Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ یونین کی صدر کا مظاہرے میں ناشائستہ زبان پر معافی سے انکار، پولیس کارروائی پر سوال

Updated: August 01, 2026, 10:31 PM IST | New Delhi

طلبہ یونین اے آئی ایس اے کی صدر نے نیٹ پرچہ لیک کے خلاف مظاہرے میں ناشائستہ زبان پر معافی مانگنے سے انکار کردیا ، جبکہ انہوں نے پولیس کے ذریعے کی گئی کارروائی پر حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

AISA President Neha Bora. Photo: INN
اے آئی ایس اے کی صدر نیہا بورا۔ تصویر: آئی این این

اے آئی ایس اے کی صدر نیہا بورا، جنہوں نے جنت منتر احتجاج میں۲۳؍ روزہ بھوک ہڑتال کی تھی، نے مرکزی حکومت کے خلاف مظاہرین کی ناشائستہ زبان پر معافی مانگنے یا ان کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ناقدین پر الزام لگایا ہے کہ وہ۲۰؍ جولائی کے کریک ڈاؤن کے دوران مبینہ طور پر پیلٹ گن اور پولیس فورس کے استعمال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی کو دیے گئے انٹرویو میں نیہا نے کہا کہ کچھ مظاہرین کی زبان پر تنازع کو پارلیمنٹ مارچ کے دن پولیس کارروائی پر احتساب کو سبوتاژ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔احتجاج ختم ہونے کے بعد مظاہرین کی گالیوں کی ویڈیوز نے سیاسی توجہ حاصل کی اور بہت سے بچوں کے خلاف پولیس کارروائی ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۵؍سالہ لڑکی کی معافی پر کنگنا رناوت کا ردِعمل، کہا ’اپنی بیٹیوں کا تحفظ کریں‘

ایسی ہی ایک مظاہرین رُچیکا سنگھ ہیں، جو۱۵؍ سالہ لڑکی ہیں، جن کی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف گالیوں بھری تنقید انہیں اس تنازعے کے مرکز میں لے آئی اور ان کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں۔نیہا نے کہا ،’’آپ کو الفاظ کی بدتمیزی اتنی گھناؤنی لگتی ہے۔ کیا آپ کو یہ گھناؤنانہیں لگا جب دھرمیندر پردھان نے پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کودہشت گرد کہا؟ کیا آپ نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی؟ جب نتن نوین نے ہمیں وائرس کہا، تو کیا کسی نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کیں؟ نیہا کے مطابق، بات زبان کی نہیں بلکہ مظاہرین کو پہنچنے والی چوٹوں کی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا ،’’سب سے پہلے، جو لوگ ہمیں اس بدتمیزی کی مذمت کرنے کو کہتے ہیں، میں معافی چاہتی ہوں۔ ہم آپ کا یہ کھیل نہیں کھیلیں گے۔ آپ یہ کھیل اس لیے کھیل رہے ہیں کیونکہ ہم امیت شاہ سےجواب طلب کر رہے ہیں۔ ہم پولیس کمشنر سےجواب طلب کر رہے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ طلبہ پر پیلٹ گن کا استعمال ایک چھوٹا مسئلہ ہے اور رُچیکا کا بیان ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘‘ہم اب بھی جوابات تلاش کر رہے ہیں۔  انہوں نے پوچھا ،’’آپ نے۲۰؍ جولائی کو مظاہرین پر پیلٹ گنیں کیوں استعمال کیں؟ سیکیورٹی فورسیز کو پیلٹ گن کیوں دی گئیں؟ کیلیں جڑی لاٹھیاں کیوں دی گئیں، جن سے مظاہرین زخمی ہوئے؟‘‘نیہا نے اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی کہ ایک آر ایس ایس کارکن کےیہ کہنے پر کسی نے اعتراض نہیں جتایاکہ جنتر منتر پر عصمت دری پسند خواتین احتجاج کر رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: حکومت مخالفین کو خاموش کرنے کیلئے ہرقانون اور حربہ استعمال کررہی ہے: سابق جج

