Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: کرایہ دار

Updated: June 04, 2026, 6:24 PM IST | Asma Siddiqui | Mumbai

وہ میرے اوپر والے کمرے میں رہتی تھی۔ روزانہ جب کالج جانے کے لئے نکلتی تو میرے دل کو کچھ ہوتا تھا۔ احساسِ کمتری، حسد، رشک یا جلن.... کچھ ایسا، جو بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ کبھی کبھی میں بس اسے دیکھتی رہ جاتی۔ آج تو گویا وہ پریوں کے شہر کی ملکہ لگ رہی تھی۔ سفید فراک، گلابی سرخ دوپٹہ اور سنہری جوتی۔ کیا نہیں تھا اس کے پاس؟ سب کچھ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

جس طرح ہر کہانی میں کردار ہوتے ہیں، ویسے ہی ہر کردار کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے۔ اور اکثر یہ کہانیاں بالکل عام سی، بے تکلّف اور سادہ ہوتی ہیں.... نہ کچھ بہت غیر معمولی، نہ ہی ضرورت سے زیادہ ڈرامائی۔ بالکل ہماری زندگیوں کی طرح.... عام، سادہ، لیکن اپنے اندر بیشمار رنگ لئے ہوئے۔

ہر صبح جب ہم جاگتے ہیں، دودھ لینے نکلتے ہیں، تو راستے میں درجنوں عام سے چہرے نظر آتے ہیں۔ یہ چہرے، یہ لوگ.... جو بظاہر ہماری زندگی میں کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتے.... درحقیقت زندگی کی حرکت کا احساس دلاتے ہیں۔ کبھی سوچیں، اگر ایک صبح آپ باہر نکلیں اور پوری سڑک سنسان ہو.... تو کیسا لگے گا؟ خاموشی کا یہ خلا فوراً احساس دلا دے گا کہ جنہیں ہم ’’عام لوگ‘‘ سمجھتے ہیں، وہی ہماری زندگی کے اہم ترین حصے ہیں: اخبار والا، پڑوسی، یا پھر کرایہ دار۔

کرایہ دار.... یہ وہ واحد کہانی ہے جسے لکھنے میں مجھے ایک سال سے زیادہ لگا۔ شاید اس لئے کہ کچھ تحریریں جلدی میں نہیں لکھی جاتیں۔ کچھ کہانیاں وقت مانگتی ہیں، تاکہ وہ خود اپنا راستہ تلاش کرسکیں۔ یہ افسانہ بھی میرے ساتھ پورے ۲۰۲۵ء میں قدم بہ قدم چلتا رہا۔

عمومی طور پر ہر کہانی میں ایک ہیرو اور ہیروئن ہوتی ہے، لیکن اس کہانی میں فقط ہیروئن ہے۔ عورتیں.... جو بیک وقت کہانیوں کی مرکزی کردار بھی ہیں اور کہیں نہ کہیں سپورٹنگ کردار بھی۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو اکثر ایک دوسرے کی دشمن کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ خاص طور پر ٹی وی ڈراموں میں.... ساس، نند، بہو کی چپقلش، جس نے برسوں سے عورت کو عورت کے خلاف کھڑا کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ہائے وہ اشک

لیکن میرا ماننا کچھ اور ہے۔ عورت عورت کی دشمن نہیں ہوتی۔ وہ صرف خواہشات کی ماری ہوتی ہے۔ کسی کا کوئی خوبصورت زیور دیکھ لیا تو اسے حاصل کرنے کی خواہش جاگ اٹھی۔

کسی کے حُسن کو دیکھا تو پھر ویسا ہی بننے کی آرزو دل میں اتر آئی۔

کسی کا خوبصورت لباس نظر آیا تو اسے پہننے کی تمناا ہونے لگی۔

شاید عورت کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہ دوسروں میں اپنی کمی تلاش کرتی رہتی ہے اور ان جیسا بننے کی خواہش میں خود کو بھول جاتی ہے۔

عورت کی سرشت ہی یہی ہے... خواہش کرنا، خوش ہونا، اور پھر اسی خوشی کو پانے کی آرزو رکھنا۔ یہی آرزوئیں... یہی خواہشات... اور یہی عام سے کردار... ہماری کہانیوں کو خاص بنا دیتے ہیں۔

وہ میری کرایہ دار تھی۔ لگ بھگ بیس سالہ۔ حسین۔ لمبا قد، تیکھے نقوش.... جیسے کوئی اپسرا، یا شاید کلیوپیٹرا۔ یا جنت کی کوئی حور۔ پتہ نہیں۔ 

اور میں.... میں پینتیس سالہ، موٹی، قد میں چھوٹی، عام سی شکل و صورت والی عورت۔ جب اس کے سامنے آتی تو لگتا جیسے چاند کے سامنے موٹے کالے بادل آگئے ہوں۔

وہ میرے اوپر والے کمرے میں رہتی تھی۔ روزانہ جب کالج جانے کے لئے نکلتی تو میرے دل کو کچھ ہوتا تھا۔ احساسِ کمتری، حسد، رشک یا جلن.... کچھ ایسا، جو بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ کبھی کبھی میں بس اسے دیکھتی رہ جاتی۔ آج تو گویا وہ پریوں کے شہر کی ملکہ لگ رہی تھی۔ سفید فراک، گلابی سرخ دوپٹہ اور سنہری جوتی۔ کیا نہیں تھا اس کے پاس؟ سب کچھ۔

وہ بھوپال سے ممبئی پڑھنے آئی تھی۔ اس کے کسی رشتہ دار سے میرے مرحوم ابّا کی سلام دعا تھی، تو انہوں نے اسے میرے گھر کا پتہ بتایا تھا۔ جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ ایک کمرے کی تلاش میں میرے پاس آئی تو میں اسے منع نہ کرسکی۔

منع کرتی بھی تو کیسے؟

میں، جو تنہائی کی مسافر تھی، اسے کوئی ساتھی مل گیا تھا۔ کبھی میں اسے دیکھ کر خوش ہوتی، کبھی اداس.... اور کبھی بے چین۔

وہ خوبصورت تھی، لیکن اس کی اصل خوبصورتی اس کی مسکراہٹ تھی۔ وہ ہمیشہ نفیس سی مسکراہٹ لئے رہتی، جیسے واقعی زندگی جی رہی ہو۔

اور میں.... میں تو کب کی زندگی جینا بھول چکی تھی۔

میرے اندر خود اعتمادی نہیں تھی۔ تھا تو بس شکوہ، شکایت اور زندگی سے ناراضی۔ نہ مجھے کسی سے ملنا پسند تھا، نہ ہی باتیں کرنا۔

کالج کے دنوں میں میری ساری کلاس میٹس حسین و جمیل، ویل گرومڈ اور پُراعتماد تھیں۔ اور میں.... ان کے سامنے معمولی شخصیت والی ایک احمق سی لڑکی۔

میرے والدین نے مجھے بہت سمجھانے کی کوشش کی۔ میرے اندر خود اعتمادی لانے کی ممکن ترین کوشش کی، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔

میرے والد صاحب نے مجھے شادی کے لئے بھی بہت راضی کیا، مگر میں نہ مانی۔ میرا یہ خیال تھا کہ مجھے کوئی پسند نہیں کرسکتا۔ مجھے کسی کا احسان نہیں چاہئے تھا۔

میرا مال، میرا گھر دیکھ کر شاید کوئی شادی کر بھی لیتا.... مگر مجھے کوئی ایسا انسان چاہئے تھا جو مجھ سے محبت کرے۔ وہ محبت، جو میں آج تک خود سے نہ کرسکی۔ کیا کہتے ہیں اسے؟ سیلف لو۔

شاید میرے شادی نہ کرنے کے فیصلے نے میرے والدین کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا، اور وہ دنیائے فانی سے بہت جلد رخصت ہوگئے۔

پچھلے ایک سال سے میں اس گھر میں صرف ان کی یادوں کے ساتھ گزارا کر رہی تھی۔ میں، میری تنہائی، اور میرا ڈر۔

میں نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے بھی ملنا چھوڑ دیا۔ اور خود سے جو تھوڑی بہت محبت کرتی تھی، وہ بھی چھوڑ دی۔

اور پھر ایک دن رمشا.... میری کرایہ دار.... میری زندگی میں آئی۔ اپنی والدہ کے ساتھ۔

کچھ وقت گزار کر ان کی والدہ واپس چلی گئیں۔ ہاں، وہ دو تین مہینے میں ایک بار اپنی بیٹی سے ملنے ضرور آتی تھیں۔

رمشا ہمیشہ تیار ہو کر صبح صبح نکلتی تھی اور شام دیر سے واپس آتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ وہ صرف مجھے دکھانے کے لئے تیار ہوتی ہے۔

مجھے چِڑ ہوتی کہ دیکھو، میں مالکِ مکان ہو کر بھی اس کی نوکر لگتی ہوں۔

روز اسے دیکھ کر سوچتی کہ آخر کیا کمی ہے اس کے پاس؟ دنیا کی ساری نعمتیں جیسے اسی کے دامن میں ڈال دی گئی ہوں۔

کہتے ہیں نا، اگر عورت کے پاس عقل اور حسن ہو تو وہ دنیا فتح کرسکتی ہے۔ اور وہ دونوں ہی چیزیں اس کے پاس تھیں۔

اور میں.... شاید دونوں سے محروم۔

ایک معمولی کالج کی سادہ سی ڈگری، چھوٹا سا قد، سیاہ رنگت....

اور وراثت میں ملی تھوڑی سی دولت۔ بس یہی میری کل کائنات تھی۔

کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ خدا نے  میرے حصے میں صرف احساسات لکھے تھے۔ ایسے احساسات، جو انسان کو اندر ہی اندر کھاتے رہتے ہیں۔ رمشا کو دیکھ کر میرے اندر کی ہر کمی جاگ اٹھتی تھی۔ میرا عدم ِ اعتماد، میری تنہائی، میرا خوف.... سب ایک ساتھ میرے سامنے آ کھڑے ہوتے۔

یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: قربانی

وہ جب آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے بال سنوارتی، تو میں چپکے سے دروازے کی اوٹ سے اسے دیکھتی رہتی۔

اور پھر اپنے کمرے میں آکر دیر تک آئینے سے نظریں چراتی رہتی۔

کچھ دن پہلے بھی رمشا کی والدہ آئی تھیں۔ ایک ہفتہ رک کر وہ واپس چلی گئیں۔ ان کی باتیں مجھے اچھی لگتی تھیں۔ انہوں نے اپنی بیماری کے بارے میں بھی بتایا۔ وہ بیمار رہتی تھیں، اسی لئے کمزور سی ہوگئی تھیں۔ سارے ٹیسٹ اور چیک اَپ کروا کر وہ واپس اپنے گھر چلی گئیں۔ دن گزرتے جا رہے تھے اور ہر گزرتا دن مجھے مجھ سے دور کر رہا تھا۔

جمعہ کی گرم سی شام تھی۔ میں صحن میں بیٹھی ہوئی اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔ اچانک گھنٹی بجی۔

مجھے لگا شاید رمشا ہوگی، اس کے آنے کا وقت بھی ہوگیا تھا۔ میں اپنی سوچوں میں گم دروازہ کھول دیا۔ سامنے دروازے پر کھڑی میری خالہ زاد بہن کنول تھی۔ وہ بھی شادی کے بعد ممبئی میں رہ رہی تھی۔ کبھی کبھار مجھ سے آکر مل لیتی تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے اچھا لگا۔ میں نے اسے صحن میں ہی بٹھا دیا۔ ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ ڈور بیل دوبارہ بجی۔ اس نے کہا ’’باجی، میں کھول دیتی ہوں۔‘‘

سامنے رمشا کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آئی، جیسے اسے پہچانتی ہو۔ مجھے حیرانی ہوئی۔ میں نے بے ساختہ پوچھ لیا کہ ’’کنول تم دونوں کی آپس میں ملاقات ہے؟‘‘

’’نہیں، کچھ خاص نہیں، مگر جس بیوٹی پارلر میں رمشا مہندی آرٹسٹ ہے وہاں میرا اکثر جانا لگا رہتا ہے۔ وہ پارلر میرے گھر کے پاس ہی ہے۔‘‘ اس نے کہا۔ میں حیران ہوئی۔

صبح کالج جانے کے وقت میں نے رمشا سے پوچھا کہ ’’تمہیں ٹائم کب ملتا ہے، تم تو کالج جاتی ہو؟‘‘ تو اس نے بتایا کہ ’’میری پارلر والی سے بات طے ہے، جب کوئی کسٹمر آتا ہے تو وہ مجھے کال کر دیتی ہیں۔ پارلر کالج کے قریب ہی ہے، میں جا کر لگا دیتی ہوں اگر اس وقت میری کلاسیز نہ ہوں، اور شام کو کلاس کے بعد دو گھنٹے پارلر میں ۳؍ سے ۵؍ بجے تک رک جاتی ہوں۔ بس اسی طرح میرا اپنا خرچ نکل جاتا ہے۔ پارلر کی مالکن ہمیشہ سب بچیوں کو تیار ہو کر آنے کو بولتی ہیں، کتنے پیسے تو میرے اسی وجہ سے ہی ضائع ہو جاتے ہیں۔‘‘

میں نے کبھی اس سے کھل کر باتیں نہیں کی تھیں۔ آج بات کی تو پتہ چلا کہ اس کے اوپر کتنی ذمہ داریاں اور پریشانیاں ہیں۔

’’امی ہمیشہ بیمار رہتی ہیں، ان کا خرچ، چھوٹے بھائی کی اسکول فیس، میری پڑھائی اور اتنے بڑے شہر میں رہنے کے اخراجات.... زندگی آسان نہیں ہے۔‘‘ اس نے مڑ کر کہا ’’لیکن ہمیں اسے آسان بنانا پڑتا ہے، مسکرا کر، لڑ کر، اس امید پر کہ آگے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میری عادت ہے میں پیچھے نہیں، آگے دیکھتی ہوں۔ ہوسکتا ہے آج میرے حالات بہتر نہ ہوں، کل میں بہت اچھے حالات میں ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: نانی اور رانی

میں حیران ہوگئی۔ اتنی کم عمر اور اتنی سمجھ۔ میں نے ہمیشہ زندگی میں پیچھے دیکھا تھا، کبھی آگے نہیں دیکھا۔ آج بھی مجھے اسکول کے دنوں کی باتیں ستاتی تھیں، جب ٹیچرز مجھے کسی بھی پروگرام میں سلیکٹ نہیں کرتے تھے۔ میں ہمیشہ سب سے پیچھے رہ جاتی تھی اور اسی وجہ سے مجھے لگنے لگا تھا کہ میرے اندر کوئی کمی ہے۔ میں نے کبھی آگے کے بارے میں نہیں سوچا۔ ہمیشہ ان باتوں پر روئی جن پر میرا کوئی اختیار ہی نہیں تھا۔

وہ کالج جا چکی تھی اور میں وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی۔ جیسے وقت رک گیا تھا۔

شام میں جب وہ واپس آئی تو میں نے اسے نیچے بٹھا لیا۔

’’تم نے کبھی بتایا نہیں کہ تم مہندی آرٹسٹ ہو۔ مجھے یاد نہیں میں نے آخری بار مہندی کب لگائی تھی۔ کیا تم مجھے مہندی لگا دو گی؟‘‘ 

اس نے فوراً ہاں کر دی۔

’’مگر میری ایک شرط ہے، مَیں تبھی لگاؤں گی اگر آپ اس کے پیسے لیں گی۔‘‘

اس نے صاف انکار کر دیا۔

’’آپ میری بڑی بہنوں جیسی ہیں۔ آپ چاہیں تو مجھے صبح ناشتہ کرا دیجئے گا، مگر میں پیسے نہیں لے سکتی۔‘‘ اس نے دیر رات تک مجھے مہندی لگائی۔ مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا بھی کھلایا اور پھر چلی گئی۔ میرے دونوں ہاتھوں میں مہندی تھی۔ ایک عرصے بعد میں اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ مہندی بہت نفیس تھی۔ پہلی بار مجھے میرے ہاتھ اچھے لگے۔ پہلی بار مَیں نے اپنے آپ پر اتنا دھیان دیا۔

