Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ نے ایران پر نئےحملوں کا حکم دیا؛ ایران کا اسرائیلی، امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانےکا عزم

Updated: August 01, 2026, 10:31 PM IST | Washington/Tehran/Moscow/Amman

دی وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی حملوں کے ایک نئے دور کے منصوبوں کو منظوری دے دی ہے جو اس ہفتے کے آخر میں شروع ہوسکتے ہیں۔ کیمپ ڈیوڈ میں کابینی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ان پر بہت سخت حملہ کرنے جا رہا ہے۔ ایران ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے گا جہاں وہ اسے مزید برداشت نہیں کرسکے گا۔

Trump and Pzeshkian. Photo: X
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

دی وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی حملوں کے ایک نئے دور کے منصوبوں کو منظوری دے دی ہے جو اس ہفتے کے آخر میں شروع ہوسکتے ہیں۔ کیمپ ڈیوڈ میں کابینی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ان پر بہت سخت حملہ کرنے جا رہا ہے۔ ایران ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے گا جہاں وہ اسے مزید برداشت نہیں کر سکے گا۔

سی بی ایس نیوز نے متعدد ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل، ایران کے پاور پلانٹس اور ریفائنریز سمیت توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی ممکنہ بمباری کی مہم کی تیاری کر رہے ہیں، یہ حملے ممکنہ طور پر ویک اینڈ کے دوران ہوسکتے ہیں۔ یہ رپورٹ سامنے آنے تک ٹرمپ نے حتمی منظوری نہیں دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی آئی سی سی کے خلاف مہم نیتن یاہو کو بچانے کیلئے ہے: ٹرمپ

پنٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے اہداف کی تصدیق کرنے سے گریز کیا لیکن کہا کہ حکمۂ جنگ پوری طرح تیار ہے اور لمحہ بہ لمحہ نوٹس پر صدر کی ہدایات پر عمل درآمد کیلئے تیار ہے۔ سی بی ایس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ اگر کسی حملے کی اجازت دی جاتی ہے، تو وہ پیر کو مارکیٹوں کے دوبارہ کھلنے سے پہلے ختم ہوسکتے ہیں۔

ایران امریکی حملوں کا سخت جواب دینے کیلئے تیار

ایران نے انتباہ دیا ہے کہ اگر اس پر نیا حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل کے اہم انفراسٹرکچر اور خطے میں واقع امریکہ کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کو جمعہ کے روز ایک سینئر ایرانی سلامتی اہلکار نے بتایا کہ ممکنہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی اطلاعات ”ایک قسم کی دیوانگی“ کے مترادف ہیں۔ اہلکار نے کہا کہ تہران نے اسرائیل کے اہم بنیادی ڈھانچے اور خطے میں امریکی توانائی کی تنصیبات کو احاطہ کرنے والے وسیع ردِعمل کے منصوبے تیار کر لئے ہیں اور اگر حملہ ہوا تو ایران ان پر عمل درآمد کیلئے ”مکمل طور پر تیار“ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میری گرفتاری کی کوشش پراسرائیلی خصوصی فورسیزجوابی کارروائی کیلئے تیار‘‘

روس ایران کے ساتھ سیٹیلائٹ انٹیلیجنس شیئر کر رہا ہے

امریکی اور یورپی حکام کا حوالہ دینے والی این بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، روس ایران کو الیکٹرانک انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے جس میں سیٹیلائٹ نگرانی اور سگنلز کا ڈیٹا شامل ہے۔ یہ ڈیٹا تہران کیلئے اپنے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے اور امریکی افواج کے خلاف ڈرون اور میزائل حملوں کی درستگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ مبینہ تعاون ان پہلے والے دعوؤں کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ روس نے مغربی ایشیاء میں امریکی افواج کے مقامات کے بارے میں معلومات شیئر کی تھیں۔ روس اور ایران نے ان دعووں پر علانیہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین مراکش سرحدی بحران کا فائدہ اسرائیل و اسپین کی انتہا پسند جماعتوں کو ہورہا ہے: ہاویئر بارڈیم

اردن: امریکی سفارت خانے نے امریکیوں کو فلائٹ کی رکاوٹوں کے بارے میں خبردار کیا

عمان میں امریکی سفارت خانے نے جمعہ کو ایک سیکوریٹی الرٹ جاری کیا جس میں اردن اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش، اور سفری رکاوٹوں کے بارے میں خبردار کیا گیا۔ سفارت خانے نے انتباہ دیا کہ ایران اور ایران کے حمایت یافتہ گروپس بیرونِ ملک امریکہ سے منسلک مقامات، کاروباروں اور اداروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ سفارتخانے نے سیکوریٹی کی صورتِ حال کو ’متغیر‘ قرار دیا۔ اردن میں موجود امریکیوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ فوجی اڈوں، بڑے اجتماعات اور بھاری پولیس کی موجودگی والے علاقوں سے دور رہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK