Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: سجدۂ شکر

Updated: May 13, 2026, 2:45 PM IST | Ulfat Riyaz | Mumbai

اس کی تو مانو دنیا ہی اُجڑ گئی۔ زندگی کے تپتے ہوئے صحرا میں ایک تنہا درخت، جو اسے سایہ دے رہا تھا، وقت کی تیز و تند ہواؤں نے اسے اکھاڑ پھینکا تھا اور ان صحراؤں میں اسے تنہا چھوڑ دیا تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دو دن اور تین راتیں متواتر جاگنے کے بعد آج وہ تیسری رات تھی جب وہ سونے کے ارادے سے اپنے کمرے میں آئی تھی۔حد سے زیادہ تھکن کے باوجود بھی اس کا منتشر ذہن اسے آرام کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ اس کے اندر سوچوں کا ایک تلاطم بپا تھا۔ کچھ عجب نہ تھا جو پچھلی کئی راتوں کی طرح ہی یہ رات بھی وہ جاگ کر گزار دیتی۔

اس کی تو مانو دنیا ہی اُجڑ گئی۔ زندگی کے تپتے ہوئے صحرا میں ایک تنہا درخت، جو اسے سایہ دے رہا تھا، وقت کی تیز و تند ہواؤں نے اسے اکھاڑ پھینکا تھا اور ان صحراؤں میں اسے تنہا چھوڑ دیا تھا۔

اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں جنہیں دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ ان میں درد کس قدر شدید ہوگا لیکن اس سے کہیں زیادہ درد اس کے اندر تھا، جسے وہ ہر لمحہ محسوس کر رہی تھی ۔ ان سب کے باوجود اس کی آنکھوں سے ایک بھی آنسو نہیں نکلا تھا۔ شاید وہ قدرت کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کرنا چاہتی تھی۔ وہ دکھانا چاہتی تھی کہ دیکھو! میں اب بھی مضبوط ہوں، دیکھو! میری آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں ہے اور میں رو نہیں رہی ہوں۔ تم مجھے رُلا نہیں سکتے، ہرگز نہیں! میں ٹوٹنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ تم نے میری دنیا اُجاڑ دی مگر میں اسی طرح کھڑی ہوں۔ دیکھو! میں جی رہی ہوں، ہاں، اب بھی میں زندہ ہوں... زندہ ہوں......

وہ اکتوبر کی ایک خوبصورت صبح تھی۔ سات سالہ مہرین اپنے نرم و گداز بستر پر سوئی ہوئی تھی۔ قریب ہی اس کے سرہانے نانو بھی بیٹھی ہوئی تھیں اور اس کے ملائم ریشمی بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کر رہی تھیں۔ اسے لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔ اس نے آہستہ سے اپنی ایک آنکھ آدھی کھول کر دیکھا تو نانو سچ مچ پلنگ کے سرہانے بیٹھی ہوئی تھیں۔ وہ ایک ہاتھ سے تسبیح کے دانے گھما رہی تھیں اور ان کا دوسرا ہاتھ اس کے بالوں میں تھا۔ پہلے تو وہ چونکی، پھر ہڑبڑا کراُٹھی اور اچھل کر بستر پر بیٹھ گئی، گویا اسے کوئی شاک لگا ہو۔ اس نے ایک اچٹتی نگاہ کمرے پر ڈالی اور پھر حیران کن نگاہوں سے نانو کا چہرہ دیکھنے لگی۔ تو کیا وہ سچ میں نانو کے گھر میں تھی؟

’’کیا ہوا، مہرین بیٹا؟ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہی ہو؟‘‘

نانو نے اس کےنازک ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور بہت محبت سے اسے اپنی گود میں بٹھایا۔اس نے چونک کر پوچھا:

’’نانو!‘‘

’’ہاں بیٹا... میں تمہاری نانو ہی ہوں، تم اپنی نانو کے گھر میں ہو۔‘‘

وہ کچھ دیر رکیں اور پھر گویا ہوئیں،’’آج صبح ہی یاسر تم کو اور عائشہ کو یہاں چھوڑ کر گیا ہے۔‘‘

ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا جب یاسر اسے سوتے ہی میں اس کی ماں کے ساتھ نانو کے گھر چھوڑ گیا تھا، شاید اسی لئے وہ قدرے حیرت میں مبتلا تھی مگر جب مہینہ بھر بعد پھر ایسا ہوا اور پھر ہر مہینے میں دو یا تین بار ایسا ہونے لگا تو یہ اس کی عادت بن گئی اور اس کی حیرت بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ رات کو وہ اپنے کمرے میں سوتی اور جب اس کی آنکھ کھلتی تو خود کو نانو کے کمرے میں پاتی۔ یاسر آدھی رات کو ہی جب وہ سو رہی ہوتی، اسے اور عائشہ کو یہاں چھوڑ جاتا تھا، یا کبھی فون کرنے پر نانو خود جاکر ان دونوں کو وہاں سے لے آتیں۔ یا یوں بھی ہوتا کہ ڈرائیور بھیج دیتی، جو اسے اور عائشہ کو نانو کے پاس لے آتا۔ کئی دفعہ تو ایسا ہوتا کہ اسکول سے چھٹی پر ڈرائیور اسے لینے آتا اور سیدھا نانو کے گھر لے جاتا۔یاسر اور عائشہ کی آپس میں کبھی نہیں بنتی تھی۔ دونوں کے درمیان ہمیشہ ہی کہا سنی اور لڑائی جھگڑے ہوا کرتے تھے۔ جہاں تک اسے یاد تھا، اس نے کبھی بھی ان کو ایک ساتھ بیٹھے ہوئے یا پیار سے بات کرتے نہیں دیکھا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: گھر میں اُگتا سورج

حالانکہ یاسر اور عائشہ نے ایک ہی کالج میں ایک ساتھ ایم بی اے کیا تھا۔ اس کے باوجود دونوں دو مختلف دنیاؤں میں جینے والے، ایک دوسرے سے بالکل بے گانہ، دو الگ الگ انسان تھے۔

یاسر ایک پڑھا لکھا بزنس مین تھا جس کا بیشتر وقت یا تو آفس اور فیکٹری کے چکر کاٹنے میں یا پھر میٹنگز اور کلائنٹس کے درمیان گزرتا تھا جبکہ عائشہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہوتے ہوئے بھی گھریلو زندگی کو ترجیح دینے والی عورت تھی۔

یاسر نے یہ سوچ کر اس سے شادی کی ہامی بھری تھی کہ وہ بزنس میں اس کا ساتھ دے گی مگر شادی کے بعد وہ ایک روایتی عورت ثابت ہوئی تھی۔ شادی کے بعد وہ شاید ہی کبھی آفس گئی ہو۔ وہ سارا وقت گھر میں رہ کر خانہ داری دیکھتی اور باقی وقت عبادت میں گزار دیتی اور جب سے مہرین اس کی زندگی میں آئی تھی وہ اور بھی گھریلو ہو گئی تھی۔ گھر میں نوکر اور آیا کے ہوتے ہوئے بھی وہ گھر کے اکثر کام خود ہی کرتی اور مہرین کے تمام کام... جیسے اس کے کپڑے دھونا، اسے نہلانا اور اس کے کھانے کا انتظام وغیرہ... یہ سب تو ہرگز کسی کے ذمے نہیں چھوڑتی تھی۔ وہ مہرین سے متعلق ہمیشہ سے ہی بہت حساس تھی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ٹوٹا ہوا خواب

یہاں تک کہ یاسر کو بھی اسے گود میں لینے یا اس کے ساتھ کھیلنے کا موقع کم ہی ملتا تھا۔ اول تو وہ گھر میں ہوتا ہی نہیں تھا، اور جب کبھی وہ گھر آتا اور اسے گود میں لے کر کھلانا شروع کرتا، اتنے میں ہی عائشہ دوڑ کر آتی اور مہرین کو اس کے ہاتھوں سے چھین لیتی۔ پھر کیا! اسی  پر دونوں میں کہا سنی شروع ہو جاتی، جو پہلے بحث اور پھر لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی۔

اس دوران وہ اپنی گڑیا کو سینے سے چپکائے ایک کونے میں کھڑی اپنی پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ تماشا دیکھتی رہتی تھی۔ جب کبھی ایسا ہوتا، ہر دفعہ اسے عائشہ ہی قصوروار نظر آتی تھی۔

اس کے دس سال کے ہونے تک آئے دن گھر میں یہ تماشا ہوتا رہا۔ اس کی دسویں سالگرہ پر یاسر نے گھر پر ہی ایک چھوٹی سی دعوت کا انتظام کیا، جس میں عائشہ اور یاسر کے کچھ قریبی رشتے دار اور آفس کے کچھ دوست وغیرہ شامل تھے۔ مہرین اس روز صبح ہی سے بے حد خوش تھی۔ وہ دن اس کی زندگی کے چند خوبصورت دنوں میں سے ایک تھا۔

شام کے سات بجتے ہی ایک ایک کر کے سارے مہمانوں نے آنا شروع کر دیا۔مہرین گلابی رنگ کی خوبصورت سی فراک پہنے، بالکل شہزادی کی طرح تیار اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ وہ باہر جا کر مہمانوں سے ملنا چاہتی تھی جن میں اس کی کئی دوست بھی آئی ہوئی تھیں مگر عائشہ نے اسے باہر آنے سے منع کر رکھا تھا۔ کیک کاٹنے کے وقت عائشہ اسے باہر لے کر آئی مگر اس روز بھی عائشہ مہرین کے ساتھ ساتھ رہی، اسے ذرا دیر کے لئے بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔

جب دعوت ختم ہو گئی اور سبھی مہمان رخصت ہو گئے تو عائشہ نے مہرین کو سلا دیا۔ وہ سکون سے اپنے کمرے میں سو رہی تھی کہ اچانک عائشہ کی چیخ سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کمرے سے باہر نکل کر دیکھا تو عائشہ یاسر سے بہت تیز آواز میں لڑ رہی تھی۔ وہ چپ چاپ، ڈری سہمی، اپنی گڑیا سینے سے لگائے، وہیں دور کھڑی انہیںدیکھ رہی تھی۔ رات بھر دونوں میں خوب جھگڑا ہوا، اور پھر صبح عائشہ اسے لے کر ہمیشہ کے لئے نانو کے گھر آ گئی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سناٹوں کی آواز

چونکہ عائشہ اپنے ماں باپ کی اکیلی لڑکی تھی اور نانا کے انتقال کے بعد نانو بھی اپنے بڑے سے گھر میں تنہا ہو کر رہ گئی تھیں، اس لئے عائشہ کے خلع لینے کے بعد سے وہ اور عائشہ دونوں مستقل طور پر نانو کے گھر ہی  شفٹ ہو گئیں۔ نانو کا گھر اگرچہ اس کے گھر کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا تھا اور یہاں اسے ہر قسم کی سہولیات کے ساتھ ہی ایک پُرسکون ماحول بھی میسر تھا، تاہم اسے اکثر اپنے گھر کی یاد ستاتی تھی۔ خصوصاً رات کو وہ آدھی نیند سے اٹھ کر رونا شروع کر دیتی تھی۔ نانو اسے کہانیوں کے ذریعے کسی طرح بہلا پھسلا کر چپ کرواتیں اور دیر رات تک اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر تھپکی دیتی رہتیں، حتیٰ کہ وہ سو نہ جاتی۔

جب سے اسے علم ہوا تھا کہ اب اسے ہمیشہ یہیں رہنا ہے، اس کے اندر ایک نئی بات پیدا ہو گئی تھی۔ وہ یہ کہ اس نے عائشہ سے دوری اختیار کر لی تھی۔ اب نہ تو وہ اس کے ہاتھ سے کھاتی، نہ ہی اس کے ساتھ سوتی، اور نہ اپنا کوئی کام ہی کرواتی۔ اور تو اور، اب اس کے ساتھ اسکول بھی جانا چھوڑ دیا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ یہ سب عائشہ کی غلطی کا نتیجہ ہے کہ اسے اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ اسکول سے واپسی پر بھی وہ سارا وقت نانو کے پاس ہی رہتی تھی اور وہ تمام کام جو پہلے عائشہ اس کے لئے کرتی تھی، اب وہ نانو سے کرواتی تھی۔ گزشتہ ایک ماہ سے اسے عائشہ سے چِڑ سی ہونے لگی تھی۔

عائشہ کو لگا کہ یہ وقتی ناراضگی ہے، جو چند دنوں بعد خودبخود دور ہو جائے گی مگر یہ اس کی بھول تھی۔ اس کی یہ ناراضگی دور تو نہ ہوئی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا اور مہرین کے سمجھدار ہونے تک یہ ناراضگی نفرت میں تبدیل ہو گئی۔ اب محض عائشہ ہی نہیں بلکہ اس سے وابستہ ہر ایک چیز اس کا ہر ایک عمل، اور اس کے تمام عادات و اطوار بھی اس کے لئے قابلِ نفرت ہو گئے تھے۔

وقت اور حالات کےسبب ان کے درمیان جو دیوار کھڑی ہو گئی تھی، اسے گرانے کی نانو نے کئی دفعہ کوشش کی مگر ان کی یہ کوشش ہمیشہ ہی ناکام ثابت ہوئی۔ وہ عائشہ کا نام سنتے ہی بھڑک جاتی اور پھر اگلے دو تین روز تک نانو سے بھی اس کی بات چیت بند ہو جاتی۔

آہستہ آہستہ وقت گزرتا رہا۔ مہرین سولہ سال کی ہو گئی تھی مگر عائشہ سے متعلق اس کا جو رویہ تھا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ وہ آج بھی ویسا ہی تھا، جیسا کہ پانچ چھ برس پہلے ہوا کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: اوقات

اس روز اسکول سے چھٹی پر مہرین اپنی دوستوں کے ساتھ ہنستے ہوئے مین گیٹ سے باہر نکل رہی تھی کہ تبھی اچانک اس کے قدم رک گئے، جب اس کی نظر گیٹ کے عقب میں کھڑی گاڑی کے اندر گئی۔ آج ڈرائیور کی جگہ عائشہ اسے لینے آئی تھی۔ وہ کافی دیر سے گاڑی میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ آج اس نے کئی سالوں کے بعد مہرین کو اس طرح کھل کر ہنستے ہوئے دیکھا تھا، ورنہ گھر میں یہ موقع کبھی نہیں ملتا تھا۔ پہلی بات تو ان کا سامنا ہی نہیں ہوتا اور جب ہوتا بھی تو ہمیشہ اس کی تیوریاں چڑھی ہوئی ہوتیں۔

آج وہ بہت غور سے ہنستی کھلکھلاتی مہرین کو دیکھ رہی تھی جو بے حد حسین لگ رہی تھی اور جس کی آنکھیں بالکل سیپ میں رکھی ہوئی موتی کی طرح چمک رہی تھیں۔ اس کا دل کیا کہ وہ کچھ لمحے اور اسے یوں ہی تکتی رہے مگر عائشہ پر نظر پڑتے ہی اس کی ساری مسکراہٹ، سارے قہقہے جیسے ہوا میں اڑ گئے تھے۔

عائشہ فوراً گاڑی سے باہر نکل آئی اور مسکراتے ہوئے اس کے قریب پہنچی۔’’یہ تمہاری امی ہیں، مہرین؟‘‘اس کی ایک دوست نے پوچھا۔

عائشہ نے بولنے کے لئے اپنے لب کھولے ہی تھے کہ وہ پہلے ہی بول پڑی،’’ نہیں، یہ آنٹی ہیں میری...‘‘اس نے بے حد لاپروائی سے جواب دیا۔

عائشہ کے دل کو دھچکا سا لگا۔ اس نے بمشکل اپنے آنسو ضبط کئے اور مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے بولی،’’چلو مہرین، تمہیں آج میں گھر چھوڑ دیتی ہوں...‘‘

تقریباً دو منٹ تک عائشہ اس کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کی دوست بھی جا چکی تھی مگر وہ اب بھی بے حس و حرکت کھڑی تھی۔

دو منٹ بعد وہ بولی،’’ کیوں آئی ہیں یہاں؟‘‘ اس نے قدرے درشتگی سے سوال کیا۔

’’میں تمہیں  لینے آئی تھی۔ ادھر سے جا رہی تھی تو سوچا تم کو بھی ساتھ لے لوں۔‘‘

    ’’میں خود چلی جاؤں گی۔‘‘

’’پر بیٹا...۔‘‘

’’مجھے بیٹا مت کہئے، مہرین نام ہے میرا...۔‘‘

’’ٹھیک ہے مہرین۔ تم میرے ساتھ تو چلو، مجھے تم سے بہت اہم بات کرنی ہے۔‘‘

کچھ دیر وہ کھڑی سوچتی رہی، اس کے بعد ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر پیچھے بیٹھ گئی۔

’’آگے آ جاؤ، مہرین۔‘‘

’’میں بیٹھ گئی ہوں، یہی بہت ہے...‘‘

’’ اگر اس وقت میرے پاس کرایہ ہوتا تو میں آٹو کر کے چلی جاتی مگر آپ کے ساتھ ہرگز نہ جاتی... اور ہاں آئندہ ایسا کبھی مت کیجئےگا، ورنہ مجبوراً مجھے پیدل ہی گھر جانا پڑ جائے گا۔‘‘

عائشہ نے ایک سرد آہ بھری اور گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ادھوری خواہشوں کا سفر

کچھ وقت تک گاڑی کے اندر بالکل سکوت طاری رہا جس کو بعد میں عائشہ کی آواز نے توڑا۔

’’ایک ہفتہ پہلے میرے لئے دبئی سے شادی کا پروپوزل آیا تھا۔ ان کی بیوی کا ایک حادثے میں ابھی چند دن پہلے انتقال ہو گیا ہے۔ ان کے دو بچے ہیں، جنہیں ماں کی ضرورت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی ماں بن جاؤں۔ مہرین، میں سوچ رہی ہوں کہ شادی کر لوں۔ اس میں ہم سب کی بھلائی ہے، آخر کو تمہیں بھی ایک باپ کی ضرورت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آنے والے جمعہ کو ہمارا سادگی سے نکاح ہو جائے۔ اس کے بعد ہم سب کو لے کر دبئی شفٹ ہو جائیں گے۔ نانو نے بھی ہاں کر دی ہے مگر میں تمہاری مرضی جاننا چاہتی ہوں۔ تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ سوچ کر بتانا۔‘‘

عائشہ اپنی بات کہہ کر خاموش ہو گئی تھی۔ اسے لگا تھا کہ مہرین کو کم از کم ایک دو روز کی مہلت چاہئے ہوگی اس بارے میں سوچنے کے لئےمگر اسے حیرت ہوئی جب مہرین نے بات ختم ہوتے ہی فوراً جواب دے دیا،’’اس میں سوچنے والی کوئی بات نہیں۔‘‘

عائشہ ابھی اس کی بات مکمل سمجھ نہیں سکی تھی کہ وہ پھر بولی،’’مجھے سوچنے کی ضرورت نہیں... میں آپ کے کسی فیصلے میں نہیں بولنا چاہتی۔ یہ آپ کی زندگی ہے، جس طرح چاہیں گزاریں۔ آپ کو جو مناسب لگے، وہ کریں اور ویسے بھی آپ نے اس سے پہلے بھی سارے فیصلے خود ہی کئےہیں۔‘‘’’ایک بات اور... وہ یہ کہ اب مجھے والد کی ضرورت نہیں۔ جب تھی، تب اگر آپ نے اس بارے میں سوچ لیا ہوتا تو آج اس وقت آپ کو یہ بےہودہ سوال کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔‘‘

’’مگر مہرین! بات کو سمجھنے کی کوشش کرو، اس میں ہم دونوں کو بھلائی ہے۔‘‘

’’اگر مگر کچھ نہیں سننا مجھے.... میں نے کہہ دیا جو کہنا تھا، مزید اس سے زیادہ سوچنے سمجھنے کی حاجت نہیں ہے۔ آپ کو شادی کرنی ہے نا، آپ خوشی خوشی کریں مگر مجھ پر ایک احسان کریں، از راہ کرم میرا بھلا سوچنا چھوڑ دیں۔مجھے میری نانو کے پاس سکون سے رہنے دیں... پلیز، میری زندگی سے دور ہو جائیں۔‘‘

گاڑی گھر کے سامنے کھڑی تھی۔ وہ ایک جھٹکے سے باہر نکلی اور پوری قوت سے دروازہ بند کیا۔

دھاڑ کی ایک زور دار آواز سے عائشہ ہل کر رہ گئی۔ اس نے ایک نظر شیشے سے باہر دیکھا۔ مہرین تیز تیز قدموں سے بے حد غصے میں گھر کے اندر جا چکی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سود و زیاں

بغیر ایک پل کی دیر کئے وہ بھی گاڑی سے اترکر اس کے پیچھے بھاگی۔ اب تک وہ اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔عائشہ نے ایک بار پھر اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔ وہ تو نہ مانی، البتہ گھر کے اندر ایک طوفان ضرور برپا ہو گیا۔

وہ بلند آواز میں بولے جا رہی تھی اور عائشہ خاموشی سے اس کی ہر صحیح غلط بات سن رہی تھی۔اب تک نانو بھی شور سن کر کمرے میں آ چکی تھیں۔ انہوں نے اسے چپ کرانے کے لئے اپنے لب کھولے ہی تھے کہ عائشہ نے آنکھ سے اشارے سے منع کر دیا اور انہیں باہر بھیج دیا۔اگلے دس پندرہ منٹ تک وہ بولتی رہی تھی اور عائشہ سنتی رہی تھی۔

جب اس کا دل ہلکا ہو گیا وہ چپ ہو گئی تو عائشہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی اور دروازہ اندر سے بند کر لیا۔

اس کا کمرہ مہرین کے کمرے سے لگا ہوا تھا۔ روشن دان سے اس کی سسکیوں کی آواز مہرین کو بہت صاف سنائی دے رہی تھی مگر اس کا دل اس قدر سخت ہو چکا تھا کہ وہ منجمد بیٹھی رہی۔

قریب آدھے گھنٹے تک سسکیوں کی دھیمی دھیمی آواز اس کے کانوں تک آتی رہی پھر یہ آواز آہستہ آہستہ غائب ہو گئی تھی۔

عائشہ کے کمرے میں پھیلی ہوئی خاموشی اب بھاری ہو چکی تھی۔ وہ کافی دیر تک ایک ہی جگہ بیٹھی رہی، نظریں سامنے ٹکی ہوئی، جیسے کسی سخت فیصلے کے بعد انسان کچھ بھی محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

اگلے چند دن گھر پر عجیب سا سکوت طاری رہا۔ نہ کوئی بحث، نہ کوئی شکوہ۔ عائشہ اور مہرین ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھیں ۔ نانو حسب ِ معمول دونوں کے درمیان خاموش دیوار بنی ہوئی تھیں۔

جمعہ کا دن آیا اور گزر بھی گیا۔ سادہ سا نکاح تھا۔ کوئی ہنگامہ نہیں، کوئی شور نہیں، بس چند گنے چنے لوگ، دعا کے لئے اٹھے ہوئے ہاتھ اور عائشہ کی آنکھوں میں ٹھہرا ہوا عزم۔ مہرین اس دن کمرے سے باہر نہیں نکلی۔ نانو نے بھی اسے مجبور نہیں کیا۔ وہ جانتی تھیں کہ کچھ زخم ضد سے نہیں بھرتے۔چند ہی دنوں میں عائشہ اپنے شوہر کے ساتھ دبئی چلی گئی۔گھر میں اس کے قدموں کی آہٹ ختم ہو گئی مگر اس کی موجودگی کا احساس کچھ عرصہ تک دیواروں، کمروں اور نانو کی آنکھوں میں ٹھہرا رہا۔ عائشہ کی رخصتی کے بعد مہرین نے مانو سکھ کا سانس لیا تھا یا شاید اسے یوں لگا تھا کہ اب سب ٹھیک ہے۔وقت گزرتا رہا مگر عائشہ کا رابطہ ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ فون کرتی رہتی تھی، اکثر، کبھی شام کے وقت، کبھی فجر کے بعد۔

فون کی اسکرین پر نام ابھرتا تو نانو خاموشی سے کال اٹھا لیتیں۔

سلام دعا کے بعد عائشہ ان سے سوال کرتی،’’کیسی ہیں آپ؟‘‘ ،’’خیریت ہے؟‘‘،’’مہرین کیسی ہے؟‘‘

مہرین پاس ہی بیٹھی ہوتی، سب سنتی مگر خاموش رہتی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: یادوں کی روشنی

’’اب پہلے سے بہتر ہے ، ضد نہیں کرتی ہے،پڑھائی میں بھی دل لگا رہی ہے۔‘‘ہر بار یہ سن کر عائشہ کو اطمینان ہو جاتا۔ وہ جانتی تھی کہ مہرین اس کے بغیر زیادہ سکون سےرہے گی۔

ایک مرتبہ رات کے تقریباً ڈھائی بجے تھے۔ گہری نیند میں ڈوبا ہوا کمرہ اچانک فون کی آواز سے چونک اٹھا۔ عائشہ نے نیم خوابیدہ حالت میں فون اٹھایا۔ اسکرین پر نانو کا نام جگمگا رہا تھا۔

’’ہیلو …؟‘‘

جواب میں نانو کی آواز نہیں تھی۔

دوسری طرف مہرین تھی،بے حد گھبرائی ہوئی، کانپتی آواز میں،’’ نانو کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے....وہ اٹھ نہیں رہی ہیں...پلیز آپ جلدی آ جائیے....‘‘

عائشہ کے ہاتھ کانپ گئے۔

’’میں آ رہی ہوں بیٹا ... فورا ًنکل رہی ہوں...‘‘

عائشہ صبح کی پہلی فلائٹ سے انڈیا آئی مگر وقت کسی کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ جب نانو کے گھر پہنچی تو سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ نانو دنیا سے جا چکی تھیں۔

مہرین کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی تھی۔ آنکھیں سوجی ہوئیں، چہرہ زرد، وجود ٹوٹا ہوا۔ اس وقت وہ رو نہیں رہی تھی۔ وہ اس مرحلے سے آگے نکل چکی تھی جہاں آنسو بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

عائشہ نے اسے سینے سے لگانا چاہا مگر مہرین نے ایک جھٹکے سے اسے دور کر دیا،’’مجھے مت چھوئیے!‘‘

عائشہ وہیں رُک گئی۔ دل ترس سے بھر گیا مگر ہاتھ خالی رہ گئے۔ وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

دوہ اسی طرح روتے روتے چپ ہو گئی تھی۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ سارے مہمان جا چکے تھے، گھر صرف عائشہ اور مہرین رہ گئی تھیں۔

کچھ دیر پہلے عائشہ اس کے کمرے میں آ کر اسے منانے کی کوشش کر چکی تھی کہ وہ بھی اس کے ساتھ دبئی چلے مگر مہرین نے منع کر دیا تھا۔ تھک ہار کر عائشہ اداس قدموں سے واپس لوٹ گئی تھی۔

مہرین اپنی جگہ خاموش بیٹھی تھی ۔ وہ نظریں گھما گھما کر پورے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی، وہاں رکھی ہر چیز کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ اسے اس وقت نانو بہت یاد آ رہی تھی۔ اس کا بچپن نانو کے پہلو میں کہانیاں سنتے سنتے گزرا تھا۔وہ بیڈ پر نانو کی خالی جگہ کو ہاتھ سے ٹٹول رہی تھی۔ تبھی اسے وہ بات یاد آ گئی جو مرتے وقت نانو نے اسی جگہ لیٹے لیٹے کہی تھی:’’مہرین، عائشہ کا کچھ سامان میری الماری میں رکھا ہے جو تمہیں عائشہ کو دینا ہے۔‘‘

مہرین اپنی جگہ سے اٹھی ۔ نانو کی الماری کا دروازہ آہستہ سے کھولا۔ اس نے ڈبہ اٹھایاجس میں ایک خط اور چند کاغذات تھے۔

خط پڑھتے ہی اس کی دنیا پلٹ گئی۔ ہر لفظ، ہر جملہ اس کے دل میں دھنس رہا تھا۔ خط میں لکھا تھا کہ عائشہ اور نانو میں پھوپھی بھتیجی کا رشتہ ہے اور نانو کی اصل بیٹی مہرین کی ماں تھی جو مہرین کی پیدائش کے کچھ گھنٹوں بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں۔ عائشہ نے مہرین کو اس وقت گود لیا تھا جب مہرین کو جنم دینے کے بعد مہرین کی ماں کا اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔

عائشہ کی اس وقت یاسر سے نئی نئی شادی ہوئی ہوتی ہے ، یاسر خود اپنے اور عائشہ کے درمیان مہرین کی موجودگی کو ناپسند کرتا تھا ، عائشہ کو احساس ہونے لگا تھا کہ یاسر روز اول ہی سے مہرین کو راستے سے ہٹانے کی کوشش میں ہے اور جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی جا رہی تھی وہ اس پر بری نظر رکھنے لگا تھا۔ اسی بنا ءپر عائشہ اسے یاسر سے دور رکھنے کی کوشش کرتی رہتی  ہے۔ پھر ایک روز جب مہرین کی دسویں سالگرہ ہوتی ہے ، اس روز بھی سارے مہمانوں کے جانے کے بعد بھی یاسر اس سے کہتا ہے کہ اگر اس نے مہرین کو اپنی زندگی سے الگ نہیں کیا تو وہ اسے سچ بتا دے گا کہ وہ اسکی اولاد نہیں ہے۔

وہ اسے دھمکی دیتا ہے کہ ایک دن کا وقت ہے ،تم فیصلہ کر لو کہ تم کو میرے ساتھ رہنا ہے یا مہرین کے ساتھ۔ اسی رات جب مہرین سوئی ہوئی ہوتی ہے دونوں میں خوب جھگڑا ہوتا ہے اور پھر وہ اور عائشہ ہمیشہ کے لئے نانو کے گھر آ جاتی ہے۔

عائشہ مہرین کے لئے یاسر کو چھوڑ دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: تو پھر یہ تماشہ کیا ہے؟

مہرین کے آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو نکل پڑے۔ اسے احساس ہوا کہ اسے عائشہ سے متعلق کتنی بڑی غلط فہمی تھی۔ محبت، تحفظ، قربانی یہ سب جھوٹ نہیں تھے، بلکہ اس کے لئے زندگی کی سب سے بڑی حقیقت تھی۔مہرین زمین پر جھکی، چہرہ زمین کی طرف، آنکھیں سرخ، ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے، خاموشی سے روتے روتے، خدا کا شکر ادا کرنے لگی۔

’’شکریہ، اللہ...‘‘

شکریہ کہ آپ نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا ...‘‘

یہ آنسو غم کے نہیں بلکہ شکر گزاری کے تھے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK