیر تک خود کو صحیح اور حق بجانب باور کرواتی رہیں۔ پھر خود ہی آنچل میں منہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
آفتاب دل برداشتہ ہو کر اپنی امی کے قریب دو زانو بیٹھ گیا۔ وہ اُن کا بڑا بیٹا تھا اور اُن کے سرد گرم حالات سے بہت حد تک واقف بھی تھا۔ اُس نے سعدیہ بیگم کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے اوپر اُٹھایا، اُن کے آنسو پونچھے اور اُنہیں پانی پلایا۔
اب سعدیہ بیگم بالکل نارمل نظر آ رہی تھیں۔ آفتاب کچھ خجل سا ہو کر جانے کے لئے اُٹھا تو سعدیہ بیگم نے اُس کا ہاتھ تھام لیا اور اپنے پاس بٹھا کر بولیں:
’’اچھا ہوا بیٹا! آج تم نے میری آنکھیں کھول دیں اور مجھے راہِ راست پر لے آئے ورنہ نفرت اور بدلے کے سمندر میں میری زندگی کی کشتی ضمیر کے تازیانے سہتے سہتے ایک دن اُسی بھنور میں ڈوب جاتی اور تمہارے لئے نا کردہ گناہوں کی ایک عذاب بھری زندگی رہ جاتی۔ مجھے معاف کر دو میرے لال....! مَیں اَنا کی آگ میں جھلس رہی تھی مگر تم نے مجھے آگ میں گرنے سے بچا لیا۔ اللہ! تو میرے گناہ کو معاف کر۔‘‘ اُنہوں نے دامن پھیلا کر سچے دل سے دُعا کی۔
پھر جوش سے بولیں، ’’فوراً جاؤ! دیکھو! تمہاری پھوپھو زیادہ دور نہیں گئی ہوں گی۔ اُنہیں عزت کے ساتھ واپس لے آؤ۔ میں ابھی اُن سے معافی مانگوں گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کہانی: خود سے خود کی پہچان
آفتاب نے فوراً اپنی بائیک نکالی اور پھوپھو کو سر راہ روک کر اُن کی منت سماجت کرکے گھر واپس لے آیا۔
سعدیہ بیگم نے ہاتھ جوڑ کر اپنی نند سے معافی مانگی پھر اُنہیں کھانا کھلا کر اور بچّوں کے لئے مٹھائی اور تحفے تحائف دے کر خوشی خوشی اُنہیں رخصت کیا۔
رات کے کھانے پر سعدیہ بیگم آفتاب سے بولیں، ’’مَیں اُس رب کی شکر گزار ہوں جس نے تمہاری شکل میں ہدایت کے اسباب پیدا کئے تاکہ مَیں فلاح پاؤں۔‘‘
آفتاب نے آج سے قبل اپنی امّی سے اِتنی ساری باتیں، وہ بھی اِس طرح سے کبھی نہیں کی تھیں۔ اُس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اُس نے سعدیہ بیگم کے گود میں سر رکھ دیا۔ سعدیہ بیگم نے بڑھ کر آفتاب کی پیشانی چوم لی۔