مزید برآں نیہا نے الزام لگایا کہ تنازعے کے بعد انہیں اور رُچیکا سنگھ کو سوشل میڈیا پر متعدد عصمت دری کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ انہوں نے کہا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مظاہرین کو ذات پات اور مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ان کی تحریک کمزور ہو۔انہوں نے کہا کہ ملک کے سامنے مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کسی نے برا لفظ استعمال کیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا پرامن احتجاج کرنے والے عام شہریوں پر پیلٹ گن اور آنسو گیس سے حملہ کیا جا سکتا ہے؟ حالنکہ دہلی پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ مرکز کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے قانون کے دائرے میں کام کیا۔تاہم نیہا نے کہا کہ ذمہ داری امیت شاہ پر ختم ہوتی ہے۔ ذمہ داری پولیس کمشنر پر ختم ہوتی ہے۔ اگر کسی کو استعفیٰ دینا ہے یا برطرف کیا جانا ہے تو وہ یہ دو افراد ہیں۔ کسی نچلے درجے کے افسر کی معطلی ہمارے لیے کافی نہیں۔
بعد ازاں نیہا بورا نے استدلال کیا کہ چاہے مبینہ اقدامات مجسٹریٹ یا اعلیٰ حکام کے حکم پر کیے گئے ہوں، سیاسی ذمہ داری بالآخر مرکزی وزیر داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔اگر یہ مجسٹریٹ کے حکم پر ہوا تو پھر آپ کس قسم کے وزیر داخلہ ہیں؟اور اگر یہ آپ کے حکم پر ہوا تو پھر آپ کس قسم کی مجرم ریاست چلا رہے ہیں جہاں عام شہریوں پر پیلٹ گنیں چلائی جا سکتی ہیں؟

یہ بھی پڑھئے: ’’جنتر منتر پر پتھرائو بی جے پی کے غنڈوں نے کیا تھا‘‘

علاوہ ازیں بورا نے بتایا کہ مبینہ پولیس کارروائیوں نے تحریک کی نوعیت کو یکسر تبدیل کر دیا، اسے پیپر لیک کے مسئلے سے ہٹا کر حکومت کے احتجاج سے نمٹنے کے خلاف ایک وسیع تر سیاسی مہم میں بدل دیا۔ نیہا نےیہ بھی بتایا کہ بی جے پی کو ووٹ دینے والے افراد اب ان کے سامنے پشیمانی کا اظہار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ووٹ کی وجہ سے طلباء خودکشی کر رہے ہیں، اور اب انہیں بہت شرم آتی ہے۔یہ (تحریک) اب دھرمیندر پردھان کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ اس بارے میں ہے کہ کیا حکومت ملک کے عام شہریوں کے ساتھ اتنا وحشیانہ سلوک کر سکتی ہے،بورا نے دعویٰ کیا کہ طلبہ اور نوجوانوں میں دھوکہ دہی کا احساس اب وزیراعظم مودی، شاہ اور دہلی پولیس کمشنر کی طرف مرکوز ہے۔انہوں نے دہرایا کہ شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ احتجاج کے دوران اور بعد میں حراست میں لیے گئے مظاہرین کی رہائی کی کوششوں سے الگ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آج امیت شاہ پونے میں، کانگریس کو پولیس نے احتجاج کی اجازت دی

انہوں نے الزام لگایا کہ یقین دہانیوں کے باوجود طلباء کے خلاف گرفتاریاں اور مقدمات جاری ہیں۔اس کے علاوہ تحریک کے سیاسی ردعمل کے بارے میں، بورا نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل اٹھائیں اور کانگریس سمیت جماعتوں اور این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس جیسی طلبہ تنظیموں کی طرف سے دی گئی حمایت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اپنا یقین ظاہر کیا کہ عوام تحریک اور۲۰؍ جولائی کے واقعات دونوں کو یاد رکھیں گے۔انہوں نے کہا،’’میرے خیال میں لوگ اس تحریک کو نہیں بھولیں گے۔ ہم نہیں بھولیں گے کہ جب ہم نے تقسیم کاری کی سیاست کو ایک طرف رکھا اور اپنے مستقبل کے لیے مل کر لڑے، تو ہم جیت گئے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK