بچے کا والدین سے اختلاف اتنا خطرناک نہیں جتنا یہ خطرناک ہے کہ وہ والدین سے بات کرنا چھوڑ دے یا اپنے سوالات، مسائل یا دل کی بات والدین کے سامنے کہنا چھوڑ دے۔ ایک نوجوان اگر اپنی پریشانی، غلطی، دوستی، جذبات، خوف یا کسی مشکوک تجربے کے بارے میں گھر میں بات کر سکتا ہے تو والدین کے پاس اصلاح کا موقع موجود رہتا ہے۔
بچے کا والدین سے اختلاف اتنا خطرناک نہیں جتنا یہ خطرناک ہے کہ وہ والدین سے بات کرنا چھوڑ دے یا اپنے سوالات، مسائل یا دل کی بات والدین کے سامنے کہنا چھوڑ دے۔ ایک نوجوان اگر اپنی پریشانی، غلطی، دوستی، جذبات، خوف یا کسی مشکوک تجربے کے بارے میں گھر میں بات کر سکتا ہے تو والدین کے پاس اصلاح کا موقع موجود رہتا ہے۔ لیکن اگر اسے پہلے ہی یقین ہو کہ’’گھر میں بتایا تو ڈانٹ پڑے گی، موبائل چھین لیا جائے گا، سب کے سامنے ذلیل کیا جاؤں گا یا میری بات سنے بغیر فیصلہ سنا دیا جائے گا‘‘، تو وہ خاموشی اختیار کرے گا۔ بعض اوقات والدین اس خاموشی کو فرمانبرداری سمجھ لیتے ہیں۔
تربیت کا ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: خاموش بچہ ضروری نہیں کہ مطمئن یا تربیت یافتہ بچہ ہو۔ ممکن ہے وہ صرف اپنے اندر کی دنیا کا دروازہ بند کر چکا ہو۔
غصہ، چیخنا، مارنا، مسلسل طعنے دینا اور دوسروں سے موازنہ کرنا وقتی طور پر بچے کو خاموش کر سکتے ہیں، مگر ان طریقوں سے اندرونی اصلاح کی ضمانت نہیں ملتی۔ بچہ خوف کی وجہ سے بات مان سکتا ہے، لیکن خوف ختم ہوتے ہی وہی رویہ دوبارہ اختیار کر سکتا ہے۔ اسلامی تربیت کا مزاج محض خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ شعور، ذمہ داری اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مصیبت یا پریشانی؟ دُعا کیجئے، تدبیر اپنائیے اور اپنا محاسبہ کیجئے!
والدین کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ بچے کی زندگی کے ہر قدم پر اس کے پیچھے کھڑے رہیں۔ ان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ بچے کے اندر ایسا شعور پیدا کریں جو ان کی غیر موجودگی میں بھی اسے صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے میں مدد دے۔ یہی حقیقی تربیت ہے اور اسی اندازِ تربیت میں کامیابی ہے۔
محبت کے ساتھ حدود بھی ضروری ہیں
جنریشن گیپ کو کم کرنے کے نام پر والدین اگر ہر چیز کی اجازت دے دیں تو یہ بھی تربیت نہیں۔ بچے کو آزادی چاہئے، مگر ایسی آزادی جو ذمہ داری کے ساتھ ہو۔ موبائل استعمال کرنے کی اجازت ہو تو وقت اور مقصد بھی واضح ہو۔ دوست بنانے کی آزادی ہو تو صحبت کے اثرات پر گفتگو بھی ہو۔ اپنی رائے دینے کی اجازت ہو تو دوسروں سے بات کرنے کا ادب بھی سکھایا جائے۔ تعلیم میں انتخاب کا موقع ہو تو اس انتخاب کے نتائج سمجھنے کی ذمہ داری بھی بچے پر ڈالی جائے۔
نصیحت یا مشاہدہ؟
بچے نصیحت سے زیادہ مشاہدے سے سیکھتے ہیں۔ والدین اگر بچے کو موبائل کم استعمال کرنے کا کہیں اور خود ہر وقت فون میں مصروف رہیں تو پیغام کمزور ہو جاتا ہے۔ اگر بچے کو غصہ کنٹرول کرنے کا کہا جائے لیکن معمولی اختلاف پر گھر میں چیخ پکار شروع ہو جائے تو بچہ الفاظ نہیں، عمل یاد رکھے گا۔ اسی طرح اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ دوسروں کی عزت کرے تو گھر میں ملازم، استاد، رشتہ دار یا اختلاف رکھنے والے شخص کے بارے میں گفتگو بھی اسی معیار کی ہونی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: بارش رک گئی، کہیں اس کے ذمے دار ہم ہی تو نہیں؟ محاسبہ ضروری ہے!
جذبات کو سمجھنا بھی تربیت ہے
بچے کا ہر رویہ صرف ’’بدتمیزی‘‘ نہیں ہوتا۔ کبھی غصے کے پیچھے ناکامی ہوتی ہے، ضد کے پیچھے توجہ کی طلب، خاموشی کے پیچھے دکھ، موبائل سے چمٹے رہنے کے پیچھے تنہائی یا دوستوں کی قبولیت کی خواہش ہو سکتی ہے۔ والدین کو بچے کے عمل کے ساتھ اس کے اندر کے محرک کو بھی دیکھنا چاہئے۔ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ہر غلط رویے کو درست قرار دیا جائے۔ بچے کو حدود معلوم ہونی چاہئیں۔ لیکن حد مقرر کرنے اور انسان کو مسترد کرنے میں فرق ہے۔’’ تم نے غلط کیا ہے‘‘ اور ’’ تم ہی خراب ہو‘‘ ایک بات نہیں ۔ پہلا جملہ رویے کی اصلاح کرتا ہے، دوسرا بچے کی شخصیت پر حملہ کرتا ہے۔ یہ فرق معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن طویل مدت میں بچے کی خودی اور والدین کے ساتھ تعلق پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
بلوغت اور جسمانی تبدیلیاں: شرم و حیا کے ساتھ اعتماد کی ضرورت
بچوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ ان کے جسم، جذبات اور ذہنی کیفیت میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ خاص طور پر بلوغت کے زمانے میں کئی سوالات ایسے ہوتے ہیں جنہیں بچے اپنے والدین سے پوچھنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔اگر والدین اس موضوع کو مکمل خاموشی، شرمندگی یا ڈانٹ سے جوڑ دیں تو بچہ معلومات کے لئے باہر کا رخ کرے گا۔ آج انٹرنیٹ پر درست معلومات کے ساتھ غلط، فحش اور گمراہ کن مواد بھی آسانی سے دستیاب ہے۔ اس لئے عمر کے مطابق باوقار اور دینی و اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے بچوں کو اپنے جسم، پاکیزگی، حیا، پرائیویسی، محفوظ اور غیر محفوظ لمس اور مناسب و نامناسب رویے کے بارے میں تعلیم دینا ضروری ہے۔ بچے کو یہ اعتماد بھی ہونا چاہئے کہ کوئی مشکل سوال ہو تو وہ والدین سے گفتگو کر سکتا ہے۔ اس موضوع میں والدین کی خاموشی بعض اوقات تربیت نہیں بلکہ خلا پیدا کرتی ہے، اور خالی جگہ کو کوئی نہ کوئی دوسرا ذریعہ پُر کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اُمت میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ آخری حد تک سو‘د سے بچے
حضرت لقمانؑ کی نصیحت ایک مکمل ترتیب
سورۂ لقمان میں حضرت لقمانؑ کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں تربیت کے ایک خوبصورت نمونے کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ابتدا توحید سے ہوتی ہے، پھر والدین کا حق، اللہ کے علم و نگرانی کا احساس، نماز، نیکی کی دعوت، برائی سے روکنا، صبر، تکبر سے بچنا اور گفتگو کے انداز تک بات پہنچتی ہے۔ تربیت صرف ’’یہ کرو، یہ نہ کرو‘‘ کا نام نہیں۔ بچے کی پوری شخصیت کو سنوارنا تربیت ہے۔ اس میں عقیدہ بھی ہے، کردار بھی، عبادت بھی، معاشرت بھی، جذبات بھی اور گفتگو کا سلیقہ بھی۔ والدین اگر صرف ظاہری اطاعت چاہتے ہیں تو وہ تربیت کے ایک چھوٹے حصے تک محدود رہ جاتے ہیں۔ انہیں بچے کے اندر وہ شعور پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس سے وہ تنہائی میں بھی صحیح فیصلہ کر سکے۔ یہ والدین کی آزمائش ہے اور اس میں پورا اُترنا اُن کا فرض۔n
موبائل اور انٹرنیٹ کو دشمن نہ سمجھیں بلکہ استعمال کا طریقہ سِکھائیں
آج بچے کی دنیا موبائل سے الگ نہیں۔ اسے صرف چھین لینا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچہ موبائل پر کیا دیکھ رہا ہے، کن لوگوں سے رابطے میں ہے، کس قسم کی معلومات لے رہا ہے اور کون سی چیزیں اس کی سوچ پر اثر ڈال رہی ہیں۔چھوٹے بچوں کے لئے نگرانی نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ نگرانی کا انداز بھی بدلنا چاہئے۔ نوجوان کے ہر پیغام کو چھپ کر پڑھنا شاید کسی وقت ضروری محسوس ہو، لیکن اگر ہر وقت جاسوسی ہی تعلق کا بنیادی طریقہ بن جائے تو اعتماد ختم ہو سکتا ہے۔ بہتریہ ہے کہ گھر میں پہلے سے واضح اصول ہوں، والدین بچے کو بتائیں کہ کن حالات میں ان کی نگرانی ضروری ہوگی، کیا چیز قابلِ قبول ہے، کیا نہیں ہے، اور اگر کوئی خطرناک یا پریشان کن صورتحال پیش آئے تو اسے سزا کے خوف کے بغیر فوراً گھر والوں کو بتانا چاہئے ۔ ٹیکنالوجی کے معاملے میں بھی اصل مقصد کنٹرول نہیں، تربیت ہی ہونا چاہئے۔ کنٹرول مضر ہے، تربیت سودمند۔