اور پھر دھیرے دھیرے یہ میرا معمول بن گیا۔ وہ مجھے طرح طرح سے تیار کرتی، کبھی ہیئر اسٹائل، کبھی گھر کی چیزوں سے فیشل۔ جب وہ مجھے ریڈی کرتی تو میری تعریف ضرور کرتی۔ ہمیشہ کہتی ’’آپ کے چہرے پر کتنا گلو آگیا ہے۔‘‘

اور مَیں معصوم بچے کی طرح خوش ہو جاتی۔

کالج کا پہلا سال گزر گیا۔ اسے اب ہاسٹل مل گیا تھا جو کالج کے بالکل نزدیک تھا۔ میری کرایہ دار جا رہی تھی۔ مجھے لگا شاید میرا گھر پھر سے ویران ہو جائے گا۔ میں اندر سے پریشان تھی مگر اوپر سے خوش دِکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ رات میں اس کی امی کو آنا تھا، پھر کچھ دن ساتھ رہنے کے بعد اس کا ہاسٹل شفٹ ہونے کا ارادہ تھا۔

اس کی امی حیران ہوئیں۔ شاید انہیں بھی میرے اندر کی تبدیلی دکھ رہی تھی۔

میں نے دونوں کو کھانے کی دعوت دی تھی۔ کھانے کے بعد وہ مجھے بہت دعائیں دینے لگیں۔ 

تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد انہوں نے اپنے بھائی کے بارے میں بتایا۔

’’رمشا کے ماموں، میرا بھائی، مجھ سے بہت چھوٹا ہے۔ اسے ضد تھی کہ سرکاری نوکری ہی چاہئے۔ اس نے بہت تیاری کی لیکن نصیب سے ملی نہیں۔ اسی چکر میں اس کی شادی میں بھی تاخیر ہوگئی۔ اب اس نے اپنے گھر میں ہی کوچنگ سینٹر کھولا ہے۔ بہت اچھا چل رہا ہے۔ امتحان دیتے دیتے اسے امتحان کی بہت سمجھ ہوگئی ہے۔‘‘

پھر وہ مسکرائیں اور بولیں ’’امتحان میں فیل ہونے والے کبھی کبھی شاید ٹاپر سے زیادہ اچھا امتحان سمجھ لیتے ہیں، کیونکہ وہ کئی بار کوشش کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ہماری جیت سے زیادہ ہماری ہار ہمیں سکھاتی ہے۔ اسی لئے اس کی کوچنگ بہت اچھی چل رہی تھی۔‘‘ انہوں نے میری خالہ کا نمبر لیا اور ان سے رشتے کی بات کی۔

خالہ نے مجھ سے پوچھا۔ مَیں تھک چکی تھی۔ اکیلے خود کو اور گھر کو سنبھالتے سنبھالتے۔ عورت کے اندر بہت طاقت ہوتی ہے، لیکن جب وہ ٹوٹتی ہے تو ٹوٹ ہی جاتی ہے۔ رمشا کے جانے کے دکھ نے مجھے اور کمزور کر دیا تھا۔

آج تین سال بعد میں اپنے گھر میں، اپنے اس گھر میں جسے معاشرہ عورت کا اپنا گھر کہتا ہے، اپنے شوہر کے گھر میں بیٹھی ہوئی تھی خوش... پُرسکون۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ٹوٹا ہوا خواب

شاید ہم لوگوں کو پہلے ہی جج کر لیتے ہیں۔ دنیا خوبصورتی کی دیوانی ہے، اور یہ وہی دنیا بھی ہے جس میں قبول صورت لوگ بھی خوشی سے رہ رہے ہیں۔ مجھے یہ بات دیر سے سمجھ میں آئی۔

میں نے اپنے والدین کے گھر میں نئے کرایہ دار رکھ لئے تھے۔ پوری ایک فیملی تھی۔ وہ بہت خوش تھے۔ ہمیشہ مجھے شکریہ کہتے تھے کہ آپ نے بہت کم پیسوں میں ہمیں گھر دے دیا، ہمیں چھت نصیب کر دی۔

شاید ایسا ہی ہوتا ہے زیادہ تر۔

مکان مالک کرایہ دار کو گھر دیتے ہیں، چھت دیتے ہیں۔

مگر مجھے....

مجھے تو میرے کرایہ دار نے گھر دیا تھا۔

مجھے چھت دی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK