Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: نانی اور رانی

Updated: May 14, 2026, 3:50 PM IST | Asma Siddiqui | Mumbai

ہم جب کہانیاں پڑھتے ہیں تو اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ کہانیاں صرف کتابوں میں لکھی جاتی ہیں۔ کسی مصنف کے ذہن میں جنم لیتی ہیں، پھر لفظوں کا لباس پہن کر صفحوں پر اُتر آتی ہیں مگر زندگی ہمیں آہستہ آہستہ یہ سکھا دیتی ہے کہ سب سے گہری کہانیاں وہ ہوتی ہیں جو لکھی نہیں جاتیں، بس جِی لی جاتی ہیں، خاموشی سے، بےساختہ، بغیر کسی اعلان کے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہم جب کہانیاں پڑھتے ہیں تو اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ کہانیاں صرف کتابوں میں لکھی جاتی ہیں۔ کسی مصنف کے ذہن میں جنم لیتی ہیں، پھر لفظوں کا لباس پہن کر صفحوں پر اُتر آتی ہیں مگر زندگی ہمیں آہستہ آہستہ یہ سکھا دیتی ہے کہ سب سے گہری کہانیاں وہ ہوتی ہیں جو لکھی نہیں جاتیں، بس جِی لی جاتی ہیں، خاموشی سے، بےساختہ، بغیر کسی اعلان کے۔

انسان اپنی پوری زندگی میں شاید سیکڑوںافراد سے ملتا ہے، ہزاروں باتیں سنتا ہے مگر کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے کسی کونے میں جا کر ہمیشہ کے لئے ٹھہر جاتے ہیں۔ پھر برسوں بعد اچانک کسی لمحے لوٹ آتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کبھی گزرا ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سجدۂ شکر

اُس دن اسٹیشن پر غیر معمولی خاموشی تھی۔ نہ زیادہ شور، نہ دھکم پیل۔ حالانکہ مجھے ہمیشہ لوگوں کا ہجوم پسند رہا ہے۔ بھیڑ میں مجھے زندگی کی حرکت محسوس ہوتی ہے۔ لگتا ہےکہ دنیا اب بھی چل رہی ہے، رکی نہیں۔ ہر چہرہ اپنی الگ کہانی لئے کہیں جا رہا ہے، کہیں سے لوٹ رہا ہے۔

میرا تبادلہ ایک چھوٹے سے قصبے میں ہوا تھا۔ نئی نئی سرکاری نوکری تھی، دل میں عجیب سا جوش بھی تھا اور انجانا سا خوف بھی۔ میں نے ایک مختصر سا کمرہ کرائے پر لیا۔ اوپر مکان مالک رہتے تھے اور نیچے میں۔ کمرے کی کھڑکی سے سامنے ایک چھوٹا سا شکستہ گھر نظر آتا تھا۔ دیواروں کی مٹی جھڑ چکی تھی، دروازہ ہمیشہ آدھا کھلا رہتا اور صحن میں ایک پرانی سی چارپائی بچھی ہوتی۔وہیں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی۔محلے کی عورتیں انہیں ’نانی‘ کہہ کر بلاتی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ میں نے دیکھا کہ صرف عورتیں ہی نہیں، بچے، دکاندار، حتیٰ کہ راہ چلتے لوگ بھی انہیں نانی ہی کہتے تھے۔ جیسے ان کا اصل نام وقت کی گرد میں کہیں کھو گیا ہو۔

میں اکیلا رہتا تھا اور سچ یہ ہے کہ مجھے کبھی کھانا بنانے کی عادت نہیں رہی۔ اکیلا آدمی آخر اپنے لئے کتنی تیاری کرے؟ زیادہ تر باہر سے کھانا لے آتا تھا۔ ایک شام نہ جانے کیوں دل میں خیال آیا کہ نانی کے لئے بھی کچھ لے جاؤں۔

میں کھانا لے کر ان کے گھر گیا۔ وہ چارپائی پر بیٹھی تھیں۔ چہرے پر بڑھاپے کی جھریاں ضرور تھیں مگر آنکھوں میں عجیب سی روشنی باقی تھی۔ میں نے کھانا ان کی طرف بڑھایا تو انہوں نے مسکرا کر دعا دی۔ پھر نہ جانے کیوں میں وہیں بیٹھ گیا؟

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: گھر میں اُگتا سورج

کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر میں نے بےساختہ پوچھ لیا،’’نانی، آپ کا اصل نام کیا ہے؟‘‘

وہ ہلکا سا ہنسیںاور بولیں:

’’رانی۔‘‘

میں  دل ہی دل میں مسکرا یا۔ میرے سامنے ایک ٹوٹا ہوا گھر تھا، چند پرانے برتن، ایک کمزور سی چارپائی اور ایک بوڑھی عورت۔ میں نے سوچا، یہ کیسی رانی ہوگی؟شاید وہ میری خاموش ہنسی سمجھ گئی تھیں۔

انہوں نے دھیرے سے کہا،’’بیٹا! ہر عورت رانی ہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر عورت کو ایک محل دیتا ہے اور وہ اپنے محل میں راج کرتی ہے۔‘‘

میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔ ان کی آواز میں نہ شکوہ تھا، نہ حسرت۔ بس ایک عجیب سا یقین تھا۔

وہ بولتی رہیں،’’مگر عورت کو رانی بننے کے لئے ایک جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ جیسے بادشاہ ریاست فتح کرتا ہے نا، ویسے ہی عورت گھر فتح کرتی ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ مرد کی جنگ تلوار سے ہوتی ہے اور عورت کی جنگ صبر سے۔‘‘

میں پہلی بار اتنی خاموشی سے کسی کی بات سن رہا تھا۔انہوں نے اپنے کمزور ہاتھوں کو دیکھا اور کہا،’’ایک وقت آتا ہے جب اس گھر کی ہر چیز عورت کے رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ پردے کا رنگ، باورچی خانے کی خوشبو، بچوں کی عادتیں، یہاں تک کہ سوئی میں پڑنے والا دھاگہ بھی اس کی پسند کا ہوتا ہے مگر اس مقام تک پہنچنے میں عورت اپنی کتنی خواہشیں خاموشی سے دفن کرتی ہے، یہ کوئی نہیں دیکھتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ٹوٹا ہوا خواب

ہوا آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ صحن میں پڑے نیم کے پتّے ہلکے ہلکے ہل رہے تھے اور میں محسوس کر رہا تھا کہ یہ صرف ایک بوڑھی عورت کی باتیں نہیں تھیں، یہ شاید نسلوں کا تجربہ تھا۔

نانی نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،’’اصل رانی وہ نہیں جس کے پاس زیور ہو یا بڑا گھر۔ اصل رانی وہ ہوتی ہے جو اپنے نصیب کو قبول کر لے، اپنے گھر کو محبت سے سنبھال لے اور اللہ کے فیصلوں پر راضی رہے۔ کیونکہ سکون ہمیشہ شکر کرنے والوں کے حصے میں آتا ہے۔‘‘

مجھے اُس دن پہلی بار احساس ہوا کہ بعض لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے مگر زندگی انہیں ایسی حکمت دے دیتی ہے جو بڑی بڑی کتابوں میں بھی نہیں ملتی۔

وقت گزرتا گیا۔میں اُس قصبے سے منتقل ہوگیا۔ نوکری، شہر، لوگ، سب بدلتے گئے مگر نانی کی باتیں کہیں اندر رہ گئیں۔ جیسے ذہن کے کسی کونے میں وقت نے انہیں محفوظ کر لیا ہو۔

پھر ایک دن پچیس سال بعد، میں اپنی بیٹی کو رخصت کر رہا تھا۔وہی باپ، جو کبھی ایک چھوٹے قصبے میں اکیلا رہتا تھا، آج اپنی بیٹی کے ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں دے رہا تھا۔ رخصتی کے شور، دعاؤں اور آنسوؤں کے درمیان اچانک مجھے نانی یاد آگئیں۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ادھوری خواہشوں کا سفر

میں نے اپنی بیٹی کو پاس بٹھایا اور کہا،’’بیٹا، آج میں تمہیں ایک رانی کی کہانی سناتا ہوں۔‘‘پھر میں نے اسے نانی کی ساری باتیں سنائیں۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی۔

میں نے آخر میں اس سے کہا،’’زندگی میں کچھ کہانیاں لکھی نہیں جاتیں، وہ خود بخود بن جاتی ہیں۔ کچھ لوگ کتابیں نہیں لکھتے مگر ان کی باتیں انسان کی پوری زندگی لکھ دیتی ہیں۔‘‘

میری بیٹی کی آنکھیں نم تھیں۔

اور اُس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ شاید نانی اب بھی زندہ ہیں۔ اپنے اُس ٹوٹے ہوئے گھر میں نہیں بلکہ اُن تمام عورتوں میں جو خاموشی سے اپنے گھروں کو محبت، صبر اور دعا سے سنبھالتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK