Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہم کو احساس زیاں بھی نہیں، شکوہ بھی نہیں

Updated: December 12, 2019, 8:01 PM IST | Shahid Latif

ضروری نہیں کہ کوئی بڑا نقصان ہورہا ہو تب ہی ہم محسوس کریں اور اس پر پچھتائیں۔ بعض تبدیلیوں سے نقصان بظاہر زیادہ نہیں ہوتا مگر بباطن وہ ہم پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں کہ ہمیں علم تک نہیں ہوتا کہ کس قسم کا نقصان ہوا ہے۔

(ہندوستان گاؤں ( تصویر: نئی دنیا
(ہندوستان گاؤں ( تصویر: نئی دنیا

کل تک، لوگوں میں گاؤں کے چھوٹ جانے کا احساس تھا۔ اس احساس میں محرومی تھی اور محرومی میں بہت کچھ۔ اب ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں جن کی گفتگو سے محرومی کا یہ احساس ٹپکتا ہو۔ اس کی وجہ ہے۔ شہروں کو جنت ارضی مان کر آبادی کے بڑے طبقے نے شہروں کا رُخ کیا اور پھر وہیں کا ہوکر رہ گیا۔ شہر بڑھتے چلے گئے اور گاؤں سمٹ گئے۔ شہروں میں مستقل سکونت اختیار کرنے والوں نے گاؤں کو فراموش کردیا مگر گاؤں کی غیرت اس تغافل کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی اس لئے، ایک ایک گاؤں اُن لوگوں کو یاد کرتا رہا اور اُن کی یاد میں آنسو بہاتا رہا جو اُسے چھوڑ کر شہروں میں آباد ہوگئے تھے!
  یہ ستم ہی کیا کم تھا کہ حضرت انسان نے نادانستہ ہی سہی، گاؤں سے انتقام لینا شروع کردیا۔ گاؤں کی شناخت بدل کر، اس کی سماجی اور ثقافتی قدرو ں کو ملیا میٹ کرکے۔ حضرت انسان کا مسئلہ آپ جانتے ہیں۔ یہ جو ٹھان لیتے ہیں، ٹھان لیتے ہیں۔ نادانستگی ہی میں سہی، کر گزرتے ہیں۔گزشتہ بیس پچیس برس میں یہی ہوا۔ گاؤں کی شناخت کے ساتھ مسلسل انتقام لیا جاتا رہا۔ اب بھی لیا جارہا ہے۔ پتہ نہیں آپ کتنے برس پہلے گاؤں گئے تھے۔ اگر حال میں گئے ہوں تب بھی ممکن ہے کہ آپ نے گاؤں کی بدلی ہوئی شکل کو نہ تو دیکھا ہو نہ محسوس کیا ہو۔ آپ سمجھیں گے میرا اشارہ پکے مکانات اور پکی سڑکوں کی طرف ہے۔ نہیں، ان چند تبدیلیوں کی جانب نہیں بلکہ اُن واضح تغیرات کی جانب ہے جن کا احساس نہیں کیا جاتا۔ اس لئے کہ آج کا انسان عجیب و غریب ترنگ میں ہے۔ خیر، اسے چھوڑیئے اور آئیے اُن تبدیلیوں کی طرف۔ زحمت نہ ہو تو مشاہدہ کیجئے کہ اب سارے گاؤں ایک جیسے لگتے ہیں۔ ایک ہی طرز کے مکانات، ایک جیسی ہورڈنگز، ایک جیسے شوروم، ایک جیسے اسٹور اور دکانیں، ان دکانوں پر ایک جیسی مصنوعات، نوجوانوں کا ایک جیسا ہیئر اسٹائل، ایک جیسے ملبوسات، ایک جیسی کاریں اور موٹر سائیکلیں، حتیٰ کہ اب لفظیات، گفتگو اور لب و لہجہ بھی ایک جیسا ہوگیا ہے۔ اگر آپ نے اب تک توجہ نہ دی ہو تو کبھی ایسا کردیکھئے، تھوڑے بہت فرق کے ساتھ آپ کو تمام گاؤں ایک جیسے دکھائی دیں گے۔
  اور یہ تو ظاہری تبدیلیاں ہیں۔ کئی باطنی تبدیلیاں بھی رونما ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے گاؤں کی سماجی شناخت بھی ختم ہورہی ہے۔ یہ ہمارے ملک کے گاؤں ہیں۔ چونکہ بہت سی وبائیں مغرب سے آتی ہیں اس لئے یہ نہ سمجھئے کہ مغرب کے گاؤں ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے۔ وہاں کے لوگوں کو بھی شکوہ ہے کہ نیا دور اُن سے گاؤں ہی نہیں چھین رہا، اس کی خصوصیات بھی چھیننے پر تُلا ہوا ہے۔ ’’دی کاؤنسل فار پروٹیکشن آف رورل انگلینڈ‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’گاؤں کا کردار چھن جانا بہت بڑا المیہ ہے کیونکہ یہی کردار شناخت تھا اور یہی شناخت سرمایہ تھی۔ یہ سماج کا ایسا نقصان ہے جس کی سنگینی کو ناپا تولا نہیں جاسکتا۔‘‘ 
 دیہی عوام کو شہروں سے اُنسیت تھی جو کوئی گناہ نہیں تھا، وہاں  روزگار کے مواقع دیکھے تھے، یہ بھی کوئی جرم نہیں تھا، وہاں کی بھاگتی دوڑتی زندگی میں کشش محسوس کی تھی اور یہ بھی کوئی نقص نہیں تھا۔ خطا صرف یہ ہوئی کہ دیہی عوام نے گاؤں، اس کے کلچر اور کردار کو محفوظ نہیں رکھا جو اُن کی ذمہ داری تھی۔ اس میں بھی اُن کا اتنا قصور نہیں جتنا اُن تجارتی اداروں کا ہے جن کا بس چلے تو اُن کی ہورڈنگز، مصنوعات اور تجارتی رسہ کشی وہاں بھی پہنچ جائے جہاں انسانی آبادی نہیں ہے۔ آپ گزشتہ بیس پچیس برس سے جس عالم کاری یا عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کے بارے میں سن رہے ہیں، وہ اُسی وبا کا نام ہے جس نے ہر جگہ ’’ایک جیسا پن‘‘ پیدا کردیا ہے۔ اب ایک خاص قسم کا اچار ایک خاص قصبہ میں نہیں ملتا۔ ایک خاص قسم کی روٹی ایک مخصوص گاؤں کا امتیاز نہیں رہ گیا ہے۔ ہر چیز ہر جگہ دستیاب ہے اور جو چیز جہاں پیدا ہوتی یا بنتی ہے۔ یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جو چیز جہاں سے آتی ہے،  وہیں کے کلچر سے مربوط ہوکر درآمد اور برآمد ہوتی ہے۔ چینی کھانوں ہی کو لے لیجئے جن کے ہم اتنے شوقین ہیں کہ دیسی کھانوں کے ریستورانوں میں چائنیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب چائنیز پکوان یا ڈشیز آئیں تو متعلقہ لوازمات کا کلچر لے کر تشریف لائیں۔ اب پورا ریستوراں، پلیٹیں، چمچے، گویا ہر چیز لال لال ہے (کسی کو علم نہیں کہ لال کیوں ہے)۔ معلوم ہوا کہ صرف ڈش نہیں آئی، کلچر بھی آگیا۔ ہم مزے لوٹنے لگے اور چینی دل ہی دل میں اپنی تہذیب کی یہ شان دیکھ کر مسکرائے۔ چینیوں ہی کو کیوں کوسا جائے، کے ایف سی،پزا ہٹ، برگر کنگ اور میک ڈونالڈس نے بھی یہی کیا۔ اپنے کھان پان کی چیزیں تو لائے، کلچر بھی لے آئے۔ اس کلچر میں کیا کیا ہے، آپ خوب جانتے ہیں۔
 یہاں یہ مغالطہ نہ ہو کہ بات صرف گاؤں کی ہورہی ہے۔ شہر بھی سب ایک جیسے ہوگئے ہیں۔ ممبئی سے کسی بھی شہر کا رُخ کرلیجئے، ہوائی اڈے سے نکلئے یا ریلوے اسٹیشن سے باہر آئیے، ایک جیسی چیزیں ہر جگہ دکھائی دیں گی۔ اس میں بڑا دخل گلوبلائزیشن کا ہے ۔ اس کے اپنے فوائد تو ہیں مگر نقصانات؟ بھانت بھانت کے کلچروں کا ملغوبہ بننا تو کسی کو گوارا نہ ہوتا اگر پہلے سے اطلاع ہوتی! یہ سب دیکھتے دیکھتے نادانستگی میں ہوا اَور اب اسے روکا نہیں جاسکتا۔ ہم اس کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ ہر چیز ہٹا دی جائے تو سب کچھ پھیکا پھیکا سا لگے گا۔ چلئے انہیں رہنے دیجئے مگر جو نقصان ہوا اس کا احساس تو کیجئے۔ گاؤں کو گاؤں رہنا چاہئے تھا وہ نہیں رہا۔ شہر کو اپنی شناخت کے ساتھ رہنا چاہئے تھا، وہ بھی نہیں رہا۔ اس کی وجہ سے تہذیبی و سماجی تکثیریت ختم ہورہی ہے۔ اسے یوں سمجھئے کہ اگر کسی گھر میں جتنے لوگ ہیں، سب کے چہرے ایک جیسے، سب کا لباس ایک جیسا اور سب کے نام ایک جیسے ہوں توکیا ہوگا؟ہم پریشان ہوجائیں گے اور بھاگ کھڑے ہوں گے کہ کوئی بڑی گڑ بڑ ہے۔ 
 دیہاتوں اور شہروں کو بھی اسی زاویئےسے دیکھئے اور محسوس کیجئے۔ سب کچھ ایک جیسا ہوتا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں، اب تو صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ بیرونی ہوا کے جھونکے اچھے لگیں تب بھی .........اپنے آنگن کی  ہوا کا تحفظ کرلیجئے، یہی بہت ہوگا 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK