دوپہر کے وقت اسٹیشن پر بھیڑ کچھ کم تھی۔ طلحہ ایک بینچ پر خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ پتہ نہیں وہ کب سے اسی طرح بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ’’بیٹا، تم....؟‘‘
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 5:06 PM IST | Shahji Gazala Rizwan | Mumbai
دوپہر کے وقت اسٹیشن پر بھیڑ کچھ کم تھی۔ طلحہ ایک بینچ پر خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ پتہ نہیں وہ کب سے اسی طرح بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ’’بیٹا، تم....؟‘‘
وہ اپنے گھر سے بیگ اٹھائے جلدی جلدی سے آٹو رکشا میں بیٹھ گیا اور بار بار اپنی گھڑی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ’’کہیں مجھے دیرنہ ہو جائے....‘‘ اس نے بے چینی سے سوچا۔
’’بھائی، ذرا جلدی کیجئے....!‘‘ اس نے ڈرائیور سے کہا۔
ڈرائیور نے آئینے میں اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا ’’بھائی، سامنے ٹریفک ہیں، اس سے زیادہ تیز نہیں چلا سکتا۔‘‘
طلحہ بے قراری سے باہر دیکھ رہا تھا۔ ہر طرف گاڑیوں کا شور تھا اور سڑک جیسے تھم سی گئی تھی۔
ہر گزرتا لمحہ اسکے دل کی دھڑکن تیز کر رہا تھا۔
’’کیا مَیں وقت پر پہنچ پاؤں گا؟‘‘ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
وہ بار بار اپنا فون دیکھ رہا تھا۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اسکی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
جیسے ہی اسٹیشن آیا، اسے کچھ سکون ملا۔
’’شکر ہے، وقت پر پہنچ گیا....‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: لفافوں میں قید محبتیں
وہ جلدی سے اپنا بیگ اٹھا کر اسٹیشن کے اندر داخل ہوا، وہاں ہر طرف شور و غل اور کافی بھیڑ تھی، وہ ہجوم کو چیرتا ہوا اور اپنے پلیٹ فارم پر آکر ایک خالی جگہ تلاش کرکے بیٹھ گیا۔ اب اسے صرف ریل گاڑی کا انتظار تھا۔
ٹھوڑی دیر انتظار کے بعد اعلان ہوا ’’فلاں گاڑی آدھا گھنٹہ تاخیر سے آئے گی، ہمیں اس تاخیر پر افسوس ہے۔‘‘
یہ سنتے ہی پلیٹ فارم پر بیٹھے مسافر ادھر ادھر دیکھنے لگے۔
کچھ لوگ جگہ تلاش کرنے لگے، تو کچھ بے بسی سے کھڑے رہ گئے۔ طلحہ کے قریب ایک لڑکا اور ایک فیملی آ کر بیٹھ گئی۔ وہ سب بھی اس کی طرح پریشان لگ رہے تھے۔
آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا، مگر ٹرین کا کوئی پتہ نہیں تھا۔
پھر سے اعلان ہوا ’’یہ گاڑی مزید تاخیر سے آئے گی، ہمیں اس پر افسوس ہے۔‘‘
یہ سنتے ہی پاس بیٹھا لڑکا بول پڑا ’’کیا ان کا افسوس ہمارے ضائع ہوئے وقت کا ازالہ کرسکتا ہے؟‘‘ اس کی آواز میں غصہ اور بے بسی صاف محسوس ہو رہی تھی۔
طلحہ نے پاس بیٹھے ایک شخص اور اس کی بیٹی کی باتیں سن کر ان سے پوچھا ’’کیا آپ کا پیپر ہے؟‘‘ لڑکی کے والد نے جواب دیا ’’جی، میری بیٹی کا کل امتحان ہے۔ ہمیں وقت پر پہنچنا ہے.... کیا ہم پہنچ پائیں گے؟‘‘
طلحہ خاموش ہوگیا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا جواب دے۔
’’اور آپ؟‘‘ انکل نے پوچھا۔
طلحہ نے آہستہ سے کہا ’’جی انکل، کل میرا انٹرویو ہے.... سمجھ نہیں آ رہا کہ پہنچ پاؤں گا یا نہیں۔‘‘
انکل نے تسلی دی ’’فکر نہ کرو بیٹا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: قربِ الٰہی
پاس بیٹھا لڑکا یہ سب باتیں سن رہا تھا۔
وہ بہت بے چین لگ رہا تھا اور بار بار اپنی آنکھوں کے کنارے پونچھ رہا تھا۔
طلحہ نے نرمی سے پوچھا ’’کیاکوئی مسئلہ ہوا ہے، بھائی؟‘‘
لڑکے نے لرزتی ہوئی آواز میں جواب دیا ’’مما کو ہارٹ اٹیک آیا ہے.... وہ آئی سی یو میں ہیں.... پتہ نہیں میں ان سے بات کر پاؤں گا یا نہیں....‘‘ یہ کہتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا، جیسے اپنے جذبات چھپانا چاہتا ہو۔
طلحہ اور انکل بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور اسے تسلی دینے لگے ’’فکر مت کرو.... سب ٹھیک ہو جائے گا....‘‘
مگر حقیقت یہ تھی کہ وہاں موجود ہر شخص کے دل میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔
اعلان پر اعلان ہو رہے تھے ’’ہمیں تاخیر پر افسوس ہے.... ہمیں افسوس ہے....‘‘
وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔
ایک گھنٹہ.... پھر دو.... پھر تین....
رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ آہستہ آہستہ پلیٹ فارم پر سکوت چھانے لگا۔
اس وقت دوسری کسی سواری کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ یہی ٹرین ان سب کی آخری امید تھی۔
مگر اب وہ امید کا چراغ بھی مدھم پڑتا جا رہا تھا۔ مزید کئی گھنٹوں کے طویل انتظار کے بعد آخرکار ٹرین پلیٹ فارم پر آگئی۔
مگر ٹرین آنے کے باوجود کسی کے بھی چہرے پر سکون نہیں تھا۔ تھکن، پریشانی اور مایوسی ہر چہرے سے صاف ظاہر تھی۔ سب کے دل میں ایک ہی سوال تھا ’’کیا ہم وقت پر پہنچ پائینگے؟‘‘
ٹرین کے طویل سفر کے بعد آخرکار وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کرایہ دار
جیسے ہی طلحہ انٹرویو ہال پہنچا، اسے دروازے پر ہی روک دیا گیا.... کہا گیا، ’’آپ کو آنے میں کافی دیر ہوئی ہے، انٹرویو اب ختم ہوچکا ہے۔‘‘
طلحہ نے بہت منت سماجت کی، تاخیر سے آنے کی وجہ بھی بتائی، طلحہ نے کہا ’’مجھے سر سے بات کرنا ہے۔‘‘
اس شخص نے کہا ’’سر وقت کے پابند ہے، آپ سے بات نہیں کرسکتے۔‘‘
مگر افسوس! کوئی بھی اس کی بات نہیں سنی۔
دن بھر کا تھکا ہارا طلحہ مایوس اور نا امید ہو کر واپس چلا گیا.... اسٹیشن آ کر بیٹھ گیا۔
دوپہر کے وقت اسٹیشن پر بھیڑ کچھ کم تھی۔ طلحہ ایک بینچ پر خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ پتہ نہیں وہ کب سے اسی طرح بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ’’بیٹا، تم....؟‘‘
طلحہ نے سر اٹھایا تو دیکھا، وہی اسٹیشن والے انکل تھے۔
’’ہم لوگ ادھر بیٹھے ہوئے ہیں، مَیں نے تمہیں دیکھا تو سوچا تم سے مل لوں۔‘‘ انہوں نے نرمی سے کہا، ’’کیا تم نے انٹرویو دے دیا؟‘‘
طلحہ نے بے بسی سے مسکرا کر جواب دیا ’’نہیں....‘‘
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد طلحہ نے پوچھا ’’اور.... بیٹی کا پیپر؟‘‘
انکل کے چہرے پر گہری مایوسی چھا گئی، ’’نہیں بیٹا.... وہ بھی دوڑتی ہوئی امتحان ہال پہنچی تھی مگر اسے بھی روک دیا گیا۔ کہا گیا، ’آپ لیٹ ہیں، آپ کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘ ہم نے بہت منت سماجت کی.... مگر کسی نے ایک نہ سنی۔ میری بیٹی بہت روئی....‘‘
انکل کی آنکھوں میں نمی صاف نظر آ رہی تھی۔
اچانک طلحہ کو اس لڑکے کا خیال آیا۔
’’پتہ نہیں، وہ اپنی ماں سے مل پایا یا نہیں....‘‘
وقت گزرتا گیا، اور سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے۔
کچھ دن بعد، طلحہ ایک کام سے باہر نکلا ہوا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک جانے پہچانے چہرے پر پڑی۔ وہی اسٹیشن والا لڑکا.... وہ لڑکا بھی طلحہ کو دیکھ چکا تھا اور آہستہ آہستہ اس کے قریب آگیا۔
طلحہ نے بے تابی سے پوچھا ’’آپ کی والدہ کیسی ہیں؟‘‘
یہ سنتے ہی لڑکے کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ اس نے آہستہ سے کہا ’’مَیں اسٹیشن سے سیدھا اسپتال پہنچا تھا.... مگر وہاں مجھے بتایا گیا.... ’بیٹا.... تم آنے میں دیر کر دی.... تمہاری ماں اس دنیا سے جا چکی.....‘‘ اس کی آواز بھرا گئی، ’’مجھ سے بات کیا بنا وہ چلی گئی....‘‘
چند لمحوں کے لئے فضا خاموش ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: نانی اور رانی
پھر وہ لڑکا دھیرے سے بولا ’’مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا.... آخر اس میں میری غلطی کیا تھی؟ اگر غلطی تھی.... تو کس کی تھی؟‘‘
طلحہ خاموش کھڑا رہا۔ اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
کبھی کبھی زندگی میں دیر صرف وقت کی نہیں، بلکہ نظام، حالات اور بے بسی کی بھی ہو جاتی ہے!
اور اس دیر کی قیمت انسان اپنے خوابوں سے ادا کرتا ہے۔