Inquilab Logo Happiest Places to Work

مختصر کہانی: قربانی

Updated: May 26, 2026, 1:47 PM IST | Iffat Ehsaan | Mumbai

علی کو بھی اس بحث سے مزہ آنے لگا وہ بات گھماتے ہوئے بولا ’’چھوڑو کپڑے کی بات، یہ بتاؤ بکرے لینے کب چل رہے ہیں؟ اب تو چار پانچ دن ہی رہ گئے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

عیدالاضحیٰ میں اب کچھ ہی دن باقی رہ گئے تھے۔ ہر طرف اس کی تیاریوں کے رنگ دِکھ رہے تھے۔ جانوروں کی خرید و فروخت بھی چل رہی تھی۔ عصر کی نماز پڑھ کر حامد بھی اپنے دوستوں سے ملنے آپہنچا۔

’’اور کیسی چل رہی ہے عید کی تیاریاں....‘‘ ملتے ہی سب نے ایک دوسرے سے پوچھا۔ ’’ٹھیک چل رہی ہے اور جب تک عید کا دن نہ آئے تب تک تیاری چلتی رہتی ہے۔‘‘

حیدر نے بات کاٹتے ہوئے کہا ’’اور بتاؤ حامد، تم کچھ بول نہیں رہے ہو، تم نے کپڑے بنوایا یا پچھلے سال کی طرح عید والا ہی کپڑا پہنو گے؟‘‘ حیدر کے منہ پھٹ سے تو حامد واقف تھا لیکن اس طرح سے بات کرکے اس کو نیچا دکھانے کے چکر میں یہ بول دے گا اس کو اندازہ نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانچہ: ممتا

حامد اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا ’’ہاں عید والا ہی پہنوں گا، اس میں برائی کیا ہے؟ میری امی کہتی ہیں ہمیں اپنے کپڑوں میں سے بہترین کپڑا پہننا ہے، خواہ وہ ایک دو بار کے پہنے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

حیدر نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا ’’دل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ مَیں تو تینوں دن نیا کپڑا پہنوں گا۔‘‘

حیدر کے والد ایک بڑی کمپنی کے مالک تھے جس کی وجہ سے وہ اپنے پیسوں کا رعب اکثر اپنے سے کم درجہ کے لوگوں کو نیچا دکھا کر کرتا تھا۔

علی کو بھی اس بحث سے مزہ آنے لگا وہ بات گھماتے ہوئے بولا ’’چھوڑو کپڑے کی بات، یہ بتاؤ بکرے لینے کب چل رہے ہیں؟ اب تو چار پانچ دن ہی رہ گئے ہیں۔ حیدر کیا کہتے ہو؟ سب لوگ بتاؤ کیسا بکرا لینا ہے اس بار اور کتنے کتنے کا....؟ دیکھتے ہیں اس بار کس کا بکرا سب سے مہنگا آتا ہے۔ حامد تم لوگ کے یہاں اس بار قربانی ہو رہی ہے کہ نہیں؟‘‘

حامد شرمندگی سے بچنے کے لئے جھوٹ بول دیا ’’کیوں نہیں، ضرور ہوگی۔‘‘ اس کو یہ بولتے ہوئے اپنی ہی آواز بیگانہ سی لگی۔ اب وہ اور تماشہ نہیں بنوانا چاہ رہا تھا اس لئے وہ وہاں سے اٹھ گیا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: شناخت کا سفر

راستے میں دکان سے قلم لینے کے لئے رکا تو دکان والے چچا نے پوچھا ’’اور حامد بکرا آیا کہ نہیں۔‘‘ حامد ان سنی کرکے وہاں سے نکل آیا۔ راستے میں اور کئی لوگ ملے سب نے یہی سوال کیا؟

’’ابو اگر اس بار ہم بکرے کی قربانی نہیں کر رہے یا کوئی اور نہیں کر رہا تو کیا عید منانے کا اس کو حق نہیں ہے کیا؟‘‘

’’کیوں کیا ہوا ایسے کیوں بول رہے ہو؟ حامد کسی نے کچھ کہا کیا؟‘‘ وہ حامد کی طرف متوجہ ہو کر بولے کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ حامد ایک سمجھدار اور سلجھا ہوا لڑکا تھا وہ کوئی بھی بات ایسے نہیں بولتا۔

’’ہاں بات ہے، آج اسی بکرا لینے اور دکھاوا کرنے کے چکر میں مجھے جھوٹ بولنا پڑا جس کی وجہ سے میں خود سے بہت شرمندہ ہوں۔‘‘ اور پھر اس نے پوری بات ابو کو بتائی۔

’’اوہ.... تو یہ بات ہے۔‘‘

حامد کے والد محلے کی مسجد کے امام تھے انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ’’کل جمعہ میں بتاتے ہیں آپ کو۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: یہ نئے مزاج کے رشتے

دوسرے دن قربانی کے متعلق خطبہ ہوا اور بات کو اتنی خوبصورتی سے کہی کہ لوگوں سے سوال مت کیا کریں کہ قربانی ہوگی کہ نہیں، جانور لیا کہ نہیں، سفید پوش آدمی کے لئے مسئلہ بن جاتا ہے وضاحت دینا۔ جب اللہ تعالیٰ نے سب پر فرض نہیں کی ہے تو ہم کون ہے تفتیش کرنے والے۔ ہمیں چاہئے کہ خاموشی سے اپنے دوست احباب کی لسٹ بنا لیں جن کے یہاں قربانی نہیں ہوئی ان کو ان کے دروازہ تک بنا ڈھنڈورا پیٹے پہنچائیں۔ چلو اس بار عہد کرتے ہیں، اس دفعہ صرف جانور کی قربانی نہ دیں بلکہ اپنے اندر کے حسد کی قربانی، کینہ، بغض، اَنا، سب.... کی قربانی کریں۔ نماز کے بعد حیدر اور علی نے حامد سے معافی مانگی اور کہا اللہ نے ہماری آنکھ کھول دی۔ ایسا لگ رہا تھا یہ سب ہمارے لئے ہوا، ہمیں معاف کر دو دوست....! یہ کہہ کر وہ ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK